13/10/2025
اگر دنیا کا امیر ترین شخص ایلن مسک (Elon Musk) کہتا ہے کہ میرے پاس پانچ جہاز ہیں۔ تو اس کی بات مان لی جاۓ گی کیونکہ نہ تو یہ بات خلاف عقل ہے اور نہ ہی ایسی کوئی وجہ ہے کہ اس بات کو رد کیا جا سکے۔
لیکن اگر آپ کے محلے میں رہنے والا ایک مزدور کہے کہ میرے پاس پانچ جہاز ہیں تو یہاں معاملہ بدل جاتا ہے، ایلن مسک کی بات کو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی اور مزدور کی بات کو قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ایلن مسک کے دعوے پر ہم نے کوئی سوال نہیں کیا تھا کیونکہ وہاں سوال بنتا ہی نہیں تھا جبکہ مزدور کے اس دعوے پر بہت سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ تم نے پیسے کہاں سے لیے؟ جہاز کہاں ہیں؟ کب خریدے؟ اگر اتنے امیر ہو تو مزدوری کیوں کر رہے ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
اب اگر دیکھا جاۓ تو دونوں کی بات تو ایک ہی ہے کہ "میرے پاس پانچ جہاز ہیں"۔ لیکن دونوں کےلیے ہمارا رویہ مختلف ہے۔ ایک کی بات ہمیں معقول لگ رہی ہے اور وہی بات جب دوسرا کرتا ہے تو غیر معقول لگتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بات کہنے والوں کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لہذا بات پر یقین کرنا ہے یا نہیں، کہاں سوال اٹھانا ہے اور کہاں بغیر سوال کے مان لینا ہے اس میں بہت بڑا کردار اُس ماخذ کا ہوتا ہے جہاں سے بات آ رہی ہے۔
خدا جب کہتا ہے کہ ہدہد پرندے نے سلیمان علیہ السلام سے کلام کیا، ابراہیم علیہ السلام کےلیے آگ ٹھنڈی کر دی گئی، مسیح علیہ السلام نے میرے حکم سے مردے کو زندہ کیا۔ یہاں بغیر کسی سوال کے ماننے کی وجہ یہ ہے کہ کہنے والا خدا ہے جس کے بارے میں ہم مانتے ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کا کوئی بھی کام غیر معقول نہیں ہے۔
لیکن اسی طرح کے دعوے جب کوئی صوفی بزرگ کرتا ہے، کوئی پیر کرتا ہے، روایات کے نام پر راوی کرتے ہیں۔ تو یہاں ہر ایک دعویٰ تب تک غیر معقول ہے جب تک وہ خود پر اٹھنے والے تمام سوالات کے جوابات نہیں دے دیتا۔
بزرگوں کے مریدین اپنے مرشدوں کی کرامات اور روایات کے محافظ راویوں کی ایسی باتیں منوانے کےلیے اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر تم یہ نہیں مانتے تو پھر قرآن کا بھی انکار کرو کیونکہ اُس میں بھی فلاں فلاں بات اس طرح لکھی ہے۔ یہ محض ایک مغالطہ ہے جس کو میں نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور بتایا ہے کہ قرآن کی بات پر کیوں سوال نہیں ہوتا اور باقی سب باتوں پر کیوں سوال ہوتے ہیں۔