Ammad Bhai

Ammad Bhai Daily vlog & information any things

🫣 کہانی: "نامعلوم اکاؤنٹ"احمد ایک غریب لڑکا تھا جو دن رات محنت کرتا تھا، مگر پھر بھی اس کے گھر کے حالات بہتر نہیں ہو رہے...
12/06/2026

🫣 کہانی: "نامعلوم اکاؤنٹ"

احمد ایک غریب لڑکا تھا جو دن رات محنت کرتا تھا، مگر پھر بھی اس کے گھر کے حالات بہتر نہیں ہو رہے تھے۔

ایک صبح اس کے موبائل پر بینک کا میسج آیا۔

"آپ کے اکاؤنٹ میں 500,000 روپے منتقل کیے گئے ہیں۔"

احمد حیران رہ گیا۔

اس نے فوراً بینک جا کر پوچھا، مگر بھیجنے والے کا نام خفیہ تھا۔

چند دن بعد پھر 500,000 روپے آ گئے۔

اس بار ایک نوٹ بھی تھا:

"یہ پیسے صرف اچھے کاموں پر خرچ کرنا۔"

احمد نے ان پیسوں سے اپنے گھر پر خرچ کیے اور اپنی بہن کی تعلیم جاری رکھی اور ایک چھوٹا کاروبار شروع کر دیا۔

ہر مہینے پیسے آتے رہے۔

پانچ سال گزر گئے۔

احمد اب ایک کامیاب بزنس مین بن چکا تھا۔

مگر ایک سوال اسے ہمیشہ پریشان کرتا تھا...

"یہ پیسے بھیج کون رہا ہے؟"

ایک دن اسے ایک خط ملا۔

اس میں ایک پتا لکھا تھا اور نیچے صرف ایک جملہ:

"اب وقت آ گیا ہے کہ تم سچ جان لو۔"

احمد فوراً وہاں پہنچ گیا۔

وہ ایک پرانا گھر تھا۔

دروازہ کھلا اور ایک بوڑھا شخص باہر آیا۔

احمد نے پوچھا:

"کیا آپ ہی وہ شخص ہیں؟"

بوڑھا آدمی مسکرایا۔

"نہیں... اصل شخص تو 5 سال پہلے دنیا سے جا چکا ہے۔"

احمد حیران رہ گیا۔

بوڑھے آدمی نے ایک پرانی تصویر نکالی۔

تصویر دیکھتے ہی احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔

یہ اس کے مرحوم والد کی تصویر تھی۔

احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

بوڑھے آدمی نے کہا:

"سالوں پہلے تمہارے والد نے میری جان بچائی تھی۔ میں ان کا قرض کبھی ادا نہیں کر سکا۔ جب مجھے پتا چلا کہ وہ دنیا میں نہیں رہے، تو میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے بیٹے کی مدد کروں گا۔"

احمد خاموش کھڑا رہا۔

بوڑھے آدمی نے آخری بات کہی:

"تمہارے والد نے ایک دن میری زندگی بدلی تھی... اور آج ان کی نیکی نے تمہاری زندگی بدل دی۔"

احمد آسمان کی طرف دیکھ کر رو پڑا۔

اس دن اسے سمجھ آیا کہ...

❤️"نیکی کبھی مرتی نہیں، وہ نسلوں تک سفر کرتی ہے اگر آپ کو اچانک 5 لاکھ روپے مل جائیں تو آپ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ 👇😲"

🔥 کہانی: "اعتماد کی قیمت"ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے، احمد اور علی۔دونوں بچپن سے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ایک دن اح...
09/06/2026

🔥 کہانی: "اعتماد کی قیمت"

ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے، احمد اور علی۔

دونوں بچپن سے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔

ایک دن احمد کو شہر میں اچھی نوکری مل گئی۔

جانے سے پہلے اس نے اپنی ساری جمع پونجی، تقریباً 5 لاکھ روپے، علی کے پاس امانت رکھ دی۔

احمد نے کہا:

"مجھے تم پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے۔"

علی نے مسکرا کر جواب دیا:

"فکر نہ کرو، یہ امانت میرے پاس محفوظ رہے گی۔"

دو سال بعد احمد واپس آیا۔

اس نے علی سے اپنی امانت مانگی۔

مگر علی کا چہرہ بدل گیا۔

وہ بولا:

"کون سی امانت؟ تم نے مجھے کبھی کوئی پیسے نہیں دیے۔"

احمد کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔

جس شخص پر اسے سب سے زیادہ بھروسہ تھا، اسی نے اسے دھوکہ دے دیا۔

غمگین ہو کر احمد وہاں سے چلا گیا۔

کچھ مہینے بعد گاؤں میں سیلاب آ گیا۔

علی کا گھر، دکان اور سارا مال پانی میں بہہ گیا۔

وہ خالی ہاتھ رہ گیا۔

ایک دن وہ بازار میں بیٹھا رو رہا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

وہ احمد تھا۔

احمد نے ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا۔

لفافے میں 2 لاکھ روپے تھے۔

علی حیران رہ گیا۔

"میں نے تمہارے ساتھ برا کیا، پھر بھی تم میری مدد کر رہے ہو؟"

احمد مسکرایا اور بولا:

"میں تم جیسا نہیں بننا چاہتا۔ تم نے اپنی امانت کھوئی تھی، میں اپنا کردار نہیں کھونا چاہتا۔"

علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس دن اسے سمجھ آیا کہ دولت سے بڑا سرمایہ اعتماد اور کردار ہوتا ہے۔

❤️ سبق:
"اعتماد ٹوٹنے میں ایک لمحہ لگتا ہے، مگر دوبارہ بنانے میں پوری زندگی لگ سکتی ہے۔۔۔

-- ٹک ٹاکر ندیم نانی والا پنجاب پولیس کی گرفت میں ۔۔ لاہور میں ٹک ٹاکر ندیم مبارک عرف نانی والا کے خلاف غفلت و لاپرواہی ...
08/06/2026

-- ٹک ٹاکر ندیم نانی والا پنجاب پولیس کی گرفت میں ۔۔

لاہور میں ٹک ٹاکر ندیم مبارک عرف نانی والا کے خلاف غفلت و لاپرواہی سے ڈرائیونگ اور کار سرکار میں مداخلت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا..

یہ تو کہانی وہ ہے جو پولیس اپکو بتا رہی ہے اصل کہانی یہ ہے کہ ندیم نانی والے نے ٹک ٹاک کی اس جنگ میں جو مسٹر پتلو اور پی ٹی ای کے درمیان چل رہی ہے اس نے عمران خان کے حق میں ویڈیو بنای تھی ۔۔

اس کے بعد اس بیچارے کو بھی اٹھالیا گیا ۔۔

احمد ایک عام سا لڑکا تھا۔ وہ روز صبح کالج جاتا اور شام کو اپنے والد کی دکان پر کام کرتا تھا۔ایک دن کالج سے واپس آتے ہوئے...
06/06/2026

احمد ایک عام سا لڑکا تھا۔ وہ روز صبح کالج جاتا اور شام کو اپنے والد کی دکان پر کام کرتا تھا۔

ایک دن کالج سے واپس آتے ہوئے اس نے ریل کی پٹری کے قریب ایک سیاہ بیگ دیکھا۔

اس نے بیگ اٹھایا تو وہ کافی بھاری تھا۔

دل میں خیال آیا کہ شاید کسی کا گم ہوا سامان ہو۔

گھر آ کر اس نے بیگ کھولا۔

اندر نوٹوں کے بنڈل تھے۔

اتنے پیسے اس نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھے تھے۔

احمد کے والد بیمار تھے اور گھر کے حالات بھی اچھے نہیں تھے۔

کئی لمحوں تک وہ سوچتا رہا۔

اگر یہ پیسے رکھ لے تو اس کی ساری مشکلات ختم ہو سکتی تھیں۔

مگر آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مالک کو تلاش کرے گا۔

اگلے دن وہ پولیس اسٹیشن گیا اور بیگ جمع کرا دیا۔

پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں۔

کچھ دن بعد پتا چلا کہ بیگ ایک تاجر کا تھا جو اسے کھو چکا تھا۔

تاجر نے احمد کو بلایا.

احمد سوچ رہا تھا کہ شاید صرف شکریہ ادا کیا جائے گا۔

مگر تاجر نے مسکرا کر کہا:

"بیٹا، آج کے دور میں ایسے ایماندار لوگ بہت کم ملتے ہیں۔"

اس نے احمد کو انعام کی پیشکش کی۔

احمد نے انکار کر دیا۔

تاجر احمد کی بات سن کر اور بھی متاثر ہوا۔

چند ہفتوں بعد اسی تاجر نے احمد کو اپنے دفتر بلایا اور کہا:

"میں تمہیں نوکری نہیں، اپنا پارٹنر بنانا چاہتا ہوں۔"

احمد حیران رہ گیا۔

سال گزرتے گئے۔

وہی غریب لڑکا محنت اور ایمانداری کی وجہ سے ایک کامیاب بزنس مین بن گیا۔

ایک دن ایک صحافی نے اس سے پوچھا:

"آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟"

احمد مسکرایا اور بولا:

"جس دن میں نے پیسوں سے زیادہ اپنی ایمانداری کو اہم سمجھا، اسی دن میری قسمت بدل گئی تھی۔"

❤️ کبھی کبھی صحیح فیصلہ فوری فائدہ نہیں دیتا، مگر پوری زندگی بدل دیتا ہے.

🔥 مستقبل کی کالرات کے 12 بج رہے تھے۔ احمد اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا کہ اچانک فون بجا۔ اسکرین پ...
05/06/2026

🔥 مستقبل کی کال

رات کے 12 بج رہے تھے۔ احمد اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا کہ اچانک فون بجا۔ اسکرین پر ایک نامعلوم نمبر تھا۔

اس نے کال اٹھائی۔

دوسری طرف سے ایک گھبرائی ہوئی آواز آئی:

"احمد... کل صبح موٹر سائیکل پر کالج مت جانا۔"

احمد چونک گیا۔

"آپ کون ہیں؟"

مگر کال کٹ چکی تھی۔

اگلے دن احمد نے احتیاطاً موٹر سائیکل پر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ شام کو خبر ملی کہ اسی راستے پر ایک خوفناک حادثہ ہوا تھا۔

احمد کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

اسی رات پھر کال آئی۔

آواز نے کہا:

"اب میری بات غور سے سنو... تمہاری زندگی خطرے میں ہے۔"

احمد نے غصے سے پوچھا:

"آخر تم ہو کون؟"

کچھ لمحے خاموشی رہی۔

پھر جواب آیا:

"میں... 10 سال بعد والا احمد ہوں۔"

احمد ہنس پڑا، مگر جب اس نے نمبر چیک کیا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔

وہ اس کا اپنا نمبر تھا۔

اگلی رات کال دوبارہ آئی۔

"دو دن بعد تمہیں سڑک کنارے ایک بیگ ملے گا۔ اسے مت کھولنا۔"

دو دن بعد واقعی احمد کو ایک بیگ ملا۔

اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔

تحقیقات سے پتا چلا کہ بیگ ایک خطرناک جرم سے متعلق تھا۔

اب احمد کو یقین ہو گیا کہ کالیں سچ ہیں۔

کئی دن گزر گئے۔

پھر ایک رات آخری کال آئی۔

مستقبل والے احمد کی آواز بہت کمزور تھی۔

"یہ میری آخری کال ہے۔"

"کیوں؟" احمد نے گھبرا کر پوچھا۔

آواز نے جواب دیا:

"کیونکہ تم نے اپنی تقدیر بدل دی ہے۔ جس مستقبل سے میں تمہیں کال کر رہا تھا، وہ اب موجود نہیں رہا۔"

احمد خاموش ہو گیا۔

چند سیکنڈ بعد آواز دوبارہ آئی:

"ایک بات یاد رکھنا... قسمت موقع دیتی ہے، لیکن فیصلہ انسان خود کرتا ہے۔"

کال کٹ گئی۔

احمد نے فوراً واپس کال کی، مگر نمبر ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔

اس دن کے بعد وہ کال کبھی دوبارہ نہیں آئی۔

لیکن احمد کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل چکی تھی۔

❤️ اگر آپ کو اپنے مستقبل والے خود سے صرف ایک سوال پوچھنے کا موقع ملے، تو آپ کیا پوچھیں گے؟ 👇🔥

یہ بھائی صاحب انکل کو سمجھا رہے ہیں کہ یہ سیڑھی بالکل صحیح بنی ہے۔ لیکن انکل کہہ رہے ہیں "کیسے صحیح بنی ہے دروازہ کس طرف...
04/06/2026

یہ بھائی صاحب انکل کو سمجھا رہے ہیں کہ یہ سیڑھی بالکل صحیح بنی ہے۔
لیکن انکل کہہ رہے ہیں "کیسے صحیح بنی ہے دروازہ کس طرف ہے اور سیڑھیاں کس طرف ہیں "
اپ دوست کیا کہتے ہو؟ اس مستری کو دونوں ہاتھوں سے سلام بنتا ہے 😜
یا پھر یہ سیڑھیاں ٹھیک بنی ہیں؟

جلتی ہوئی جھونپڑی کا معجزہ.. ایک سبق آموز کہانی••ایک بار طوفان میں ایک جہاز تباہ ہو گیا اور صرف ایک ہی شخص زندہ بچا جو ا...
04/06/2026

جلتی ہوئی جھونپڑی کا معجزہ.. ایک سبق آموز کہانی••
ایک بار طوفان میں ایک جہاز تباہ ہو گیا اور صرف ایک ہی شخص زندہ بچا جو ایک چھوٹے غیر آباد جزیرے پر بہہ کر
پہنچ گیا۔
اس نے خدا سے دعا کی کہ اسے بچا لے، لیکن کئی دن گزر گئے، نہ کوئی مدد آئی اور نہ ہی کوئی اسے بچانے آیا۔ تھک ہار کر، ایک دن اس نے ادھر ادھر سے چیزیں ڈھونڈیں اور ٹوٹے ہوئے جہاز کے بہہ کر آئے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں سے اپنے لیے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا لی۔
اسے بہت افسوس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں اور اسے اس جزیرے پر اکیلا ہی رہنا پڑے گا۔ اس نے آس پاس سے زندہ رہنے کے لیے چیزیں اکٹھی کیں اور وہ سب کچھ جھونپڑی میں رکھ دیا، جب تک کہ اسے کوئی مدد نہ مل جائے۔
دن گزرتے رہے، لیکن ایک دن جب وہ کھانے کی تلاش میں نکلا ہوا تھا، کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی جھونپڑی آگ کے شعلوں میں جل رہی تھی اور اس کا سارا سامان اس جھونپڑی کے اندر جل کر راکھ ہو گیا تھا۔
آدمی ٹوٹ گیا، اس نے وہ سب کچھ کھو دیا جو اس نے اب تک بنایا تھا۔ وہ غم اور غصے سے سکتے میں آ گیا۔
وہ رویا اور آسمان کی طرف دیکھ کر چلایا، "اے خدا؟ کیوں؟ تو میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟"
مگر اگلے دن سویرے ہی وہ ایک جہاز کی آواز سے جاگ گیا جو اس جزیرے کی طرف آ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسے بچانے کے لیے کوئی جہاز آ گیا ہے۔
جب وہ آدمی جہاز پر سوار ہوا تو اس نے اپنے بچانے والے سے پوچھا، "آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں یہاں ہوں؟؟"
بچانے والے نے جواب دیا، "ہم نے اس جزیرے سے دھوئیں کا اشارہ اٹھتے دیکھا تھا۔"
آدمی نے جواب دیا، "لیکن میں نے تو کوئی دھوئیں کا اشارہ دیا ہی نہیں تھا۔"
بچانے والے نے کہا، "کیا تم نے ہمیں اشارہ دینے کے لیے وہ آگ نہیں جلائی تھی؟"
اسی لمحے اس آدمی کو احساس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی جا چکی تھیں اور خدا کے پاس ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ اور اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے بچا لیا۔
جب حالات خراب ہوں تو مایوس ہو جانا آسان ہے، لیکن ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ درد اور تکلیف کے درمیان بھی ہمیشہ خدا پر بھروسہ رکھنا چاہیے

ملک پاکستان   کو کس طرح سے نوچا جارہا ہے اس پر وزارت  خزانہ کی جانب پیش کردہ رپورٹ پڑھیے ۔۔   یہ پڑھ کر عام پاکستانی سکت...
04/06/2026

ملک پاکستان کو کس طرح سے نوچا جارہا ہے اس پر وزارت خزانہ کی جانب پیش کردہ رپورٹ پڑھیے ۔۔

یہ پڑھ کر عام پاکستانی سکتے میں ا جاتا ہے کیسے بڑے بابوز ملک پاکستان میں لوٹ مچا رہے ہیں ۔

پاکستان میں کچھ ایسے سرکاری ملازمین ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے اور پاک اوورسیز انویسٹمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کی تنخواہ ایک کروڑ تریپن لاکھ اسی ہزار سے زائد ہے جو ہر ماہ زیرو میٹر فارچونر لے کر بھی پچیس لاکھ بچا سکتے ہیں ۔

جبکہ پاک اومان انویسٹمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کی تنخواہ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ اور پاک ایران انویسٹمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کی تنخواہ ستانوے لاکھ سولہ ہزار ہے
یہ تمام تر انویسٹمنٹ کمپنیاں ہیں اور ان کا کام ملک میں سرمایہ کاری لانا ہے مگر حقیقت سب کے سامنے ہے اور یہ اعداد و شمار وزارت خزانہ کے ہیں جس کے مطابق نیشنل بینک کے پریذیڈنٹ کی تنخواہ نوے لاکھ اور پاک لیبیا ہولڈنگ کمپنی کے ایم ڈی کی اٹھاسی لاکھ سترہ ہزار جبکہ زرعی ترقیاتی بینک کے صدر کی تنخواہ چون لاکھ روپے ہے جو کہ تمام مالیاتی ادارے ہیں جہاں سے سرمایہ کار بھاگ رہا ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پیرا ل کے سی ای او کی تنخواہ باون لاکھ اور ایگزیم بینک کے صدر کی پچاس لاکھ کے قریب ہے ۔

جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک چالیس لاکھ پاکستان سنگل ونڈو کے سی ای او چھبیس لاکھ فرسٹ ویمن بینک کے پریذیڈنٹ بائیس لاکھ اور چیئرمین سی سی پی کی تنخواہ گیارہ لاکھ روپے ہے تو پھر قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان کیوں پیچھے رہیں جن کی ماہانہ تنخواہ پانچ لاکھ انیس ہزار بنتی ہے۔

اس تنخواہ کے علاوہ انہیں ٹی اے ڈی اے بیرون ملک دورے مفت علاج لگژری گاڑیاں بڑے بڑے گھر خانساماں باورچی سیکیورٹی ڈرائیور اور الیکٹریشن جیسی لاتعداد سہولیات حاصل ہیں جبکہ 2024 کی رپورٹ کے مطابق صوبائی آئی جی کی تنخواہ آٹھ لاکھ چوالیس ہزار سے زائد ہے اور ایوان صدر میں تعینات ایک افسر کی تنخواہ پندرہ لاکھ نوے ہزار چھ سو چونتیس روپے ماہانہ ہے۔

پنجاب اسمبلی کے ایک ایم پی اے کی تنخواہ چار لاکھ وزراء کی چھ لاکھ نوے ہزار اسپیکر کی نو لاکھ ڈپٹی اسپیکر کی سات لاکھ پچھتر ہزار پارلیمانی سیکرٹری کی چار لاکھ اکاون ہزار اور وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تنخواہ چھ لاکھ پینسٹھ ہزار کے قریب ہے اور ان میں ٹی اے ڈی اے اور دیگر مراعات شامل نہیں ہیں جو یہ لوگ وقت پر لیتے ہیں مگر اپنے حلقوں میں کبھی نہیں آتے۔

یہ لوگ نیلے پاسپورٹ پر اپنی فیملی سمیت بیرون ملک پناہ لیتے ہیں جس کی تازہ مثال اقبال آفریدی کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے اٹلی میں جا کر سیاسی پناہ لی کیونکہ ان کا پاکستان میں کوئی اسٹیک ہی نہیں ہے یہ سب تو یہاں صرف دیہاڑی لگانے اور خزانہ خالی کر کے واپس اپنے آبائی وطن لوٹنے آتے ہیں جبکہ پیچھے پاکستانی عوام آئی ایم ایف کے بوجھ تلے دب کر ٹیکس دے دے کر مر رہی ہے۔

معیشت تو وہ مزدور چلاتا ہے جو سعودی عرب دبئی یا دیگر ممالک کی پچاس ڈگری تپتی گرمی میں آٹھ آٹھ میٹر گہرائی میں کام کر کے ریال بھیجتا ہے مگر ان بابوؤں اور الیکٹڈ ممبران کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں صرف اپنی تنخواہیں مراعات اور بچوں کے لیے غیر ملکی نیشنلٹیاں چاہیے جن کے بچے باہر پڑھتے ہیں اور یہاں سرکاری تعلیم اور صحت کا حال سب کے سامنے ہے جہاں غریب کے بچے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم اور صحت شامل ہی نہیں ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ سہولیات مفت ہیں اور یہاں یہ بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے جس کا کھلا تضاد یہ ہے کہ 2025-26 کے بجٹ میں مزدور کی تنخواہ صرف اڑتیس ہزار رکھی گئی ہے جو اسے ملتی بھی نہیں اور پرائیویٹ سیکٹر میں تو لوگ اٹھارہ سے پچیس ہزار پر کام کر رہے ہیں جس میں کسی فیملی کا گزارا ممکن نہیں۔
😗😗
حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں لیوی کی مد میں ستائیس سو ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالے ہیں صرف ان بابوؤں کی کروڑوں کی تنخواہیں دینے کے لیے جو ٹھنڈے دفتروں میں بیٹھ کر قلم چلاتے ہیں اور عوام سے ٹیکس لے کر ان کی عیاشیاں پوری کی جا رہی ہیں جبکہ ہم نے آئی ایم ایف سے تئیس سو ارب لیے اور لیوی کی مد میں ستائیس سو ارب اکٹھے کیے جو کہ عوام کی جیبوں پر ڈاکے کے مترادف ہیں۔

اب بجٹ آ رہا ہے یہ بابوز کہ رہے ہیں ملک معیشت خراب ہے عوام کفایت شعاری کرے اور خود ٹھنڈے اے سی میں بیٹھ کر ملکی خزانہ سے کروڑوں وصول کرتے رہیں گے..

کوی دوست بتا سکتا ہے کیا یہ عمل شرعی اور اخلاقی طور ر  درست ہے ۔ جب  بھی لوگ عمرہ یا حج  کر کے واپس اتے ہیں تو اپنے ساتھ...
31/05/2026

کوی دوست بتا سکتا ہے کیا یہ عمل شرعی اور اخلاقی طور ر درست ہے ۔

جب بھی لوگ عمرہ یا حج کر کے واپس اتے ہیں تو اپنے ساتھ اب زم زم لاتے ہیں ۔ یہ اب زم زم دوستوں رشتہ داروں کیلے بہترین تحفہ ہوتا ہے ۔

مگر یہ عام رواج پڑ گیا ہے کہ اس میں عام پانی مکس کر کے چند قطرے اب زم زم کے ڈال کر اک چھوٹی بوتل میں ڈال کر اسے تحفہ کیلے تقسیم کیا جاتا ہے ۔
🙂🙂🙂
یہ سوال انتہائی اہم ہے جب زم زم جیسے مدس پانی میں ملاوٹ کر کے کسی کو زم زم کا پانی کہ کر تحفہ دینا کیا یہ دھوکہ نہی ہے ۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ ملاوٹ کرنے والا اور دھوکا دینے والا اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔  یہ حکم صرف بازار کی تجارت تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس میں دوسرے کو غلط تاثر دیا جائے وہ اس میں شامل ہو ..

بغیر فریزر کے گوشت محفوظ رکھنے کا طریقہ ۔۔گوشت کے کلو 2 کلو کے شاپر بنالیں، شاپروں پر ہلکی سی گانٹھ لگا دیں۔تاکہ ہوا لگت...
29/05/2026

بغیر فریزر کے گوشت محفوظ رکھنے کا طریقہ ۔۔

گوشت کے کلو 2 کلو کے شاپر بنالیں، شاپروں پر ہلکی سی گانٹھ لگا دیں۔تاکہ ہوا لگتی رہے�
🥰🥰🥰
اب شاپر ان گھروں میں پہنچادیں جنہوں نے قربانی نہیں کی یہ گوشت قیامت تک خراب نہیں ہو گا۔ انشااللہ

Adresse

Berlin
10119

Benachrichtigungen

Lassen Sie sich von uns eine E-Mail senden und seien Sie der erste der Neuigkeiten und Aktionen von Ammad Bhai erfährt. Ihre E-Mail-Adresse wird nicht für andere Zwecke verwendet und Sie können sich jederzeit abmelden.

Service Kontaktieren

Nachricht an Ammad Bhai senden:

Verknüpfungen

Hervorgehoben

Teilen

Kategorie