Balochistan Plus

Balochistan Plus مظلوم عوام کی آواز

ورلڈ کپ 2026 پہلے سے بالکل مختلف ہونے والا ہے۔ اس بار ورلڈ کپ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس سے دنیا کے مزید مم...
31/05/2026

ورلڈ کپ 2026 پہلے سے بالکل مختلف ہونے والا ہے۔ اس بار ورلڈ کپ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس سے دنیا کے مزید ممالک کو اس بڑے ایونٹ میں کھیلنے کا موقع ملے گا اور ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ بڑا اور دلچسپ ہو جائے گا۔

نئے فارمیٹ کے مطابق اب 12 گروپس ہوں گے۔ ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیمیں اگلے راؤنڈ میں جائیں گی، جبکہ کچھ بہترین تھرڈ پوزیشن والی ٹیمیں بھی کوالیفائی کر سکیں گی۔ اس تبدیلی کے بعد میچز کی تعداد 64 سے بڑھ کر 104 ہو جائے گی، جس سے ٹورنامنٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہو جائے گا۔

FIFA
نے کھیل کو تیز کرنے اور ٹائم ویسٹنگ روکنے کے لیے بھی
سخت قوانین متعارف کروائے ہیں۔ اگر گول کیپر 8 سیکنڈ سے زیادہ بال اپنے ہاتھ میں رکھے گا تو مخالف ٹیم کو کارنر جا سکتا ہے۔ اسی طرح تھرو اِن، گول کک اور سبسٹیٹیوشن کے عمل کو بھی تیز کرنا لازمی ہوگا تاکہ کھیل مسلسل اور فاسٹ رہے۔

VAR
سسٹم اور آف سائیڈ ٹیکنالوجی کو بھی مزید جدید بنایا جا رہا ہے۔ AI سسٹم، اسمارٹ بال اور ریئل ٹائم ڈیٹا کی مدد سے ریفری کے فیصلے پہلے سے زیادہ تیز اور درست ہوں گے۔

اس کے علاوہ مختلف براعظموں کے لیے کوالیفکیشن کوٹہ بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس سے ایشیا، افریقہ اور دوسرے ریجنز کی مزید ٹیمیں ورلڈ کپ میں شرکت کر سکیں گی۔

مختصر یہ کہ FIFA ورلڈ کپ 2026 کا مقصد کھیل کو زیادہ فاسٹ، فیئر اور انٹرٹیننگ بنانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی ٹیم اس نئے فارمیٹ میں دنیا کی چیمپئن بنتی ہے۔

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کو چار سال مکمل ہوگئے، محکمہ بلدیات نے وزیر اعلی بلوچستان کو نئے بلدیاتی ان...
31/05/2026

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کو چار سال مکمل ہوگئے، محکمہ بلدیات نے وزیر اعلی بلوچستان کو نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے تاریخ دینے کیلئے سمری ارسال کردی

بلوچستان پلس

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کو چار سال مکمل ہوگئے ، محکمہ بلدیات نے وزیر اعلی بلوچستان کو نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے تاریخ دینے کیلئے سمری ارسال کردی تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور حب کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 29مئی 2022کو منعقد ہوئے تھے صوبے کے بیشتر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کو چار سال پورے ہوگئے تاہم ان بلدیاتی اداروں کے نمائندے کے آٹھ فروری 2023 کو حلف اٹھانے کے باعث بلدیاتی اداروں کی 4 سالہ معیاد آئندہ سال آٹھ فروری کو پوری ہوگی اس حوالے سے سیکرٹری بلدیات عبدالروف بلوچ نے بتایا کہ نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دینے کیلئے ایک سمری وزیر اعلی بلوچستان کو بھجوائی گئی ہے جس کی منظوری صوبائی کابینہ دے گی۔ محکمہ بلدیات کوئٹہ میں بھی بلدیاتی انتخابات صوبے کے دیگر بلدیاتی اداروں کے ساتھ کرانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

کیا کوئٹہ اور سبی افغانستان کے علاقے تھے؟کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئٹہ اور سبی افغانستان کے علاقے تھے۔دراصل وہ صرف غلط...
30/05/2026

کیا کوئٹہ اور سبی افغانستان کے علاقے تھے؟
کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئٹہ اور سبی افغانستان کے علاقے تھے۔دراصل وہ صرف غلط فہمی کا شکر ہیں۔ یہ تصاویر میں جو دستاویز ہے یہ 1883 میں برطانوی نمائندے سر رابرٹ سینڈیمن اور خان آف قلات میر خداداد خان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی اصل کاپی ہے۔ اس پورے معاہدے میں افغانستان کا ایک لفظ نہیں۔
برطانیہ نے کوئٹہ اور سبی کے بدلے خان آف قلات کو پچیس ہزار روپے سالانہ ادا کیے۔ بولان درے کے بدلے تین لاکھ روپے سالانہ ادا کیے۔ یہ رقم قلات کو ملی، کابل کو نہیں۔
برطانیہ نے یہ علاقے افغانستان سے نہیں چھینے بلکہ خان آف قلات سے لیز پر لیے اور باقاعدہ معاوضہ ادا کیا۔
ریاستِ قلات صدیوں سے ایک خودمختار بلوچ ریاست تھی۔ کوئٹہ، سبی، کچی بولان، مکران، نصیرآباد۔ خضدار۔ خاران اور لسبیلہ یہ سب اس ریاست کا حصہ تھے۔ افغانستان کا ان علاقوں پر کبھی کوئی انتظامی کنٹرول نہیں تھا۔

معاہدے کا مکمل اردو ترجمہ

یہ معاہدہ جناب خان قلات میر خداداد خان کی جانب سے ایک طرف، اور سر رابرٹ سینڈیمن، ایجنٹ برائے گورنر جنرل بلوچستان کی جانب سے دوسری طرف، وائسرائے کی منظوری کے تابع، 1 جون 1883 کو داسل پیام میں دستخط

30/05/2026

ایرانی فورسز کا بلوچ آبادی پر حملہ اور متعدد بلوچ بوڑھوں اور عورتوں پر لاٹھی چارج کئی بلوچ زخمی ،

ایرانی سکیورٹی فورسز اور حکومت کی منافقت ایک طرف مسلمان مسلمان کا بھائی کا نعرہ تو دوسری طرف ایرانی سکیورٹی فورسز کی اہل سنت بلوچوں پر ظلم کی انتہاء

غمخوار نے بیس سے زائد کتب لکھیں، ترجمہ کیں۔ ان میں سے سترہ چھپ چکی ہیں، دو زیراشاعت ہیں، دو چار مسودے زیرترتیب تھے۔ وہ ا...
25/05/2026

غمخوار نے بیس سے زائد کتب لکھیں، ترجمہ کیں۔ ان میں سے سترہ چھپ چکی ہیں، دو زیراشاعت ہیں، دو چار مسودے زیرترتیب تھے۔ وہ اپنی کتابیں اکثر خود شائع کرتا یا ہم جیسے دوستوں اور اداروں کی معاونت سے مل کر۔

لیکن ان میں سے ایک کتاب بھی براہوی کے سب سے بڑے ادارے براہوی اکیڈمی نے نہیں چھاپی؟

پتہ ہے کیوں؟

کیوں کہ غمخوار زبان کی بنیاد پر قومی تقسیم کے خلاف تھا، کیوں کہ وہ لسانی عصبیت کے حق میں نہیں تھا، کیوں کہ اس نے بلوچ سماج میں تفرقہ پھیلانے سے انکار کیا۔

یہی وہ جرم ہے جس کی بنا پر اس کے بہیمانہ قتل پر بھی براہوی اکیڈمی نے مذمت تو دور کی بات، تعزیت تک نہیں کی۔ یعنی بھلے آپ براہوی میں لکھیں اگر آپ براہوی اکیڈمی کے "عظیم مقاصد" سے متفق نہیں تو آپ اس زبان کے ادیب تسلیم نہیں ہوں گے، نہ براہوی کے سب سے بڑے ادارے پر آپ کا کوئی حق بنتا ہے۔

غمخوار جیسے لکھاری قوموں کی حیات کا سرچشمہ ہوتے ہیں اور عصبیت کے مارے ادارے قوموں کی تباہی کے ذمہ دار۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کیلئے تھریٹ الرٹ جاری
24/05/2026

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کیلئے تھریٹ الرٹ جاری

فضائی سفر کے مستقبل میں بڑی تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جہاں جاپان کے مجوزہ میخ 5 (Mach 5) طیارے کے تصور نے دنیا بھر...
24/05/2026

فضائی سفر کے مستقبل میں بڑی تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جہاں جاپان کے مجوزہ میخ 5 (Mach 5) طیارے کے تصور نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ 🌍

رپورٹس کے مطابق یہ جدید طیارہ روایتی جہازوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس کے باعث امریکا اور دیگر عالمی مقامات کے درمیان سفر کا دورانیہ محض چند گھنٹوں تک محدود ہو سکتا ہے۔ ⚡

اطلاعات کے مطابق نئی ٹیکنالوجی پر مبنی یہ منصوبہ فضائی سفر کو زیادہ تیز، جدید اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصور عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو مستقبل میں بین الاقوامی سفر کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ 🌐

مزید یہ کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور عالمی رابطوں کو مزید تیز بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ 🚀

Disclaimer: This post is based on publicly available reports and concept discussions. Social Asian does not independently verify future technological claims or project timelines.

سعودی عرب کا وہ سچا واقعہ جب دو بھائی جائیداد کے لیے نہیں، بلکہ 'اپنی بوڑھی ماں' کی خدمت کے لیے عدالت پہنچ گئے!عام طور پ...
24/05/2026

سعودی عرب کا وہ سچا واقعہ جب دو بھائی جائیداد کے لیے نہیں، بلکہ 'اپنی بوڑھی ماں' کی خدمت کے لیے عدالت پہنچ گئے!
عام طور پر جب دو بھائی عدالت جاتے ہیں تو جھگڑا وراثت یا زمین کا ہوتا ہے، مگر سعودی عرب کی عدالت میں سفید داڑھی والے 'حزام الغامدی' اور اس کے چھوٹے بھائی کا مقدمہ انوکھا تھا۔ دونوں اپنی ضعیف ماں کو اپنے پاس رکھنے کے حق کے لیے لڑ رہے تھے۔
بڑا بھائی حزام روتے ہوئے بولا: "جناب! میں نے برسوں ماں کو سینے سے لگائے رکھا ہے، مجھ سے میری جنت نہ چھینیں!" جبکہ چھوٹے بھائی کی دلیل تھی کہ "حزام اب خود بوڑھے ہو چکے ہیں، ماں کی خدمت کا بوجھ اب میرے جوان کندھوں پر ہونا چاہیے تاکہ بھائی آرام کر سکیں۔"
جج نے مجبور ہو کر ضعیف ماں سے پوچھا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟ بوڑھی ماں نے روتے ہوئے کہا: "جج صاحب! میرے دونوں بیٹے میری دو آنکھیں ہیں، ایک کو چنوں گی تو دوسری سے محروم ہو جاؤں گی!" ماں فیصلہ نہ کر سکی تو جج نے چھوٹے بھائی کی بہتر صحت کو دیکھتے ہوئے ماں کی کفالت اسے سونپ دی۔ فیصلہ سنتے ہی بوڑھا حزام وہیں زمین پر گر کر بچوں کی طرح دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ وہ کوئی جائیداد نہیں ہارا تھا، بلکہ اس کے ہاتھوں سے ماں کی خدمت کا وہ قیمتی موقع چھن گیا تھا جو اس کے لیے ہر دولت سے بڑھ کر تھا۔
یہ کہانی آج کے اس دور کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جہاں لوگ بوڑھے ماں باپ کو بوجھ سمجھتے ہیں

゚viralシalシ

24/05/2026

نیوز الرٹ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچ گئے

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے استقبال کیا

18/05/2026

بھارت میں مسلم خاتون کے ہاں پانچ دن میں 4 بچوں کی نارمل ڈلیوری

Address

Dubai
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan Plus posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category