14/06/2026
اس کی نمایاں مثال شمالی آئرلینڈ ہے، جہاں کئی دہائیوں تک سیاسی، مذہبی اور آئینی اختلافات نے شدید کشیدگی کو جنم دیا۔ حکومت، سیاسی جماعتیں اور احتجاجی قوتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھیں۔ تشدد، احتجاج اور سخت مؤقف مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بناتے رہے۔ بالآخر تیسرے فریق کی غیر جانبدار ثالثی کے باعث تمام فریقوں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور 1998ء میں ہونے والے ’’گُڈ فرائیڈے معاہدہ‘‘ اور ’’بیلفاسٹ معاہدہ‘‘ نے طویل بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کی بنیاد رکھ دی۔ ان تاریخی معاہدوں نے ثابت کیا کہ جب فریقین انا، ضد اور محاذ آرائی سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں تو بظاہر ناقابلِ حل مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں۔ایسے ماحول میں جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کی جانب سے ثالثی، مفاہمت اور رابطہ کاری کی کوشش ایک خوش آئند، مثبت اور بروقت اقدام ہے۔ قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ کی ہدایت پر قائد کشمیر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سعید یوسف خان دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں سیاسی عمائدین کی جانب سے مختلف فریقوں سے رابطوں کا آغاز اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ذمہ دار قیادتیں بحرانوں میں خاموش تماشائی نہیں بنتیں بلکہ فاصلے کم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دینی و سیاسی قیادت نے حالات کو سیاسی زاویے کے بجائے قومی ذمہ داری کے پہلو سے دیکھا ہے.
UrduPaper is a premium Urdu News & Magazine theme developed by StyloThemes. Super fast loading, built-in SEO settings and a lot of customization options.