12/01/2026
*پاکستانی سیاسی ملا!*
*”بھٹو کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہے“* جماعت اسلامی کے امیر *مولانا مودودی* نے الزام لگایا کہ *ذوالفقار علی بھٹو* کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہے! تو کیا جواب آيا جان کر آپ دنگ رہ جائینگے:
رٹائرڈ برگیڈیئر *سید احمد ارشاد ترمذی* کی کتاب *حساس ادارے* سے:
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں پاکستان میں اسلامی سربراہان کانفرنس طلب کی۔ جس میں تمام مسلم ملکوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ تمام مسلم ملکوں کی کرنسی ایک ہوگی۔ کویت کا دینار ہو یا پاکستان کا روپیہ سب برابر ہونگے۔ امیر مسلم ملک غریب مسلم ملکوں کی مدد کریں گے۔ پاکستان میں عالمی اسلامی بینک کا قیام ہوگا۔ عرب ممالک اپنا پیسہ ورلڈ بینک سے واپس لیں گے۔ عالم اسلام کو ایٹمی قوت بنائیں گے۔ اس معاہدے پر تمام مسلم ملکوں کے سربراہوں نے دستخط کئے۔ عرب ملکوں نے جب اپنا پیسہ ورلڈ بینک سے واپس مانگا تو ورلڈ بینک کے پاس پیسہ واپس کرنے کے لئے کیش رقم نہیں تھی۔
امریکہ میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئی۔ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ برگیڈئیر *سید احمد ارشاد ترمذی* اپنی کتاب *حساس ادارے* میں لکھتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ ہینری کسینجر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے بات چیت کرنے پاکستان آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے فیصلوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے. ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا چاہتے تھے. ہینری کسینجر نے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے کہا کہ سامنے سے اگر ٹرین آرہی ہو تو عقلمند کو پٹڑی سے اتر جانا چاھئیے۔ وزیراعظم بھٹو نے جواب میں کہا کہ:
"ہاتھی کے کان بہت بڑے ہوتے ہیں" ہینری کسینجر کو غصہ آیا اور کہا کہ "ہم تجھے مثال عبرت بنا دینگے" اس کے بعد امریکہ نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے اپنی تجوریوں کہ منہ کھول دئیے۔ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں کو امریکہ نے خرید لیا جن میں جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا ابولا اعلی' مودودی، اہل تشیع کے سربراہ علامہ سید عارف حسینی، بریلوی مسلک کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی، جمعیت اہل حدیث کے سربراہان سمیت مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے مل کر اتحاد بنایا.
برگیڈئیر رٹائرڈ *سید احمد ارشاد ترمذی* اپنی کتاب *حساس ادارے* میں لکھتے ہیں کہ 30 لاکھ ڈالرز کا ایک چیک جو جماعت اسلامی کے سربراہ کے نام سے امریکہ سے آیا اس چیک کی ایک فوٹو کاپی چیف منسٹر سندھ غلام مصطفےٰ جتوئی کو ملی۔ چیف منسٹر جتوئی نے وہ فوٹو کاپی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تک پنہچادی۔ ایک طرف دنیا بھر کے مسلمان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں متحد تھے تو دوسری طرف پاکستان کے مولوی حضرات امریکی ڈالرز کی مدد سے فرقہ واریت کو بھول کر مسلمانوں کے اتحاد کے خلاف متحد ہو چکے تھے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر کفر کے فتوے اور یہود و نصاری' کا ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے۔ حقیقت میں مولوی حضرات خود یہود و نصاری' کے ایجنٹ بن چکے تھے. *احمد ارشاد ترمذی* مزید لکھتے ہیں کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے گھروں کی چھتوں پر اذان دی جاتی تھی۔ اذان دینے والوں کو فی اذان کے پیسے ملتے تھے۔ امریکی ڈالرز ٹھیلوں پر بکنے لگے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی نے الزام لگایا کہ بھٹو کا ختنہ نہیں ہوا وہ غیر مسلم ہیں۔ اس کے بعد بھٹو کے سب بڑے سیاسی مخالف سائیں *جی ایم سید* نے پریس کانفرنس کی کہ "ہم ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف ضرور ہیں مگر ان کے والد سر *شاہنواز بھٹو* سے میری دوستی تھی. ہم سندھی ختنہ کو "طہر سنت" کہتے ہیں اور اس کی تقریب بھی کرتے ہیں۔ جب بھٹو کا ختنہ ہوا تھا. دعوت نامے کا کارڈ مجھے بھی ملا تھا جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔ مولانا مودودی جیسے دینی عالم کی زبان سے اس طرح کا الزام لگانا سمجھ سے باہر ہے۔" سائیں جی ایم سید نے وہ دعوت نامے کے کارڈ کو تمام اخبارات میں چھپوادیا۔ 📕🔎💰
اکبر انصاری ایڈووکیٹ کی وال سے