Sarwat Kayani

Sarwat Kayani Freelance Journalist • Media Professional • Tourism Explorer • Wildlife Activ • Hiker • Mountaineer •

‏“گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں‏وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے”‏“ حویلی (آزاد کشمیر) سے تقریباً 1,010 کلومیٹ...
18/07/2026

‏“گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں‏وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے”‏“
حویلی (آزاد کشمیر) سے تقریباً 1,010 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد، صرف 4 دنوں میں 15,300 فٹ کی بلندی پر واقع خنجراب پاس (پاک چین بارڈر) پہنچ گیا
🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور | Day 04 🇵🇰🇨🇳

الحمدللہ! آج اس سفر کا وہ دن تھا جس کا میں برسوں سے انتظار کر رہا تھا۔

صبح 6:00 بجے ہنزہ میں تیاری شروع کی اور 7:00 بجے ہم دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہوں میں سے ایک پر واقع خنجراب پاس (پاک چین بارڈر) کی جانب روانہ ہو گئے۔

راستے بھر بارش نے ہمارا امتحان لیا، لیکن ہمارا حوصلہ کم نہ ہوا۔ سوست پہنچ کر ناشتہ کیا، امیگریشن اور انٹری کی کارروائی مکمل کی، اور پھر خنجراب کی طرف سفر جاری رکھا۔

سوست سے آگے قراقرم ہائی وے بارش کے دوران انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے۔ پہاڑوں سے ہر وقت پتھر گرنے کا خطرہ رہتا ہے، سڑک پھسلن زدہ ہوتی ہے اور ہر موڑ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے ہمت نہیں ہاری اور محفوظ انداز میں اپنا سفر جاری رکھا۔

دوپہر 2:45 بجے آخرکار وہ لمحہ آ ہی گیا جس کا خواب برسوں سے دل میں تھا۔

🏔️ حویلی (آزاد کشمیر) سے تقریباً 1,010 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد، صرف 4 دنوں میں ہم 15,300 فٹ کی بلندی پر واقع خنجراب پاس (پاک چین بارڈر) پہنچ گئے۔

بائیک پر خنجراب پاس تک پہنچنا میرے لیے صرف ایک سفر نہیں، بلکہ ایک خواب کی تعبیر تھا۔ اس لمحے نے یہ سکھایا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو، محنت مسلسل ہو اور اللہ کی مدد شاملِ حال ہو تو خواب حقیقت بن ہی جاتے ہیں۔

الحمدللہ، ایک اور یادگار سنگِ میل حاصل ہوا۔ ❤️🏍️

📍 منزل: خنجراب پاس (پاک چین بارڈر)
📏 بلندی: 15,300 فٹ (تقریباً 4,693 میٹر)
🛣️ حویلی سے فاصلہ: تقریباً 1,010 کلومیٹر

"Dreams don't work unless you ride toward them." 🏍️🏔️

🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور | تیسرا دن 🏔️آج صبح 7:30 بجے ہم بابوسر ٹاپ پہنچے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً 1...
16/07/2026

🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور | تیسرا دن 🏔️

آج صبح 7:30 بجے ہم بابوسر ٹاپ پہنچے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً 13,700 فٹ بلند اس مقام پر موسم انتہائی سرد اور تیز ہواؤں والا تھا۔ اگر آپ بابوسر ٹاپ آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو گرم کپڑے ضرور ساتھ رکھیں۔

یہ لمحہ میرے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے میں اپنی بائیک پر بیڈوری ٹاپ (12,329 فٹ) تک پہنچ چکا تھا، اور آج بابوسر ٹاپ (13,700 فٹ) تک بائیک لے جا کر اپنا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ الحمدللہ، ایک اور یادگار سنگِ میل حاصل ہوا۔

اگرچہ بابوسر ٹاپ پر ہونے والی بے ہنگم تعمیرات نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو کسی حد تک متاثر کیا ہے، لیکن ناران سے بابوسر ٹاپ تک کا پورا راستہ اپنی مثال آپ ہے۔ سرسبز وادیاں، بلند پہاڑ، بہتے جھرنے اور برف سے ڈھکی چوٹیاں ایسا احساس دلاتی ہیں جیسے انسان کسی خوابوں کی دنیا میں سفر کر رہا ہو۔

ایسے مناظر انسان کو بار بار شمالی پاکستان کی طرف کھینچ لاتے ہیں، اور یہی اس سفر کی اصل خوبصورتی ہے۔

🏍️ Adventure is not just about reaching the destination, it's about living every moment of the journey.

🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور | دن دوم (گروپ کے سفر کا تیسرا دن) 🏔️آج صبح سویرے بیسر سے اپنے سفر کا آغا...
13/07/2026

🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور | دن دوم (گروپ کے سفر کا تیسرا دن) 🏔️

آج صبح سویرے بیسر سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی راستوں میں سے ایک بابوسر ٹاپ کی جانب روانہ ہوئے۔ بابوسر ٹاپ پہنچ کر یادگار تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ وہاں موسم انتہائی سرد تھا، اس لیے اگر آپ بھی بابوسر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو گرم کپڑے ضرور ساتھ رکھیں۔

ذاتی طور پر مجھے یہ محسوس ہوا کہ بابوسر ٹاپ پر ہونے والی بے ہنگم تعمیرات نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو کسی حد تک متاثر کیا ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں اس حسین مقام کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

بابوسر ٹاپ سے چلاس کی جانب اترائی کافی طویل اور بعض مقامات پر مشکل تھی، لیکن جیسے ہی گلگت بلتستان کی حدود میں داخل ہوئے تو دل خوشی سے بھر گیا۔ گلگت بلتستان سے مجھے ہمیشہ خاص محبت رہی ہے۔ یہ خطہ اپنی قدرتی خوبصورتی، مہمان نوازی اور مشترکہ تاریخی ورثے کی وجہ سے میرے دل کے بہت قریب ہے۔

چلاس پہنچتے ہی سرد موسم کی جگہ گرمی نے لے لی۔ تتہ پانی میں ناشتہ کیا، پھر رائیکوٹ اور جگلوٹ سے گزرتے ہوئے گلگت پہنچے۔ وقت ابھی کافی تھا، اس لیے ہم نے سفر جاری رکھتے ہوئے ہنزہ کا رخ کیا۔ بلند و بالا پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شام کو ہنزہ پہنچے، جہاں رات کا قیام کیا۔

الحمدللہ، آج بیسر سے ہنزہ تک تقریباً 270 کلومیٹر کا سفر مکمل کیا۔

ان شاء اللہ کل کا ہدف دنیا کی بلند ترین سرحدی شاہراہوں میں سے ایک خنجراب پاس (پاک چین بارڈر) تک پہنچنا ہے۔ دعا کیجیے کہ سفر خیریت سے مکمل ہو اور ہم شمالی پاکستان کی مزید حسین یادیں آپ تک پہنچا سکیں۔

🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور 🏔️الحمدللہ! میرے بائیک ٹور کا آج تیسرا جبکہ ہمارے گروپ کے مشترکہ سفر کا پ...
12/07/2026

🏍️ آزاد جموں و کشمیر ٹو گلگت بلتستان بائیک ٹور 🏔️

الحمدللہ! میرے بائیک ٹور کا آج تیسرا جبکہ ہمارے گروپ کے مشترکہ سفر کا پہلا دن تھا۔

صبح 5 بجے اسلام آباد سے گلگت بلتستان کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا۔ روانگی کے ساتھ ہی موسلا دھار بارش نے ہمارا استقبال کیا، لیکن بلند حوصلوں کے ساتھ ہم نے سفر جاری رکھا۔

اسلام آباد سے ہری پور، مانسہرہ، کاغان اور ناران کے حسین راستوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 300 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بیسر پہنچے۔ یہاں شدید بارش نے ہمیں رکنے پر مجبور کر دیا، اس لیے رات کا قیام بیسر میں کیا۔ ہمارا اصل منصوبہ بابوسر ٹاپ کراس کر کے چلاس پہنچنے کا تھا، مگر پہاڑوں کا موسم اپنے ہی رنگ دکھاتا ہے اور محفوظ سفر ہمیشہ پہلی ترجیح ہوتی ہے۔

میں نے اپنے سفر کا آغاز حویلی (آزاد کشمیر) سے کیا، پھر مظفرآباد، اسلام آباد اور وہاں سے بیسر تک مجموعی طور پر 560 کلومیٹر کا سفر مکمل کیا۔

ان شاء اللہ اگلی منزل بابوسر ٹاپ، چلاس اور پھر گلگت بلتستان ہے۔ دعا کیجیے کہ یہ سفر خیریت سے مکمل ہو اور میں آپ تک شمالی پاکستان کے خوبصورت مناظر اور یادگار لمحات پہنچاتا رہوں۔

🏍️ Adventure Begins… Stay Tuned!

07/07/2026

ایک اور شدید ایڈونچر لوور کی ویڈیو سامنے آگئی

07/07/2026

Send a message to learn more

05/07/2026

آیت اللہ خامنہ ای
شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکوٰۃ ہے

Send a message to learn more

03/07/2026

آپ کے کبھی ایسے ایڈونچر لوور دیکھے ہیں

Address

Office Number , B03 P2TM , Bur Dubai UAE
Dubai
122002

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarwat Kayani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sarwat Kayani:

Shortcuts

Share