Adeel islamic podcast

Call Contact the business

Adeel islamic podcast Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adeel islamic podcast, Radio Station, Sharjah UAE, Sharjah.

25/08/2025

یہ واقعہ بلعم بن باعوراء نامی ایک شخص کا ہے جو اپنے زمانے کا بہت بڑا عالم، عابد اور مستجاب الدعوات (جس کی دعائیں قبول ہوتی ہوں) تھا، یہاں تک کہ اسے اسمِ اعظم کا علم بھی حاصل تھا۔ اس کا روحانی مقام اتنا بلند تھا کہ وہ اپنی جگہ سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیتا تھا۔

مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لشکر کے ساتھ بلعم کی قوم (قومِ جبارین) سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ بلعم کی قوم نے گھبرا کر اس سے درخواست کی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے لشکر کے خلاف بددعا کرے۔ بلعم نے پہلے تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اللہ کے نبی اور مومنوں کے لشکر کے خلاف بددعا نہیں کر سکتا۔

لیکن اس کی قوم نے اسے مال و دولت کا شدید لالچ دیا اور مسلسل اصرار کیا۔ آخرکار، بلعم دنیا کی لالچ میں اندھا ہو گیا اور بددعا کرنے کے لیے پہاڑ پر جانے کے لیے راضی ہو گیا۔ راستے میں اس کی گدھی نے اللہ کے حکم سے بول کر اسے روکنے کی کوشش کی اور فرشتوں کی موجودگی سے آگاہ کیا، لیکن وہ باز نہ آیا۔

جب اس نے پہاڑ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بددعا کرنے کی کوشش کی تو اللہ کی قدرت سے اس کی زبان الٹ گئی اور بددعا کے الفاظ اسی کی قوم کے لیے نکلنے لگے۔ اس گناہ کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس پر عذاب نازل کیا: اس کی زبان کتے کی طرح لٹک کر سینے پر آ گئی، اس کا ایمان سلب ہو گیا اور وہ دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوگیا۔

ایمان سے محروم ہونے کے بعد، اس نے اپنی قوم کو ایک شیطانی چال سکھائی۔ اس نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی خوبصورت لڑکیوں کو بنا سنوار کر بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دیں تاکہ وہ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اس کی چال کامیاب ہوگئی؛ بنی اسرائیل کا ایک سردار زنا میں مبتلا ہوا، جس کی نحوست کی وجہ سے پورے لشکر میں طاعون کی وبا پھیل گئی اور ستر ہزار لوگ ہلاک ہوگئے۔ یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکر کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ بلعم بن باعوراء کا انجام انتہائی برا ہوا اور وہ کفر کی حالت میں مرا۔ قرآن مجید نے سورۃ الاعراف میں اس شخص کا ذکر کتے سے مثال دے کر کیا ہے۔

اسباق و نصائح (Lessons and Morals)
اس پورے واقعے سے مندرجہ ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:

علم و عبادت پر غرور نہ کرنا: علم اور عبادت کی کثرت گمراہی سے بچنے کی ضمانت نہیں ہے۔ بلعم جیسا عظیم عالم اور عابد بھی دنیا کی لالچ میں آ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اصل چیز اللہ کا خوف اور اس کی نعمتوں پر شکر گزاری ہے۔

مال و دولت کی حرص تباہ کن ہے: دنیاوی مال و دولت کی محبت اور لالچ انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور اسے اللہ کے نبیوں کے مقابلے میں بھی لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ حرص انسان کی دنیا اور آخرت، دونوں برباد کر دیتی ہے۔

علماء اور رہنماؤں کی ذمہ داری: علماء اور قوم کے رہنماؤں کی ذمہ داری بہت سنگین ہے۔ اگر وہ مال یا عہدے کے لالچ میں دین کے اصولوں پر سودے بازی کریں تو ان کا انجام بلعم بن باعوراء جیسا ہو سکتا ہے۔ انہیں ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔

ایک شخص کے گناہ کی اجتماعی نحوست: قوم کے کسی ایک فرد، خصوصاً کسی بڑے آدمی کا گناہ پوری قوم کے لیے عذاب اور ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے ایک سردار کے گناہ کی وجہ سے پورے لشکر پر وبا مسلط ہوگئی۔ لہٰذا، معاشرے میں گناہوں کو روکنا سب کی ذمہ داری ہے۔

اللہ کی مدد کی شرط اطاعت ہے: اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد اور فرشتوں کی نصرت مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن اس کی شرط اطاعت اور گناہوں سے پرہیز ہے۔ جب قوم گناہ میں مبتلا ہوتی ہے تو اللہ کی مدد اٹھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔










#عبرت

#نصیحت





























16/08/2025

یہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعلانِ توحید کے عظیم الشان واقعے کو بیان کرتا ہے۔ اس وقت نمرود بن کنعان نامی ایک ظالم اور متکبر بادشاہ حکومت کرتا تھا جو لوگوں سے زبردستی اپنی پوجا کرواتا تھا۔ اس نے خواب میں ایک ستارہ دیکھا جس کی روشنی نے چاند سورج کو ماند کر دیا، جس کی تعبیر نجومیوں نے یہ بتائی کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت کے زوال کا سبب بنے گا۔ اس پر نمرود نے شہر میں پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔

انہی حالات میں اللہ کی قدرت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اور ان کی والدہ نے انہیں بادشاہ کے خوف سے شہر سے دور ایک غار میں چھپا دیا۔ آپ علیہ السلام نے وہیں پرورش پائی۔ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیکھا تو وہ ستاروں، چاند اور سورج کی پوجا میں مبتلا تھی۔ آپ نے انہیں توحید کا درس دینے کے لیے نہایت حکمت بھرا اور منطقی طریقہ اختیار کیا۔

آپ نے پہلے ایک ستارے کو دیکھ کر کہا: "کیا یہ میرا رب ہے؟" لیکن جب وہ ڈوب گیا تو آپ نے اس کی خدائی سے انکار کر دیا۔ پھر چاند اور سورج کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا، جو اس ستارے سے زیادہ بڑے اور روشن تھے۔ جب وہ بھی اپنے وقت پر ڈوب گئے تو آپ نے اپنی قوم کے سامنے یہ حقیقت واضح کی کہ جو چیزیں خود فنا ہو جائیں، بدل جائیں اور ڈوب جائیں، وہ رب نہیں ہو سکتیں۔ اس کے بعد آپ نے برملا اعلان کیا کہ "میں ان تمام چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک بناتے ہو، اور میں اپنا رخ صرف اس ذات کی طرف کرتا ہوں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔"

اسباق و نصائح (Lessons and Morals)
اس واقعے سے ہمیں کئی اہم اسباق ملتے ہیں:

توحید کی عظمت: سب سے بڑا سبق اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ہے۔ کائنات کی کوئی بھی مخلوق، چاہے وہ کتنی ہی بڑی اور روشن کیوں نہ ہو (جیسے سورج اور چاند)، عبادت کے لائق نہیں کیونکہ وہ خود فانی اور اللہ کی تخلیق ہے۔ عبادت کا حقدار صرف وہی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

دعوت کا حکیمانہ انداز: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو براہِ راست جھٹلانے کے بجائے ایک منطقی اور فکری سفر پر گامزن کیا۔ انہوں نے ان کے جھوٹے معبودوں کو ہی دلیل بنا کر ان کی نفی کی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دین کی دعوت اور تبلیغ میں سخت زبان کے بجائے حکمت، نرمی اور دلائل کا سہارا لینا چاہیے۔

غور و فکر کی اہمیت: یہ واقعہ کائنات میں غور و فکر (تفکر) کی دعوت دیتا ہے۔ آسمان، زمین، چاند، سورج اور ستاروں کا طلوع و غروب ہونا ہی ان کے مخلوق ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ عقلِ سلیم استعمال کرنے والا شخص کائنات کو دیکھ کر خالق تک پہنچ سکتا ہے۔

حق پر استقامت: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک جابر بادشاہ اور مشرک قوم کے سامنے تنِ تنہا حق کا عَلم بلند کیا۔ اس سے ثابت قدمی، بہادری اور اللہ پر کامل بھروسے کا درس ملتا ہے۔

اللہ کی تدبیر: نمرود نے اپنی پوری طاقت سے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی مگر اللہ کی تدبیر ہر انسانی تدبیر پر غالب ہے۔ اس نے اپنے نبی کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ انہی کے ذریعے توحید کا پیغام عام کروایا۔
































13/08/2025

حضرت صالح علیہ السلام کو قومِ ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا۔ ان کی سرکش قوم نے نشانی کے طور پر ایک معجزے کا مطالبہ کیا، چنانچہ اللہ کے حکم سے پہاڑ کی چٹان سے ایک حاملہ اونٹنی نکلی۔ اس اونٹنی کے لیے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا اور قوم کے لیے دوسرا دن، لیکن قوم نے اس پابندی سے تنگ آ کر اللہ کی اس نشانی (اونٹنی) کو قتل کر دیا۔

اس نافرمانی اور سرکشی کے نتیجے میں، قومِ ثمود پر ایک ہیبت ناک چیخ اور شدید زلزلے کی صورت میں اللہ کا عذاب نازل ہوا اور پوری قوم اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑی رہ گئی اور ہمیشہ کے لیے تباہ ہو گئی۔

اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد، مصنف یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ جب ایک نبی کی اونٹنی کو قتل کرنے پر پوری قوم تباہ ہوگئی تو اس قوم کا کیا انجام ہوگا جو اپنے نبی کی آل و اولاد کو شہید کرے۔ اس ضمن میں وہ کربلا کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے میں ایک لاکھ چالیس ہزار کوفی اور شامی مختلف ادوار میں قتل ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے محبوبوں اور ان سے منسوب چیزوں کی بے حرمتی پر سخت گرفت کرتا ہے۔ آخر میں یہ بھی بتایا گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قومِ ثمود کے کھنڈرات کے پاس سے گزرے تو صحابہ کو وہاں ٹھہرنے، اس جگہ کا پانی استعمال کرنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ اس عذاب کی جگہ سے روتے ہوئے اور عبرت حاصل کرتے ہوئے گزرو۔

اسباق و نصائح (Lessons and Morals)
اس واقعے اور اس پر کی گئی تفسیر سے مندرجہ ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:

اللہ کے نبیوں کی نافرمانی تباہی کا باعث ہے: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی طرف اپنا نبی بھیجتا ہے تو اس کی اطاعت لازمی ہوتی ہے۔ نبی کی بات کو جھٹلانا، ان کا مذاق اڑانا اور ان کے احکامات سے سرکشی کرنا براہِ راست اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے، جس کا انجام دنیا اور آخرت کی بربادی ہے۔

اللہ کی نشانیوں (شعائر اللہ) کا احترام واجب ہے: وہ اونٹنی عام جانور نہیں تھی بلکہ "ناقۃ اللہ" یعنی اللہ کی اونٹنی کہلائی۔ اسے اللہ نے اپنی نشانی قرار دیا تھا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جن چیزوں یا ہستیوں کو اللہ تعالیٰ اپنی نشانی یا اپنے محبوبوں سے نسبت دے دے، ان کی تعظیم و تکریم فرض ہو جاتی ہے۔ ان کی بے ادبی یا توہین عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔

تاریخ سے عبرت حاصل کرنا: پچھلی قوموں کے واقعات صرف کہانیاں نہیں بلکہ آنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہیں۔ قومِ ثمود کی تباہ شدہ بستیوں سے گزرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف اور عبرت کا اظہار اس بات کا درس ہے کہ ہمیں بھی ایسے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے اور ان گناہوں سے بچنا چاہیے جو دوسروں کی ہلاکت کا سبب بنے۔

اللہ کی پکڑ اور مہلت: اللہ تعالیٰ اپنی نافرمان قوموں کو فوراً پکڑ میں نہیں لیتا بلکہ مہلت دیتا ہے، لیکن جب وہ اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر اس کی پکڑ اتنی شدید ہوتی ہے کہ ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا ہے۔

مظلوم کی حمایت اور ظالم کا انجام: متن میں کربلا کے واقعے کا حوالہ یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظلم، خاص طور پر اس کے نیک بندوں پر کیا گیا ظلم، کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ظالم کو دنیا میں یا آخرت میں اپنے کیے کا انجام بھگتنا پڑتا ہے۔

12/08/2025

یہ واقعہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں، ہابیل اور قابیل کا ہے۔ اس وقت کے دستور کے مطابق ایک حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی سے ہوتا تھا۔ قابیل کی بہن اقلیما زیادہ خوبصورت تھی، اس لیے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کی ہونے والی بیوی ”لیوذا“ سے نکاح کرنے سے انکار کر دیا اور اقلیما کا طلب گار ہوا۔

اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں قربانیاں پیش کریں۔ جس کی قربانی قبول ہوگی، وہی حقدار ہوگا۔ ہابیل نے ایک بہترین بکری اور قابیل نے کچھ معمولی گندم پیش کی۔ آسمانی آگ نے حضرت ہابیل کی قربانی کو قبول فرما لیا، جس پر قابیل کا حسد اور غصہ بھڑک اٹھا اور اس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور پھر اسے قتل کر دیا۔ یہ روئے زمین پر پہلا خونِ ناحق تھا۔

اس جرم کے نتیجے میں قابیل پر اللہ کا غضب نازل ہوا، اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور اسے اپنے والد کے دربار سے نکال دیا گیا۔ بعد میں وہ ابلیس کے بہکاوے میں آکر آگ کی پوجا کرنے والا پہلا شخص بنا۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اپنے ہی اندھے بیٹے کے ہاتھوں مارا گیا اور قیامت تک ہونے والے ہر قتل کے گناہ میں حصہ دار بن گیا۔ اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ایک صالح فرزند حضرت شیث علیہ السلام عطا فرمائے جو ان کے جانشین اور نبی بنے۔

اسباق (Lessons)
اس پورے واقعے سے ہمیں درج ذیل اہم سبق اور نصیحتیں ملتی ہیں:

فتنۂ عشق کا خطرہ: دنیا میں پہلا قتل ایک عورت کے معاملے پر ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناجائز عشق اور شہوت کا فتنہ کتنا خطرناک ہے اور اس سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

حسد کی تباہ کاری: قابیل نے اپنے بھائی کو صرف حسد کی آگ میں جل کر قتل کیا۔ حسد ایک ایسی خطرناک روحانی بیماری ہے جو انسان کو بھائی کے خون تک کا پیاسا بنا دیتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے ہمیں حاسد کے حسد سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔

خونِ ناحق کا وبال: کسی کو ناحق قتل کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی وجہ سے ایک نبی کا بیٹا بھی ایمان سے محروم ہو کر کفر و شرک میں مبتلا ہوا اور دائمی عذاب کا مستحق ٹھہرا۔

بُری رسم قائم کرنے کا گناہ: جو شخص کوئی برا طریقہ یا رسم دنیا میں شروع کرتا ہے، قیامت تک جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کا گناہ اس شخص کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا، جیسا کہ قابیل کے ساتھ ہوا۔

نیکی ذاتی عمل ہے، خاندانی نہیں: کسی نیک اور صالح انسان کی اولاد کا نیک ہونا ضروری نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے لیکن ان کا بیٹا نافرمان نکلا۔ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر شخص کو نیک اولاد کے لیے ہمیشہ اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔


(حسد کی تباہی)
(قرآنی قصے)











07/08/2025

خلاصہ (Summary)
نجران (یمن) کے عیسائیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت ان کے سب سے بڑے عالم ابوحارثہ کر رہے تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت (خدا کا بیٹا ہونے) پر بحث کرنے کے لیے مدینہ منورہ آیا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منطقی دلائل سے سمجھایا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کے خدا کا بیٹا ہونے کی دلیل ہے، تو حضرت آدم علیہ السلام تو بغیر ماں اور باپ دونوں کے پیدا ہوئے، انہیں تو اس کا زیادہ حقدار ہونا چاہیے۔

جب عیسائی وفد نے دلائل کو ماننے سے انکار کر دیا اور بحث طول پکڑ گئی، تو اللہ تعالیٰ نے "آیتِ مباہلہ" (سورہ آل عمران، آیت ۶۱) نازل فرمائی۔ اس آیت میں اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کو چیلنج دیں کہ دونوں فریق اپنے بیٹوں، اپنی عورتوں اور اپنی جانوں کو لے کر ایک میدان میں جمع ہوں اور پھر جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔

عیسائیوں نے چیلنج قبول کر لیا۔ لیکن اگلی صبح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت حسن، حضرت حسین (بیٹوں کی جگہ)، حضرت فاطمہ (عورتوں کی جگہ) اور حضرت علی (جان کی جگہ) کو لے کر مباہلے کے لیے تشریف لائے، تو ان نورانی چہروں کو دیکھ کر عیسائیوں پر خوف طاری ہو گیا۔ ان کے عالم ابوحارثہ نے اپنے لوگوں سے کہا: "میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی دعا کریں تو وہ بھی ہٹ جائے گا۔ ان سے ہرگز مباہلہ نہ کرنا، ورنہ روئے زمین پر ایک بھی عیسائی باقی نہ رہے گا اور تم سب ہلاک ہو جاؤ گے۔"

چنانچہ عیسائیوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا اور جزیہ (ٹیکس) دے کر صلح کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ واقعہ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی ایک عظیم دلیل ہے۔

اسباق (Lessons)
اس واقعے سے ہمیں کئی اہم اسباق ملتے ہیں:

اسلام کی حقانیت: عیسائیوں کا مباہلہ سے پیچھے ہٹ جانا اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ وہ دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی مانتے تھے اور جانتے تھے کہ اگر مباہلہ ہوا تو اللہ کی لعنت ان پر ہی پڑے گی۔

اہلِ بیت کا مقام: یہ واقعہ پنجتن پاک (نبی اکرم ﷺ، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام) کی عظمت اور اللہ کے نزدیک ان کے بلند ترین مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس نازک ترین موقع پر انہی ہستیوں کو اپنے ساتھ لیا۔

گفتگو اور دلیل کی اہمیت: اسلام پہلے دلیل اور منطق سے بات کرتا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح سے سمجھا دیا اور مخالفین نے ہٹ دھرمی نہ چھوڑی، تب آخری حجت کے طور پر مباہلہ کا چیلنج دیا گیا۔

اللہ والوں سے ٹکرانے کا انجام: اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے سچے نبیوں اور محبوب بندوں سے مقابلہ کرنا یا ان کی بے ادبی کرنا دنیا اور آخرت میں ہلاکت اور بربادی کا سبب بنتا ہے۔

حق پر مکمل بھروسہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے گھر والوں کو لے کر میدان میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ کو اپنے سچا ہونے اور اللہ کی مدد پر کامل یقین تھا۔

اسلام میں رواداری: مباہلہ سے انکار کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں پر زبردستی نہیں کی، بلکہ انہیں اپنے دین پر رہنے کی اجازت دی اور ایک معاہدے کے تحت انہیں امان عطا کی۔




















06/08/2025

اس podcast میں قرآن و حدیث اور تفاسیر کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق اسلامی عقائد کو بیان کیا گیا ہے۔ جب یہودیوں نے آپؑ کو قتل کرنے کی سازش کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں بچا لیا اور زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ یہودیوں نے غلطی سے ایک دوسرے شخص ”طِطیانُوس“ کو، جس کی شکل حضرت عیسیٰؑ جیسی ہو گئی تھی، قتل کر کے سولی پر چڑھا دیا۔ قرآن مجید واضح طور پر اس بات کی تردید کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو قتل کیا گیا یا سولی دی گئی۔ اسلامی عقیدے کے مطابق آپؑ قربِ قیامت میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، دجال اور خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، شریعتِ محمدی ﷺ پر عمل کریں گے اور دنیا میں عدل و انصاف قائم فرمائیں گے۔ آخر میں آپؑ طبعی وفات پا کر مدینہ منورہ میں گنبدِ خضراء کے اندر مدفون ہوں گے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے یہ عقیدہ رکھنا لازم ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو قتل نہیں کیا گیا، بلکہ وہ اللہ کے حکم سے آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے۔

اہم اسباق (Key Lessons)
اللہ کی قدرت اور حفاظت: اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں کی حفاظت پر قادر ہے۔ انسانوں کی کوئی بھی سازش اللہ کی تدبیر پر غالب نہیں آسکتی۔

حضرت عیسیٰؑ کا مقام: اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا ایک برگزیدہ نبی اور رسول مانا جاتا ہے، جنہیں اللہ نے دشمنوں سے بچا کر ایک عظیم معجزے کے ذریعے آسمان پر اٹھا لیا۔

قرآن کا فیصلہ کن کردار: قرآن مجید سابقہ امتوں کے غلط عقائد کی تصحیح کرتا ہے اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق قائم کرتا ہے۔

عقیدے کی اہمیت: یہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد کا حصہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نہ مقتول ہوئے نہ انہیں سولی دی گئی، اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنا قرآنی تعلیمات سے انحراف ہے۔

قربِ قیامت کی نشانیاں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے، جس پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔

شریعتِ محمدی کی عالمگیریت: حضرت عیسیٰؑ کا آخری زمانے میں آکر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شریعت کی پیروی کرنا، اسلام کے آخری اور عالمگیر دین ہونے کی دلیل ہے۔

ٰ
ٰ
ٰ





























(قرآن)

(حدیث)

(سیرت_النبی)

(نماز)

(رمضان)

(اسلامی_تاریخ)

(دعا)

(تفسیر)

29/07/2025

یہ پوڈکاسٹ"مقامِ ابراہیم" کی عظمت و فضیلت بیان کرتی ہے، جو خانہ کعبہ کے قریب وہ مقدس پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات ہیں۔ یہ نشانات اس وقت ثبت ہوئے جب آپؑ کعبہ کی دیواریں تعمیر فرما رہے تھے۔ مصنف کے مطابق، ہزاروں سال کی موسمی شدتوں اور انسانی لمس کے باوجود ان نشانات کا باقی رہنا ایک عظیم معجزہ اور اللہ کی کھلی نشانیوں میں سے ایک ہے، جس کا ذکر قرآن مجید نے بھی کیا ہے اور مسلمانوں کو اس کے قریب نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

اس تحریر کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ اگر صرف قدموں کے نشان والے پتھر کی یہ شان ہے تو پھر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور کی عظمت و بزرگی کا عالم کیا ہوگا، جہاں صرف نشان نہیں بلکہ آپؐ کا پورا جسمِ اطہر موجود ہے۔ مصنف اس تقابل سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نبی اکرمؐ کی قبرِ انور کی تعظیم و تکریم کہیں زیادہ ضروری ہے اور ان لوگوں پر تنقید کرتے ہیں جو اس کی توہین کرتے ہیں یا اسے منہدم کرنے کا سوچتے ہیں۔

اسباق
اس تحریر سے درج ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:

شعائر اللہ کی تعظیم: انبیاء اور اولیاء سے منسوب مقامات اور اشیاء اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کی عزت و تکریم کرنا ایمان کا حصہ ہے اور باعثِ برکت ہے۔

انبیاء کے معجزات کا ثبوت: مقامِ ابراہیم پر قدموں کے نشانات کا باقی رہنا انبیاء کی سچائی اور ان کے معجزات کا زندہ ثبوت ہے۔

عبادت اور احترام میں فرق: مقدس مقامات پر عبادت کرنا ان مقامات کی پوجا نہیں، بلکہ ان کے احترام کے ساتھ اللہ ہی کی عبادت کرنا ہے، جیسا کہ مقامِ ابراہیم پر نماز کا حکم ہے۔

عظمتِ مصطفیٰ ﷺ: مقامِ ابراہیم کی فضیلت سے بڑھ کر روضۂ رسول ﷺ کی عظمت ہے کیونکہ وہاں اللہ کے محبوب ترین نبی ﷺ آرام فرما ہیں۔

ادب اور محبتِ رسولؐ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے وابستہ ہر شے کا ادب و احترام ایمان کی روح ہے۔ بے ادبی اور گستاخی دنیا و آخرت میں گمراہی اور خسارے کا سبب بنتی ہے۔

ٰ










29/07/2025

یہ پوڈکاسٹ حضرت مریم علیہا السلام کی پیدائش، ان کی والدہ کی منت، اور بیت المقدس میں ان کی پرورش سے شروع ہوتی ہے۔ ان کے خالو حضرت زکریا علیہ السلام نے ان کے لیے ایک خاص محراب (عبادت گاہ) بنائی جہاں وہ اللہ کی عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔

اس محراب میں حضرت مریم کی کرامت ظاہر ہوئی کہ اللہ کی طرف سے ان کے پاس بے موسم پھل آتے تھے۔ اس معجزاتی واقعے کو دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام، جو خود بوڑھے اور بے اولاد تھے، کے دل میں امید جاگی۔ انہوں نے اسی بابرکت جگہ پر اللہ سے نیک اولاد کے لیے دعا کی، جو فوراً قبول ہوئی اور فرشتوں نے انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری دی۔

اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جس طرح نیک لوگوں کی عبادت کی جگہ بابرکت ہوتی ہے اور وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں، اسی طرح اللہ کے مقبول بندوں کی قبریں بھی برکت اور دعا کی قبولیت کا مقام ہیں۔ اس کی مثال میں امام شافعی کا عمل پیش کیا گیا ہے کہ وہ اپنی مشکلات کے حل کے لیے بغداد میں امام اعظم ابو حنیفہ کی قبر مبارک پر جا کر دعا کرتے تھے اور ان کی مراد پوری ہوتی تھی۔

اہم اسباق (Key Lessons)
اس پورے واقعہ سے مندرجہ ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:

حضرت مریم کا بلند مقام: اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا اللہ کی ایک صاحبِ کرامت ولیہ تھیں، جن کی وجہ سے ان کی عبادت گاہ میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی تھیں۔

دعا کی قبولیت کے مقامات: نیک اور صالح لوگوں کی عبادت گاہیں اور ان سے منسوب مقامات متبرک ہوتے ہیں۔ ان جگہوں پر کی جانے والی دعاؤں کے قبول ہونے کی زیادہ امید ہوتی ہے۔

اللہ کی قدرت کاملہ: اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ بے موسم پھل بھی عطا کر سکتا ہے اور بڑھاپے جیسی ناامیدی کی حالت میں اولاد جیسی نعمت سے بھی نواز سکتا ہے۔

وسیلے کا جواز: کسی نیک بندے یا متبرک مقام کو اللہ کی بارگاہ میں دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ بنانا جائز ہے۔ جیسا کہ حضرت زکریاؑ نے حضرت مریم کی محراب کو دعا کے لیے منتخب کیا اور امام شافعیؒ نے امام ابو حنیفہؒ کی قبر کو وسیلہ بنایا۔

اللہ پر کامل یقین: جب انسان اللہ کی قدرت پر کامل یقین رکھتا ہے تو بظاہر ناممکن نظر آنے والی چیزیں بھی ممکن ہو جاتی ہیں۔ حضرت زکریاؑ کا یقین ہی ان کی دعا کی قبولیت کا سبب بنا۔

نیک لوگوں کی صحبت اور نسبت کی برکت: اللہ کے نیک بندوں سے نسبت اور تعلق بھی برکت کا باعث بنتا ہے۔ حضرت زکریاؑ کو حضرت مریم کی نسبت سے دعا کی تحریک اور قبولیت کا اشارہ ملا۔






#توسل








29/07/2025

یہ پوڈکاسٹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُن چار عظیم معجزات کا تفصیلی بیان ہے جن کا ذکر قرآن مجید کی سورہ آل عمران (آیت ۴۹) میں آیا ہے۔ یہ معجزات آپؑ نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل پر اپنی نبوت ثابت کرنے کے لیے دکھائے۔

مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا: آپؑ نے مٹی سے چمگادڑ کی مورت بنا کر اس میں پھونک ماری تو وہ اللہ کے اذن سے زندہ ہو کر اڑ گئی۔

بیماروں کو شفا دینا: آپؑ نے مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو اللہ کے حکم سے شفا عطا فرمائی۔

مُردوں کو زندہ کرنا: آپؑ نے اللہ کے اذن سے چار مُردوں کو زندہ کیا: اپنے دوست عاذر، ایک بیوہ کے بیٹے، ایک محصول لینے والے کی بیٹی، اور چار ہزار سال پرانے مُردہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کو۔

غیب کی خبریں دینا: آپؑ لوگوں کو بتا دیتے تھے کہ وہ کیا کھا کر آئے ہیں اور گھروں میں کیا ذخیرہ کر کے رکھا ہے۔

جب بنی اسرائیل نے ان کھلے معجزات کو دیکھا تو ایمان لانے کے بجائے آپؑ کو جادوگر کہا اور آپؑ کے قتل کا منصوبہ بنایا، جس کے سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ حضرت مریمؑ کے ساتھ مصر کی طرف ہجرت فرما گئے۔

اسباق و نصائح
اس واقعے سے ہمیں کئی اہم اسباق ملتے ہیں:

اللہ کی لامحدود قدرت: تمام معجزات کا ظہور حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ پر ہوا لیکن ہر بار "اللہ کے حکم سے" ہوا، جو یہ سکھاتا ہے کہ ہر چیز پر حقیقی قدرت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

معجزات کا مقصد: انبیاء کے معجزات کا مقصد لوگوں کو عاجز کرنا نہیں بلکہ اللہ کی وحدانیت اور نبی کی سچائی پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔

حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی: واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے محض اپنی ضد اور تکبر کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سبق ہے کہ ہدایت صرف اسے ملتی ہے جو حق کا متلاشی ہو۔

خالق اور مخلوق کا فرق: حضرت عیسیٰؑ کا بنایا ہوا پرندہ نظروں سے اوجھل ہوتے ہی مر جاتا تھا تاکہ اللہ (خالق) کی تخلیق اور بندے (مخلوق) کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے معجزے کا فرق واضح رہے۔

آزمائش پر صبر: جب تکلیف اور مخالفت حد سے بڑھ جائے تو اللہ کے نیک بندے صبر کرتے ہیں اور اللہ کے حکم کے مطابق حفاظت کے لیے ہجرت جیسا قدم بھی اٹھاتے ہیں۔

ٰ
ٰ



































28/07/2025

یہ پوڈکاسٹ حضرت داؤد علیہ السلام کے بادشاہ اور نبی بننے کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ اس کا آغاز بنی اسرائیل کے بادشاہ طالوت کی جنگ سے ہوتا ہے جو ایک بہت ہی طاقتور اور قدآور بادشاہ جالوت کے خلاف لڑی جا رہی تھی۔ بادشاہ طالوت نے اعلان کیا کہ جو جالوت کو قتل کرے گا، وہ اسے اپنی بیٹی کا رشتہ اور آدھی سلطنت دے گا۔

ایک نوجوان اور غریب چرواہے، حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ چیلنج قبول کیا۔ راستے میں انہیں اللہ کے حکم سے تین معجزاتی پتھر ملے جنہوں نے خود کو حضرت موسیٰ، حضرت ہارون علیہ السلام سے منسوب کیا اور تیسرے نے خود کو جالوت کا قاتل بتایا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی گوپھن (غلیل) سے یہی تین پتھر جالوت کو مارے، جو اس کی کھوپڑی کو پاش پاش کر گئے اور وہ ہلاک ہو گیا۔

وعدے کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کی شادی شہزادی سے ہوئی، انہیں آدھی سلطنت ملی اور بعد میں وہ پوری سلطنت کے بادشاہ اور پھر اللہ کے نبی بھی بنے۔ یوں آپ وہ پہلی شخصیت تھے جنہیں اللہ نے بادشاہت اور نبوت ایک ساتھ عطا فرمائی۔ اتنی بڑی سلطنت کے باوجود، آپ اپنی روزی روٹی اپنے ہاتھ کی کمائی سے حاصل کرتے تھے۔ اللہ نے انہیں یہ معجزہ دیا تھا کہ لوہا ان کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم ہو جاتا تھا، جس سے وہ زرہیں بنا کر فروخت کرتے تھے۔

اہم اسباق
اس واقعے سے مندرجہ ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:

اللہ کی قدرت: اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ وہ جسے چاہے عزت بخشتا ہے اور ایک لمحے میں کسی غریب اور کمزور کو بادشاہ بنا سکتا ہے اور ایک طاقتور ظالم کو ایک کمزور کے ہاتھوں شکست دے سکتا ہے۔ اصل طاقت جسمانی نہیں بلکہ اللہ پر ایمان کی ہے۔

محنت اور حلال روزی کی عظمت: کوئی بھی حلال پیشہ حقیر یا ذلیل نہیں ہوتا۔ اپنے ہاتھ سے محنت کر کے رزقِ حلال کمانا انبیاء علیہ السلام کا طریقہ رہا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا بادشاہ ہوتے ہوئے بھی دستکاری کرنا اس کی بہترین مثال ہے۔

ایمان اور توکل: کامیابی کا انحصار مادی اسباب پر نہیں بلکہ اللہ پر کامل ایمان اور توکل پر ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی جالوت پر فتح اسی ایمان اور توکل کا نتیجہ تھی۔

پیشہ ور افراد کا احترام: کسی بھی شخص کو اس کے حلال پیشے کی وجہ سے کمتر سمجھنا جہالت اور گمراہی ہے۔ معاشرے میں ہر حلال پیشہ ور قابلِ احترام ہے۔

حرام کمائی کی مذمت: رشوت، دھوکہ دہی اور دیگر ناجائز طریقوں سے کمائی کرنا اسلامی تعلیمات کے مطابق انتہائی ذلت کا کام ہے، چاہے ایسا کرنے والا خود کو کتنا ہی معزز سمجھے۔










#





Address

Sharjah UAE
Sharjah
C18

Telephone

+971521681584

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel islamic podcast posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Adeel islamic podcast:

Shortcuts

Share

Category