03/08/2026
🏹 قسطنطنیہ کی عظیم الشان فتح کے بعد بھی بازنطینی سلطنت کا ایک آخری مضبوط گڑھ بحیرۂ اسود کے ساحل پر "طرابزون" (Trebizond) کی صورت میں باقی تھا۔ یہ ریاست یورپی عیسائی طاقتوں کے ساتھ مل کر سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف مسلسل سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف تھی۔
سن 1461ء میں سلطان محمد فاتحؒ نے اس آخری خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنی افواج کو ایسے دشوار گزار، برف پوش اور سنگلاخ پہاڑی راستوں سے گزارا جہاں چلنا بھی ناممکن محسوس ہوتا تھا۔ سفر کی شدت کا یہ عالم تھا کہ خود سلطان کو کئی مقامات پر پیدل چلنا پڑا، حتیٰ کہ ان کے ہاتھ بھی زخمی ہو گئے، مگر نہ ان کے حوصلے پست ہوئے اور نہ عزم میں کوئی لغزش آئی۔
سلطان محمد فاتحؒ کی بے مثال قیادت، غیر متزلزل عزم، عسکری حکمتِ عملی اور اچانک یلغار نے طرابزون کے حکمران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ اس تاریخی فتح کے ساتھ ہی بازنطینی (رومی) سلطنت کا آخری نشان بھی ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات سے مٹ گیا اور اسلامی تاریخ میں عثمانیوں کی عظمت کا ایک اور درخشاں باب رقم ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ سلطان محمد فاتحؒ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ 🤍⚔️