26/11/2025
اردو بکس ورلڈ—سرمد خان کی محبت اور تین سالہ مستقل محنت کا سفر۔
یہ بھی ایک عجیب سا احساس ہے کہ جس کام کی ابتدا شوق سے ہوئی تھی، وہ اب ایک راہ بن گیا ہے جس سے پاکستان کے مختلف ادیب اور لکھاری عالمی پلیٹ فارم تک پہنچ رہے ہیں۔
پچھلے تین برسوں میں سرمد خان نے درجنوں پاکستانی نام شارجہ اور ابوظبی کی بک فئیر اتھارٹیز کو تجویز کیے۔ وہ لوگ اپنی ضرورت، دلچسپی اور پروگرام کے حساب سے کبھی دو، کبھی تین، کبھی چار نام خود چُن لیتے ہیں۔ اسی محنت کا نتیجہ تھا کہ پچھلے برسوں میں یہ لکھاری عالمی اسٹیج تک پہنچے:
• اسامہ صدیق — غروب شہر کا وقت
• آمنہ مفتی — پانی مر رہا ہے
• طاہرہ اقبال — نیلی بار
اور اس سال بھی وہی سلسلہ جاری رہا۔
شارجہ بک فئیر نے سرمد خان کی بھیجی ہوئی لسٹ میں سے تین پاکستانی شخصیات کو منتخب کیا:
• علی اکبر ناطق
• حنا جمشید
• ڈی آئی جی کراچی عمر شاہد
یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا۔ سرمد نے بارہا پیچھے بھاگ کر ای میلیں کیں، فائلیں بنائیں، پروفائلز بنائیں، اور سب سے بڑھ کر—پاکستان کا نام مضبوط رکھا۔
اب اگلا مرحلہ سامنے ہے:
ابوظبی بک فئیر 11 اپریل تا 20 اپریل 2026
اتھارٹی نے ہم سے کہا ہے کہ “بیسٹ آف دی بیسٹ” پاکستانی رائٹرز کے نام دیں—ایسے لوگ جن کے آنے پر پاکستانی قارئین بھی بک فئیر کا رُخ کریں۔ لسٹ بن رہی ہے، نام اکٹھے ہو رہے ہیں۔
اسی دوران شارجہ چلڈرن بک فئیر 22 اپریل تا 3 مئی 2026 بھی آ رہا ہے، اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے پاکستانی بچے جنہوں نے لکھنے، پڑھنے یا تخلیق میں کچھ کمال کیا ہو—انہیں بھی یہاں تک لایا جائے۔
ایک اور کام بھی دل کے ساتھ جاری ہے:
پاکستان کے پبلشرز کو شارجہ اور ابوظبی بک فئیر کے ساتھ منسلک کرنا—تاکہ انہیں ٹرانسلیشن گرانٹس ملیں، کتابوں کے رائٹس کے مواقع ملیں، اور انڈسٹری آگے بڑھے۔
گزشتہ سال فاطمہ شرانی کے پبلشنگ ہاؤس کو بھی ایک کتاب کی گرانٹ ملی تھی—وہ سلسلہ بھی آگے بڑھانا ہے۔
یہ سب سفر ابھی جاری ہے۔
اردو بکس ورلڈ کا مقصد ایک ہی ہے:
پاکستانی ادب، پاکستانی نام اور اردو کتاب—یہاں دنیا کے سامنے موجود رہیں۔