Sunrise Pakhtunkhwa

Sunrise  Pakhtunkhwa پختونخوا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا نیٹ ورک جو حق اور سچ اپنے عوام کے سامنے لاتے ہے

9 جون یوم جنون ✊🏻🚩
05/06/2026

9 جون
یوم جنون ✊🏻🚩

دا کوم بوٹے دے تاسو ورتہ سہ نوم اخلئ
05/06/2026

دا کوم بوٹے دے تاسو ورتہ سہ نوم اخلئ

05/06/2026
فیصلہ عوام کا
04/06/2026

فیصلہ عوام کا

سوات سے منتخب فضل حکیم 2013 میں ایم پی اے بنے۔ اُس وقت موصوف قصاب تھے، مگر سیاست میں قدم رکھتے ہی قسمت نے ایسی قلابازی ک...
04/06/2026

سوات سے منتخب فضل حکیم 2013 میں ایم پی اے بنے۔ اُس وقت موصوف قصاب تھے، مگر سیاست میں قدم رکھتے ہی قسمت نے ایسی قلابازی کھائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے قصاب پتی سے ارب پتی بن گئے۔
سوات کے عوام کے ووٹوں کی برکت، شبانہ روز "محنت" اور قسمت کی مہربانی سے موصوف نے ایسی ترقی کی کہ والیِ سوات کا گھر اور قیمتی جائیدادیں بھی خرید ڈالیں۔ چند ہی برسوں میں سوات کے کئی پرانے مالدار اور کاروباری حضرات کو پیچھے چھوڑ کر دولت کی دوڑ میں سب سے آگے نکل گئے۔
معاشیات کے ماہرین آج تک یہ فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں کہ آخر ایسی کون سی "ترقیاتی سکیم" تھی جس نے چند سالوں میں یہ معجزہ کر دکھایا!
سوات کے عوام اب بھی سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے ووٹ دیا تھا یا کوئی لاٹری کا ٹکٹ۔ 😄

23 مارچ 1961 کی یہ تصویر محض ایک سرکاری اعزازی تقریب کی تصویر نہیں، بلکہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی، تہذیبی اور آئینی تاری...
26/05/2026

23 مارچ 1961 کی یہ تصویر محض ایک سرکاری اعزازی تقریب کی تصویر نہیں، بلکہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی، تہذیبی اور آئینی تاریخ کا ایک گہرا اور تلخ استعارہ ہے۔ اس تصویر میں صدر ایوب خان، شیرِ بنگال اے۔کے۔ فضل الحق کو “نشانِ پاکستان” عطا کر رہے ہیں۔ وہی فضل الحق جنہوں نے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں وہ تاریخی قرارداد پیش کی تھی جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کے عجیب ترین تضادات میں سے ایک ہے کہ جس شخص نے قیامِ پاکستان کی سب سے اہم قرارداد پیش کی، وہی چند برس بعد مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے اختلافات کے باعث جماعت سے الگ کر دیے گئے۔
فضل الحق صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ بنگال کے عوامی شعور کی آواز تھے۔ اسی لیے انہیں “شیرِ بنگال” کہا جاتا تھا۔ ان کی سیاست جاگیردارانہ اشرافیہ کی سیاست نہیں بلکہ عام آدمی، کسان اور بنگال کے محروم عوام کی سیاست تھی۔ قائداعظم سے اختلافات کے بعد انہیں مسلم لیگ سے نکالا گیا، مگر مشرقی بنگال میں ان کی عوامی مقبولیت برقرار رہی۔ 1954 کے مشرقی پاکستان کے انتخابات میں انہوں نے حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی کے ساتھ “متحدہ محاذ” قائم کیا اور مسلم لیگ کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ تقریباً صفحۂ سیاست سے مٹ گئی۔ متحدہ محاذ نے 309 میں سے 223 نشستیں حاصل کیں اور فضل الحق وزیرِ اعلیٰ بنے، مگر جلد ہی اسکندر مرزا اور مرکزی اسٹیبلشمنٹ نے ان کی حکومت برطرف کر دی۔ گویا جس عوامی مینڈیٹ نے مشرقی پاکستان کی آواز بننے کی کوشش کی، اسے طاقت کے ایوانوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
تصویر میں دوسری اہم شخصیت مولوی تمیز الدین خان ہیں، جو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان میں آئینی بالادستی کی حقیقی جنگ لڑی۔ جب 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تو مولوی تمیز الدین خان نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ سندھ چیف کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، مگر بعد میں فیڈرل کورٹ نے گورنر جنرل کے اقدام کو جائز قرار دے دیا۔ یہی وہ مقدمہ تھا جس نے پاکستان میں بعد کی آمریتوں اور “نظریۂ ضرورت” کی بنیاد رکھی۔ روایت ہے کہ مولوی تمیز الدین خان گرفتاری یا سرکاری رکاوٹوں سے بچنے کے لیے برقع پہن کر عدالت پہنچے تھے۔ یہ منظر دراصل اس دور کے خوف، دباؤ اور آئینی بے بسی کی علامت تھا۔ مگر تاریخ کا المیہ دیکھیے کہ یہی مولوی تمیز الدین خان بعد میں ایوب خان کے 1962 کے آئین کے تحت بننے والی قومی اسمبلی کے اسپیکر بن گئے۔ گویا وہ شخص جس نے آئین اور جمہوریت کے لیے لڑائی لڑی، آخرکار اسی فوجی نظام کا حصہ بننے پر مجبور ہو گیا جس نے جمہوری تسلسل کو توڑا تھا۔
تیسری اہم شخصیت ابوالہاشم ہیں، جو بنگال مسلم لیگ کے نہایت اہم فکری رہنما، منتظم اور نظریہ ساز تھے۔ انہوں نے بنگال میں مسلم لیگ کو عوامی سطح پر منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ بنگال کے تصور سے بھی وابستہ رہے اور تقسیم کے بعد بھی مشرقی پاکستان کی سیاست میں ایک فکری اور نظریاتی آواز کے طور پر زندہ رہے۔ بعد کے برسوں میں وہ اقتدار کے مرکزی دھارے سے دور ہوتے گئے، مگر ان کی فکری اہمیت برقرار رہی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بھی وہ زندہ رہے اور 1974 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی علامت رہی کہ پاکستان بنانے والی بنگالی قیادت کو رفتہ رفتہ اقتدار کے اصل مراکز سے الگ کر دیا گیا۔
اس تصویر کا ایک نہایت گہرا تہذیبی اور نفسیاتی پہلو ان شخصیات کے لباس سے بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ذرا غور کیجیے، تصویر میں موجود تینوں مشرقی پاکستانی رہنما — شیرِ بنگال اے۔کے۔ فضل الحق، مولوی تمیز الدین خان اور پس منظر میں موجود ابوالہاشم — سب کے لباس میں اپنی تہذیب، اپنی مٹی اور اپنی مقامی شناخت کی جھلک موجود ہے۔ کسی نے شیروانی پہن رکھی ہے، کسی نے کرتا اور ٹوپی، اور کسی کے لباس میں بنگال کی سادگی اور مشرقی روایت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ان کے انداز میں ایک عوامی سیاستدان کا وقار ہے، جیسے یہ لوگ ابھی تک اس دنیا سے تعلق رکھتے ہوں جہاں سیاست کا مطلب صرف اقتدار نہیں بلکہ تہذیبی نمائندگی بھی تھا۔
اور پھر سامنے صدر ایوب خان کو دیکھیے۔ مکمل مغربی سوٹ، ٹائی، وہی نوآبادیاتی اقتدار کا انداز، وہی برطانوی فوجی روایت کا تسلسل۔ گویا اقتدار کا مرکز ایک دوسری دنیا سے تعلق رکھتا ہو۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے قراردادِ پاکستان پیش کی، عوامی تحریکیں چلائیں، آئین کے لیے جدوجہد کی، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جو فوجی اسٹیبلشمنٹ اور نوآبادیاتی بیوروکریسی کے تسلسل کی علامت بن کر کھڑا ہے۔
اسی تضاد پر پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی طنز کیا تھا۔ پاکستان کے دورے کے دوران جب انہوں نے پاکستانی حکمران اشرافیہ کو مغربی سوٹ، انگریزی طرزِ زندگی اور نوآبادیاتی انداز میں دیکھا تو طنزیہ تبصرہ کیا کہ “انگریز تو چلے گئے مگر ان کے اصل جانشین یہ لوگ رہ گئے ہیں۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ نہرو خود مغربی تعلیم یافتہ تھے، مگر وہ اکثر اچکن یا شیروانی پہنتے تھے تاکہ نئی ہندوستانی ریاست کی ایک قومی اور مقامی شناخت قائم کی جا سکے۔ پاکستان میں اس کے برعکس اقتدار کی علامت جلد ہی مغربی سوٹ، فوجی وردی اور انگریزی کلچر بن گئی۔
یوں یہ تصویر صرف ایک اعزازی تقریب کی تصویر نہیں رہتی بلکہ دو مختلف پاکستانوں کی علامت بن جاتی ہے۔ ایک وہ پاکستان جو فضل الحق، سہروردی، مولوی تمیز الدین خان اور ابوالہاشم جیسے عوامی رہنماؤں کے ذہن میں تھا، جہاں مقامی ثقافت، زبان، عوامی سیاست اور وفاقی توازن کی جگہ تھی۔ اور دوسرا وہ پاکستان جو رفتہ رفتہ فوجی اشرافیہ، سول بیوروکریسی اور نوآبادیاتی طرز کے حکمران طبقے کے قبضے میں چلا گیا، جہاں اقتدار کی زبان بھی مختلف تھی، لباس بھی مختلف تھا اور ذہن بھی مختلف۔
یہ تصویر ایک اور تلخ سوال بھی اٹھاتی ہے۔ مشرقی پاکستان کے وہ رہنما جنہوں نے پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا، آخر انہی کو بعد میں کیوں دیوار سے لگایا گیا؟ فضل الحق کی منتخب حکومت برطرف ہوئی، تمیز الدین خان کی آئینی جدوجہد کچل دی گئی، ابوالہاشم جیسے نظریاتی رہنما حاشیے پر ڈال دیے گئے۔ پھر وقت نے انہیں اسی ریاستی ڈھانچے کے سامنے لا کھڑا کیا جہاں کبھی وہ عوامی طاقت کی علامت تھے اور اب فوجی اقتدار کے زیرِ سایہ کھڑے تھے۔ شاید یہی وہ فاصلے تھے جو بعد میں صرف سیاست میں نہیں بلکہ دلوں میں بھی پیدا ہوئے، اور جن کی آخری المناک منزل 1971 میں سامنے آئی۔

افضل خان لالا پاختونخوا  کے ایک بڑے پشتون قوم پرست سیاستدان، جمہوریت پسند رہنما، اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے و...
24/05/2026

افضل خان لالا پاختونخوا کے ایک بڑے پشتون قوم پرست سیاستدان، جمہوریت پسند رہنما، اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے والی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا اصل نام محمد افضل خان تھا لیکن عوام میں وہ “خان لالا” کے نام سے مشہور تھے۔ وہ لر بر افغانوں میں بہت مشہور شخصیت شمار ہوتے ہے ان کا تعلق ضلع سوات، خیبر پختونخوا سے تھ
ابتدائی زندگی
پیدائش: 1926
مقام: دروشخیلہ، تحصیل مٹہ، سوات
قبیلہ: یوسفزئی پشتون
وہ ایک روایتی پشتون خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور نوجوانی سے ہی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں شامل ہوگئے تھے۔ �
سیاسی سفر
افضل خان لالا نے اپنی سیاست کا آغاز نیشنل عوامی پارٹی (NAP) سے کیا۔ اس دور میں وہ ریاستِ سوات کے والی نظام کے مخالف تھے اور پشتون حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ �
1970 کے عام انتخابات میں وہ پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد میں وہ عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شامل ہوگئے اور خان عبدالولی خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ �
انہوں نے مختلف ادوار میں:
صوبائی وزیر
قومی اسمبلی کے رکن
وفاقی وزیر برائے کشمیر و شمالی علاقہ جات
کے طور پر خدمات انجام دیں۔ �
حیدرآباد ٹریبونل اور قید
1975 میں اُس وقت کی حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی، جس میں افضل خان لالا بھی گرفتار ہوئے۔ انہیں مشہور “حیدرآباد سازش کیس” میں قید رکھا گیا۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں رہا کیا گیا۔ �
پشتون قوم پرستی
افضل خان لالا پشتون قومی حقوق، صوبائی خودمختاری، اور پشتون اتحاد کے بڑے حامی تھے۔
وہ اکثر “لر او بر یو افغان” کا نعرہ دہراتے تھے، جس کا مطلب ہے کہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے پشتون ایک قوم ہیں۔ �
طالبان کے خلاف جرأت
ان کی سب سے بڑی پہچان سوات میں طالبان کے خلاف کھل کر مزاحمت تھی۔ جب کئی سیاسی رہنما علاقہ چھوڑ گئے تھے، تب بھی افضل خان لالا سوات میں موجود رہے۔ طالبان نے ان پر کئی حملے کیے مگر وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ �
انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ:
“میں مر جاؤں گا مگر دہشت گردوں کے سامنے جھکوں گا نہیں۔”
یہی وجہ ہے کہ وہ پشتون علاقوں میں بہادری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ �
اعزاز
دہشت گردی کے خلاف جرات مندانہ کردار کی وجہ سے حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلالِ شجاعت جیسے اعلیٰ اعزاز سے بھی نوازا۔ �
وفات
افضل خان لالا کا انتقال 1 نومبر 2015 کو طویل علالت کے بعد ہوا۔ ان کی وفات پر پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں افسوس کا اظہار کیا گیا۔ �
شخصیت اور اثر
افضل خان لالا کو لوگ:
صاف گو سیاستدان
اصول پسند رہنما
پشتون قوم پرست
جمہوریت پسند
اور بہادر انسان
کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا خصوصاً سوات میں آج بھی ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔

Today is the 480th death anniversary of Pashtoon King Sher Shah Suri in India.Farid Khan was a powerful Afghan ruler in ...
24/05/2026

Today is the 480th death anniversary of Pashtoon King Sher Shah Suri in India.

Farid Khan was a powerful Afghan ruler in India five centuries ago who ruled India on the great Indian land. He earned the title of "Sher Khan/later Sher Shah" after saving the life of the King of Bahar by killing a tiger.
He was killed 479 years ago on this day afternoon in an explosion at a gunpowder warehouse in Kalanger Castle.
His grandfather Ibrahim Khan Sur and his father Hassan Khan migrated from Roha (Pakhtunkhwa) to India and worked in the leadership of Afghans.
Sher Shah Suri was given the title of Sultan Adil by the people of India and he was the only Pashtoon who cried on his death by the people of great India and people of every religion.

Five centuries ago Sher Shah "Sori" used to tell the leaders of Pashtoons that he wants to protect the homeland.

"O Pashtoons, don't mention tribes in my court, because they divide you, so leave tribalism and build nationality".

But I think no one does it by mouth.

Dirección

Lo Prado
ML17RP

Página web

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando Sunrise Pakhtunkhwa publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Compartir