Imtiaz Arif Official

Imtiaz Arif Official Proud to be a teacher. EST English at GES Soman Qadeem Shujabad 💖💖💖

28/05/2026

Pakistani Qoam ko Youm E Takbeer mubarik ho. Nawaz Sharif Zinda baad. Dr. Abdul Qadeer zindabad. Pakistan hamesha Zindabad
28 - 05 - 1998
jb Nawaz sharif ne America ko absolutely not kehte hoe Atomic Dhamaka kr k India ko monh torr jawab dia r Pakistan dunya k naqsha per 7th Atomic power bun k ubhra.
Thanks Allah Almighty.
❤️🌹❤️🌹❤️🌹❤️

27/05/2026
27/05/2026

انالصلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین ۔

Tamam chahne walon ko dilli Eid Mubarik. Is eid per 5000 followers hone chahye.
26/05/2026

Tamam chahne walon ko dilli Eid Mubarik. Is eid per 5000 followers hone chahye.

26/05/2026

💔 اُس دن ایک ساتویں جماعت کے لڑکے نے پرنسپل کو واش روم میں بند کر دیا… مگر جب اُس نے وجہ بتائی، تو سزا دینے والی خاتون خود خاموش ہو گئیں۔ 🥀

پرنسپل انامیکا نے آخری فائل بند کی۔ 📂

شوہر سے مختصر سی بات کی، موبائل میز پر رکھا اور واش روم میں چلی گئیں۔ 🚪

چند منٹ بعد جب واپس آنے لگیں تو دروازہ نہیں کھلا۔ 😨

انہوں نے زور لگایا…
بار بار کنڈی گھمائی…
آوازیں دیں…

مگر دروازہ باہر سے بند تھا۔ 🔒

آدھا گھنٹہ گزر گیا۔ ⏳

آخرکار چپڑاسی نے آواز سنی، دفتر میں آیا اور باہر سے دروازہ کھولا۔ 🚪

انامیکا باہر آئیں تو سانس پھول رہی تھی۔ 😔

پانی پیا، خود کو سنبھالا… پھر فوراً سی سی ٹی وی فوٹیج کھولی۔ 🎥

ویڈیو میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا دبے پاؤں اُن کے دفتر میں داخل ہوا… 👦

اِدھر اُدھر دیکھا…

اور باہر سے واش روم کی کنڈی لگا کر بھاگ گیا۔ 🥀

لڑکے کی تصویر نکلوائی گئی۔ 📸

چپڑاسی چند منٹ میں اُسے ڈھونڈ لایا۔

ساتویں جماعت کا طالب علم… راج۔ 😶

انامیکا نے سب کو باہر بھیج دیا۔ 🚶‍♂️

پھر اُس کے سامنے فوٹیج چلا کر پوچھا:

“یہ تم نے کیا تھا؟” 💔

راج خاموش کھڑا رہا۔

سر جھکا ہوا۔
ہاتھ کانپ رہے تھے۔ 😢

انامیکا نے کمپیوٹر میں اُس کا ریکارڈ کھولا تاکہ والدین کو بلایا جا سکے۔ 💻

پھر اچانک اُن کی نظریں ایک نام پر رک گئیں۔

“پری… کلاس فور بی…” 👧

انہوں نے آہستہ سے پوچھا:

“وہ تمہاری بہن ہے؟”

راج نے پہلی بار سر اٹھایا۔ 🥺

اور بہت معصومیت سے ہلکا سا مسکرا دیا۔ 💚

بس اُسی لمحے انامیکا سب سمجھ گئیں۔ 😔

صبح اسمبلی میں انہوں نے پوری اسکول کے سامنے پری کو ڈانٹا تھا۔ 📢

صرف اس لیے کہ اُس سے پانی کی بوتل گر گئی تھی۔ 💧

چھوٹی سی بچی سب کے سامنے روتی رہی تھی۔ 😭

اور شاید اُس کے بڑے بھائی نے پہلی بار اپنی بہن کی بے بسی دیکھی تھی۔ 💔

اُس کے پاس طاقت نہیں تھی…

صرف غصہ تھا۔ 🖤

اور بچوں کا غصہ اکثر عجیب راستے چنتا ہے۔ 🥀

انامیکا کافی دیر خاموش رہیں۔ 😔

پھر انہوں نے فوٹیج بند کی، راج کی طرف دیکھا اور نرم لہجے میں بولیں:

“جاؤ… کلاس اٹینڈ کرو۔” 📚

راج حیران رہ گیا۔ 😳

“آپ… سزا نہیں دیں گی؟”

انامیکا کے لبوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ 🙂

“نہیں۔ مگر آئندہ اپنی بہن کے لیے لڑنا… تو صحیح طریقے سے لڑنا۔” 💚

اُس رات راج گھر آیا تو پری خاموش بیٹھی تھی۔ 🏠

وہ اُس کے پاس گیا اور بولا:

“اب ڈرنا مت… پرنسپل آپ کو دوبارہ کبھی سب کے سامنے نہیں ڈانٹیں گی۔” 🥺

پری نے کوئی سوال نہیں پوچھا۔

صرف مسکرا دی۔ 💖

کیونکہ چھوٹی بہنیں اکثر اپنے بھائیوں پر اندھا یقین کرتی ہیں۔ 👧🤍👦

اور اُس رات پرنسپل انامیکا دیر تک چھت کو دیکھتی رہیں۔ 🌙

انہیں اپنا بڑا بھائی یاد آ رہا تھا… 🥀

جو بچپن میں محلے کے لڑکوں سے لڑ پڑتا تھا اگر کوئی اُنہیں رُلا دیتا۔ 💔

تب انہیں پہلی بار احساس ہوا:

کچھ رشتے قانون سے نہیں چلتے…

صرف محبت سے چلتے ہیں۔ ❤️

#منقول

25/05/2026

حج صرف ایک سفر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے عشق کی لازوال داستان ہے جس کی گواہی خود قرآن مجید دیتا ہے۔ آج سے چار ہزار سال پہلے، جب مکہ کی وادی میں نہ کوئی انسان تھا اور نہ زندگی کا کوئی نام و نشان، تو اللہ رب العزت نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی بی بی ہاجرہ اور معصوم دودھ پیتے بچے اسماعیل کو اس بے گور و کفن ریگستان میں چھوڑ آئیں۔ یہ کتنا بڑا امتحان تھا کہ ایک بوڑھا باپ اپنے اکلوتے جگر گوشے کو تپتی ریت پر چھوڑ رہا تھا۔ جب بی بی ہاجرہ نے روتے ہوئے پوچھا کہ
"اے ابراہیم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟"
تو ابراہیم علیہ السلام نے سر جھکا کر کہا "ہاں"۔
تب اس عظیم ماں نے جو جواب دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے ایمان کی بنیاد بن گیا، انہوں نے فرمایا:
"اگر یہ میرے رب کا حکم ہے، تو وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا" (صحیح بخاری: 3364)۔
یہی وہ بے مثال توکل تھا جس کا ذکر قرآن پاک کی سورہ ابراہیم (آیت 37) میں یوں ملتا ہے:
"اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے"۔
جب پانی کا آخری قطرہ بھی ختم ہو گیا اور معصوم اسماعیل پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے، تو بی بی ہاجرہ کی ممتّا تڑپ اٹھی۔ وہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دیوانہ وار دوڑیں، کبھی ایک چوٹی پر چڑھتیں اور کبھی دوسری پر۔ انہوں نے ایک یا دو بار نہیں، بلکہ پورے سات چکر لگائے۔ اللہ کو ایک ماں کی یہ تڑپ اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لیے ہر حاجی پر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا (سعی کرنا) فرض کر دیا گیا (سورہ البقرہ: 158)۔
جب وہ تھک کر بچے کے پاس لوٹیں، تو قدرت کا سب سے بڑا معجزہ ان کا منتظر تھا۔ جہاں ننھے اسماعیل نے پیاس کی شدت میں اپنی ایڑیاں رگڑی تھیں، وہاں سے زمین نے ایک چشمہ اگلنا شروع کر دیا تھا جسے بی بی ہاجرہ نے روکنے کے لیے کہا "زم زم" یعنی رک جا۔
یہ وہ آبِ زمزم ہے جو چار ہزار سال گزرنے کے بعد بھی آج تک پوری دنیا کی پیاس بجھا رہا ہے۔امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا، جب وہی بچہ جوان ہوا اور باپ کا سہارا بنا، تو اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے اسی چہیتے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جب باپ نے بیٹے کے سامنے یہ خواب رکھا، تو فرمانبردار بیٹے کا جواب تاریخ کے پنے پر سنہرے لفظوں سے لکھا گیا، جس کا نقشہ سورہ الصافات (آیت 102) کھینچتی ہے:
"بیٹے نے کہا، ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے"۔ جب دونوں باپ بیٹے اللہ کی رضا کے سامنے جھک گئے اور منیٰ کے میدان میں ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی، تو شیطان نے انہیں بہکانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے شیطان کو پتھر مارے (جو آج حج میں رامی یعنی جمرات کو کنکر مارنا کہلاتا ہے)۔ جیسے ہی چھری چلی، اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کو بچا کر جنت سے ایک دنبہ وہاں رکھ دیا اور ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو ابد تک کے لیے امر کر دیا۔اس کے بعد باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم سے کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں (سورہ البقرہ: 127)۔
جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اللہ نے حکم دیا: "اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کر دو" (سورہ الحج: 27)۔
حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ "یا اللہ! اس ویران ریگستان میں میری آواز کون سنے گا؟"
تو پروردگار نے فرمایا: "ابراہیم! تمہارا کام صرف آواز دینا ہے، اور کائنات کے ذرے ذرے اور روحوں تک اس آواز کو پہنچانا میرا کام ہے"۔
یہی وجہ ہے کہ اس دن جس جس روح نے لبیک کہا، وہ آج بھی مکہ کی طرف کھینچی چلی آتی ہے۔ پھر سنہ 632 عیسوی میں، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے آخری خطبے (حجۃ الوداع) کے موقع پر اس حج کے مناسک کو آخری اور مکمل شکل دی اور فرمایا:
"جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور گناہوں سے بچا، وہ ایسے پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو" (صحیح بخاری: 1521)۔
حج صرف ایک سفر نہیں، یہ رب کی رضا کے سامنے خود کو مٹا دینے کا نام ہے۔ اگر اس واقعے نے آپ کے دل کو چھوا ہو

Address

Saudi Arabia
Port Said
IMTIAZ@1313

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imtiaz Arif Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share