Pakistan Updates

Pakistan Updates Welcome to our page. In this time of hardship, censorship, fake news, governments propaganda etc, we

https://youtu.be/qkxBPyp5Wdw
05/03/2023

https://youtu.be/qkxBPyp5Wdw

On 27 February 2019, the Pakistan Air Force (PAF) conducted six airstrikes at multiple locations in Indian-administered J...

14/10/2022

Little kitten Rescued from immense danger by residents of Karachi Shahrae Faisal successfuly after its got stuck for whole day on apartment's balcony thirsty and hungry.

Celal Al aka Abdul Rehman Alp from Dirilis Ertugrul arrived Karachi, Pakistan for helping flood-affected people 🇹🇷🇵🇰ڈریل...
12/09/2022

Celal Al aka Abdul Rehman Alp from Dirilis Ertugrul arrived Karachi, Pakistan for helping flood-affected people 🇹🇷🇵🇰
ڈریلش ارطغرل کے جلال آل سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے اشیاء خوردونوش و دیگر سامان کے ہمراہ کراچی پاکستان پہنچ گئے 🇹🇷🇵🇰

Zulam ki inteha UK ki taraf se mila imdadi saman mili Bhagat se Sindh ma دکانوں pr فروخت hona shoro Or becharay mutasire...
11/09/2022

Zulam ki inteha UK ki taraf se mila imdadi saman mili Bhagat se Sindh ma دکانوں pr فروخت hona shoro Or becharay mutasireen Sindh Sarkar ki waja se bhokay sonay pr majboor

Jashan e Azadi Mubarak
14/08/2022

Jashan e Azadi Mubarak

پی ٹی آئی کا حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کیلیے ایک ماہ کا الٹی میٹم، عمران خان کا  تمام 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑن...
06/08/2022

پی ٹی آئی کا حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کیلیے ایک ماہ کا الٹی میٹم، عمران خان کا تمام 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا بھی فیصلہ

پی ٹی آئی نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کے لیے ایک ماہ کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اسلام آباد میں جلد عوامی طاقت کے مظاہرے کا اعلان کردیا‘اسلام آباد کے جلسے میں ہم انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا الٹی میٹم دیں گے اور ہم ایک ماہ سے زیادہ اس حکومت کو وقت نہیں دے سکتے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ ہم الیکشن کمیشن کے کسی فیصلے اورانتخابات کے عمل پر بھروسا نہیں رکھتے۔اگلے 48 گھنٹوں میں ہم اسلام آباد میں بڑے اجتماع کی تاریخ دیں گے، اس جلسے میں ہم انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا الٹی میٹم بھی دیں گے اور ہم ایک ماہ سے زیادہ اس حکومت کو وقت نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابات کا اعلان نہیں کرتی تو ہمارے اگلے اقدام کے لیے تیار ہوجائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے چیف اورممبران مستعفی ہوں ان پرکسی قسم کا بھروسا نہیں ہے، ضمنی انتخاب کے شیڈول پر الیکشن کمیشن کو 16 اگست تک انتظار کرنا چاہیے تھا، یہ جس طرح الیکشن کرانا چاہ رہے ہیں اس طرح ممکن نہیں، خالی میدان والی حسرت یہ لے کر نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ڈرون حملے میں ایمن الظواہری ہلاکت پر وضاحت چاہتے ہیں، حکومت بتائیے کہ ہماری فضائی حدود یا زمین استعمال ہوئی یا نہیں؟انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بہت بھاری قیمت ادا کی اب ہم کسی ایسے سودے کا حصہ نہیں بن سکتے، قوم جواب چاہتی ہے کہیں اب ہم پھر سے القاعدہ کے خلاف یا امریکا کا آلہ بننے نہ جا رہے ہوں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑ ونگا ، آئندہ بھی جن سیٹوں پر انتخابات کرائے گئے پچھلی نشستیں چھوڑ کر انتخابات میں حصہ لوں گا، عام انتخابات 2022میں ہی ہوں گے، حکومت اس سال انتخابات پر تیار تھی،فوج کے اندر سب سے بہتر افسر کو آرمی چیف لگانا چاہیے۔ صحافیوں و اینکرپرسنزسے گفتگو کرتے ہوئے عمراان خان کا کہنا تھا کہ مجھے نااہل نہیں کیاجا سکتا، الیکشن کمیشن کو فیصلہ کہیں اور سے دیا گیا، فنڈنگ ریزنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی تو لوگ مافیا سے فنڈ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ آرمی چیف کی تقرری پر ملک رکا ہوا ہے‘ نوازشریف واپس نہیں آئے گا۔ ایک سوال پر عمران خان نے کہا ہے کہ میرے دور اقتدار میں 2 بڑی غلطیاں ہوئیں پہلی ابھی نہیں بتاؤں گا دوسری غلطی یہ تھی کہ سکندر سلطان کو چیف الیکشن کمشنر بنایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں 2 غیرملکی حکومتوں نے فنڈنگ کی پیشکش کی جو ٹھکرادی۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مجھے سنگل آؤٹ کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں مجھے نااہل کرالیں گے لیکن ان کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے میں موجودہ حکمرانوں کا ہر میدان میں مقابلہ کروں گا۔

بجلی بلوں میں ٹیکس، سراج الحق کا 12 اگست سے ملک گیر تحریک  چلانے کا اعلان امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت...
06/08/2022

بجلی بلوں میں ٹیکس، سراج الحق کا 12 اگست سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز ختم نہ کیے تو جماعت اسلامی 12 اگست کو ملک گیر تحریک کا آغاز کرے گی، تاوان کے خلاف عدالت جائیں گے اور پارلیمنٹ میں بھی آواز بلند کریں گے۔ عوام ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور بدحالی کے دور سے گزر رہے ہیں‘ کراچی تا چترال ہر شخص پریشان ہے‘ ایک طرف سیلاب نے تباہی مچائی ہے اور دوسری جانب کروڑوں شہریوں پر بجلی کے بل قیامت بن کر اترے ہیں‘ اگر کسی شخص نے 4 ہزار کی بجلی صرف کی ہے تو اس پر 8 ہزار مختلف ٹیکسز کی مد میں ڈال دیا گیا ہے۔ بلوں کی آڑ میں حکومت 9 قسم کے ٹیکسز اکٹھے کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر غریبوں کو لوٹنے کے لیے تمام حربے استعمال ہو رہے ہیں، مگر حکمران طبقہ، وزرا، مشیر اور بیوروکریسی اپنی عیاشیاں اور پروٹوکول کم کرنے پر ہرگز تیار نہیں۔ حکمران طبقہ کی گاڑیوں میں پیٹرول اور محلات میں چلنے والے ائرکنڈیشنز عوام کے خون کی صور ت میں جلائے جا رہے ہیں۔ غریب قوم کب تک ان وڈیروں،جاگیرداروں اور مافیاز کی عیاشیوں کی قیمت ادا کرتی رہے گی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 70سے 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں،3 کروڑ بچے غربت کی وجہ سے اسکولوں سے باہر ہیں، شرم کا مقام ہے کہ حکمران اپنا پروٹوکول اور مراعات کم کرنے کو تیار نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ملک میں اسلامی جمہوری انقلاب برپا کرنے کے لیے عوامی جد وجہد وقت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پونے4 سال ملک میں تباہی مچائی، اس کے بعد پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت جس طرح قائم ہوئی اس پر اب بحث وقت کا ضیاع ہے، مگر جو حقیقت سب کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ13 سیاسی جماعتوں کی حکومت بھی عوام کو کوئی ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا شعبہ دیگر شعبوں کی طرح مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے کیے گئے۔ مختلف حکومتوں نے ہائیڈل، سولر اور ونڈ کے ذریعے سستی بجلی پیدا کرنے پر توجہ نہ دی۔ بجلی چوری ہوتی ہے اور حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں 15سے 20فیصد لائن لاسز ہیں۔ بجلی کے نظام میں گھاٹوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے ٹی وی فیس سے تاوان وصول کرنے کی ابتدا کی اور اس وقت جی ایس ٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس اور نجانے کن کن ناموں کے ذریعے غریبوں سے اربوں روپے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ بجلی صرف کرنے کے دن اور رات کے مختلف ریٹس ہیں اور عوام کو لوٹنے کے لیے یونٹس کے مختلف سلیب بنا دیے گئے ہیں جن پر الگ الگ ٹیرف نافذ کیا جاتا ہے۔ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ریاست کے اندر ریاست کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ انھوںنے مطالبہ کیا کہ توانائی کا پور ا نظام واپڈا کے تحت کیا جائے اور بلوں میں تمام ٹیکسز فی الفور ختم کیے جائیں۔ امیر جماعت نے 5اگست کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2019ء میں اس روز کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے عالمی اور دوطرفہ قوانین کی خلاف ورزی کی، مگر ہمارے حکمرانوں نے تین برسوں سے اس مسئلہ پر زبانی جمع خرچ کرنے کے علاوہ کوئی دوٹوک اور دلیرانہ موقف نہیں اپنایا۔ مودی حکومت نے اس عرصہ میں کشمیریوں پر ہر طرح کے ظلم کیے جس پر پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ انھوں نے کشمیریوں کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی اور پوری پاکستانی قوم ان کی جدوجہد آزادی کی پشتیبان ہے اور آزادی کا سورج مقبوضہ وادی پر جلد طلوع ہو گا۔

جنرل باجوہ کا سعودی عرب اوریواے ای سے رابطہ،آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری یقینیجنرل باجوہ کا سعودی عرب اوریواے ای سے راب...
06/08/2022

جنرل باجوہ کا سعودی عرب اوریواے ای سے رابطہ،آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری یقینی

جنرل باجوہ کا سعودی عرب اوریواے ای سے رابطہ،آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری یقینی۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے رابطہ کیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق آرمی چیف نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو قرض کے حصول کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے رابطہ کیا ہے اور انہیں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری قرض پروگرام سے متعلق آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی پاکستان کے لیے کی جانے والے کاوش کے نتیجے میں پاکستان کے لیے اچھی خبر جلد متوقع ہے۔ واضح رہے چند روز قبل بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے جلد قرض کی وصولی کے لیے آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی ۔علاوہ ازیں چین کی جانب سے پاکستان کا 4 ارب 23 کروڑ ڈالرز کا قرضہ رول اوور کرنے کے بعد سعودی عرب نے بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) میں دستیاب فنڈز کوٹہ پاکستان کو فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پاکستان کیلیے آئی ایم ایف بورڈ سے اگلے اقساط کی منظوری اور آئی ایم ایف پروگرام کی ٹریک پر واپسی یقینی ہوگئی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ رواں ماہ آئی ایم ایف بورڈ پاکستان کے اقتصادی جائزہ کی منظوری کے ساتھ ہی ایک ارب ستر کروڑ ڈالر کے قریب مالیت کی اگلی اقساط کے اجراء کی بھی منظوری دیدے گا۔اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے آئی ایم ایف میں دستیاب ایس ڈی آر فنڈز کوٹے کے حوالے سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس سے سعودی عرب کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) میں دستیاب فنڈز کوٹہ پاکستان کو ملنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، دوست ملک کی جانب سے کوٹہ پاکستان کو دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، آئی ایم ایف میں کوٹہ پاکستان کو ملنے سے فنانسنگ گیپ پورا ہو جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی اضافی سہولت ملنے کا بھی امکان ہے اور تیل کی سہولت 1.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.4 ارب ڈالر ہونے کا بھی امکان ہے اس کے علاوہ چین کی جانب سے بھی 4.3 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کر دیا گیا ہے، اس میں 2.3 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ، 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس شامل ہیں۔قبل ازیںآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئی قائم کردہ آرمی سائبر کمانڈ کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگ کی نوعیت بدل رہی ہے، فائر پاور اور سائبر ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگ میں نمایاں اہمیت اختیار کرچکی ہیں، ہمیں ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عاملہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئی قائم کردہ آرمی سائبر کمانڈ کا دورہ کیا، آرمی چیف نے سائبر ڈویژن اور آرمی سینٹر آف ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا بھی دورہ کیا، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ نئی سائبر کمانڈ کو مرحلہ وار تینوں افواج کے ساتھ منسلک کردیا جائیگا، یہ کمانڈ قومی سطح پرنیشنل سائبر اقدامات میں ہم آہنگی کا بھی حصہ بنے گی، قبل ازیں آرمی چیف کی آمد پر کمانڈر آرمی سائبر کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے ان کا استقبال کیا، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس سمیت دیگر اعلی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ♥

معیشت تباہی کے دہانے پر عدالت کو مفاد عامہ بھی دیکھنا ہے، چیف جسٹسچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے نیب ترامیم ...
06/08/2022

معیشت تباہی کے دہانے پر عدالت کو مفاد عامہ بھی دیکھنا ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے نیب ترامیم سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ اچھی طرز حکمرانی اور احتساب بنیادی حقوق میں شامل ہیں، ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت عظمیٰ نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب قانون میں کی گئی ترامیم اچھی بھی ہیں، انتخابات بھی احتساب کی ایک شکل ہے،الیکشن میں ووٹرز اپنے نمائندوں کا احتساب کرتے ہیں،کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلیے ضروری ہے،چھوٹی چھوٹی ہائوسنگ سوسائٹیز میں لوگ ایک دو پلاٹوں کے کیس میں گرفتار ہوئے،پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا۔ عدالت عظمیٰ نے نیب ترامیم پر نیب سے تحریری جواب طلب کر لیا۔وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے کہا کہ موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے، عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی آئینی ڈھانچے سے متصادم ہونے پر کالعدم کرسکتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آزاد عدلیہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں شامل ہے، نیب ترامیم سے عدلیہ کا کونسا اختیار کم کیا گیا؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا موقف ہے نیب ترامیم سے احتساب کے اختیارات کو کم کردیا گیا، کیا احتساب پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہے۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ گڈ گورننس کیلیے احتساب ضروری ہے، احتساب کے بغیر گڈگورننس کا تصور نہیں ہو سکتا، نیب ترامیم سے زیر التوا مقدمات غیر موثر ہوگئے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کچھ ترامیم کو ایک سطح تک لانے کا کہہ رہے ہیں ، کل حکومت نیب کو ہی ختم کردے تو کیا آپ نیب بنوانے کیلیے آئیں گے؟خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز ختم ہوچکے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز سرکاری افسران گرفتار ہوجاتے تھے، گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کیلیے کوئی فیصلہ کرے گا،نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا اور فیصلہ سازی پر بھی گرفتاری نہیں ہو سکتی۔خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ترامیم کے بعد تمام مقدمات عدالتوں سے خارج ہو جائیں گے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کیا ہے اس کا احترام بھی ضروری ہے، ترامیم کسی آئینی شق سے متصادم نظر نہیں آ رہیں، آپکے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کیخلاف ہیں، آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہونے سے متفق نہیں ہوں۔خواجہ حارث نے جواب دیا کہ بنیادی ڈھانچے کا تصور موجود ہے آپ چاہیں تو ماضی کا عدالتی فیصلہ واپس لے لیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ان نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق کے معاہدے کے تحت ملنے والے شواہد ناقابل قبول ہیں، اگر اس کیس میں بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا، آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنی کرا لے گی، اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے، آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے ہیں، یہ نہیں دیکھ رہے کہ کس نے نیب ترامیم کیں، صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی دیکھیں گے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قانون بننے وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟ قانون کا ڈھانچہ عدالت کے بجائے اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے، یہ بھی بتائیں کہ نیب نے ملکی معیشت میں کیا حصہ ڈالا؟۔وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ عدالت عظمیٰ کو پارلیمنٹ کے تیسرے چیمبر میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، نیب کے کئی کیسز لڑے ہیں، معزز ججز کو معلوم ہے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں کیا ہوتا ہے، صدر مملکت نے نیب ترامیم کی منظوری دینے کے بجائے اپنی طرف سے ترامیم کی تجویز کا خط وزیراعظم کو لکھا، یہ خفیہ خط بھی عمران خان کی درخواست کا حصہ ہے، عمران خان سے پوچھاجائے کہ پہلے ان نیب ترامیم کے حق میں کیوں تھے اور اب مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ اگر عمران خان کی یہ سیاسی حکمت عملی ہے تو اس کے لیے عدالت کے بجائے کسی اور فورم کا استعمال کریں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سال 2022 میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا، ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہوں گی اور جرمانے بھی واپس ہوں گے، اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑے گی، کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے؟ کیا قانون بنا کر مخصوص افراد کو ایمینسٹی دی جا سکتی ہے، یہ نہیں دیکھ رہے کہ کس نے نیب ترامیم کیں، صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی دیکھیں گے، عدالت نے سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔

وزیر اعظم نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردیوزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش...
06/08/2022

وزیر اعظم نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی۔وزیراعظم نے وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر 5ارب روپے این ڈی ایم اے کو جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اسلام آباد میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی ایک قومی فریضہ ہے۔ ہمیں اپنے جماعتی مفادات سے بالا تر ہو کر عوام کی مدد کرنی ہے‘ ہم سیاست بعد میں کریں گے۔ ابھی ان لوگوں کی مشکلات کا مداوا کرنے کا وقت ہے جو سخت مشکل میں ہیں۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) کے درمیان ریسکیو اور ریلیف کے کام کو موثر انداز سے سرانجام دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔یہ کمیٹی وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود، وفاقی وزیر ہاسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع، وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی، امور کشمیر وگلگت بلتستان کے لیے وزیراعظم کے مشیر قمر الزمان کائرہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور سیکرٹری وزارتِ مواصلات پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی آج ہی اپنا اجلاس منعقد کرے اور وفاقی اور صوبائی اداروں میں کوارڈینیشن کو بہتر کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوٹ چٹھہ میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال وفاق اور صوبائی حکومت کا مشترکہ چیلنج ہے، ان شا اللہ ہم مل کر اس سے نمٹیں گے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک آخری گھر آباد نہیں ہوجاتا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی سیلاب کے سبب اپنے پیاروں کو کھو دینے والوں کو فی کس 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ دے رہی ہے۔زخمیوں کے لیے بھی وفاقی حکومت ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کچے اور پکے مکانوں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے گی، جس کا مکمل مکان گرگیا ہے اس کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا اور جس کا مکان جزوی طور پر متاثرہوا اس کو بھی ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ 🐅🇵🇰✌🏻️ 🐅🐅🐅🐅🐆🐅🐆🐅🐆✌🏻✌🏻✌🏻✌🏻 😁😁😁😉😉😉

ہیلی کاپٹر حادثہ، سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم نا قابل قبول ہے ، آئی ایس پی آرلسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈ...
06/08/2022

ہیلی کاپٹر حادثہ، سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم نا قابل قبول ہے ، آئی ایس پی آر

لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی منفی مہم پر شہدا کے لواحقین اور افواج پاکستان کی جانب سے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ترجمان نے کہا ہے کہ منفی مہم پر شہدا کی فیملیز اور افواج پاکستان کے رینک اینڈ فائل میں شدید غم وغصہ اور اضطراب ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لسبیلہ ہیلی کریش کے بعد سوشل میڈیا مہم چلائی گئی جس کے باعث شہداء اور ان کے لواحقین کی دل آزاری ہوئی، اس مشکل اور تکلیف دہ وقت میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی لیکن کچھ بے حس حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تکلیف دہ او ر توہین آمیز مہم جوئی کی گئی، یہ بے حس رویے ناقابل قبول اور شدید قابل مذمت ہیں۔علاوہ ازیں آئی ایس پی آر نے پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کشمیریوں کی خودارادیت کی جدوجہد سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ،بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہادر اور جرات مند کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہیں اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 1095دن کا بدترین محاصرہ اور مظالم کا خاتمہ ہونا چاہیے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔مزید برآںنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں امریکی ڈرون حملے کے دوران القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے واقعے پر وزارت خارجہ کی وضاحت کے بعدکسی بیان کا تک نہیں بنتا، ایمن الظواہری پر حملے کے حوالے سے سوال ہی پیدانہیں ہوتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی ہو۔

Adres

Building C9c 24th Commercial Street Dha Phase 2 Karachi
Karachi
78850

Meldingen

Wees de eerste die het weet en laat ons u een e-mail sturen wanneer Pakistan Updates nieuws en promoties plaatst. Uw e-mailadres wordt niet voor andere doeleinden gebruikt en u kunt zich op elk gewenst moment afmelden.

Contact

Stuur een bericht naar Pakistan Updates:

Delen