24/02/2026
منقول: راجہ مبین اللہ خان
پاکستان، افغانستان اور مسلط کی جانے والی جنگ کا بیانیہ
پاکستان کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ خطے میں جنگ اس پر مسلط کر دی گئی ہے اور یہ ٹلنے والی نہیں۔ نرم رویہ یا مفاہمت اس کو نہیں روک سکتے۔ بڑی طاقتوں کا ہدف یہ ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کیا جائے اور اس کے مختلف حصوں میں عدم استحکام پھیلایا جائے۔ اسی تناظر میں افغانستان کو ایک ایسے محاذ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کے نیٹ ورک مضبوط کیے گئے ہیں۔
افغانستان میں اس وقت ایسے گروہ طاقت حاصل کر چکے ہیں جو بیرونی حمایت سے چل رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک مسلسل بھرتی، مالی مدد اور پناہ گاہیں حاصل کرتے ہیں۔ ان کے پیچھے وسائل کی کمی نہیں کیونکہ بیرونی طاقتیں انہیں فنڈ کرتی رہتی ہیں۔ اگر پاکستان ان کے خلاف پیشگی اور فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا تو یہی نیٹ ورک پاکستان کے اندر مزید تباہی پھیلائیں گے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے دفاعی انتظار کی پالیسی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ مؤثر راستہ یہ ہے کہ افغانستان میں موجود پاکستان مخالف دہشت گرد ڈھانچوں کو براہ راست ہدف بنایا جائے۔ ان دہشتگردوں کے مخالف گروہوں کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر افغانستان کا جغرافیہ اپنے حق میں بدلنا پڑے تو کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھانی چاہئے۔ وا خان قدرتی طور پر پاکستان اور تاجکستان کا حصہ بنتا ہے اس پٹی کو دہشتگردوں سے پاک کر کے تاجکستان کے ساتھ سرحد ملانا ایک اہم سٹریٹیجک ایڈوانٹیج ہو سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ کر دینا چاہئے۔ پاکستان اپنے ایسے تمام اقدامات کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عالمی بیانیے میں رکھ کر دکھا سکتا ہے جس سے اخلاقی اور سفارتی جواز بھی مضبوط ہوگا۔ دنیا بھر میں گزشتہ دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف ذہنی فضا بنائی گئی ہے اور اس تناظر میں پاکستان اپنی کارروائی کو جائز ٹھہرا سکتا ہے۔
خطے کی جغرافیائی سیاست میں بھی فعال حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے شمالی علاقوں میں پاکستان دوست نسلی و علاقائی قوتوں کے ساتھ روابط بڑھانا، وسط ایشیا تک براہ راست رسائی کے راستے بنانا اور اپنی security depth قائم کرنا پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر افغانستان مکمل طور پر مخالف نیٹ ورکس کے کنٹرول میں رہتا ہے تو وہ ایران اور پاکستان دونوں کے لیے عدم استحکام کا مستقل ذریعہ بن سکتا ہے۔
اصل سوال بقا کا ہے۔ اگر پاکستان دشمن نیٹ ورکس کو نہیں روکے گا تو وہ پاکستان کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ اس لیے ریاست اور معاشرے دونوں کو شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف واضح، جارحانہ اور مسلسل حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ یہ صرف سکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سمت اور مستقبل کا فیصلہ ہے۔
آپ کیا کہتے ہیں؟