Entertainment video

Entertainment video Please Like and Follow

13/01/2026

12/01/2026

*پاکستانی سیاسی ملا!*

*”بھٹو کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہے“* جماعت اسلامی کے امیر *مولانا مودودی* نے الزام لگایا کہ *ذوالفقار علی بھٹو* کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہے! تو کیا جواب آيا جان کر آپ دنگ رہ جائینگے:

رٹائرڈ برگیڈیئر *سید احمد ارشاد ترمذی* کی کتاب *حساس ادارے* سے:

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں پاکستان میں اسلامی سربراہان کانفرنس طلب کی۔ جس میں تمام مسلم ملکوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ تمام مسلم ملکوں کی کرنسی ایک ہوگی۔ کویت کا دینار ہو یا پاکستان کا روپیہ سب برابر ہونگے۔ امیر مسلم ملک غریب مسلم ملکوں کی مدد کریں گے۔ پاکستان میں عالمی اسلامی بینک کا قیام ہوگا۔ عرب ممالک اپنا پیسہ ورلڈ بینک سے واپس لیں گے۔ عالم اسلام کو ایٹمی قوت بنائیں گے۔ اس معاہدے پر تمام مسلم ملکوں کے سربراہوں نے دستخط کئے۔ عرب ملکوں نے جب اپنا پیسہ ورلڈ بینک سے واپس مانگا تو ورلڈ بینک کے پاس پیسہ واپس کرنے کے لئے کیش رقم نہیں تھی۔

امریکہ میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئی۔ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ برگیڈئیر *سید احمد ارشاد ترمذی* اپنی کتاب *حساس ادارے* میں لکھتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ ہینری کسینجر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے بات چیت کرنے پاکستان آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے فیصلوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے. ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا چاہتے تھے. ہینری کسینجر نے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے کہا کہ سامنے سے اگر ٹرین آرہی ہو تو عقلمند کو پٹڑی سے اتر جانا چاھئیے۔ وزیراعظم بھٹو نے جواب میں کہا کہ:
"ہاتھی کے کان بہت بڑے ہوتے ہیں" ہینری کسینجر کو غصہ آیا اور کہا کہ "ہم تجھے مثال عبرت بنا دینگے" اس کے بعد امریکہ نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے اپنی تجوریوں کہ منہ کھول دئیے۔ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں کو امریکہ نے خرید لیا جن میں جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا ابولا اعلی' مودودی، اہل تشیع کے سربراہ علامہ سید عارف حسینی، بریلوی مسلک کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی، جمعیت اہل حدیث کے سربراہان سمیت مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے مل کر اتحاد بنایا.

برگیڈئیر رٹائرڈ *سید احمد ارشاد ترمذی* اپنی کتاب *حساس ادارے* میں لکھتے ہیں کہ 30 لاکھ ڈالرز کا ایک چیک جو جماعت اسلامی کے سربراہ کے نام سے امریکہ سے آیا اس چیک کی ایک فوٹو کاپی چیف منسٹر سندھ غلام مصطفےٰ جتوئی کو ملی۔ چیف منسٹر جتوئی نے وہ فوٹو کاپی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تک پنہچادی۔ ایک طرف دنیا بھر کے مسلمان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں متحد تھے تو دوسری طرف پاکستان کے مولوی حضرات امریکی ڈالرز کی مدد سے فرقہ واریت کو بھول کر مسلمانوں کے اتحاد کے خلاف متحد ہو چکے تھے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر کفر کے فتوے اور یہود و نصاری' کا ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے۔ حقیقت میں مولوی حضرات خود یہود و نصاری' کے ایجنٹ بن چکے تھے. *احمد ارشاد ترمذی* مزید لکھتے ہیں کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے گھروں کی چھتوں پر اذان دی جاتی تھی۔ اذان دینے والوں کو فی اذان کے پیسے ملتے تھے۔ امریکی ڈالرز ٹھیلوں پر بکنے لگے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی نے الزام لگایا کہ بھٹو کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہیں۔ اس کے بعد بھٹو کے سب بڑے سیاسی مخالف سائیں *جی ایم سید* نے پریس کانفرنس کی کہ "ہم ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف ضرور ہیں مگر ان کے والد سر *شاہنواز بھٹو* سے میری دوستی تھی. ہم سندھی ختنہ کو "طہر سنت" کہتے ہیں اور اس کی تقریب بھی کرتے ہیں۔ جب بھٹو کا ختنہ ہوا تھا. دعوت نامے کا کارڈ مجھے بھی ملا تھا جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔ مولانا مودودی جیسے دینی عالم کی زبان سے اس طرح کا الزام لگانا سمجھ سے باہر ہے۔" سائیں جی ایم سید نے وہ دعوت نامے کے کارڈ کو تمام اخبارات میں چھپوادیا۔ 📕🔎💰

اکبر انصاری ایڈووکیٹ کی وال سے

12/01/2026

‏کیا آپ نے دوکاندار سے راشن خریدنے کے بعد گھر آکر کسی بینر پہ موٹے حروف سے یہ لکھا ہے کہ میں فلاں دوکاندار کا تہہ دل سے مشکور ہوں جس نے مجھے سودا سلف دیا۔

کیا کبھی سبزی منڈی سے سبزی خریدنے کے بعد آپ نے فیس بک پر سبزی والے کی تصویر کے ساتھ یہ پوسٹ کی ہے کہ آج مجھے آلو،بینگن اور ٹماٹر دینے پر میں سبزی فروش کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں؟

کیا کبھی آپ نے بس میں سفر کرکے منزل پر پہنچنے کے بعد آسمان کو پرشگاف نعروں سے لرزا دیا ہے کہ ہم ڈرائیور کے شکر گزار ہیں کہ جس نے ہمیں اپنے علاقے سے منزل تک پہنچایا۔

یقینا آپ کا جواب نہیں میں ہوگا۔
اگر میں پوچھوں کیوں؟

تو آپ کا جواب یہ ہوگا کہ دوکاندار نےکونسا ہمیں فری کا راشن دیا ہے،ہر چیز حتی کہ ماچس تک کے پیسے دیے ہیں ہم نے۔

سبزی والے نے ہم پر احسان نہیں کیا ہے،ہر چیز کی رقم وصول کیا ہے،اب بھلا اس کے نام کے نعرے کیوں لگائیں ہم؟
بس والے کا ہم کیوں جے جے کار کریں،کرایہ دیا ہے ان کو ہم نے۔

بہت خوب ،اور یہ جواب مناسب ہے بلکہ یہی بہترین جواب ہے۔

اب آتے ہیں اصل بات کی طرف

آپ کا ایم پی اے ، ایم این اے ، سینیٹر ، وزیر ، کیا یہ فی سبیل اللہ آپ کے علاقے میں کام کرتے ہیں؟
کیا یہ اپنا پیسہ آپ پر خرچ کررہے ہیں؟
کیا یہ خدمت کے جذبے سے اپنے درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلی مقام کے حصول کے لیے سیاست میں آئے ہیں؟
یہاں بھی آپ کا جواب نہیں میں ہوگا ۔

تو کیا وجہ ہے کہ ایک ٹرانسفارمر کی مرمت پر لمبی چوڑی تعریفی تحریریں ان کے نام کریں،
کیا وجہ ہے کہ ایک ٹیوب ویل لگانے پر ہم ان کو اپنا مسیحا سمجھیں ؟

توکیا وجہ ہے کہ روڈ کی مرمت پر ہم ان کی دست بوسی کیلئے مر رہے ہوتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ بجلی پانی یا نالیوں کے مسائل حل کرنے پر ہم کی مدح و ثناء میں دنیا جہاں کی ڈکشنریوں سے موٹے موٹے الفاظ ڈھونڈ کر ان کی خدمت میں پیش کررہے ہوتے ہیں؟

کیا انہوں نے ہم پر احسان کیا ہے؟
تنخواہ لیتے ہیں ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے۔
اپنا علاج ہمارے پیسوں سے کرواتے ہیں۔
اپنے بچوں کو بڑے بڑے بڑے اداروں میں ہمارے پیسوں سے پڑھاتے ہیں۔

دبئی اور یورپ کے تفریحی سفر ہمارے پیسوں سے کررہے ہوتے ہیں۔
بڑے بڑے محلات،گاڑیاں،گارڈز،سب کچھ ہم سے لوٹ کر حاصل کرتے ہیں۔

ان کا پیٹرول ڈیزل فری،ٹیلیفون کالز فری،ملکی سفر فری،علاج معالجہ فری ۔
فری کا مطلب عوام کو نچوڑ کر ان سے ٹیکسز کے ذریعے سب مزے اڑا رہے ہیں۔

اور عوام کی یہ حالت ہے کہ روڈ بننے پر ناچ رہی ہے،نالی بننے پر ایم پی ایم این کے سامنے تشکرانہ آنکھوں سے شکریہ ادا کررہےہیں۔

سمجھو اپنی اہمیت کو.....

یہ غلامانہ سوچ چمچہ گیری ختم کرو کوئی تعریفی پوسٹ یا تحریر ان کے حق میں لکھنے کی بجاۓ اپنے حقوق ان کے سامنے رکھو اور اپنا حق ان سے اس طرح مانگو جس طرح یہ ووٹ آپ سے مانگتے ہیں....

کاپی 🥺۔
شیئر کیجئے 👍۔

26/10/2025

— انسان کی سوچ کا سفر**

خواتین و حضرات!
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں انسان نے اپنی عقل، محنت اور علم کے بل پر کائنات کے راز کھول دیے ہیں۔
جہاں کبھی ایک پیغام پہنچنے میں ہفتے لگتے تھے، وہاں اب صرف ایک لمحہ کافی ہے۔
یہی ٹیکنالوجی ہے جس نے فاصلے مٹا دیے، مگر افسوس، دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے۔

ٹیکنالوجی نے انسان کو آسانیاں دیں، مگر ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا —
کیا واقعی ہم نے اپنی زندگی آسان بنائی، یا صرف اپنے آپ کو مشینوں کے حوالے کر دیا؟

---

# # # 💡 **ٹیکنالوجی کا اصل مقصد**

خواتین و حضرات!
ٹیکنالوجی کا اصل مقصد **زندگی کو سہل بنانا** ہے، **انسانیت کو نہیں بھلانا**۔
یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اسے نعمت بنائیں یا زحمت۔
اگر ہم موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو علم، تحقیق، اور خیر کے لیے استعمال کریں —
تو یہی ٹیکنالوجی عبادت بن جاتی ہے۔
لیکن اگر ہم اسے وقت ضائع کرنے یا نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنا لیں،
تو یہی سہولت تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

---

# # # 🌱 **نئی نسل اور ٹیکنالوجی**

آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ صرف “یوزر” نہ رہے،
بلکہ “کریئیٹر” بنے۔
جو ایپ استعمال کر رہا ہے، وہ ایک دن نئی ایپ بنائے۔
جو ویڈیوز دیکھ رہا ہے، وہ ایسی ویڈیوز بنائے جو انسانیت اور علم کی روشنی پھیلائیں۔
کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ تمہارے پاس جدید ٹیکنالوجی ہو،
بلکہ یہ ہے کہ تم خود نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھو۔

---

# # # 🌟 **اختتامیہ پیغام**

محترم سامعین!
ٹیکنالوجی ایک چاقو کی طرح ہے —
اس سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے، اور زخم بھی لگایا جا سکتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
اگر ہم اس طاقت کو عقل، اخلاق اور ایمان کے ساتھ استعمال کریں،
تو یہی ٹیکنالوجی انسانیت کی سب سے بڑی خدمت بن سکتی ہے۔

یاد رکھیے —
**ٹیکنالوجی خطرہ نہیں، خطرہ تب بنتی ہے جب انسان اپنا شعور کھو دے۔**

01/04/2025
23/03/2025
15/12/2024
13/12/2024

Address

Sharjah

Telephone

+923114905772

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Entertainment video posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Entertainment video:

Share