07/01/2026
ایک طویل خاموشی کے بعد جب امیر حیدر خان ہوتی صاحب منظرِ عام پر آئے، تو اپنے ساتھ وہ "بیانیہ" نہیں لائے جس کے لیے وہ پہچانے جاتے تھے۔ وہ سیاست جس کی بنیاد "پشتون حقوق"، "پنجابی بالادستی کی مخالفت" اور "صوبائی وسائل پر اختیار" جیسے نعروں پر رکھی گئی تھی، آج مریم نواز کی تعریفوں کے گرد گھوم رہی ہے۔
جو شخص ہمیشہ "پشتون کارڈ" کھیل کر سیاست کرتا رہا، آج اسے اپنے صوبے کے بہادر اور عوام کے لیے لڑنے والے وزیراعلیٰ کی خدمات نظر نہیں آ رہیں، بلکہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز میں زیادہ خوبیاں نظر آ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ موازنہ واقعی کارکردگی پر ہے یا یہ کسی سیاسی سودے بازی کا نتیجہ ہے؟
عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ن لیگ (پی ڈی ایم) کا ساتھ دینا اور اب ان کی خوشامد کرنا ثابت کرتا ہے کہ ان کے لیے "پشتون حقوق" محض ایک نعرہ تھا۔ حقیقت میں یہ وہی پرانا کھیل ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا صرف ڈرامہ کیا جاتا ہے، جبکہ عملاً انہی کے اشاروں پر ناچا جاتا ہے۔
عوام اب باشعور ہو چکی ہے اور وہ جانتی ہے کہ کون واقعی ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے اور کون اقتدار کی خاطر اپنے نظریات کا سودا کر رہا ہے۔ پشتون قوم اب نعروں سے نہیں، بلکہ عمل سے اپنے لیڈر کو پہچانتی ہے!
بقلم: باسط
فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍۔