12/08/2026
آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا اور ایم پی اے منکیرہ (بهكر ) غضنفر عباس چھینہ کا تنازعہ ۔۔۔۔۔۔
پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے فریقین کی رائے اور موقف جاننے کے بعد معاملہ ملتوی کردیا ۔۔۔ یادرہے کہ چند روز قبل ایم پی اے غضنفر عباس چھینہ نے پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق پیش کی اور آر پی او فیصل آباد کے بارے میں شکایت کی کہ وہ آئی جی پنجاب سے ملکر اور ان سے فون کروا کے ایک کیس کے سلسلے میں آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا سے ملے لیکن آر پی او نے انہیں کہا میں آپ کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں ، ایم پی اے کے بقول اگر ایک پولیس افسر عوامی منتخب نمائندے کو جواب دہ نہیں ہے اور وہ جواب دینے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے تو ایک عام شہری کی حیثیت انکے سامنے کیا ہو گی ، دوسری جانب آر پی او فیصل آباد نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر تحریری اور زبانی موقف دیا کہ ایم پی اے صاحب 302 کے کیس میں 109 کے ملزم کو ساتھ لے کر میرے دفتر آئے ، ملزم کی موجودگی میں انہوں نے مجھ سے جواب چاہے جس پر میں نے انہیں کہا کہ ملزم کی موجودگی میں آپ کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں ، اس پر جناب ناراض ہو گئے اور دفتر سے چلے گئے ۔۔۔۔۔پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے چیئرمین نے فریقین کو معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے مہلت دی ہے اور اس وجہ سے اس کیس کو ملتوی کردیا گیا ہے ، امید ہے اگلے ایک دو روز میں آر پی او فیصل آباد اور ایم پی اے صاحب آپس میں بات چیت سے معاملہ حل کرلیں گے اور یہ قضیہ ختم ہو جائے گا ۔۔۔