Digital News Network

Digital News Network Digital News Network is a global digital media network with contributors from around the world. Reaching an audience of millions of monthly visitors.

10/04/2022
10/04/2022

ایک دفعہ کا ذکر تھا کہ نواز شریف وزیراعظم تھا اور غلام اسحاق خان صدر۔

لڑائی ہوگئی۔

نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا۔

"میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا"

اگلے دن ڈان اخبار کی شہہ شرخی تھی۔۔۔

Ishaq Issues Diktat.

سپریم کورٹ اس وقت بھی ایسے ہی رات کو یا چھٹی والے دن کھل رہے تھے۔ نواز شریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا۔

اس وقت چونکہ tv channels اور سوشل میڈیا نہیں تھا لہذا لمحہ بہ لمحہ خبر نہیں آتی تھی۔ اخبار اگلے دن آتا تھا۔

تھیٹر وہی ہے۔ کردار بدلے ہوئے ہیں۔ پروڈیوسرز وہی ہیں۔ سکرپٹ کے لکھاری وہی ہیں۔

وہی لاتے ہیں۔ وہی گھر بھیجتے ہیں۔ لانے والے کیوں لاتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون ہوتا ہے وہ سات سمندر دور بیٹھے ہیں۔

جو tv پر نظر آتا ہے وہ بہت دیر کے بعد آتا ہے۔ اصل واقعات بہت پہلے ہوچکے ہوتے ہیں۔

پاور کی گیم میں جیتتا وہی ہے جو اپنا ہوم ورک پہلے کرکے بیٹھا ہوتا ہے۔ اور فوری فیصلہ کرنے کا اہل ہوتا ہے۔

"وہ" جب چاہیں فرشتے کو شیطان بنا دیتے ہیں اور شیطان کو فرشتہ۔

کبھی الطاف حسین فرشتہ تھا پھر شیطان بن گیا اور اب دوبارہ فرشتہ بن سکتا ہے۔

زرداری اور نواز شریف باری باری فرشتے اور شیطان بن چکے ہیں اب دوبارہ فرشتے بن گئے ہیں۔

جن جذبات سے آپ آج گزر رہے ہیں میں ان جذبات سے گزر گزر کر عادی ہوچکا ہوں۔

یہ قوم نہیں سدھرے گی جب تک ہلاکو نہیں آئے گا۔ وہ سب کی چھترول کرے گا۔

خوشیاں منانے والو اور غم میں رونے والو! نیچے والا فقرہ غور سے پڑھو۔۔۔۔

This, too, shall pass.

یہ وقت بھی گذر جائے گا۔

نوٹ: اس پیج پر بدزبان اور بدتمیز بچے فوری بلاک ہوجاتے ہیں

14/07/2021

کیپ ٹاؤن شہر نہیں
❗آخری وارننگ ہے،
🔸پاکستانیوں آپ کا نمبر بھی آیا چاہتا ہے

❗کیپ ٹاؤن کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔
❗اس کا شمار براعظم افریقہ کے متمول ترین شہروں میں ہوتا ہے۔
❗جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ اسی شہر میں قائم ہے۔
❗دنیا کے کئی ارب پتیوں نے یہاں املاک خریدی ہوئی ہیں۔
❗نیلا بحر اوقیانوس مٹیالے بحرِ ہند سے کیپ ٹاؤن کے کناروں پر ہی گلے ملتا ہے۔
❗پینتالیس لاکھ آبادی ہر جدید اور خوشحال شہر کی طرح دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔
❗خادم اور مخدوم۔
❗جو مخدوم ہیں وہ بہت ہی مخدوم ہیں۔
❗سب کے رنگ صاف اور تمتماتے ہوئے۔
❗زندگی کا محور بڑے بڑے سوئمنگ پولز والے ولاز ، سایہ دار گلیاں، تازہ ماڈل کی گاڑیاں، فارم ہاؤسز ، کارپوریٹ بزنس اور پارٹیاں۔
❗شہر کے اسی فیصد آبی وسائل بیس فیصد مخدوموں کے زیرِ استعمال ہیں اور باقی اسی فیصد خدام کو بیس فیصد پانی میسر ہے۔

🔹دس برس پہلے کچھ پاگل ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ بڑھتی آبادی ، اوور ڈویلپمنٹ ( اس کا اردو ترجمہ میں نہیں کر سکتا ) اور ماحولیاتی تبدیلی جلد ہی کیپ ٹاؤن کو ناقابلِ رہائش بنا دے گی۔ظاہر ہے یہ وارننگ سن کر سب ہنس پڑے ہوں گے۔

❗اب سے تین برس پہلے تک کیپ ٹاؤن کشل منگل تھا۔
❗شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے گرد و نواح میں چھ ڈیموں کے ذخائر میں ہر وقت پچیس ارب گیلن پانی جمع رہتا تھا۔
❗امرا کو ہر ہفتے سوئمنگ پول میں پانی بدل دینے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
❗کتوں کو بھی روزانہ دو بار پھواری غسل دینا معمول تھا۔
❗کار تو ظاہر ہے روزانہ دھلتی ہی ہے ، باغ کو مالی پانی نہیں دے گا تو مالی کی ضرورت کیا۔

🔸پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ خشک سالی آ گئی ، آبی ذخائر بھرنے والے پہاڑی، نیم پہاڑی اور میدانی نالوں کی زبانیں نکل آئیں۔
❗دھیرے دھیرے پچھلے برس اگست سے آبی قلت کیپ ٹاؤن کے ہر طبقے کو چبھنے لگی۔
❗دسمبر تک یہ آبی ایمرجنسی میں بدل گئی اور آج حالت یوں ہے کہ کیپ ٹاؤن کا حلق تر رکھنے والے چھ بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح چوبیس فیصد رہ گئی۔
❗جب یہ دس فیصد پر پہنچ جائے گی تو پانی عملاً کیچڑ کی شکل میں ہی دستیاب ہوگا۔

🔸چنانچہ آبی مارشل لا نافذ کرنا پڑ گیا ہے۔
❗جن آبی ذخائر اور نالوں میں فی الحال رمق بھر پانی موجود ہے وہاں آبی لوٹ مار، ڈکیتی ، پانی کی چھینا جھپٹی اور چوری روکنے کے لیے مقامی پولیس کا اینٹی واٹر کرائم پٹرول متحرک ہے۔
❗غربا کو پانی کی فراہمی کے لیے دو سو ہنگامی آبی مراکز قائم کیے گئے ہیں
❗جہاں سے پچاس لیٹر روزانہ فی کنبہ راشن حاصل کیا جا سکتا ہے ( یہ پانی آٹھ منٹ تک باتھ شاور سے گرنے والے پانی کے برابر ہے )۔

❗سوئمنگ پول ، باغبانی اور گاڑیوں کی دھلائی قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔
❗فائیو اسٹار ریسٹورنٹس پیپر کراکری استعمال کر رہے ہیں۔
❗اچھے ہوٹلوں میں دو منٹ بعد شاور خود بخود بند ہو جاتا ہے۔
❗یہ بحران مزید سنگین جولائی تک ہوگا جب پہلے ہفتے میں
🔸ڈے زیرو آ جائے گا۔
❗ڈے زیرو کا مطلب ہے استعمالی پانی کی نایابی۔
❗حکومت ابھی سے ڈے زیرو سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔
❗کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا ڈے زیرو شہر بننے والا ہے۔
❗اس کے پیچھے ایک سو انیس اور شہر کھڑے ہیں۔
❗ان میں بھارت کا آئی ٹی کیپٹل بنگلور
🔸اور پاکستان کا کراچی ، لاہور اور کوئٹہ بھی شامل ہے۔
❗آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں۔
❗سنبھلنے کی مہلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

🔸مگر جس ریاست میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر زہر کا پیالہ بن گئی ،
❗جہاں کراچی کو پانی فراہم کرنے والی کلری جھیل کو ہالیجی سے میٹھا پانی فراہم کرنے والی نال کو آلودہ پانی لے جانے والی نہر ( ایل بی او ڈی ) نے کاٹ ڈالا ،
❗جہاں کوئٹہ کی ہنا جھیل سوکھے پاپڑ میں بدل گئی ،
❗جہاں دریاؤں اور سمندر کے ساحل کو خام کچرے اور صنعتی فضلے کا کوڑا گھر بنا کر اجتماعی ریپ ہو رہا ہے ،
❗زہریلے پانی سے سبزیاں اگا کے انھیں فارم فریش سمجھ کے ہم اپنے بچوں کے پیٹ میں اتار رہے ہوں.

❗حالات جس طرف جا رہے ہوں اور ان کی سنگینی کا جس قدر احساس ہے
❗اور اس احساس کو مٹانے کے لیے جس طرح ہر فورم پر بس بتایا جا رہا ہے۔
❗اس کے بعد وہ وقت دور نہیں جب کسی عدالت کا ازخود نوٹس تیرانے کے لیے بھی صاف چھوڑ گدلا پانی میسر ہو۔

وضو کو مانگ کر پانی خجل نہ کر اے میر
وہ مفلسی ہے تیمم کو گھر میں خاک نہیں

🔸خدارا !
❗جن احباب کے پاس کسی بھی سیاستدان ، لیڈر، اینکر ، میڈیا ، سوشل میڈیا تک رسائی ھے،
❗وہ یہ پوسٹ ضرور آگے بڑھائیں ۔

24/05/2021

🌍 جانوروں کے متعلق کچھ معلومات

1۔۔ مگر مچھ 🐊 اپنی زبان 👅 کبھی باہر نہیں نکال سکتا

2۔۔ سمندری کھیکھڑے 🦀 کا دل 💜 اسکے سر میں ہوتا ہے

3۔۔ (خنزیر) سوّر 🐖 کبھی آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا

4۔۔ چویے 🐀 اور گھوڑے 🐎 کبھی الٹی نہیں کرتے

5۔۔ مگرمچھ 🐊 کے ہاضمے کی طاقت اتنی ہوتی ہے کہ وہ لوہے کا کیلا بھی ہضم کر سکتا ہے

6۔۔ کتّے 🐕انسان سے تیز دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ رنگین نہیں دیکھ سکتے

7۔۔ گوریلا 🦍 ایک دن میں 14 گھنٹے سوتا ہے

8۔۔ نر گھوڑے 🐎کے 40 دانت ہوتے ہیں جبکہ مادہ گھوڑے کے صرف 36 دانت ہوتے ہیں

9۔۔ چوہے 🐁 ایک سال میں لاکھوں بچّے پیدا کر سکتے ہیں

10۔۔ زراف 🦒 گھوڑے 🐎 سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے

11۔۔ اُلّو 🦉 کو صرف نیلا رنگ ہی دکھائی دیتا ہے

12۔۔ اونٹوں 🐪 کی 3 پلکیں ہوتی ہیں جس سے وہ ریگستان میں ریت سے اپنی آنکھوں کو بچاتے ہیں

13۔۔ اونٹنی 🐫 کے دودھ سے دہی نہیں بنتا

14۔۔ اونٹ 🐪 کو جب غصہ آتا ہے تب وہ چھینکتا ہے

15۔۔ ہاتھی 🐘 کو پسینہ ناخن کے ذریعہ نکلتا ہے

16/05/2021

مجھے شوق تھا تیرے ساتھ کا
جو نہ مل سکا چلو خیر ہے
میری زندگی بھی گزر جاے گی
تو بھی جا چکا چلو خیر ہے
یہ جو بے بسی ہے چار سو
اور الجھے الجھے سے طور ہیں
تجھے سب خبر ہے مگر تو کیوں!
نہ سمجھ سکا, چلو خیر ہے
کبھی تم کو ضد تھی کہ میں ملوں
کبھی میں بضد تھی کہ تو ملے
یونہی دھیرے دھیرے ختم ہوا
یہ بھی سلسلہ چلو خیر ہے..!!

15/05/2021

Watch and share

11/05/2021

💕وہ وجوہات جو انڈوں کو غذا کا لازمی حصہ بنانے پر مجبور کریں💕

💕جب بات ناشتے میں انڈے کھانے کی ہو تو ہر ایک کی پسند مختلف ہوسکتی ہے۔

ہارڈ بوائل سے لے کر فرائی اور آملیٹ، غرض متعدد طریقے سے دنیا کے اس مقبول ترین ناشتے سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔

فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ڈوں میں اگرچہ قدرتی طور پر کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے مگر ان کا استعمال جان لیوا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ لگ بھگ 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انڈے دنیا بھر میں پھیلتی اس وبا کی روک تھام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ذیابیطس سے ہٹ کر بھی ایسی متعدد وجوہات ہیں جو آپ کو انڈے کھانے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں۔

*مکمل پروٹین فراہم کرے*
ایک انڈے میں 9 امینو ایسڈز ہوتے ہیں جو پروٹین کے بلڈنگ بلاگ بنانے میں مدد دیتے ہیں، یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ہمارا جسم خود ایسا کرنے سے قاصر ہے، انڈے کی سفیدی میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے۔

*غذائی اجزا سے بھرپور*
انڈوں میں وٹامنز، منرلز، امینو ایسڈز سمیت متعدد غذائی اجزا شامل ہیں جیسے ہائی کوالٹی پروٹین، سلینیم، فاسفورس، کولین، وٹامن بی 12، متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس جو خلیات کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

*صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کے لیے مددگار*
صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے کولیسٹرول ایچ ڈی ایل کی سطح ایسے افراد میں زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے جو ایک دن میں 3 یا اس سے زائد انڈے کھاتے ہیں، یقیناً نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بھی بڑھتی ہے، مگر فائدہ مند کولیسٹرول اسے نقصان پہنچانے سے روکتا ہے۔

*ٹرائی گلیسڈرز کی سطح کم کرے*
ٹرائی گلیسڈرز کی سطح میں کمی صحت میں بہتری آتی ہے، انڈے کھانے کی عادت مخصوصی فیٹی ایسڈز (جیسے اومیگا تھری) کی سطح بڑھاتی ہے، جس سے ٹرائی گلیسڈر کی سطح کم ہوتی ہے۔

*فالج کا خطرہ کم کرے*
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزانہ ایک انڈا کھانا فالج کا خطرہ کم کرتا ہے، حال ہی میں ایک چینی طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا جو لوگ روزانہ ایک انڈا کھاتے ہیں، ان میں دماغی شریان یا برین ہیمرج کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

*کیلوریز کنٹرول کرنے میں مددگار*
ایک انڈے میں 70 کیلوریز ہوتی ہیں اور بہت آسانی سے جل بھی جاتی ہیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

*سستی غذا*
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انڈے عام طور پر بہت زیادہ مہنگے نہیں ہوتے اور 10 سے 20 روپے کے اندر انہیں آسانی سے خریدا جاسکتا ہے۔

*دل کے لیے صحت بخش*
جو لوگ زیادہ انڈے کھاتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا، ایسے افراد میں بھی جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہوں، جبکہ انڈوں کو کھانا صحت مند وزن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک انڈا کھانا امراض قلب کا خطرہ انڈوں سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوتا ہے۔

*پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھے*
ناشتہ میں انڈے کو کھانا پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو نوجوان ناشتے میں ایک انڈا کھاتے ہیں، وہ دوپہر کے کھانے میں 130 کیلوریز کم جسم کا حصہ بناتے ہیں۔

*بینائی کے لیے مددگار*
انڈوں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس آنکھوں کے امراض جیسے موتیا اور عمر بڑھنے سے آنے والی کمزوری سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، ویسے سبز پتوں والی سبزیاں بھی یہ کام کرتی ہیں مگر انڈے زیادہ بہتر ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں موجود چکنائی جسم کے لیے غذائی اجزا کو استعمال کرنا آسان بنادیتی ہے۔

*دماغ تیز کرے*
انڈوں میں موجود وٹامن ڈی دماغ کے گرے میٹر کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ کولین نامی جز اعصاب کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے، یہ جز حاملہ خواتین کے لیے بھی ضروری ہے جو بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے...

💞پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں💞

Address

Al Ajman

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share