08/05/2026
الْخُطْبَةُ الْأُولَى
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ بِرَّ الْأُمَّهَاتِ مِنْ أَفْضَلِ الطَّاعَاتِ، وَعُقُوقَهُنَّ مِنْ أَكْبَرِ السَّيِّئَاتِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَنَبِيَّنَا مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ، وَمَنْ تَبِعَ هَدْيَهُ مِنْ بَعْدِهِ.
أَمَّا بَعْدُ: فَأُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، قَالَ جَلَّ فِي عُلَاهُ:﴿إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ * آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ﴾.
عزیزانِ محترم، برادرانِ ایمان! ہمارے آج کے خُطبے کا موضُوع، دل و جان سے عزیز ہماری شفیق و مہربان مائیں ہیں، جن کی دعائیں عرش سے قبولیت پاتی ہیں، جو خیر و برکات کا سرچشمہ ہیں، جنہیں ہماری شریعتِ مطہرہ نے عظیم مقام سے نوازا ہے، اور ان کو بلند قدر و منزلت عطا کی ہے، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی کوئی وفد آتا تو وہ اس سے پوچھتے: کیا تم میں کوئی اُویس بن عامر ہے؟ وہ آنے والے وفود سے مسلسل یہ سوال پوچھتے رہتے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات حضرت اُویس قرنی رحمہ اللہ سے ہو گئی، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ اُویس ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خوش ہوکرفرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:«يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ... لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ» تمہارے پاس اویس بن عامر آئیں گے، وہ اپنی والدہ کے ساتھ نہایت حُسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں، ان کى یہ شان ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر وه کوئی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم کو ضرور پورا کرے گا، تو اگر تمہارے لیے ممکن ہوا تو ان سے اپنے لیے دعا کرانا، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے درخواست کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں، تو اویس قرنی رحمہ اللہ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی
تو اللہ کے نیک بندو! ذرا غور فرمائیں، کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو کہ خود جلیل القدر صحابئ رسول ہیں، جن کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت سنا دی گئی تھی، وہ بھی حضرت اویس قرنی سے اپنے لیے دعا کروا رہے ہیں، تو جان لیجیے کہ یہ مقام حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کو اپنی والدہ کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کی وجہ سے ملاہے .
میرے بھائیو!ذرا سوچیے کہ پھر ایک ماں کا مقام اللہ کے نزدیک کتنا عظیم ہو گا، اس کا رتبہ کتنا بلند ہو گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم فرمایا، قرآن کریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ قول ذکر فرمایا ہے:﴿وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا وَبَرًّا بِوَالِدَتِي﴾ اور جب تک زندہ رہوں، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے، اور مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے، یعنی: ان کا حق ادا کرنے والا،اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے والابنایا نیز ان کی تعظیم کرنے والا، ان کے ساتھ ہمدردی کرنے والا، اور ان کے لیے نرم دل رہنے والا بنایا ہے
جی ہاں، اللہ کے نیک بندو! یہ عظیم ہستی ماں ہی کی ہے کہ باری تعالٰی نے جس کی عظمت ومنزلت اوراس کی قربانی ومشقت کو یاد رکھنے کی ہمیں تاکید کی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا:﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ﴾ اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں یہ تاکید کی ہے، (کیونکہ) اس کی ماں نےکمزوری پر کمزوری برداشت کر کے اسے پیٹ میں رکھا، تو ذرا سوچیے، کہ آپ کی والدہ کی خوشی کا کیا عالَم ہوا ہو گا، جب انہیں امید سے ہونے کی خوشخبری ملی ہوگی، پھر آپ کا وجوداس کے وجود سے پروان چڑھا، کمزوری و لاغری کے باوجود ماں نے آپ کا بوجھ اٹھایا، شِکمِ مادر میں جیسے جیسے آپ کا وزن بڑھتا رہا ویسے ویسے ماں کی مشقت بڑھتی رہی، اور پھر جب ولادت کا مرحلہ آیا تو ماں کی مامتا نے وہ درد و اَلَم جھیلے، کہ جس کے بیان سے قرطاس و قلم عاجز ٹھہرے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ اس کی ماں نے بڑی مشقت سے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا، اور بڑی مشقت سے اسے جَنا، لیکن اس کے باوجود، جب ماں پہلی مرتبہ اپنے لختِ جگر کو دیکھتی ہے تو اپنی ساری تکلیفیں بھول جاتی ہے، اُسے اپنی خوشیاں اپنے بچے سے وابستہ نظر آنے لگتی ہیں، پھر وہ اپنا دن رات اس کی پرورش اور تربیت میں کھپا دیتی ہے، نہ سُست پڑتی ہے، نہ اس کی دیکھ ریکھ میں کوئی کمی کرتی ہے، اپنی آغوش کو اس کا بستر بنادیتی ہے، اپنے سینے کو اس کی غذا بنادیتی ہے، جب بچہ سوجاتا ہے تبھی ماں سوتی ہے، وہ غمگین ہو تو ماں بھی غمگین ہو جاتی ہے، وہ تکلیف میں ہو تو ماں بھی تکلیف میں رہتی ہے، وہ خوش ہو تو ماں بھی خوش ہوتی ہے، وہ مُسکرائے تو ماں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، اس کی خوشی کی خاطر وہ اپنی خوشی قربان کر دیتی ہے، اس کی ضروریات کے سامنے وہ اپنی ضروریات بھول جاتی ہے، تو میرے دوستو، رب کعبہ کی قسم! اگر ماں کو خوش کرنے کے لیے آپ اپنی زندگی کی ساری جمع پونچی قربان کر دیں اور اپنا کُل مال و مَتاع خرچ کر دیں؛ تب بھی آپ اس کا حق ادا نہیں کر سکتے. لیکن پھر بہت دکھ سے یہ سوال بھی کرنا پڑتا ہے کہ کوئی آدمی اتنا بخیل اور کنجوس کیسے ہو جاتا ہے کہ چند پیسوں کی خاطر اپنی ماں کا دل توڑ دیتا ہے؟ کیا وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی ماں نے تو اپنا سب کچھ اس پر نچھاور کر دیا؟ اس کے سر پہ ہمیشہ اپنی محبت کا سایہ برقرار رکھا؟ اور بھلا کیسے کسی کا ضمیر گوارا کر لیتا ہے کہ وہ اپنی ماں کو غصے بھری نظروں سے دیکھے؟ یا دل دُکھانے والی کوئی بات اُسے کہے؟ یا اس سے اونچی آواز میں بات کرے؟ یا سخت لہجہ اختیار کرے؟ کیا نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان مبارک اس نے نہیں سنا؟«إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ». بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نافرمانی کو تم پر حرام کردیا ہے
اپنی ماؤں کے فرمانبردارو! میرے عزیز بھائیو! اپنی ماں کےحقوق اور اپنی بیوی بچوں کےحقوق کے درمیان توازن قائم کیجیے،اور اپنی گھریلو ذمہ داریوں اور اپنے کام کاج کے درمیان اعتدال پیدا کیجیے یہ ہرگز بھی انصاف نہیں کہ آپ باقی دنیا کے سارے کام تو پورے کرتے رہیں، مگر اپنی والدہ سے بے خبر رہیں اور اس سے بے التفافی کا معاملہ کریں، کیا آپ نے سوچا؟ کہ کبھی کبھی ماں دن بَھر دروازے کی طرف نظریں جمائے گزار دیتی ہے، وہ پورا دن آپ کے آنے کا انتظار کرتی ہے، پھر جب آپ کو دیکھتی ہے تو اس کا مَن خوشی سے جھوم اُٹھتا ہے، یا جب فون پر آپ کی آواز ہی سن لیتی ہے تو اس کے دل کو سکون آ جاتا ہے، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ موسی علیہ السلام کی والدۂ محترمہ کس قدر بے چین ہو گئی تھیں جب ان کا لختِ جگر ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیاتھا، اللہ رب العزت نے ان کی اس بے چینی اور قلبی حالت کی یوں منظر کشی ہے :﴿وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا﴾ اور موسیٰ کی ماں کا دل بالکل بے چین ہو گیا، تو خود سوچیے، اس ماں کا کیا حال ہو گا؟ جو سارا دن آپ کی راہ تکتی رہتی ہے، مگر آپ کو دیکھ نہیں پاتی، اس کے کان آپ کی آواز سننے کو ترس جاتے ہیں مگر وہ آپ کی آواز سُن نہیں پاتی، پھر جب اس کے دن کا اختتام اِن حسرت بھرے انتظار کے ساتھ ہوتا ہے، تو اس کی ساری اُمَنگیں دم توڑ جاتی ہیں، اس کا دل مُرجھا سا جاتا ہے، تو میرے بھائی، آخر تمہارے دل کو کیا ہوجا تا ہے؟ تمہاری فرمانبرداری کہاں کھو جاتی ہے؟ تم کیوں اپنی ماں سے غافل ہو جاتے ہو؟ جبکہ ہمارے نبیﷺنےتو ماں کو ہر ایک پر فوقیت عطا فرمائی ہے، چنانچہ ایک صحابی رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! لوگوں میں میری طرف سےحُسنِ سلوک کا سب سےزیادہ حقدار کون ہے؟آپﷺنے فرمایا:«أُمُّكَ». «ثُمَّ أُمُّكَ». «ثُمَّ أُمُّكَ»تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، صحابی نے پوچھا:اللہ کے رسولﷺ!اس کےبعد کون؟ تو آپ علیہ السلام نےفرمایا:«ثُمَّ أَبُوكَ»پھر تمہارے باپ،اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک اطاعت کے اَعلی ترین درجات میں سے ہے، اور نیکیوں کے عظیم ترین مراتب میں سے ہے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:إِنِّي لَا أَعْلَمُ عَمَلًا أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ بِرِّ الْوَالِدَةِ».میرے علم میں نہیں کہ ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ سے قریب کرنے والا ہو، تو میرے بھائیو، ماں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیے، اور رب تعالیٰ کے اس فرمان مبارک پر عمل کیجیے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾.
أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ، فَاسْتَغْفِرُوهُ.
الْخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ:
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.
أَمَّا بَعْدُ: اپنی ماؤں سے حسن سلوک کرنے والو! میرے بھائیو! یاد رکھیے، آپ کی ماں آپ کے پاس ایک بیش بہا خزانہ ہے،یہ آپ کے تمام مال و متاع سے زیادہ قیمتی اَثاثہ ہے، لہٰذا ماں کے بابرکت وجود کو غنیمت جانیے،اس کی فرمانبرداری میں تاخیر نہ کیجیے،جلدی کیجیے،اس سے پہلے کہ وہ داعیِ اَجَل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے رب سے جا ملے، پھر سوائے حسرت و ندامت کے آپ کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا، پھر یہ تمنا کرو گے کہ اے کاش! میں اپنی ماں کے ہاتھ چوم لیتا،اے کاش! کہ میں اس کی پیشانی پر بوسہ دے دیتا، اے کاش! کہ اس کی شفقت سے سیراب ہو جاتا، پھر یہ آرزو تمہیں سَتائے گی کہ اے کاش! میں ساری زندگی ماں کے قدموں میں بیٹھا رہتا، اُس کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا، اس کی خدمت میں مَر مِٹ جاتا، مگر اس وقت یہ حسرت کام نہ آئے گی، لہٰذا میرے بھائیو، اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، اَبھی سے جاگ جاؤ، اب تک ماں کی جو حق تلفی کی ہے، اس کا ازالہ کرلو، نبی کریم صاحبِ خُلُقِ عظیمﷺوسلم کا ارشاد ہے:«رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا عِنْدَ الْكِبَرِ، لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ» ناک خاک آلود ہو گئی، پھر ناک خاک آلود ہو گئی، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی جس نے اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا. تو میرے بھائیو! اپنی ماؤں کی قدر کیجیے، ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہو کر ہر وقت تیار رہیے، یہی آپ کے رب کا حکم ہے، یہی آپ کے نبیﷺکی تعلیمات ہیں، اور یہی آپ کے اماراتی معاشرے کی پاکیزہ روایات ہیں، وطنِ عزیز متحدہ عرب امارات میں ہم اپنی نسلوں کو ماؤں کی عزت و تکریم کرنے کی تربیت دیتے ہیں، ان کے حقوق اداکرنےکی تعلیم دیتے ہیں، ان کی خدمت میں تحفے تحائف پیش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ یہی وہ مائیں ہیں جو بہادر سپوتوں کو جنم دیتی ہیں، جَری و نڈر جوان تیار کرتی ہیں، تاکہ وہ وطن کا حصار بنیں، اس کی ڈھال بنیں، اوراس کی قوت اور سہارا بنیں، لہٰذا ہم اپنی عظیم ماؤں کو عقیدت و احترام بھرا سلام پیش کرتے ہیں، اور خبردار !یاد رکھیے! حسن سلوک ہو یا نافرمانی، یہ ایک قرض ہے جو واپس لوٹ کر آتا ہے، آپ آج اپنی ماں کے ساتھ جو سلوک رَوا رکھیں گے، کل وہی آپ کی اولاد کی صورت میں آپ کے سامنے آئے گا، لہذا آج نیکی کا جو بیج بوئیں گے، کل وہی فصل کاٹیں گے.
میرے بھائیو! جسے اپنی والدہ کی وفات کا صدمہ لاحق ہو چکا، وہ یہ جان لے کہ نیکی کے دروازے بند نہیں ہوئے، بھلائی اور اِحسان کی راہیں ختم نہیں ہوئیں، لہٰذا وہ اپنی نیک دعاؤں کے ذریعے اپنی ماں کی قبر کو منورکر سکتا ہے، کسی صدقۂ جاریہ کے ذریعے ان کی روح کو خوش کر سکتا ہے، نبی مکرم رسول معظمﷺکا ارشاد ہے:«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ» جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (کہ وہ منقطع نہیں ہوتے) : صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے، تو میرے بھائیو زیادہ سے زیادہ یہ دعا پڑھتے رہیے:﴿رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ یا رب ! جس طرح انہوں نے میرے بچپن میں مجھے پالا ہے، آپ بھی ان کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیجیے، میرے بھائیو! جن دوستوں کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں وہ ان کے لیے خوب استغفار کریں، اگر وہ مقروض تھیں تو ان کا قرض ادا کردیں، اگر ان کے ذمے کوئی نذر پوری کرنا باقی رہ گیا تھا تو ان کی نذر پوری کردیں، ان کے کیے ہوئے عہد وپیمان نبھائیں، ان کے کیے ہوئے وعدے پورے کریں، ان کے قریبی رشتے داروں سے صلہ رحمی کریں، خصوصاً ان کی بہنوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، کیونکہ آپ علیہ السلام کا فرمان ہے:«الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، ایک صاحب نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ آپ ﷺنے پوچھا:«هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟»کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺنے پوچھا:«هَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟» تمہاری کوئی خالہ ہے؟ انہوں نےعرض کیا: جی ہاں، تو آپﷺنے فرمایا: «فَبِرَّهَا».تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو
هَذَا وَصَلِّ اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الْمُرْسَلِينَ، وَعَلَى آلِهِ وَزَوْجَاتِهِ الطَّاهِرَاتِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَصَحْبِهِ الْغُرِّ الْمَيَامِينِ، وَارْضَ اللَّهُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ الْأَكْرَمِينَ.
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا تَقْصِيرَنَا فِي حَقِّ أُمَّهَاتِنَا، وَارْزُقْنَا بِرَّهُنَّ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا، اللَّهُمَّ ارْحَمْ أُمَّهَاتِنَا كَمَا رَبَّيْنَنَا صِغَارًا، وَاجْزِهِنَّ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ. اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنَ النِّعَمِ تَمَامَهَا، وَمِنَ الْعَافِيَةِ دَوَامَهَا، وَمِنَ الْخَيْرِ أَكْمَلَهُ، وَمِنَ اللُّطْفِ أَجْمَلَهُ.
اللَّهُمَّ احْفَظْ دَوْلَةَ الْإِمَارَاتِ مِنْ كُلِّ الْجِهَاتِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَوْدِعُكَ قِيَادَتَهَا وَأَهْلَهَا، وَمَنْ يَعِيشُ عَلَى أَرْضِهَا. وَاحْفَظِ اللَّهُمَّ قُوَّاتِنَا الْمُسَلَّحَةَ، وَأَيِّدْهَا وَوَفِّقْهَا، وَسَدِّدْهَا وَانْصُرْهَا؛ فَهِيَ دِرْعُنَا الْحَصِينُ، وَحِصْنُنَا الْمَكِينُ، وَسَبَبٌ فِي أَمَانِنَا وَاطْمِئْنَانِنَا.
اللَّهُمَّ اجْزِ جُنُودَنَا الْبَوَاسِلَ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَأَوْفَرَهُ، وَأَعْظَمَ الثَّوَابِ وَأَكْرَمَهُ، وَقَوِّ بَأْسَهُمْ، وَسَدِّدْ رَمْيَهُمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِالْمُعْتَدِينَ، الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ، وَبِعِبَادِكَ يَمْكُرُونَ، وَبِحُرْمَةِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ يَسْتَخِفُّونَ.
اللَّهُمَّ احْفَظِ الشّيخ مُحَمَّد بْن زَايد رَئِيسَ الدَّوْلَةِ بِحِفْظِكَ، وَكُنْ لَهُ عَوْنًا وَسَنَدًا، وَهَادِيًا وَمُسَدِّدًا، وَبَارِكْ فِي عُمْرِهِ وَعَمَلِهِ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ وَنُوَّابَهُ وَإِخْوَانَهُ حُكَّامَ الْإِمَارَاتِ، وَوَلِيَّ عَهْدِهِ الْأَمِينَ؛ لِمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضَاهُ.
وَاحْفَظْ اللَّهُمَّ أُمَّنَا أُمَّ الْإِمَارَاتِ، الشَّيْخَة فَاطمَة بِنْت مبَارَك، وَمَتِّعْهَا بِالصِّحَّةِ وَالْعَافِيَةِ، وَأَدِمْ عَلَيْهَا نِعَمَكَ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً، وَبَارِكْ فِي عُمُرِهَا وَعَمَلِهَا، وَاجْعَلْ مَا تُقَدِّمُهُ مِنْ خَيْرَاتٍ وَمُبَادَرَاتٍ، وَرِعَايَةٍ لِلْأُمَّهَاتِ؛ فِي مِيزَانِ حَسَنَاتِهَا.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الشّيخ زَايد، وَالشّيخ رَاشِد، وَشُيُوخَ الْإِمَارَاتِ الَّذِينَ انْتَقَلُوا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَدْخِلْهُمْ بِفَضْلِكَ فَسِيحَ جَنَّاتِكَ،
اللَّهُمَّ اشْمَلْ شُهَدَاءَ الْوَطَنِ بِوَاسِعِ رَحْمَتِكَ، وَارْفَعْ دَرَجَاتِهِمْ فِي جَنَّتِكَ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ: الْأَحْيَاءَ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتَ.
عِبَادَ اللَّهِ: اذْكُرُوا اللَّهَ الْعَظِيمَ الْجَلِيلَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ. وَأَقِمِ الصَّلَاةَ.