Arfan Digital Talks

  • Home
  • Arfan Digital Talks

Arfan Digital Talks Are you planning a move abroad? Or are you just intrigued by this vibrant and rapidly growing region? You're in the right place!

Arfan Digital Talks is dedicated to bringing the latest news, insights & expert tips to help you on your journey

معلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ حاصل کرنا یا اپنے پاس رکھنا ایک قابلِ سزا جرممعلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ ح...
31/08/2026

معلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ حاصل کرنا یا اپنے پاس رکھنا ایک قابلِ سزا جرم

معلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ حاصل کرنا یا اپنے پاس رکھنا پاکستان کے قانون کے تحت ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسے کیسز عام طور پر اس وقت سامنے آتے ہیں جب کوئی شخص سفری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جیسے کہ ڈی پورٹیشن کا ریکارڈ، Exit Control List (ECL) میں نام شامل ہونا، یا پہلے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں۔ بعض افراد اسی یا کسی دوسری شناخت پر دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ واضح طور پر غیر قانونی عمل ہے۔ پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 6(1)(j) کے تحت اس عمل کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پہلے پاسپورٹ کی موجودگی چھپا کر ایک سے زیادہ عام پاسپورٹ حاصل کرے—چاہے ایک ہی نام پر ہو یا مختلف شناخت پر—تو اسے زیادہ سے زیادہ 3 سال قید اور/یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ کچھ محدود استثنائی صورتیں موجود ہیں، جیسے بیک وقت ایک عام پاسپورٹ اور ایک سرکاری یا سفارتی پاسپورٹ رکھنا، لیکن یہ صرف اجازت کے ساتھ اور مکمل ریکارڈ کے تحت ممکن ہے۔ ECL میں شامل افراد کے لیے کسی بھی صورت دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنا ممنوع ہے، اور جدید بایومیٹرک نظام اور قومی ڈیٹا بیس کے ذریعے ایسی کوششوں کو آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شناختی دستاویزات کے غلط استعمال یا فراڈ کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے کی صورت میں مستقبل میں پاسپورٹ جاری کرنے سے بھی انکار کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو کسی اور قسم کا پاسپورٹ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

اسی لیے ضروری ہے کہ تمام پاسپورٹ سے متعلق معاملات میں قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ اگر پاسپورٹ گم ہو جائے، چوری ہو جائے یا خراب ہو جائے تو فوراً متعلقہ حکام کو اطلاع دیں اور سرکاری طریقے سے نیا پاسپورٹ حاصل کریں، نہ کہ پہلے پاسپورٹ کو چھپا کر دوسرا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اگر کسی فرد پر سفری پابندیاں ہوں تو انہیں ختم کروانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں، غیر قانونی طریقوں کا سہارا نہ لیں۔ اگر کسی کو سرکاری یا ملازمت کے مقصد کے لیے خصوصی پاسپورٹ جاری کیا گیا ہو تو کسی بھی اضافی پاسپورٹ کے حصول کے لیے مکمل شفافیت اور مقررہ قوانین کی پابندی ضروری ہے۔

27/08/2026

26/08/2026

🚨 DON’T DO THIS IN DUBAI! 🇦🇪 | Avoid Fines & Legal Trouble

Visiting or living in Dubai? 🇦🇪 Don’t make this mistake! ⚠️ Know the UAE rules, respect local laws, and avoid actions that could lead to fines, penalties, or legal problems. Stay informed and stay safe in Dubai! 🚨

https://www.facebook.com/photo/?fbid=1456694093164241&set=a.249684743865188
26/08/2026

https://www.facebook.com/photo/?fbid=1456694093164241&set=a.249684743865188

PhD Scholarships for 2027 Admissions 🇵🇰🇺🇸

Apply for the U.S.-Pakistan Knowledge Corridor PhD Scholarships at Top 100 QS-ranked U.S. universities.

🗓️ Deadline:
• Spring/Summer 2027 Intake: 30 October 2026
• Fall 2027 Intake: 30 March 2027

🔗 Apply now: scholarship.hec.gov.pk
🌐 Details: hec.gov.pk/site/US-PAK-KC

خبردار! کرغزستان کے نام پر جعلی ویزا ویب سائٹعوام الناس اور بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ...
26/08/2026

خبردار! کرغزستان کے نام پر جعلی ویزا ویب سائٹ

عوام الناس اور بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ www.evisa-e-gov-kg.asia ایک جعلی ویب سائٹ ہے، جو کرغزستان کے لیے آن لائن ویزا درخواست اور ویزا کی تصدیق کی سہولت فراہم کرنے کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے۔ اس ویب سائٹ کو کسی بھی قسم کی ویزا درخواست، تصدیق، ادائیگی یا ذاتی معلومات فراہم کرنے کے لیے ہرگز استعمال نہ کریں۔

احتیاطی ہدایت: صرف کرغزستان کے سرکاری ویزا پورٹل یا متعلقہ سفارت خانے سے تصدیق شدہ ویب سائٹ استعمال کریں۔ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بینک یا کریڈٹ کارڈ کی معلومات نامعلوم ویب سائٹ پر درج نہ کریں۔ مشتبہ لنک کسی دوسرے شخص کو فارورڈ کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں۔

متحدہ عرب امارات میں دوپہر کے وقت کام پر پابندی کا اعلانیو اے ای میں گرمی کے موسم کے دوران ہر سال کی طرح اس سال بھی دوپہ...
26/08/2026

متحدہ عرب امارات میں دوپہر کے وقت کام پر پابندی کا اعلان

یو اے ای میں گرمی کے موسم کے دوران ہر سال کی طرح اس سال بھی دوپہر کے وقت کھلی دھوپ میں کام کرنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ یہ پابندی 15 جون سے شروع ہو کر 15 ستمبر تک نافذ رہے گی جس کے تحت دوپہر 12:30 بجے سے لے کر شام 3:00 بجے تک کھلی جگہوں اور براہ راست دھوپ میں کام کرنے کی سخت ممانعت ہوگی۔ اس قانون کو مسلسل 22 ویں سال لاگو کیا جا رہا ہے تاکہ آپ کو گرمی سے پیدا ہونے والی تکالیف یا چوٹوں سے بچایا جا سکے اور کام کا ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ان قوانین کے مطابق کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ پابندی کے اوقات میں اپنے ملازمین کو آرام کے لیے سائے دار جگہیں فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے آلات جیسے پنکھے، پینے کا صاف پانی اور ہائیڈریشن کا دیگر ضروری سامان بھی مہیا کرنا ہوگا۔

کچھ ایسے کاموں کو اس پابندی سے چھوٹ حاصل ہوگی جنہیں تکنیکی وجوہات کی بنا پر روکا نہیں جا سکتا۔ ان کاموں میں اسفالٹ بچھانے اور کنکریٹ ڈالنے کے وہ کام شامل ہیں جنہیں پابندی کے وقت کے بعد تک مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ پانی، بجلی اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے ضروری ہنگامی مرمتی کام بھی اس پابندی سے باہر ہیں۔ ایسے کام جن کے لیے عوامی زندگی اور نقل و حرکت پر اثرات کی وجہ سے مخصوص سرکاری اداروں سے اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے، انہیں بھی اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

خلاف ورزی کرنے کی صورت میں کمپنی کو ہر ایک ملازم کے حساب سے 5,000 درہم جرمانہ ہوگا جبکہ متعدد ملازمین کے متاثر ہونے کی صورت میں یہ جرمانہ زیادہ سے زیادہ 50,000 درہم تک پہنچ سکتا ہے۔

ماضی کی ڈیپورٹیشن کا پاسپورٹ پر اثرپہلے ڈی پورٹیشن (ملک بدری) یا غیر قانونی داخلے میں ملوث ہونے کا کسی بھی شخص کے مستقبل...
26/08/2026

ماضی کی ڈیپورٹیشن کا پاسپورٹ پر اثر
پہلے ڈی پورٹیشن (ملک بدری) یا غیر قانونی داخلے میں ملوث ہونے کا کسی بھی شخص کے مستقبل میں پاسپورٹ حاصل کرنے پر براہِ راست اور طویل مدتی اثر پڑ سکتا ہے۔ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کر دیں جن کے ماضی کے اقدامات قانونی، سیکیورٹی یا عوامی مفاد کے خلاف ہوں۔ خاص طور پر وہ افراد جنہیں ویزا کی خلاف ورزی، غیر قانونی داخلے یا مجرمانہ سرگرمیوں کی بنیاد پر ڈی پورٹ کیا گیا ہو، انہیں نیا پاسپورٹ جاری نہ کیا جانا ایک سنجیدہ قانونی پالیسی کا حصہ ہے۔
قانون کے مطابق وہ افراد بھی نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں جن پر انسانی اسمگلنگ یا سمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہو یا جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ کیا ہو۔ اسی طرح جن افراد کا نام Exit Control List (ECL) میں شامل ہو، جو عدالت کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہوں، یا جنہیں بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مطلوب قرار دیا گیا ہو، وہ خودکار طور پر پاسپورٹ حاصل کرنے کے اہل نہیں رہتے۔ Passport Control List (PCL) ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے ان پابندیوں کو نافذ کیا جاتا ہے، جس میں افراد کو مختلف کیٹیگریز میں رکھا جاتا ہے اور ایک مخصوص مدت کے لیے ان کے سفر پر پابندی لگائی جاتی ہے، جو ضرورت پڑنے پر مزید بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ بعض کیسز میں پہلے سے جاری شدہ پاسپورٹ کو بھی غیر فعال (inactive) کر دیا جاتا ہے تاکہ مزید سفر روکا جا سکے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو ڈی پورٹ ہو کر واپس آئے ہوں یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کر چکے ہوں، وہ پاکستان آ کر اپنی حیثیت کو باقاعدہ طور پر درست کروائیں۔ نیا پاسپورٹ اپلائی کرنے سے پہلے متعلقہ پاسپورٹ حکام سے اپنی حیثیت کی تصدیق کر لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ وقت اور پیسے کا ضیاع نہ ہو۔ اگر کسی پر پابندی عائد ہو تو وہ قانونی طریقے سے اس کے خلاف اپیل کر سکتا ہے، اور اس عمل میں کسی ماہر قانونی مشیر کی مدد فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بیرونِ ملک کوئی قانونی یا انتظامی مسئلہ زیر التوا ہو تو اسے سفارتی یا سرکاری ذرائع کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ آئندہ سفر میں مشکلات پیش نہ آئیں

ماضی کی ڈیپورٹیشن کا پاسپورٹ پر اثر

پہلے ڈی پورٹیشن (ملک بدری) یا غیر قانونی داخلے میں ملوث ہونے کا کسی بھی شخص کے مستقبل میں پاسپورٹ حاصل کرنے پر براہِ راست اور طویل مدتی اثر پڑ سکتا ہے۔ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کر دیں جن کے ماضی کے اقدامات قانونی، سیکیورٹی یا عوامی مفاد کے خلاف ہوں۔ خاص طور پر وہ افراد جنہیں ویزا کی خلاف ورزی، غیر قانونی داخلے یا مجرمانہ سرگرمیوں کی بنیاد پر ڈی پورٹ کیا گیا ہو، انہیں نیا پاسپورٹ جاری نہ کیا جانا ایک سنجیدہ قانونی پالیسی کا حصہ ہے۔

قانون کے مطابق وہ افراد بھی نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں جن پر انسانی اسمگلنگ یا سمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہو یا جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ کیا ہو۔ اسی طرح جن افراد کا نام Exit Control List (ECL) میں شامل ہو، جو عدالت کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہوں، یا جنہیں بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مطلوب قرار دیا گیا ہو، وہ خودکار طور پر پاسپورٹ حاصل کرنے کے اہل نہیں رہتے۔ Passport Control List (PCL) ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے ان پابندیوں کو نافذ کیا جاتا ہے، جس میں افراد کو مختلف کیٹیگریز میں رکھا جاتا ہے اور ایک مخصوص مدت کے لیے ان کے سفر پر پابندی لگائی جاتی ہے، جو ضرورت پڑنے پر مزید بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ بعض کیسز میں پہلے سے جاری شدہ پاسپورٹ کو بھی غیر فعال (inactive) کر دیا جاتا ہے تاکہ مزید سفر روکا جا سکے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو ڈی پورٹ ہو کر واپس آئے ہوں یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کر چکے ہوں، وہ پاکستان آ کر اپنی حیثیت کو باقاعدہ طور پر درست کروائیں۔ نیا پاسپورٹ اپلائی کرنے سے پہلے متعلقہ پاسپورٹ حکام سے اپنی حیثیت کی تصدیق کر لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ وقت اور پیسے کا ضیاع نہ ہو۔ اگر کسی پر پابندی عائد ہو تو وہ قانونی طریقے سے اس کے خلاف اپیل کر سکتا ہے، اور اس عمل میں کسی ماہر قانونی مشیر کی مدد فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بیرونِ ملک کوئی قانونی یا انتظامی مسئلہ زیر التوا ہو تو اسے سفارتی یا سرکاری ذرائع کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ آئندہ سفر میں مشکلات پیش نہ آئیں۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arfan Digital Talks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arfan Digital Talks:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share