Adil Gulzar Now & Then

Adil Gulzar Now & Then ​Adil Gulzar | History Enthusiast | Current Affairs. Connecting the lessons of our ancestors.

06/06/2026

اسلام علیکم
آپ احباب کی رائے چاہیئے کہ تاریخ پہ تحریر ہی لکھتا رہوں یا پھر ویڈیوز بھی ہونی چاہئے جو ریکارڈ ہوں۔
شکریہ
Adil Gulzar

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀 ☠️ قارئین کرام انسانی زندگی کے ہر معاملے میں مرکز یا سنٹر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے اور اس مرکز کا ...
31/05/2026

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀 ☠️

قارئین کرام انسانی زندگی کے ہر معاملے میں مرکز یا سنٹر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے اور اس مرکز کا کرتا دھرتا جو ہو گا اس کا مقام بھی الگ ہو گا پروٹوکول الگ ہو گا غرض یہ کہ مرکز اور مرکزی کردار کا شہرہ الگ ہو گا ایسا ہی مصر کی تہذیب میں بھی ہوا جہاں اپنے وقت کے مشہور و مرکزی دیوتا " پتاح " کی موجودگی ممفس(قدیم مصر کا مرکز) کے باسیوں کے لیے ایک نیک شگون تھی۔
پتاح کو تمام دیوتاؤں میں مرکزی حیثیت حاصل تھی اور اس کا مقام سب میں نمایاں تھا یہاں تک کہ کوئی بھی کام اس کی خوشنودی اور پوجا کہ بغیر کرنا بدشگونی خیال کی جاتی تھی۔اسے کی شہرت کے لئے اتنا کافی تھا کہ لوگ اسے دستکار،معمار اور تخلیق کا باعث سمجھتے تھے۔
عام طور پر پتاح کو ممی کی شکل میں دکھایا گیا ہے جس کے ہاتھ باہر ہیں اور سر پر رنگین ٹوپی اور ہاتھ میں عصا موجود ہے جسے زندگی اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے،چہرے کا رنگ نیلا یا سبزی مائل ہوتا ہے جسے زندگی اور تخلیق کا باعث مانا جاتا تھا۔اس کا مجسمہ بغیر کسی اظہار کے مستحکم اور مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے جیسے کہ وہ اپنے نام کی طرح ہے جسے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ہی وہ تخلیق کار ہے جس نے اپنے دماغ میں سوچا اور زبان سے کہہ کہ وجود تخلیق کیے اور ان میں روحیں پھونکیں۔
پتاح کو مصری لوگ " زبان اور خیال سے دنیا بنانے والا مانتے تھے۔ان کے عقیدے کے مطابق پتاح نے سوچ کر اور بول کر اس دنیا کو وجود بخشا__انتہائی گہرا اور فلسفیانہ عقیدہ ہے جس پہ آگے چل کہ بات کریں گے۔
" پتاح نے اپنے دل سے سوچا اور زبان سے کہا اور دنیا وجود میں آگئی"۔

پتاح کو معماروں،دستکاروں،مجسمہ سازوں اور سنیاروں کا محافظ دیوتا سمجھا جاتا تھا چایے وہ کوئی بھی ہو مزدور،سنار اور اہرام پہ کام کرنے والے اس کو اپنا محافظ مانتے تھے۔
پتاح کی بیوی " سیکھمت " جنگ اور شفا کی دیوی جبکہ بیٹا " نیفرتم " جو کنول کے پھول کا دیوتا تھا تینوں مل کے ایک مثلث بنتا ہے جسے میمفس کی تثلیث بھی کہا جاتا ہے یعنی دیوتا کے معاون کہہ سکتے ہیں لیکن اگر آپ عیسائیت میں دیکھیں تو عیسائیت میں بھی تثلیث کا تصور پتاح کے بعد آیا ہے یعنی اگر ہم یوں کہیں کہ بائبل کے احکام اور تعلیمات میں رد وبدل بے انتہا کیا گیا ہے اب یہ رد و بدل کیوں ہوا اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما تھے اس پہ بہت مباحثہ ہو چکے سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور چوٹی کے سکالرز نے اس موضوع پہ کام کیا ہے خیر ان کی تفصیل پھر کسی نشست میں رکھیں گے۔
پتاح کا مندر عظیم ممفس میں تھا جسے " ہکا پتاح " کہا جاتا تھا یعنی پتاح کی روح کا گھر اور کچھ مورخین کی رائے ہے کہ لفظ Egypt اسی نام ہکا پتاح سے نکلا ہے۔
قارئین کرام پتاح کی سوچ اس سے جڑا فلسفہ و نظریہ صرف مصر تک ہی محدود نہ تھا بلکہ یونانیوں نے بھی اسے اپنے دیوتا ہیفائسٹس جو آگ کا دیوتا مانا جاتا تھا اس سے جوڑا اور رومیوں نے اسے وولکن سے جوڑا یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پتاح کا نظریہ یعنی " لفظ سے تخلیق ہوتی ہے " کوئی معمولی سی بات نہ تھی بلکہ بعد میں آنے والے مذاہب میں اس کا اثر واضح طور پر دیکھا گیا جو آج بھی باقی ہے۔
پتاح محض ایک دیوتا نہیں تھا بلکہ وہ مصری فلسفے، فن اور تخلیق کی علامت تھا۔اس کا یہ عقیدہ کہ کائنات ذہن اور کلام سے وجود میں آئی،قدیم دنیا کہ گہرے ترین فکری تصورات میں سے ایک ہے۔

Adil Gulzar

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀 ☠️ قارئین کرام میری کوشش ہو گی کہ اس مرحلے میں ہم سمیری اور مصر کی تہذیب اور ان کے ادوار میں موج...
28/05/2026

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀 ☠️

قارئین کرام میری کوشش ہو گی کہ اس مرحلے میں ہم سمیری اور مصر کی تہذیب اور ان کے ادوار میں موجود دیوتاؤں کو زیر بحث لائیں۔ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم یہ بات جاننے کی جستجو رکھتے ہیں کہ اسوقت انسان کا ذہن کن عوامل کے زیر اثر تھا اور کونسی ایسی طاقتیں تھیں جو اس وقت سچائی کو چھپانے کی کوشش میں مصروف تھیں جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی طاقت و حکومت کا قائم رکھنا تھا،اس مقصد کے لئے اس وقت کھ بادشاہ اور دیگر معززین جنہیں معاشرے میں دیوتاؤں کے نمائندہ کہا جاتا تھا سب نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہوا تھا کہ عام عوام کو کسی اور طرف سوچنے کا یا سمجھنے کا بلکل خیال بھی نہیں تھا۔ قارئین کرام دنیا میں ڈر اور خوف دو ایسے عناصر ہیں جن کی بنیاد پہ مختلف مذاہب وجود میں آئے جن کی تابندہ مثالیں سمیری اور ببائلون کی تہذیبیں ہیں جہاں انسان کو اس حد تک ڈرایا گیا کہ وہ ایک عام سی بیماری کو بھی دیوتا کی ناراضگی کا اظہار سمجھنے لگا وہ دیوتا جسے خود پجاریوں اور کاہنوں نے لوگوں کے ذہن میں ڈالا تھا جس کا واضح مقصد تھا مملکت اور لوگوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا تاکہ کوئی ان کے سامنے سر نہ اٹھا سکے۔
اگلی قسط میں ہم بات کریں گے اس وقت کے ایک مشہور دیوتا جسے " پتاح " کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ملتے ہیں کچھ وقفے کے بعد تب تک اپنا خیال رکھیں۔
والسلام
Adil Gulzar

To my family and friends: As we remember the spirit of sacrifice this Eīd ul-Adhā, may we be bound closer in love, grati...
27/05/2026

To my family and friends: As we remember the spirit of sacrifice this Eīd ul-Adhā, may we be bound closer in love, gratitude, and goodwill. Blessings be unto thee all.

Eid mubarak ✨️ 💖 💕

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀☠️پروفیسر جیرالڈیں نے اپنی کتاب میں ایک حر (HOR) نامی کاہن کا ذکر کیا ہے جو کہ سیکنڈ سنچری بی سی ...
12/05/2026

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀☠️

پروفیسر جیرالڈیں نے اپنی کتاب میں ایک حر (HOR) نامی کاہن کا ذکر کیا ہے جو کہ سیکنڈ سنچری بی سی میں مصری کاہن تھا جو کہ علم کے دیوتا تھوتھ (Thoth) کی خدمت پہ مامور تھا۔ اس کے بارے میں جو مختلف محققین کی رائے تھی اس پہ روشنی ڈالتے ہیں۔
حر کاہن قدیم مصر کے شہر سیبینٹوس کا رہنے والا تھا اور اس کا تعلق تھوتھ کے معبد سے تھا جہاں وہ ہر وقت عبادت یا ریاض یا پھر مراقبہ میں غرق رہتا تھا۔ حر کو آپ کہہ سکتے ہیں جیسے آج کے زمانے میں ستاروں کی چال دیکھ کے حال بتانے والے ہیں اس کا بھی ایسا ہی کچھ معاملہ تھا لیکن بجائے ستاروں کے اس کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا ۔بقول پروفیسر جیرالڈین کے حر کاہن کو خوابوں اور الہامی بشارتوں کا تجربہ ہوتا تھا جو کہ اسے اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتا ہے۔انہی خوابوں کے زیر اثر حر کاہن نے اپنی تمام زندگی تھوتھ کی عبادت اور مذہبی معاملات کے لئے وقف کر رکھی تھی۔
پروفیسر جیرالڈین کے بقول حر کاہن کو کچھ خاص منتر یا جھاپ معلوم تھے جن کے توسط وہ اپنے مقاصد حاصل کرتا تھا۔یہاں تک کہ اس نے دیوتاؤں کو علامتی طور پر دھمکی تک دی تھی،یہ اس دور کہ Heka جادو کے تصور کو واضح کرتا ہے۔
بعض محققین کی رائے اس بارے میں یہ بھی ہے کہ یہ وہ ہی کاہن حر ہو سکتا ہے جس کے پاس وہ قدیم پپائرس تھے جو بعد میں مورمن مذہب کی بنیاد بنے اور ان کی مشہور مذہبی کتاب " کتاب ابراہیم " بھی اسی سے منسوب کی گئی جس کے بارے میں یہاں تک مشہور کر دیا گیا تھا کہ یہ پپائرس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے لکھے تھے جو کہ بعد میں محققین نے یہ ثابت کیا کہ ایسا بلکل نہیں ہے اور نہ ہی یہ پپائرس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لکھے تھے۔
پروفیسر جیرالڈین کی دیگر کتابوں میں بھی اس طرح کے قدیم مصریوں کرداروں کا تذکرہ موجود ہے جو مصری جادو اور مذہب کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جاری ہے۔
یہ تحریر صرف معلومات کے لئے ہے نہ کہ کسی قسم کی ترغیب دینا منشاء و مرضی ہے۔ شکریہ

Adil Gulzar Now & Then

" تحریر شاید انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے ۔ یہ ان انسانوں کو ایک دوسرے سے ملا دیتی ہے جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ یہ مختل...
08/05/2026

" تحریر شاید انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے ۔ یہ ان انسانوں کو ایک دوسرے سے ملا دیتی ہے جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ یہ مختلف دور کے باشندوں سے روشناس کرا دیتی ہے۔ کتاب وقت کی زنجیروں کو توڑ دیتی ہے۔ کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان بھی کمال کر سکتا ہے۔ لائبریریوں کے کمرے ان کمالات سے بھرے ہوئے ہیں۔

کتابیں ہمیں وقت میں سفر کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ لائبریری پورے پورے سیارے اور پوری پوری تاریخ کے عظیم ذہنوں اور عظیم استادوں سے ہمارا رشتہ جوڑ دیتی ہے۔ اور انسانی نسل کے اجتماعی شعور میں اپنا حصہ بٹانے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔"

کارل ساگان: ماہر فلکیات ، ہیومینسٹ 💛

کتاب: کائنات (Cosmos )

07/05/2026

Relax... Duty over 🤫🤫🤫

اینگزائٹی خوف یا جادو 💀☠️انسانی جب کسی حیثیت یا مرتبہ کو پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپ کو نمایاں کرتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ...
04/05/2026

اینگزائٹی خوف یا جادو 💀☠️
انسانی جب کسی حیثیت یا مرتبہ کو پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپ کو نمایاں کرتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پہچانا جائے اس کو سراہا جائے اس کو پروٹوکول دیا جائے جو آج کے دور میں نسبتا آسان ہے یعنی ہم کسی کے داخلی معاملات سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ معزز ہے یا اس کا مرتبہ و مقام معاشرے کے اندر کس سطح کا ہے لیکن بہت ہی عام مشاہدہ کی بات ہے کہ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں تو اس کے ظاہری طور اطوار اس کے پہناوے اور سواری سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ شخص دولت مند ہے یا یہ شخص کسی قبیلے کا سربراہ ہے یا پھر کوئی بہت ہی بلند مرتبہ مذہبی یا روحانی شخصیت ہے،بلکل اسی طرح کا یہ معاملات اسوقت بھی عام تھے جب انسان لکھنا سیکھ رہا تھا یا اسوقت کے مذہبی پیشوا یا کاہن و وید بھی اپنے آپ کو معاشرہ کے اندر ایک الگ پہچان دینے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قارئین کرام سمیری دور کے کاہن صرف مذہبی یا روحانی پیشوا ہی نہیں تھے بلکہ وہ اسوقت کے نجوم،کاہن،انجینئر،ڈاکٹر اور بادشاہوں کے قریبی سیاسی مشیر بھی تھے۔ان کا معاشرہ میں مقام اتنا بلند تھا اسوقت کے لوگ انہیں دیوتاؤں کے ترجمان سمجھنے لگے تھے۔
حلیہ اور لباس:
1۔ کاہنوں کے لئے جسمانی پاکیزگی ضروری تھی،وہ دن میں کئی بار ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے تھے۔
2۔ سمیری دور میں کاہن اپنا سر اور چہرہ بلکل صاف رکھتے تھے یعنی بال منڈواتے تھے تاکہ لوگوں سے الگ نظر آئیں اور بالوں میں کوئی گندگی بھی نہ ہو۔
3۔ عام طور پر سفید لباس پہنتے تھے جو لمبا چوہا نما ہوتا تھا اس کے علاوہ بعض خاص رسومات (جن کا تذکرہ آگے قسطوں میں آئے گا) کے لئے وہ خاص لباس پہنتے تھے جو مچھلی کی جلد کی طرح ہوتا تھا جو جادو کے دیوتا " اینکی " کی علامت تھا۔
کاہنوں کی اقسام:
اب یہاں بھی اسوقت کے انتظامی امور میں ان کی مہارت دیکھئے کہ انہوں نے کاہنوں کی بھی درجہ بندی کی ہوئی تھی۔کاہنوں کی درجہ بندی سخت تھی اور اس پہ سنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جاتا تھا ہر ایک کا کام الگ الگ تھا:
بارو(Baru) :
سب سے طاقتور کاہنوں کا طبقہ تھا آپ ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان کی مشاورت اور اجازت کے بغیر بادشاہ کسی جنگ کا حکم نہیں دیتا تھا۔ان کا بنیادی کام جادو ٹونا، ستاروں کی چال اور خوابوں کی تعبیر سے مستقبل کی پیشگوئیاں کرنا ہوتا تھا۔
آشیپو (Ashipu) :
یہ وہ طبقہ تھا جو ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر نفسیات بھی تھے یعنی یہ بدروحیں نکالنے،نظر بد،منتر پڑھنا اور تھیراپی سیشن کرتے تھے تاکہ کہ مریض کو سکون مل سکے۔
کالو (Kalu):
ان کو اگر آسان الفاظ میں سمجھنا ہو تو آج کل کے درباروں کے حالات و واقعات کو دیکھ لیں۔ یعنی یہ لوگ مذہبی فنکار تھے یہ خاص قسم کا ڈھول بجا کر اور مذہبی غمگین گیت گا کر دیوتاؤں کے غصے کو ٹھنڈا کرتے تھے ان کو بنیادی طور پر کسی آفت یا خشک سالی میں استعمال کیا جاتا تھا اور لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کے گیت گانے سے دیوتا خوش ہوتے ہیں۔
تعلیم و تربیت:
کاہن بننا آسان نہیں تھا اس کے لیے انہیں بچپن سے ہی ایڈوبا(مٹی کی تختیوں کا اسکول) سے تعلیم حاصل کرنی پڑتی تھی۔انہیں سمیری زبان سیکھنی پڑتی تھی جو اسوقت عموما معدوم ہو چکی تھی لیکن جادو یا منتر کے لئے وہ خاص تھی۔ آج بھی بہت سے کاہن و جادوگر انہی سمبلز کا استعمال کرتے ہیں اگر آپ غور کریں تو جادو کی کتابوں الیکا،ملیکا،طلیکا کے نام سے بہت سے جن یا جناتی تصاویر موجود ہیں جو اسی دور سے ماخوذ ہیں۔انہیں پیچیدہ ریاضی اور ستارہ شناسی کے علوم میں مہارت حاصل کرنی پڑتی تھی تب جا کہ وہ اس مقام تک پہنچتے تھے۔
رہائش:
کاہنوں کی رہائش سب سے بڑے مندر جسے زیگورات کہتے ہیں اس میں ہوتی تھی یا اس کے قریب ہی ۔
اب یہ مندر صرف عبادت گاہ ہی نہیں تھا بلکہ ایک سٹور تھا جہاں غلہ،سونا،جواہر اور نذرانے رکھے ہوتے تھے اور یہ سب ان ہی کاہنوں کے زیر انتظام تھا یعنی بادشاہ کے بعد سب سے امیر یہ لوگ ہی تھے۔
طاقت:
کاہن بادشاہ نہیں تھے لیکن وہ " بادشاہ گر " تھے۔ جب تک کاہن اعظم بادشاہ کا ہاتھ خود پکڑ کر دیوتاؤں کے سامنے کھڑا نہیں کرتا تھا اس وقت تک اسے قانونی طور پر بادشاہ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا یعنی وہ کوئی بھی حکم دے گا اس پہ عمل نہیں ہو گا جب تک کاہن اسے دیوتاؤں سے روبرو نہیں کرے گا۔یہی خوف تھا جسے انہوں نے برقرار رکھ کر لوگوں پہ اپنا رعب جمایا ہوا تھا۔
دلچسپ حقیقت:
اگر کوئی کاہن صحیح تشخیص نہ کر پاتا یا اس کا جادو کام نہ کرتا تو اسے دیوتاؤں کی ناراضگی سمجھا جاتا اور بعض اوقات تو اسے عہدے سے بھی برطرف کیا جاتا تھا۔
جاری ہے۔
عادل گلزار۔
Adil Gulzar Now & Then


اینگزائٹی جادو یا خوف 💀☠️سمیریوں کا یہ عقیدہ تھا کہ کائنات کہ اندر مختلف اچھے برے جن،بدروح،چڑیلیں موجود ہیں جن کا کام ان...
01/05/2026

اینگزائٹی جادو یا خوف 💀☠️

سمیریوں کا یہ عقیدہ تھا کہ کائنات کہ اندر مختلف اچھے برے جن،بدروح،چڑیلیں موجود ہیں جن کا کام انسان کو تکلیف پہنچانا اور زندگی کو اجیرن کرنا تھا۔ان کا ماننا تھا کہ تمام بیماریاں،مصیبتیں اور اچانک ہونے والی تمام تر تکالیف دراصل انہی کا کام تھا۔پروہت اور کاہنوں نے اپنی آسانی کے لئے کچھ بیماریوں کی وجہ بننے والے جنات کو مختلف نام دیے ہوئے تھے جن میں سے اسوقت کے کچھ مشہور درج ذیل ہیں:
پازوزو(Pazuzu ):
یہ واحد جن تھا جسے سمیری بے انتہا طاقتور مانتے تھے جیسے ہمارے ہاں کچھ عامل ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے منصب رکھے ہوئے ہیں جن کی پردہ آنے والی تحاریر میں کھولیں گے خیر یہ پازوزو جو تھا اس کی شکل خوفناک تھی یعنی سر کتے کا،جسم انسان کا،پیٹھ پر عقاب کے پر اور بچھو کی دم ہوتی تھی۔ قارئین کرام اندازہ کریں کے سمیریوں کا ماننا تھا کہ یہ جن خشک سالی اور قحط لے کے آتا ہے ساتھ ٹڈی دل کے حملے بھی یہ ہی کرواتا ہے۔
یہ خود تو ان کی نظر میں طاقتور تھا ہی لیکن اس کی شبیہہ یا تعویذ کو پہنتے تھے دوسرے جنات کو بھگانے کے لئے تاکہ ان کے اثرات سے بچ جائیں۔
لاماشتو(Lamashtu)::
یہ بھی ایک انتہائی خوفناک مادہ جن تھی جس کو بچوں اور حاملہ عورتوں کو ڈرانے اور تکالیف پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
سر شیرنی جیسا اور دانت گدھے کی طرح تھے۔اب اس سے بچنے کے لئے عورتیں پازوزو کی شبیہہ یا تعویذ پہنتی تھیں کہ یہ ڈر کے بھاگ جائے۔
گالو(Gallo) ::
ان کے سر یہ الزام تھا کہ یہ لوگوں کو پاتال میں کھینچ کھانچ کے لے جاتے ہیں اور سمیریوں کا ماننا تھا کہ یہ عموما رات کے وقت ویرانوں میں منڈلاتے ہیں۔
خیر آج بھی وہ ہی افواہ قائم ہے کہ ویرانے میں نہیں جانا چاہیئے ورنہ 👻👻۔۔۔۔۔۔
ادوگ (Adoug) ::
ان کو آپ آج کہ وقت میں کہہ سکتے ہیں کہ سایہ ہو گیا یا نظر بد ہو گئی،یہ ایسی روحیں یا بدروحیں تھیں جن کا کوئی چہرہ نہیں تھا اور سمیریوں کے ہاں آشیپو(جادوگر) کچھ منتر ٹوٹکے کر کے ان کو بھگانے کی کوشش کرتا تھا۔
عسگ یا عسق(Asag)::
اس کے بارے میں جو کہانی موجود ہے اس کے مطابق یہ بے ڈھنگی شکل کا تھا جو اپنی طاقت سے دریاؤں کا پانی ابال دیتا تھا اور ان کے مطابق اسے ان کے ہیرو دیوتا " نورتا" نے شکست دی تھی۔
بچاو کے طریقے::
سمیریوں نے ان سب سے بچاو کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے:
جیسے کہ خوشبو یا پھر دھونی دینا یا پھر ان کے نام جان کہ ان کے خلاف پوجا پاٹ کرنا یا پھر ان کے پتلے بنا کہ توڑنا یا دریا میں بہا دینا وغیرہ شامل تھے۔
اگر مجموعی طور پہ دیکھا جائے تو سمیریوں کے ہاں یہ نظریہ تھا کہ " بیماری ایک جن ہے " اور انتہائی مضبوط تھا جو کہ آج بھی مختلف ثقافتوں اور معاشروں کے اندر اسی کی بازگشت یے جیسے کہ سایہ ہو گیا،نظر ہو گئی یا پھر کہیں یہ بھی سنا کہ فلاں کو دورہ پڑا ہے اور یہ تصور آج بھی اسی طرح پروان چڑھ رہا یے بلکہ آپ کسی کو دیکھیں جو نفسیاتی طور پہ مسائل کا شکار ہو گا لیکن لوگ کہیں گے کہ یہ جادہ کا مارا ہوا ہے یا اسے نظر بد ہو گئی ہے۔
نوٹ: یہ صرف معلوماتی تحریر ہے۔🙏
اپنا خیال رکھیں،خوشیاں بانٹیں۔

جاری ہے۔
Adil Gulzar Now & Then


Address

Dubai
Dubai
0000

Telephone

+971526540293

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adil Gulzar Now & Then posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Adil Gulzar Now & Then:

Shortcuts

Share