12/10/2025
"سامراجی چالیں "
نہ افغانی نمک حرام ہیں ۔ ۔ نہ کشمیری غدار ہیں ۔ ۔۔نہ پاکستانی آلہ کار ہیں اور نہ ایرانی دشمن ہیں اور حقیقت میں نہ ھندوستانی ہمارے دشمن ہیں ۔ ۔ اصل حقیقت یہ ہے ان عنوانات کے تحت سامراج نے اپنے گماشتوں کو ہم پر مسلط کر رکھا ہے اس وقت پاکستان کی سالمیت ہمارا قومی تقاضا ہے لیکن یہ سالمیت قومی سوچ کے تابع ہونی چاہیے نہ کہ امریکی ڈکٹیشن پر ۔ ۔ ۔ افغانستان کو یہ حق حاصل ہے وہ خودمختار ریاست کے طور پر ھندوستان سے تعلقات بڑھائے اور ھندوستان کو بھی حق ہے وہ خطے کے مسلم ممالک سے تعلقات کو مضبوط کرے ھندوستان جتنا مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرے گا ھندوستانی مسلمانوں کے لیے اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور آر ایس ایس کا زہر نکالنے کے لیے یہ تدبیر سیاسی تریاق ثابت ہو گی ۔۔۔ پاکستان ہمارا وطن ہے ہمارے وطن کی بقاء پڑوسیوں کے ساتھ مقابلے کے بجائے تعاون و اشتراک سے جڑی ہوئی ہے ۔ ۔ یہ تلخ اور شرمناک حقیقت ہے ہم یعنی ہماری مقتدرہ نے ہمارے وطن کی سالمیت کا سودا اپنی تعیشات کے لیے کرنے میں بڑی بیباکی دکھائی ہے ۔ ۔۔ہماری مقتدرہ نے سامراجی وفاداری نے پورے جنوبی ایشیاء ،،وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو آگ و خون میں نہلانے کے لیے حکم سے زیادہ تابعداری دکھائی ہے ۔۔ عجیب بات ہے یہاں کی مقتدرہ نے ایسی گروہیت کو پروان چڑھایا اور کام لیا جس نے مذہب و ملت کی روح کو جڑ سے کاٹنے کے لیے مذہبی حلیہ اپنانے میں دیر نہیں لگائی ۔ ۔۔ افغانستان میں امریکی داعشیوں کا اجتماع ہو ،،ھندوستان میں آرایس ایس ہو ایران میں رضا شاہ پہلوی کی باقیات ہوں یا پاکستان میں آلہ کار قوتیں یہ سب امریکہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مہرے ہیں ہم آپس میں جو لڑتے ہیں یہ دراصل امریکی سامراج کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے لڑ رہے ہوتے ہیں ۔ ۔ افسوس کا مقام ہے آج کہیں افغانیوں کو کہیں ایرانیوں کو ،،کہیں ھندوستانیوں کو کہیں پاکستانیوں کو ہم باہم ملامت کرتے ہیں یہی امریکی منشاء ہے یہ خطہ متحدہ قوت نہ بن سکے اس لیے ہزاروں شوائد کے باوجود حقیقت یہی ہے یہ جنگ ہم پر مسلط کردہ ہے ہم سب اس جنگ کے زخم خوردہ ہیں اللہ پاک میرے وطن عزیز پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ہمیں خطے کے لیے اور خطے کو ہمارے لیے باعث خیر و برکت بناے
بشکریہ ممتاز الاسلام قمر کشمیر