31/05/2026
سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں
کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کو
مزاج پرسی باد صبا گوارا نہیں
سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں
وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار
جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں
ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امین
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں