25/12/2025
بلوچ استحصال کی داخلی بنیاد
تحریر//سردار سعید احمد
قلات کے سابقہ حکمران اور بلوچ
عوام یاد ماضی عذاب ہے یا رب
بلوچ تاریخ کا مطالعہ اگر صرف بیرونی طاقتوں کے تناظر میں کیا جائے تو یہ تصویر ادھوری اور گمراہ کن رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ عوام کی زبوں حالی اور محکومی کی جڑیں نہ صرف اغیار میں ہیں بلکہ داخلی حکمرانی کے استحصالی ڈھانچوں میں بھی گہری پیوست ہیں۔
ان میں خانِ قلات کے سابقہ حکمرانوں کا کردار سب سے زیادہ نمایاں رہا ہے۔خانِ قلات کو صدیوں تک بلوچ قوم کا محافظ اور متحد کرنے والا پیش کیا جاتا رہا ہے،
مگر تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ یہ انکشاف کرتا ہے کہ یہ کردار محافظ سے زیادہ ایک مطلق العنان حاکم کا تھا۔ بلوچ عوام کی محنت، اناج، جانور اور بعض اوقات عزت نفس بھی اس اقتدار کی قیمت ادا کرتے رہے۔قبائلی تقسیم
اقتدار کی بقا کی حکمت عملیخانِ قلات نے بلوچ قبائل کو مکمل طور پر متحد کرنے کے بجائے، انہیں تقسیم رکھنے کی پالیسی اپنائی۔
ایک قبیلے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا، پرانے تنازعات کو زندہ رکھنا اور خونریز جھڑپوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی بالادستی قائم رکھنا—
یہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ تھا۔نتیجه یہ نکلا کہ بلوچ کی تلوار اکثر بلوچ ہی کے خلاف اٹھی، جبکہ خانِ قلات تخت پر مضبوطی سے بیٹھا رہا۔
یہ پالیسی اتحاد کو خطرہ، شعور کو بغاوت اور انصاف کو کمزوری سمجھنے پر مبنی تھی۔عوامی اناج اور وسائل کی لوٹ ماربلوچستان کی معیشت بنیادی طور پر زراعت اور مویشی پرسی پر قائم تھی۔ قحط، خشک سالی اور محدود وسائل کے باوجود، خانِ قلات کے دربار نے عوام سے اناج، خراج اور دیگر محصولات اس شدت سے وصول کیے کہ یہ رعایتی ٹیکس سے زیادہ جبری تاوان نظر آتے تھے۔
غریب بلوچ کا چولہا اکثر بجھا رہتا تھا، مگر درباری گودام ہمیشہ بھرے رہتے تھے۔ یہ استحصال صرف معاشی نہیں بلکہ انسانی وقار کی بھی پامالی تھا۔
اخلاقی زوال اور سماجی تضاداتتاریخی روایات اور عوامی حافظے میں یہ بات بھی محفوظ ہے کہ بعض خانوں، جیسے محمود خان کے دور میں، سینکڑوں عورتوں کو لونڈی بنا کر رکھا گیا—
ایسی روایت جو بلوچ سماج میں ہمیشہ عیب اور ذلت کا باعث سمجھی جاتی رہی ہے۔یہ تضاد انتہائی گہرا تھا
ایک طرف غیرت، حیا اور عزت کے بلند بانگ دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کے نشے میں عورت کو محض مالِ غنیمت سمجھنا۔
یہ عمل صرف انفرادی جرم نہیں بلکہ پورے نظام کا عکاس تھا،
جو اخلاقی اصولوں سے خالی اور طاقت پر مبنی ہو چکا تھا۔اغیار سے سودے بازیجب بیرونی دباؤ کا وقت آیا تو انہی حکمرانوں نے عوام کی رائے اور مرضی کو نظر انداز کرتے ہوئے بلوچ زمین، شناخت اور مستقبل کے فیصلے کیے۔ یہ سودے بازی اکثر بلوچ مفادات کے خلاف ثابت ہوئی۔یوں آج بلوچ جو زنجیریں پہنے بیٹھا ہے،
اس کی پہلی کڑی داخلی استحصال اور تقسیم سے جڑی ہوئی ہے۔نتیجہ: غلامی کی جڑیں کہاں ہیں؟اگر بلوچ آج محکومی کی زندگی گزار رہا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہ داخلی حکمران رہے جنہوں نے عوام کو محض رعایا سمجھا، اتحاد کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ جانا اور قومی مفاد کو ذاتی بالادستی پر قربان کیا۔
یہ تلخ حقیقت تسلیم کیے بغیر بلوچ تاریخ سے درست سبق نہیں سیکھا جا سکتا۔
بلوچ نوجوانوں تمہارا دشمن صرف باہر نہیں، بلکہ وہ پرانی سوچ بھی ہے جو تمہیں قبیلے، علاقے اور خاندان کی بنیاد پر بانٹتی رہتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ تم ماضی کے جھوٹے بت توڑو، داخلی استحصال کو پہچانو اور باہمی اتحاد کو اپنی اصل طاقت بناؤ۔کیونکہ جو قوم اپنے اندر کے ظلم کو ختم نہیں کرتی، وہ ہر دور میں بیرونی غلامی کا شکار رہتی ہے۔
جاری۔۔۔۔