SoulSphere

SoulSphere SoulSphere
A global space where spirituality meets lifestyle. Here, healing awakens the soul, motivation empowers the mind, and balance transforms life.

Heal | Inspire | Transform This community has been developed to relay the message of peace, through Islamic teachings, working together to raise the love of our beloved PROPHET MUHAMMAD ﷺ

Travelling around the world for spirituality and possesses extremely beneficial tools for preventing hardships and difficulties. All claims made on this page are testable and should not be taken on faith, انشاءا

للہ
We are thankful to اللہ ﷻ for providing us this opportunity to guide people to the righteous path

پاکیزہ رُوحیں سارے جہاں کے درد اپنے اندر سمیٹ کر بھی ہمیشہ خیر و محبت ہی بانٹتی ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ اُن کی تخلیق کی بنیاد ہی...
18/04/2026

پاکیزہ رُوحیں سارے جہاں کے درد اپنے اندر سمیٹ کر بھی ہمیشہ خیر و محبت ہی بانٹتی ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ اُن کی تخلیق کی بنیاد ہی محبت اور رحمت پر رکھی گئی ہوتی ہے۔۔۔۔

وہ  لوگ جو دَرد کے جام سے سَرشار ہیں، اُن کے جَمال پر نورِ الٰہی کی برسات ہے کیونکہ دَکھ کی راتوں میں جو جاگتے ہیں وہی ع...
15/04/2026

وہ لوگ جو دَرد کے جام سے سَرشار ہیں، اُن کے جَمال

پر نورِ الٰہی کی برسات ہے کیونکہ دَکھ کی راتوں میں جو

جاگتے ہیں وہی عِشق کے سُورج کے مُقَرّب ہیں، اَہلِ

دل کے چہرے چاند کی مانند کیوں نہ چمکیں جب کہ وہ

فقر کے تاج پہنے ہوئے ہیں اور مَحَبّت کی سلطنت کے

سَچّے وَارِث ہیں۔۔۔

دعاگو :فقیر سلمان قادری

*امام ابن الجوزي رحمه الله*"بندے کی بدقسمتی ہے کہجس قدر اُس کے گناہ بڑھتے جاتے ہیں اُسی قدر اُس کا اِستغفار کم ہوتا جاتا...
14/04/2026

*امام ابن الجوزي رحمه الله*
"بندے کی بدقسمتی ہے کہ
جس قدر اُس کے گناہ بڑھتے جاتے ہیں
اُسی قدر اُس کا اِستغفار کم ہوتا جاتا ہے
اور جِس قدر وہ قبر کے قریب ہوتا جاتا ہے
اُسی قدر اس کی بے حِسی اور سستی شدید ہوتی جاتی ہے!"
(التبصرة : 45/1)

یَا سَرِیعَ الرِّضا اِغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إِلاَ الدُّعَاءَ، اے بہت جلد راضی ہو جانے والے! اس بندے کو بخش دے، جس ک...
13/04/2026

یَا سَرِیعَ الرِّضا اِغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إِلاَ الدُّعَاءَ، اے بہت جلد راضی ہو جانے والے! اس بندے کو بخش دے، جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نہیں، آمین بجاہ سیدالمرسلین و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم

11/04/2026

صرف نام کا مسلمان ہونا کافی نہیں بلکہ

اپنے گریبان میں جھانکنا اپنے نفس کا

محاسبہ کرنا اور اپنے آپ کو اسلامی اخلاق

میں ڈھالنا ہم سب پر لازم ہے۔
SoulSphere

10/04/2026

کیا تجھے معلوم ہے حقیقی مرید کون ہوتا ہے
‎مریدی صرف نام یا رسم کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے نفس کو چھوڑ دینے کا نام ہے
‎اگر انسان مرشد کی بات کو سنتا ہے مگر اس میں اپنی مرضی ، اپنی سوچ اور اپنی خواہش کو شاملِ کر دیتا ہے تو یہی اصل رکاوٹ بن جاتی ہے
‎حقیقی مرید وہ ہوتا ہے جو مرشد کی بات کو دل سے قبول کرے بغیر کسی شرط اور بغیر کسی تبدیلی کے
‎وہ اپنی انا کو پیچھے چھوڑ کر ادب یقین اور اطاعت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے کیونکہ جس دن مرید اپنی خواہش چھوڑ دیتا ہے اسی دن وہ حقیقت کے قریب ہو جاتا ہے

31/03/2026

صَلَّی اللہُ علٰی حَبِیْبِهٖ سَیِدِنَا مُحَمَّدٍوَّاٰلِهٖ وَسَلَّم

حضرت شَیخ سنوسی نے شرح "صغری" میں، حضرت شَیخ زروق نے اور شَیخ ابوالعباس احمد بن موسی المشرع الیمنی نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:
”درود پاک کے اثرات میں سے ہے کہ یہ دل کو منور کرتا ہے اور ہمت کو بلند_ ان باتوں پر تجربہ شاہد ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ جسے مرشِد نہ مِلے وہ دُرود پاک بکثرت پڑھے یہ شَیخِ طریقت کا کام دے گا اور اس کے قائم مقام ہو گا_“
دُرود پاک سے ایسی نورانیت میسر آتی ہے جو اوصاف ذمیمہ کو جَلا دیتی ہے، طبیعت کی حرارت دور کرتی ہے اور نفوس کو قوت حاصِل ہوتی ہے کیوں کہ یہ پانی کی طرح ہے، لہذا اس اعتبار سے یہ تربیت والے شَیخ کا کام دیتا ہے_ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات، ص ٧٠)

شیخ محقّق حضرت عبدالحق محدّثْ دہلوی رَحمَۃُ اللہِ عَلَيْہ فرماتے ہیں: اہل سلوک کے لیے دُرود شریف فتوحِ عظیمہ اور عطایائے شریفہ کا ذریعہ ہے۔

[الدرالثمین فی فضل الصلوٰۃ والسلام علی النبی الامین، ص ٢٩٠]

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم *مسبعات عشر برائے حفاظت و خیروبرکت*10 اذکار جو 7، 7 بار پڑھے جاتے ہیں۔ حفاظت و خیر وبرکت کےلئے م...
31/03/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

*مسبعات عشر برائے حفاظت و خیروبرکت*

10 اذکار جو 7، 7 بار پڑھے جاتے ہیں۔ حفاظت و خیر وبرکت کےلئے مجرب ہیں، بزرگان دین، خاص طور پر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کے معمولات میں سے ہیں۔ غنیة الطالبین اور احیاء العلوم میں مکمل واقعہ موجود ہے۔

حکایت۔ سعادت مندوں کا عمل؛

امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت ابراھیم تیمی رحمة اللہ علیہ کی کعبة اللہ میں ملاقات کا خوبصورت مکمل واقع لکھا ہے، اور حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ
میں تم سے محض رضاء الٰہی کےلئے محبت کرتا ہوں۔ اور میرے پاس ایک تحفہ ہے میں چاہتا ہوں کہ تمہیں دے دوں۔
آپ نے پوچھا تو فرمایا کہ سورج کے طلوع ہونے، اس کے زمین پر پھیلنے اور غروب ہونے سے پہلے
سات، سات بار (یہ دس اذکار پڑھیں)

1; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ (آمین)

2; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَهِ النَّاسِ (3) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (5) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (6)

3; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (2) وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3) وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5)

4; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4)

5; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ (4) وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6)

6; اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

7: سُبْحَان الله وَالَحمدُ لله وَلَا إلهَ إلَّا الله واللهُ أَكَبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بالله الْعلَيِّ الْعَظِيمِ۔

8: الَّلهُمَّ صَلِّ عَلَي سَيِّدنَا مُحمَّدٍ وَعَلي آلٍ سَيِّدنِا مُحمَّدٍ كما صَليْتَ عَلِي سَيَدِنَا إبْرَاهِيَم وَعَلَي آلٍ سَيِّدِنَا َإِبْرَاهيِم وَبَارِكْ عَليَ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَي آل سَيِّدِنَا مُحَمِّدٍ كما بَارَكْتَ عَلَي سَيِّدِنَا إِبْرَاهيِمَ و علي آل سَيِّدِنا إبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِين إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

9; الَّلهُمَّ اغْفِرْ لِى وَلوِالِدِيَّ وَلْلمُؤْمِنِين وَاْلُمْؤمِنَاتِ وَاْلُمسْلِمينَ وَالْمسْلمِاتِ الْأحْيَاءِ مِنْهُم وَالأْموَاتِ۔بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

10: الَّلهُمَّ افْعَلْ بِى وَبِهِم عَاجِلًا وَ آجِلًا فِي الدِّينِ والدُّنْيَا والآخِرةِ ما أَنْت لَهُ أَهْلٌ وَلَا تَفْعَلْ بِنَا يَا مَوْلَاَنا مَا نَحْنُ لَهُ أهلُ إنَّكَ غَفُوُرٌ حَلِيمٌ جَوَادٌ كَرِيمٌ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔

ایے اللہ ﷻ، اے پروردگار میرے اور ان سب کے ساتھ ابھی اور بعد میں دین، دنیا اور آخرت کے بارے میں وہ معاملہ فرمانا جو تیری شایان شان ہو۔ وہ معاملہ نہ فرمانا جس کے ہم مستحق ہیں۔ بےشک تو بخشنے والا، بردبار، جواد، کرم فرمانے والا، مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔

اس وظیفہ کو صبح (قبل طلوع شمس) و شام (قبل غروب شمس) پڑھنا نہ چھوڑنا۔

اور اس کی فضيلت حضوراکرم ﷺ سے پوچھ لینا۔
پھر حضوراکرم ﷺ نے حضرت ابراھیم تیمی رحمة اللہ علیہ سے بوقت ملاقات پوچھنے پر فرمایا؛

والذي بعثني بالحق نبـياً إنه ليعطى العامل بهذا وإن لم يرني ولم ير الجنة إنه ليغفر له جميع الكبائر التي عملها، ويرفع الله تعالى عنه غضبه ومقته، ويأمر صاحب الشمال أن لا يكتب عليه خطيئة من السيئات إلى سنة، والذي بعثني بالحق نبـياً ما يعمل بهذا إلا من خلقه الله سعيداً ولا يتركه إلا من خلقه الله شقياً۔

اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا؛ جو بھی یہ عمل کرے گا اس کو اسی کے مثل دیا جائے گا۔ اگرچہ اس نے مجھے اور جنت کو نہ دیکھا ہو،
اس کے تمام کبیرہ گناہ بخش دئے جائیں گے جو اس نے کئے ہیں،
اور اللہ ﷻ اس سے اپنا غضب اور عذاب دور فرما دے گا،
اور بائیں جانب والے فرشتے کو حکم فرمائے گا کہ اس کا ایک سال تک کوئی گناہ نہ لکھے،
اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا؛ اس عمل کو وہی کرے گا جس کو اللہ ﷻ سعادت مندی سے سرفراز فرمایا، اور وہی ترک کرے گا (خیر سے) محروم (رہنا) جس کا مقدر ہوگی۔

حضرت سیدنا ابراھیم تیمی نے چار ماہ تک کچھ کھایا نہ پیا، شائد یہ اس کے بعد کا واقعہ ہے۔
یہ قرات کا وظیفہ ہے اگر اس پر کچھ اضافہ کرلے یا اسی قدر پر اکتفا کرے، دونوں طرح بہتر ہے۔ کیوںکہ قرآن کریم تمام ذکر و فکر اور تمام دعاؤں کی فضيلت کا جامع ہے۔ جبکہ غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے۔
(احیاء العلوم، كتاب ترتيب الأوراد وتفصيل إحياء الليل۔الورد الأول ما بـين طلوع الصبح إلى طلوع الشمس)

مسبعات عشر حفاظت و خیر و برکت کےلئے بہت قیمتی تحفہ ہیں۔ اس کے ثمرات دنوں میں بندہ خود محسوس کرتا ہے۔ زندگی میں کم از کم ایک دن ضرور کرلیں اور بہتر ہے روزانہ ورنہ جب وقت ہو ۔۔۔

یہ بھی ذہن نشین کر لیں کہ اللہ ﷻ کو فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے جو رب کریم کی رضاء کےلئے ہو اور حضوراکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اور ہمیشہ ہو،
جبکہ فرائض کی پابندی، شرعی حدود پر عمل کرنا لازم ہے، شرعی حدود کا خیال رکھنے والا اللہ ﷻ کی پناہ میں ہوتا ہے اس کے معاملات درست کر دئے جاتے ہیں۔ حضوراکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) کو نصیحت فرمائی؛

حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں ایک دن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا،
آپ ﷺ نے فرمایا : اے لڑکے ! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں (ہمیشہ یاد رکھنا):

احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْکَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَکَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ يَنْفَعُوکَ بِشَيْئٍ لَمْ يَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَهُ اللَّهُ لَکَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَی أَنْ يَضُرُّوکَ بِشَيْئٍ لَمْ يَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْکَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُف۔

١)… تم اللہ ﷻ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا،
٢)… تو اللہ ﷻ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے،
٣)… جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ ﷻ سے مانگو،
٤)… جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ ﷻ سے مدد طلب کرو،
٥)… اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ ﷻ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے،
٦)… اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ ﷻ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے،
قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں. (حَسَنٌ صَحِيحٌ)
(سنن الترمذی 2516, کتاب: قیامت کا بیان)

اور اللہ ﷻ نے قرب نوافل میں رکھا ہے،
اس لئے ہم فرض نماز کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرتے ہیں، زکوة کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات ، والدین ، اہل وعیال کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کرتے ہیں اور اس سے بات بھی بن جاتی ہے۔
اور حقیقت تو یہ ہے کہ اعمال صالح کی توفیق ملنا بھی رب کریم کا فضل و کرم ہے اور یہ رضاء کی علامت ہے۔
حضوراکرم ﷺ کا فرمان ہے؛

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتْ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ﷻ کو اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے کہ جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو اور حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) جب بھی کوئی عمل کرتی تھیں تو پھر اسے اپنے لئے لازم کرلیتی تھیں۔
(صحیح مسلم 1824, کتاب: مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان)

حضوراکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کے ثمرات کو سمجھنا اور بیان کرنا ممکن ہی نہیں بجز عطاء کے۔ رب کریم جس کو چاہتا ہے اپنی حکمت سے بصیرت عطاء فرما دیتا ہے۔ حضرت ابو محمد مرجانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ؛
اے مخاطب ؛ نبی رحمت صلى الله عليه وآلہ و سلم پر درود و سلام بھیجنے کا نفع حقیقت میں تیری ہی طرف لوٹتا ہے، گویا تو اپنے لئے دعاء کر رہا ہے۔
(تفسیر صراط الجنان)

درود و سلام افضل نفلی عبادت ہے اور درود و سلام بھیجنے کی اہمیت پر تفسیر القرطبی میں ہے؛

حضرت سہل بن عبد اللہ رحمة اللہ علیہ نے کہا : حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا (نفلی) عبادت میں سے افضل (نفلی) عبادت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نے اس امر کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، پھر اس کے بارے میں مومنوں کو حکم دیا۔ تمام عبادات اس طرح نہیں۔

ابو سلیمان دارانی رحمة اللہ علیہ نے کہا : جو اللہ تعالیٰ سے کسی حاجت کے سوال کرنے کا ارادہ کرے تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں درود پڑھنے سے آغاز کرے پھر اپنی حاجت کا سوال کرے پھر اس کا اختتام بھی درود پر کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دونوں درود قبول فرماتا ہے۔ وہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ درمیان والے (یعنی دعائیں) کو رد کردے۔
(تفسیر القرطبی، مفسر: ابو عبداللہ القرطبی رحمة اللہ علیہ۔سورۃ نمبر 33 الأحزاب)

ایک مسلمان کی سوچ، اس کی آرزؤ رب کریم کی رضاء کا حصول ہونی چاہئے،
اس کو جاننا چاہئے کہ کونسا عمل اور کونسے کلمات رب کریم کی بارگاہ میں پسندیدہ ہیں اور رب کریم کے پسندیدہ بندوں کی علامات کیا ہیں ؟؟؟
تاکہ بندہ وہ کلمات، وہ افعال زندگی کے معمولات کا حصہ بنائے اور اللہ ﷻ کے پسندیدہ بندوں کا قرب حاصل کیا جائے تاکہ ان سے مستفید ہو سکے۔

اللہ ﷻ کے حبیب احمد مصطفی ﷺ پر درود وسلام بھیجنا بھی رب کریم کی بارگاہ میں پسندیدہ عمل ہے ۔
رب کریم خود اپنے حبیب احمد مصطفی ﷺ پر اپنے شان کے مطابق درود (رحمت ) بھیج رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی ،
اور اس رب کریم نے اپنے بندوں پر بھی رحم و کرم فرمایا اور درود و سلام کی نعمت عطاء کی ، تاکہ اللہ ﷻ کے پیارے حبیب احمد مصطفی ﷺ کی امت پر اللہ ﷻ کی رحمت و برکت کا نزول بھی ہو اور درود و سلام بھیجنے والے کو رب کریم اپنی شان کریمی سے سلامتی بھی عطاء فرما دے۔
واللہ اعلم

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه*۔۔۔اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِين

*اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ۔ اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن*

*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِد*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد*

29/03/2026

" آں سیلِ سُبک سیرم ، ہر بند گسستم من "

بات جب لکھی جاتی ہے تو ممکن ہے کہ اُس وقت میں ایسی صورت موجود نہ ہو کہ جس پر اس لکھی گئی بات کا اطلاق ہو
وقت گزر جاتا ہے تو بات کا وقت کا آ جاتا ہے ۔ ایسے ہی اِس بات کا بھی وقت آیا ہے اور شیخ کی صورت نے اس بات کا روپ دھار لیا ہے !! ( میں وہ روانی سے بہتا دریا ہوں جس نے تمام بند توڑ ڈالے ہیں ) تصوّف و روحانیت کی تاریخ ، مشائخ کے تذکرے ، اور حجتوں میں سے حجتیں جو تاریخ کے ابواب میں یا تو چھپ گئیں اور یا پھر واضح ہو گئیں ۔، کسی کا نام ۔۔۔ نام بنانے والے نے مخلوق پر کھول دیا اور کسی کو پوشیدہ رکھا ، حتی کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ جس کا پوشیدہ رکھا وہ اُس سے بڑھ کر تھا کہ جسے مخلوق نے بڑا مانا ۔ خانقاہوں ، مشائخ کے ٹھکانوں ، مشائخ کی سخاوت ، مشائخ کی قربانیوں سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ناقد تو مانتے ہی نہیں اور کُل تاریخ کو جھوٹ سمجھتے ہیں ۔۔ جبکہ متعرف بھی یہ سمجھنے لگ گئے کہ لہروں سے کھیلنے والے ہاتھ شاید اب باقی نہیں رہے ۔ اگر باقی رہے بھی ہیں تو لہروں میں زور نہیں رہا ۔۔۔۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا ، سمندر اپنی عادت کے ساتھ ہے بلکہ اس عہد میں تو لہریں مزید بے رحم ہوئی جاتی ہیں ۔ اس عہد میں تیرنا بڑا کام ہے ۔
اِس ( شیخ ) تیراک کے ساتھ تو کچھ عجیب ہی ہوا ہے کہ ، پہلے جگہ تلاش کرو ، پھر جگہ میں پانی بھرو ، پھر کشتی بناؤ ، اب اس میں لوگ سوار کرو ۔ بیچ منجھدار میں جاؤ ۔۔۔ خود بھی تیرو اور دوسروں کو بھی تیراؤ !! کنارے تک لے کر جاؤ ، بغیر کسی دُوسرے ملاح کی مدد سے !!
زمانہ قدیم کے صوفیاء کے تذکرے پڑھ کر دیکھا تو نظر آتا تھا کہ اُن کے پاس جو جمع ہوتا تھا وہ تقسیم فرما دیتے تھے ۔
مسلسل غور و فکر سے شعور میں اس راز نے آواز دی کہ تب ایسے حالات نہیں تھے ۔ ادوار میں کتنا فرق ہے ؟ صحت ، رہائش ، رہن سہن ، ضروریاتِ زندگی ، مواصلات کا نظام ، تعلیمی نصاب ، ٹکنالوجی ، موسموں کی شدت ۔۔۔ سب کچھ الگ تھلگ تھا
اس لئے اُن کے پاس جو آتا تھا تقسیم فرما دیتے تھے
اب ۔۔۔۔۔ خانقاہ ۔۔۔۔ رہائشی کمرے ۔۔۔ مسجد ۔۔۔ عمارت میں تکلفات ۔۔۔۔ سواری ، خوراک ، تعلیمی نصاب ۔۔۔۔ حالات
سب کُچھ کتنا تبدیل ہے ؟؟ شیخ محترم کی زندگی پر پوری تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہے کہ آپ اپنی ذاتی ملکیت دُوسرے لوگوں پر لگا رہے ہیں ۔ آپ کے پاس جو آتا ہے آپ اسے لوگوں کی سہولت کے لئے لگا دیتے ہیں ۔۔۔ اور پھر بھی کچھ بچ جائے تو وہ تقسیم فرما دیتے ہیں ( الحمدللہ کہ یہ میرے پیر نے کر دکھایا ہے)
یہ میرے پیر کا ظرف ہے ۔۔۔۔ !!
آپ نے تو کبھی دعا بھی ایسی نہیں مانگی کہ جس میں نعمت تو مانگی ہو لیکن ساتھ نعمت کا استعمال نہ مانگا ہو ۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی خانقاہ کے لئے خدا تعالیٰ سے یوں دعا کی کہ اسے تا حشر اپنے نام کے ساتھ رکھ ۔۔۔ اس کے لئے جو سورس بنے وہ بھی ایسا ہو کہ ایک دو نسلوں کے بعد اُس میں کوئی خلل نہ آ جائے ۔۔۔۔ !! ہمارے نزدیک توکل یہی ہے کہ نعمت ملے ۔۔۔ اور اس دعا کے ساتھ ملے کہ وہ خیر کے لئے استعمال ہو ۔۔ ورنہ نعمت نہ ملے ۔۔۔۔ یعنی گاڑی ملے لیکن ساتھ یہ ملے کہ اس کا استعمال ہمیشہ درست ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ نہ ملے ۔۔۔۔۔ !!
فرمایا کہ لوگ خدا تعالیٰ سے اولادِ نرینہ دعا مانگتے ہیں
ہم نے بھی مانگی کہ " پورا سخی عطاء کر ، اگر آدھا سخی اور آدھا بخیل ہونا ہے تو دعا قبول ہی نہ ہو "
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم 💖

آپ کی احوالِ زندگی دیکھ کر کسی شاعر کی بات صداقت کا روپ دھار لیتی ہے اور کہنا پڑتا ہے

" نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا

سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا "

پڑھنے والوں کو بات پہنچا دی ہے کہ اب بھی وہی ہے ۔ جو تب تھا ۔۔۔۔ بس شدتِ قرب حجابِ اکبر کی صورت اختیار کر گیا ہے
حجاب ہٹا کر دیکھا جائے تو مطلع واضح ہو جائے گا ۔، تاروں کے ساتھ ساتھ پورا چاند اپنے اصل روپ میں دکھائی دے گا

ہاں ۔۔۔۔ اگر دیکھنے والے کی آنکھ ہوئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ بصارت سے محروم لوگوں کے لئے کُل جہان کی روشنیاں بس کہنے کی باتیں ہیں !!
آں سیلِ سُبک سیرم ، ہر بند گسستم من 🥀🥀

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SoulSphere posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SoulSphere:

Share