25/08/2025
یہ واقعہ بلعم بن باعوراء نامی ایک شخص کا ہے جو اپنے زمانے کا بہت بڑا عالم، عابد اور مستجاب الدعوات (جس کی دعائیں قبول ہوتی ہوں) تھا، یہاں تک کہ اسے اسمِ اعظم کا علم بھی حاصل تھا۔ اس کا روحانی مقام اتنا بلند تھا کہ وہ اپنی جگہ سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیتا تھا۔
مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لشکر کے ساتھ بلعم کی قوم (قومِ جبارین) سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ بلعم کی قوم نے گھبرا کر اس سے درخواست کی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے لشکر کے خلاف بددعا کرے۔ بلعم نے پہلے تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اللہ کے نبی اور مومنوں کے لشکر کے خلاف بددعا نہیں کر سکتا۔
لیکن اس کی قوم نے اسے مال و دولت کا شدید لالچ دیا اور مسلسل اصرار کیا۔ آخرکار، بلعم دنیا کی لالچ میں اندھا ہو گیا اور بددعا کرنے کے لیے پہاڑ پر جانے کے لیے راضی ہو گیا۔ راستے میں اس کی گدھی نے اللہ کے حکم سے بول کر اسے روکنے کی کوشش کی اور فرشتوں کی موجودگی سے آگاہ کیا، لیکن وہ باز نہ آیا۔
جب اس نے پہاڑ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بددعا کرنے کی کوشش کی تو اللہ کی قدرت سے اس کی زبان الٹ گئی اور بددعا کے الفاظ اسی کی قوم کے لیے نکلنے لگے۔ اس گناہ کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس پر عذاب نازل کیا: اس کی زبان کتے کی طرح لٹک کر سینے پر آ گئی، اس کا ایمان سلب ہو گیا اور وہ دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوگیا۔
ایمان سے محروم ہونے کے بعد، اس نے اپنی قوم کو ایک شیطانی چال سکھائی۔ اس نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی خوبصورت لڑکیوں کو بنا سنوار کر بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دیں تاکہ وہ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اس کی چال کامیاب ہوگئی؛ بنی اسرائیل کا ایک سردار زنا میں مبتلا ہوا، جس کی نحوست کی وجہ سے پورے لشکر میں طاعون کی وبا پھیل گئی اور ستر ہزار لوگ ہلاک ہوگئے۔ یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکر کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ بلعم بن باعوراء کا انجام انتہائی برا ہوا اور وہ کفر کی حالت میں مرا۔ قرآن مجید نے سورۃ الاعراف میں اس شخص کا ذکر کتے سے مثال دے کر کیا ہے۔
اسباق و نصائح (Lessons and Morals)
اس پورے واقعے سے مندرجہ ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:
علم و عبادت پر غرور نہ کرنا: علم اور عبادت کی کثرت گمراہی سے بچنے کی ضمانت نہیں ہے۔ بلعم جیسا عظیم عالم اور عابد بھی دنیا کی لالچ میں آ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اصل چیز اللہ کا خوف اور اس کی نعمتوں پر شکر گزاری ہے۔
مال و دولت کی حرص تباہ کن ہے: دنیاوی مال و دولت کی محبت اور لالچ انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور اسے اللہ کے نبیوں کے مقابلے میں بھی لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ حرص انسان کی دنیا اور آخرت، دونوں برباد کر دیتی ہے۔
علماء اور رہنماؤں کی ذمہ داری: علماء اور قوم کے رہنماؤں کی ذمہ داری بہت سنگین ہے۔ اگر وہ مال یا عہدے کے لالچ میں دین کے اصولوں پر سودے بازی کریں تو ان کا انجام بلعم بن باعوراء جیسا ہو سکتا ہے۔ انہیں ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔
ایک شخص کے گناہ کی اجتماعی نحوست: قوم کے کسی ایک فرد، خصوصاً کسی بڑے آدمی کا گناہ پوری قوم کے لیے عذاب اور ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے ایک سردار کے گناہ کی وجہ سے پورے لشکر پر وبا مسلط ہوگئی۔ لہٰذا، معاشرے میں گناہوں کو روکنا سب کی ذمہ داری ہے۔
اللہ کی مدد کی شرط اطاعت ہے: اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد اور فرشتوں کی نصرت مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن اس کی شرط اطاعت اور گناہوں سے پرہیز ہے۔ جب قوم گناہ میں مبتلا ہوتی ہے تو اللہ کی مدد اٹھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔
#عبرت
#نصیحت