Food Street

Food Street I am Ejazullah having 25 years experience of Contant Creator Degital Marketor Translator Interpretor Monatizors

13/05/2026
13/05/2026

🤣🤣

Me & My Friend
05/05/2026

Me & My Friend

30/03/2026

ساگ بنانے کا روایتی اور لذیذ طریقہ (شلغم کا ساگ)

اجزاء:
شلغم کے پتے (ساگ) — 1 کلو
شلغم — 2 درمیانے (کٹے ہوئے)
پالک — 250 گرام (ذائقہ بڑھانے کے لیے)
ہری مرچ — 4 سے 5 عدد
لہسن — 6 سے 8 جوے
ادرک — 1 انچ کا ٹکڑا
مکئی کا آٹا — 2 کھانے کے چمچ
نمک — حسبِ ذائقہ
لال مرچ — 1 چائے کا چمچ
ہلدی — ½ چائے کا چمچ
مکھن یا دیسی گھی — 3 سے 4 کھانے کے چمچ
پیاز — 1 درمیانی (باریک کٹی ہوئی)
بنانے کا طریقہ:
سب سے پہلے شلغم کے پتے، پالک اور شلغم کو اچھی طرح دھو کر صاف کر لیں تاکہ کوئی مٹی یا گرد باقی نہ رہے۔ اب ان سب کو ایک بڑے برتن میں ڈالیں، ساتھ میں ہری مرچ، ادرک اور لہسن بھی شامل کر دیں۔ تھوڑا سا پانی ڈال کر درمیانی آنچ پر پکنے کے لیے رکھ دیں۔
جب سبزیاں اچھی طرح گل جائیں اور نرم ہو جائیں تو انہیں ہلکا سا ٹھنڈا کر کے لکڑی کے گھوٹنے (مدھانی) یا بلینڈر کی مدد سے گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔ یاد رکھیں کہ ساگ کا اصل مزہ ہلکا سا دانے دار ہونے میں ہے، اس لیے اسے زیادہ باریک نہ کریں۔
اب اس مکسچر کو دوبارہ ہلکی آنچ پر رکھیں اور اس میں مکئی کا آٹا تھوڑے پانی میں گھول کر شامل کریں۔ ساتھ ہی نمک، لال مرچ اور ہلدی ڈال دیں۔ اسے اچھی طرح ہلاتے رہیں تاکہ گاڑھا اور یکجان ہو جائے۔ تقریباً 15 سے 20 منٹ تک پکنے دیں تاکہ ساگ کا اصل ذائقہ ابھر کر سامنے آئے۔
تڑکہ لگانے کا طریقہ:
ایک الگ پین میں دیسی گھی یا مکھن گرم کریں، اس میں باریک کٹی ہوئی پیاز ڈال کر سنہری ہونے تک بھونیں۔ پھر اس تڑکے کو گرم گرم ساگ میں ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کر لیں۔
پیش کرنے کا انداز:
گرما گرم شلغم کا ساگ مکئی کی روٹی، سفید مکھن اور لسی کے ساتھ پیش کریں۔ اس کا دیسی ذائقہ دل کو خوش کر دیتا ہے اور سردیوں کی ٹھنڈی راتوں میں ایک لاجواب نعمت ثابت ہوتا ہے۔
یہ ساگ نہ صرف ذائقے میں بے مثال ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ ایک بار اس طریقے سے بنا کر دیکھیں، آپ بار بار بنانے پر مجبور ہو جائیں گے!

تحقیق کے بغیر شیئر کرنے کا حکم📖 Qur'an میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے...
24/03/2026

تحقیق کے بغیر شیئر کرنے کا حکم
📖 Qur'an میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو…”
📖 سورۃ الحجرات 49:6
👉 اس آیت سے واضح ہے:
ہر خبر، خاص طور پر دینی بات، تحقیق کے بغیر قبول یا شیئر نہیں کرنی چاہیے۔
⚠️ 2️⃣ جھوٹی بات پھیلانے کی وعید
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے”
📚 Sahih Muslim حدیث 5
❌ 3️⃣ سوشل میڈیا کا بڑا مسئلہ
آج کل:
لوگ خوبصورت ڈیزائن دیکھ کر فوراً شیئر کر دیتے ہیں
نمبر (آیت/حدیث) دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ صحیح ہے
لیکن حقیقت میں:
حوالہ غلط ہوتا ہے
مطلب توڑا مروڑا ہوتا ہے
👉 یہی غلطی اس پوسٹ میں بھی ہوئی ہے۔
✔️ 4️⃣ شیئر کرنے سے پہلے 5 آسان اصول
📌 1. حوالہ چیک کریں
کیا واقعی وہ آیت یا حدیث وہی بات کہہ رہی ہے؟
📌 2. مستند کتاب دیکھیں
جیسے:
Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
📌 3. مکمل آیت پڑھیں
آدھی آیت دیکھ کر فیصلہ نہ کریں
📌 4. علماء کی رائے دیکھیں
کیا معتبر علماء بھی یہی بات کہتے ہیں؟
📌 5. دل پرکھیں (Common Sense)
اگر بات سخت، نفرت والی یا عجیب لگے تو پہلے تحقیق کریں
🟢 5️⃣ بہترین عمل کیا ہے؟
✔️ اگر یقین نہ ہو تو:
👉 شیئر نہ کریں
✔️ اگر تحقیق ہو جائے:
👉 پھر شیئر کریں اور ثواب کمائیں
💡 ایک سنہری اصول
👉 “پہلے تحقیق، پھر اشاعت”
خلاصہ
قرآن نے تحقیق کا حکم دیا
حدیث نے بغیر تحقیق بات پھیلانے سے روکا
ہر خوبصورت پوسٹ صحیح نہیں ہوتی
مسلمان کو ذمہ داری کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے

Qur'an سورۃ النساء آیت 119 اور 34 کا جو حوالہ اس پوسٹ میں دیا گیا ہے، کیا وہ درست ہے؟
آئیے بالکل صاف اور درست انداز میں سمجھتے ہیں:
❌ 1️⃣ سورۃ النساء آیت 119 کا اصل مطلب
آیت 119 میں شیطان کا قول بیان ہو رہا ہے، نہ کہ شوہر کا حق۔
📖 خلاصہ آیت:
شیطان کہتا ہے: میں لوگوں کو بہکاؤں گا، ان کو جھوٹی امیدیں دوں گا، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کا حکم دوں گا۔
👉 اس آیت میں:
شوہر اور بیوی کے حقوق کا ذکر ہی نہیں ہے
یہ آیت شیطان کی گمراہی کے بارے میں ہے
✔️ لہٰذا اس پوسٹ میں آیت 119 کو شوہر کے حق کے طور پر پیش کرنا
👉 بالکل غلط ہے
⚠️ 2️⃣ سورۃ النساء آیت 34 کا صحیح مطلب
📖 Qur'an سورۃ النساء 4:34:
“مرد عورتوں کے قوام (نگہبان/ذمہ دار) ہیں…”
👉 اس کا صحیح مطلب:
مرد ذمہ دار اور کفیل ہے
اس کا مطلب حاکم، بادشاہ یا ظالم ہونا نہیں ہے
✔️ “قوام” =
ذمہ داری لینے والا
حفاظت کرنے والا
خرچ اٹھانے والا
❌ “قوام” =
غلام بنانے والا ❌
زبردستی کرنے والا ❌
❌ 3️⃣ کیا قرآن میں کہیں آیا کہ عورت غلام ہے؟
❌ نہیں، قرآن میں کہیں بھی نہیں آیا کہ:
عورت مرد کی غلام ہے
مرد کو مکمل بادشاہ بنایا گیا ہے
👉 یہ سب لوگوں کی اپنی باتیں ہیں، دین نہیں
✔️ 4️⃣ اسلام میں اصل بیلنس کیا ہے؟
📖 قرآن کہتا ہے:
“اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں (معروف طریقے سے)”
📖 Qur'an سورۃ البقرہ 2:228
✔️ 5️⃣ نبی ﷺ کی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین ہو”
📚 Sunan al-Tirmidhi
🔍 آخری نتیجہ
🔴 اس پوسٹ میں:
سورۃ النساء 119 کا حوالہ ❌ غلط استعمال کیا گیا ہے
سورۃ النساء 34 کا مطلب ❌ غلط بیان کیا گیا ہے
🟢 صحیح بات:
مرد = ذمہ دار
عورت = عزت والی شریکِ حیات
نکاح = محبت + رحمت + انصاف
✅ آسان الفاظ میں:
اسلام میں مرد “ذمہ دار” ہے، بادشاہ نہیں
اور عورت “شریکِ زندگی” ہے، غلام نہیں
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو:
🔎 سورۃ النساء 34 کی مکمل تفسیر
⚖️ شوہر اور بیوی کے حقوق کا مکمل چارٹ
📚 غلط پھیلائی گئی مشہور باتوں کی حقیقت
بھی تفصیل سے سمجھا سکتا

سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت…دنیا کے کئی ممالک جب اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں—چاہے وہ Italy ہو، Spain یا Sri L...
22/03/2026

سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت…
دنیا کے کئی ممالک جب اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں—چاہے وہ Italy ہو، Spain یا Sri Lanka—تو وہ ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ریاست کی اولین ترجیح اپنے عوام اور خودمختاری ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں بھی ایسے ہی سوالات جنم لیتے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ پالیسیوں میں سختی کیوں ہے؟ لہجہ سخت کیوں محسوس ہوتا ہے؟ اور خاص طور پر جب بات Pakistan Army کی ہو تو عوام کی توقع ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہو بلکہ اپنے لوگوں کے جذبات کی بھی عکاسی کرے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی ادارے اکثر سکیورٹی خدشات، عالمی دباؤ اور اندرونی استحکام کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہی عوامل ایک سخت مؤقف اور محتاط پالیسی کو جنم دیتے ہیں، جو عوام کو دوری یا سختی کے طور پر محسوس ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ہے:
طاقت کا اصل حسن نرمی، برداشت اور عوام کے ساتھ اعتماد کے رشتے میں ہوتا ہے۔
اگر ادارے اپنی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عوام کو اعتماد میں لیں، وضاحت دیں اور مکالمے کا راستہ اپنائیں، تو یہی فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ عوام دشمن نہیں، بلکہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔
📌 مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے پاس مضبوط ادارے موجود ہیں—اب ضرورت اس بات کی ہے کہ:
✔ پالیسیوں میں شفافیت ہو
✔ عوام کے ساتھ رابطہ بہتر ہو
✔ اور فیصلوں کی وضاحت کھلے انداز میں دی جائے
تنقید کا مقصد کمزوری دکھانا نہیں، بلکہ بہتری کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے ادارے اس نکتے کو سمجھتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کریں گے جہاں طاقت اور اعتماد ساتھ ساتھ چلیں۔
کیونکہ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں ادارے اور عوام ایک دوسرے کے قریب ہوں، نہ کہ دور۔

سوچنے کا مقام…!ہماری سیاست میں اکثر ایسے بیانات اور دعوے سامنے آتے ہیں جو وقتی طور پر تو توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر اصل ...
21/03/2026

سوچنے کا مقام…!
ہماری سیاست میں اکثر ایسے بیانات اور دعوے سامنے آتے ہیں جو وقتی طور پر تو توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان کا عوام کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟
Shehbaz Sharif کی حکومت ہو، عدالتی نظام ہو یا انتظامی ڈھانچہ—ہر ادارہ اپنی جگہ اہم ہے۔ مگر جب عوام کو ریلیف نہ ملے، مہنگائی کم نہ ہو اور انصاف بروقت نہ پہنچے تو پھر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
اسی طرح ہماری Judiciary of Pakistan سے بھی عوام کی بڑی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ انصاف کو یقینی بنائے گی، جبکہ انتظامیہ سے توقع ہوتی ہے کہ وہ فیصلوں پر عملدرآمد کرائے گی۔ اور Pakistan Army جیسے مضبوط ادارے سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے استحکام میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
مگر جب زمینی حقیقت ان توقعات کے برعکس نظر آئے تو عوام کے ذہن میں سوالات پیدا ہونا لازمی ہے:
کیا ہم واقعی درست سمت میں جا رہے ہیں؟
کیا ادارے اپنی اصل ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟
یہ تنقید کسی ایک فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک اجتماعی بہتری کی دعوت ہے۔ کیونکہ مضبوط ملک وہی ہوتا ہے جہاں:
✔ حکمرانی شفاف ہو
✔ انصاف بروقت ہو
✔ اور عوام کو حقیقی ریلیف ملے
ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارے تمام ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے فیصلے کریں گے جو واقعی عوام کے مفاد میں ہوں—کیونکہ تاریخ میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جہاں ادارے اور قیادت عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔
یہ وقت الزام کا نہیں، اصلاح کا ہے۔

12/02/2026

قسط 1 — رات کی خاموشی

رات غیر معمولی طور پر خاموش تھی۔
ایسی خاموشی جس میں گھڑی کی ٹک ٹک بھی دل پر ہتھوڑے کی طرح لگتی ہے۔
گھر کے صحن میں نیم کے درخت کی ہلکی سی سرسراہٹ بھی کسی انجانے اشارے جیسی محسوس ہو رہی تھی۔ آسمان پر بادل تھے، مگر بارش نہیں ہو رہی تھی — جیسے فضا خود کسی فیصلے کا انتظار کر رہی ہو۔
اور اس رات، اس گھر میں، ایک آدمی جاگ رہا تھا۔
سلیم خان
سلیم خان چارپائی پر سیدھا بیٹھا تھا۔
آنکھیں کھلی تھیں مگر نظر کہیں اور۔
ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں جکڑی ہوئی تھیں جیسے وہ خود کو ٹوٹنے سے بچا رہا ہو۔
اس کی عمر چہرے پر صاف لکھی ہوئی تھی — مگر وہ تھکن نہیں تھی جو وقت دیتا ہے، وہ تھکن تھی جو حالات دیتے ہیں۔
اس نے ایک لمبی سانس لی۔
پھر آہستہ سے سر اٹھایا۔
کمرے کی دیواروں پر پڑتی مدھم روشنی میں اسے ہر چیز بدلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
یہ وہی کمرہ تھا…
مگر یہ وہی زندگی نہیں رہی تھی۔
دل کی بے چینی
"آخر کہاں غلطی ہو گئی…؟"
یہ سوال کئی مہینوں سے اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔
زندگی میں اس نے ہمیشہ سیدھا راستہ اختیار کیا۔
کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔
کبھی کسی کے لیے برا نہیں سوچا۔
مگر حالات…
حالات نے جیسے اس کے لیے الگ ہی منصوبہ بنا رکھا تھا۔
گھر کے دوسرے کمرے میں سب سو رہے تھے۔
بیوی۔
بچے۔
مگر نیند صرف جسم کو آتی ہے…
دل کو نہیں۔
اور سلیم خان کا دل کئی راتوں سے جاگ رہا تھا۔
یادوں کا بوجھ
اس نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
آنکھیں بند کیں۔
اور یادیں…
یادیں ایک ایک کر کے جاگ اٹھیں۔
وہ وقت جب گھر میں قہقہے ہوا کرتے تھے۔
جب ہر شام دسترخوان پر ہنسی بکھری ہوتی تھی۔
جب مسائل ہوتے تھے…
مگر امیدیں بھی ہوتی تھیں۔
اب؟
مسائل تھے…
اور خاموشی۔
ایک باپ کی شکستگی
سلیم خان کو سب سے زیادہ درد کس بات کا تھا؟
پیسہ؟
نہیں۔
جائیداد؟
نہیں۔
لوگوں کی باتیں؟
نہیں۔
درد تھا…
اپنے ہی گھر میں اجنبیت کا احساس۔
وہ باپ تھا۔
سایہ تھا۔
ستون تھا۔
مگر وقت نے جیسے اس کی حیثیت کو دھندلا دیا تھا۔
خاموش دیواریں
رات کے اس پہر دیواریں بھی بولتی محسوس ہو رہی تھیں۔
ہر اینٹ جیسے ایک قصہ سنا رہی تھی۔
ہر سایہ جیسے کوئی راز چھپا رہا تھا۔
اس نے اچانک آنکھیں کھولیں۔
کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
صرف خاموشی۔
اور خاموشی کبھی کبھی شور سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے۔
وہ فیصلہ
سلیم خان کے ذہن میں ایک ہی بات بار بار آ رہی تھی۔
وہ فیصلہ…
جو اس نے کچھ دن پہلے کیا تھا۔
فیصلے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔
کچھ فیصلے انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
وہ جانتا تھا:
یہ فیصلہ گھر کی تقدیر بدل دے گا۔
مگر وہ مجبور تھا۔
یا شاید…
خود کو یہی سمجھا رہا تھا۔
اندر کا خوف
"کیا میں نے ٹھیک کیا…؟"
یہ سوال اس کے اندر ایک مستقل اذیت بن چکا تھا۔
وہ جواب جاننا چاہتا تھا۔
مگر جواب وقت دیتا ہے…
اور وقت ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔
گھر کی فضا
گھر کی فضا بدل چکی تھی۔
باتیں کم ہو گئی تھیں۔
نظریں بدل گئی تھیں۔
احساسات الجھ گئے تھے۔
وہ محسوس کر سکتا تھا۔
مگر بیان نہیں کر سکتا تھا۔
کیونکہ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں…
جو زبان پر نہیں آتے۔
باپ اور خاموشی
اس نے آہستہ سے چارپائی سے پاؤں نیچے رکھے۔
زمین ٹھنڈی تھی۔
مگر اس کے اندر جو سردی تھی…
وہ کہیں زیادہ گہری تھی۔
وہ کھڑکی تک گیا۔
پردہ ہٹایا۔
باہر اندھیرا تھا۔
اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے پوری دنیا اس کی طرح جاگ رہی ہو۔
چاند اور سوالات
بادلوں کے پیچھے سے چاند کبھی کبھی جھانک رہا تھا۔
کمزور۔
مدھم۔
بالکل ویسا ہی جیسے سلیم خان کا حوصلہ۔
وہ پرانا وقت
اسے یاد آیا…
جب وہ خود مضبوط تھا۔
فیصلہ کن۔
بااثر۔
گھر کے سب معاملات اس کے ہاتھ میں تھے۔
اب؟
معاملات تھے…
مگر اختیار جیسے پھسل چکا تھا۔
ان کہی کشمکش
گھر میں کوئی کھلی لڑائی نہیں تھی۔
کوئی چیخ و پکار نہیں تھی۔
مگر ایک خاموش جنگ جاری تھی۔
دلوں کے درمیان۔
احساسات کے درمیان۔
اور یہ جنگ سب سے زیادہ تھکا دینے والی ہوتی ہے۔
وہ نام
اس کے ذہن میں ایک نام بار بار ابھرتا۔
پھر وہ خود اسے دبانے کی کوشش کرتا۔
مگر کچھ نام…
انسان کے اندر سے مٹتے نہیں۔
صرف گہرے ہوتے جاتے ہیں۔
دل کی دھڑکن
رات کے اس لمحے دل کی دھڑکن واضح سنائی دے رہی تھی۔
تیز۔
بے ترتیب۔
جیسے کوئی آنے والا واقعہ خود کو ظاہر کرنے والا ہو۔
قدموں کی آہٹ
اچانک…
گھر کے باہر ہلکی سی آہٹ ہوئی۔
سلیم خان کا دل زور سے دھڑکا۔
وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا۔
سانس رک سی گئی۔
کچھ لمحے…
پھر دوبارہ خاموشی۔
مگر اب نیند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ایک باپ کی پیشگوئی
انسان کبھی کبھی محسوس کر لیتا ہے:
کوئی بڑا موڑ قریب ہے۔
اور سلیم خان کو اس رات یہی احساس ہو رہا تھا۔
اندر کا طوفان
باہر ہوا ساکت تھی۔
مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔
خوف۔
پچھتاوا۔
غصہ۔
محبت۔
ذمہ داری۔
سب جذبات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔
صبح کا انتظار
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
رات ابھی باقی تھی۔
مگر اسے معلوم تھا:
صبح صرف روشنی نہیں لائے گی…
کچھ اور بھی لائے گی۔
کچھ ایسا…
جو اس گھر کی خاموشی کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
ایک راز کی دستک
اس رات، اس گھر میں…
صرف ایک آدمی نہیں جاگ رہا تھا۔
کوئی اور بھی تھا…
جو اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔
اور سلیم خان کو ابھی خبر بھی نہیں تھی:
اصل کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔
جاری ہے…

Address

Al Jerf
Al Ajman
00000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+971521365282

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Food Street posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Food Street:

Share