10/09/2026
جرمن چانسلر فریڈریش میرس کا AfD کو کرارا جواب
تارکینِ وطن کی اہمیت کا کھلا اعتراف—امیگرنٹ کمیونٹی کے لیے امید کی نئی کرن
تحریر: چودھری اعجاز حسین پیارا
زاکسن انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں امیگریشن مخالف جماعت AfD کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد جرمنی میں مقیم تارکینِ وطن میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی۔ ایسے ماحول میں جرمن چانسلر فریڈریش میرس نے وفاقی پارلیمنٹ میں AfD کے تارکینِ وطن مخالف بیانیے کا دوٹوک اور حقائق پر مبنی جواب دیا ہے۔
چانسلر میرس کے بیان کا مفہوم تھا:
’’اگر تارکینِ وطن ایک دن بھی کام پر نہ آئیں تو جرمنی کے ریستوران، ہوٹل، ہسپتال، بزرگوں کی دیکھ بھال اور متعدد دوسرے اہم شعبوں کا نظام شدید متاثر ہوجائے گا۔ جرمنی میں قانونی طور پر رہنے، محنت کرنے اور معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے والے تارکینِ وطن کی اس ملک کو ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے AfD کے متنازع ’’ری مائیگریشن‘‘ تصور کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ لوگوں کو ان کی نسل، رنگ یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر ملک سے نکالنے کی سوچ ناقابلِ قبول ہے۔
چانسلر کا یہ بیان محض ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ جرمن معاشرے کی حقیقت کا اعتراف ہے۔ آج تارکینِ وطن صحت، ٹرانسپورٹ، صنعت، تعمیرات، صفائی، ہوٹلنگ، ریستوران، زراعت، لاجسٹکس اور بزرگوں کی نگہداشت سمیت تقریباً ہر اہم شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے ساتھ ٹیکس اور سماجی انشورنس ادا کرکے ملکی معیشت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
تاہم تارکینِ وطن کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ مقامی آبادی کے ایک حصے میں یہ تاثر موجود ہے کہ بعض غیرملکی کام کرنے کے بجائے سماجی مراعات پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ بات پوری امیگرنٹ کمیونٹی کے بارے میں ہرگز درست نہیں، لیکن جہاں ایسی مثالیں موجود ہوں وہاں اصلاح ضروری ہے۔
بیماری، معذوری، بے روزگاری یا حقیقی مجبوری میں سرکاری مدد حاصل کرنا ہر شخص کا قانونی حق ہے۔ لیکن ایک صحت مند اور کام کرنے کے قابل انسان کا بلاوجہ مراعات پر انحصار کرنا نہ اخلاقی طور پر مناسب ہے اور نہ مذہبی تعلیمات کے مطابق۔ اسلام ہمیں محنت، دیانت داری اور رزقِ حلال کمانے کا درس دیتا ہے۔
اس کے ساتھ جرمن قوانین کا احترام اور اچھے اخلاق و کردار کا مظاہرہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ تارکینِ وطن اس معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ اس کی ترقی، خوش حالی اور استحکام میں برابر کے شریک ہیں۔
تارکینِ وطن کو جرمنی کی سیاسی اور جمہوری زندگی میں بھی بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ جس ملک میں ہم رہتے اور جہاں ہمارے بچوں کا مستقبل ہے، اس کے سیاسی نظام سے لاتعلق نہیں رہا جاسکتا۔ ہمیں CDU، SPD، گرینز اور دی لنکے سمیت ان جمہوری اور معتدل قوتوں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے جو نفرت اور نسلی امتیاز کی سیاست کی مخالفت کرتی ہیں۔
چانسلر فریڈریش میرس کا بیان تارکینِ وطن کے لیے یقیناً امید کی ایک کرن ہے، مگر حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا بھی ضروری ہے۔ نفرت کا مؤثر جواب محنت، قانون پسندی، اچھے کردار، سیاسی شعور اور مثبت سماجی کردار سے دیا جاسکتا ہے۔
یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ خود احتسابی، اتحاد اور مثبت عملی کردار ادا کرنے کا ہے۔ جرمنی ہمارا موجودہ گھر اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے؛ اس کے امن، ترقی اور جمہوری نظام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔