22/04/2026
یورینیم قدرتی طور پر زمین کی پرت میں موجود ہوتا ہے، اور اسے کان کنی کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔
ابتدائی حالت میں یہ خام پتھریلے مادے کی صورت میں ہوتا ہے، جسے پراسیسنگ کے بعد ایک زرد رنگ کے پاؤڈر میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے یلو کیک (Yellowcake) کہا جاتا ہے۔
دنیا میں اس کے نمایاں ذخائر Kazakhstan، Canada اور Australia میں پائے جاتے ہیں۔
---
افزودگی (Enrichment): اصل طاقت کہاں چھپی ہے؟
قدرتی یورینیم میں زیادہ تر حصہ U-238 ہوتا ہے، جبکہ اصل قابلِ استعمال آئسوٹوپ U-235 تقریباً 0.7٪ ہوتا ہے۔
اسی لیے ایک پیچیدہ سائنسی عمل، یعنی افزودگی (Enrichment) کے ذریعے U-235 کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔
یہ عمل عموماً گیس سینٹری فیوجز کے ذریعے کیا جاتا ہے، جہاں یورینیم گیس کو انتہائی رفتار سے گھما کر اس کے اجزاء الگ کیے جاتے ہیں۔
---
افزودگی کی سطح اور استعمال
یورینیم کی افادیت اس کی افزودگی کی سطح پر منحصر ہوتی ہے:
3–5٪→ نیوکلیئر پاور پلانٹس میں بجلی پیدا کرنے کے لیے
20٪ کے قریب→ تحقیقاتی ری ایکٹرز اور بعض سائنسی مقاصد کے لیے
90٪ یا اس سے زیادہ→ ویپن گریڈ یورینیم (ایٹمی ہتھیاروں کے لیے)
🔎 ایک اہم نکتہ:
20٪ تک پہنچنا کسی بھی ملک کی advanced ٹیکنالوجی کی نشاندہی کرتا ہے، اسی لیے یہ سطح عالمی نگرانی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم، اس کے بعد کا عمل “آسان” نہیں بلکہ نسبتاً مختلف تکنیکی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔
---
یورینیم کو صرف تباہی سے جوڑنا درست نہیں۔ اس کے کئی مثبت استعمال بھی ہیں:
✅ کم کاربن بجلی کی پیداوار (نیوکلیئر انرجی)
✅ میڈیکل سائنس میں ریڈیوتھراپی اور تحقیق
✅ نیوکلیئر سب میرینز اور دفاعی نظام
✅ سائنسی تحقیق اور نیوکلیئر فزکس
---
یورینیم ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ نہ تو مکمل طور پر تباہی ہے اور نہ ہی صرف ترقی — بلکہ اس کی اصل حیثیت اس کے استعمال پر منحصر ہے۔
درست پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور ذمہ دارانہ استعمال کے ساتھ یہی عنصر دنیا کو روشنی، توانائی اور ترقی دے سکتا ہے —
اور غلط ہاتھوں میں یہی قوت عالمی خطرہ بن سکتی ہے۔
---
جدید تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اگر یورینیم کی 7-8 فیصد افزائش کے بعد اگر پٹواریوں کو رات کے کھانے میں ڈال کر کھلا دی جائے ان کے دماغ میں پرورش پاتے ہوئے اس کیڑے کو قابو کیا جاسکتا ہے جو بوقت ضرورت انقلابی اور بوقت ضرورت پالشی بن جاتا ہے