31/08/2026
معلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ حاصل کرنا یا اپنے پاس رکھنا ایک قابلِ سزا جرم
معلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ حاصل کرنا یا اپنے پاس رکھنا پاکستان کے قانون کے تحت ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسے کیسز عام طور پر اس وقت سامنے آتے ہیں جب کوئی شخص سفری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جیسے کہ ڈی پورٹیشن کا ریکارڈ، Exit Control List (ECL) میں نام شامل ہونا، یا پہلے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں۔ بعض افراد اسی یا کسی دوسری شناخت پر دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ واضح طور پر غیر قانونی عمل ہے۔ پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 6(1)(j) کے تحت اس عمل کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پہلے پاسپورٹ کی موجودگی چھپا کر ایک سے زیادہ عام پاسپورٹ حاصل کرے—چاہے ایک ہی نام پر ہو یا مختلف شناخت پر—تو اسے زیادہ سے زیادہ 3 سال قید اور/یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ کچھ محدود استثنائی صورتیں موجود ہیں، جیسے بیک وقت ایک عام پاسپورٹ اور ایک سرکاری یا سفارتی پاسپورٹ رکھنا، لیکن یہ صرف اجازت کے ساتھ اور مکمل ریکارڈ کے تحت ممکن ہے۔ ECL میں شامل افراد کے لیے کسی بھی صورت دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنا ممنوع ہے، اور جدید بایومیٹرک نظام اور قومی ڈیٹا بیس کے ذریعے ایسی کوششوں کو آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شناختی دستاویزات کے غلط استعمال یا فراڈ کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے کی صورت میں مستقبل میں پاسپورٹ جاری کرنے سے بھی انکار کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو کسی اور قسم کا پاسپورٹ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اسی لیے ضروری ہے کہ تمام پاسپورٹ سے متعلق معاملات میں قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ اگر پاسپورٹ گم ہو جائے، چوری ہو جائے یا خراب ہو جائے تو فوراً متعلقہ حکام کو اطلاع دیں اور سرکاری طریقے سے نیا پاسپورٹ حاصل کریں، نہ کہ پہلے پاسپورٹ کو چھپا کر دوسرا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اگر کسی فرد پر سفری پابندیاں ہوں تو انہیں ختم کروانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں، غیر قانونی طریقوں کا سہارا نہ لیں۔ اگر کسی کو سرکاری یا ملازمت کے مقصد کے لیے خصوصی پاسپورٹ جاری کیا گیا ہو تو کسی بھی اضافی پاسپورٹ کے حصول کے لیے مکمل شفافیت اور مقررہ قوانین کی پابندی ضروری ہے۔