Wowwords

Wowwords تل وطنیں دی جاہ

06/09/2026

تحریر : مختار احمد

نامور سرائیکی شاعر، حکایت نگار اور ناول نگار رفعت عباس کا تیسرا ناول "مسخریاں دا میلہ" ان کی تخلیقی بصیرت اور فکری گہرائی کا نیا باب ہے۔ اس سے پہلے وہ "لون دا جیون گھر" اور "نیلیاں سلہاں پچھوں" جیسے ناول لکھ چکے ہیں، لیکن "مسخریاں دا میلہ" ان کے فن کی بلوغت اور فکری وسعت کا ثبوت ہے۔ اس ناول میں رفعت عباس نے دنیا کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک دنیا کو چلانے کے لیے کسی دیوتا،سورما،حاکم،سالار،ملا،قاضی،ساہوکار یا دلال کی نہیں بلکہ ایک مسخرے کی ضرورت ہے۔

ناول کا پہلا باب مصنف کے سوانحی حوالوں سے ابھرتا ہے۔، جہاں وہ اپنی یادوں، احساسات اور خاندانی تعلقات کو بڑی سادگی مگر گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔خاص طور پر 1965 اور 1971 کی جنگ کا احوال اور تجزیہ۔دوسرا باب بازار حسن کا اچھوتا بیانیہ ہے جس میں اس طرب بزار کا مفہوم ہی بدل دیا گیا ہے۔ اس باب کے آخر میں ملتان شہر ایک ناٹک گھر میں منقلب ہو جاتا ہے۔جہاں شہر سکندر مقدونی کو لگا ہوا اپنا زہر بجھا تیر واپس لیتا ہے اور وہ صحت یاب ہو کر بابل کی بجائے مقدونیہ کو لوٹ جاتا ہے۔جہاں ملتان اپنے قاتل ایسٹ انڈیا کمپنی کے جنرل ولیم وہش کے لیے معافی کا اعلان کرتا ہے۔تیسرا حصہ کورونا وائرس کے زمانے کا بیانیہ ہے۔چوتھا باب سندھ کے سفر پر مشتمل ایک تاریخی اور اساطیری بیانیہ ہے، جو قاری کو بیرونی منظرنامے سے اندرونی معنویت کی طرف لے جاتا ہے۔جہاں جگدیش کولھی ہے جو نمک کی کیمیا سے تتلیاں،پرندے،جانور اور انسان بناتا ہے۔اس باب میں ملتان سے روانہ ہونے والے مسخرے اپنا میلہ لگاتے ہوئے " شیو " تک پہنچتے اور وہ مسخروں سے مل کر مسخرہ بن جاتا ہے اور "شیو " کی تیسری آنکھ کی نئی معنویت سامنے آتی ہے۔
یہاں سیما پر خار دار تاروں کی باڑ ہے اور نمک کا میدان ہے۔جہاں ایک رات مسخروں کے ناٹک میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ یوں "مسخریاں دا میلہ" صرف ایک داستان نہیں بلکہ وجودی شعور کا سفر ہے جس میں ذات اور کائنات ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔

رفعت عباس کے نزدیک مسخرا محض تفریح کا کردار نہیں بلکہ ایک فلسفی، ایک آئینہ دار، اور ایک ایسا وجود ہے جو سچ اور جھوٹ کی پرتوں کوں بدل دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"میکوں اوڑک ڈس پئی جو ہر جنے کوں ہک مسخرے دی لوڑ ہے۔ ایں دب دروہ تے ترٹ بھج دی مار اتے آئے ہوئے ملتان شہر کوں وی ہک مسخرے دی لوڑ یے۔ سچ اکھیجے تاں ایں جگ جہان کوں وی ہک مسخرے دی لوڑ ہے… میکوں اوڑک سمجھ لگی جو مسخرا ہک شیشے ودھ کم کریندا ہے۔ شیشہ بس نقل لہیندا تے چور کو نپویندا ہے پر مسخرا اصل تئیں پجدا تے چور کوں چھڑوا گھندا ہے۔"

یہ اقتباس ناول کے فکری مرکز کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہاں "شیشہ" اور "مسخرے" کا تقابل دراصل دو فکری زاویوں کا تصادم ہے۔ شیشہ محض عکس دکھاتا ہے، مگر مسخرا معنی کی نئی تخلیق کرتا ہے۔ اس کے ہاں طنز اور محبت ایک ساتھ چلتے ہیں، اور یہی امتزاج انسانی نجات کی صورت بنتا ہے۔

رفعت عباس کا وژن اس ناول میں انسان دوستی اور امن کی تلاش سے عبارت ہے۔ وہ دنیا کو جنگ،موت اور طاقت کے جنون سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسخرے کا کردار اس لیے اہم ہے کہ وہ طاقت کی بجائے مسخری، حیرت اور محبت سے نظام بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کے بیانیہ میں حیرت،رومان،تشبیہ اور استعارہ اضافی قدریں بن جاتے ہیں۔وہ ان تمام قدروں کوحقیقت تک رسائی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور بیانیے کی نئی سطح کی بات کرتے ہیں۔
۔ ناول نگار لکھتے ہیں:

"اپنی حیرت تے رومان کوں جھلیم جو ایہ ڈوہیں شئیں ڈیکھنڑ، سوچنڑ تے دنیا نال ہنڈنڑ وچ اڑاند ڈیندیاں ہن۔"
(مسخریاں دا میلہ/ صفحہ 175)

"مسخریاں دا میلہ" میں رفعت عباس نے سرائیکی زبان کی قوتِ اظہار کو اپنی انتہا تک پہنچایا ہے۔ ان کی زبان میں شاعری کی لطافت، فلسفے کی گہرائی اور تہہ داری بیک وقت موجود ہے۔ یہ زبان سرائیکی ثقافت کے خمیر سے نکلی ہے مگر انسانی تجربے کی وسعتوں کو چھوتی ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ "مسخریاں دا میلہ" محض ایک ناول نہیں بلکہ رفعت عباس کی فکری رسائی، وجودی سرشاری اور انسان دوست نظریے کا اعلان ہے۔ یہ ناول ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا اصل جمال عقل یا طاقت میں نہیں بلکہ مسخرے کی مسخری میں پوشیدہ ہے۔
(مختاراحمد)
کتاب کے حصول کے لئے عکس کے دوست محمد فہد کا رابطہ نمبر
03004827500

کتاب : پَیوند تبصرہ و انتخاب : علی کاظمی استادِ محترم ساجد رضا خان صاحب کے توسط سے اس کتاب کو پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔کچھ...
05/09/2026

کتاب : پَیوند

تبصرہ و انتخاب : علی کاظمی

استادِ محترم ساجد رضا خان صاحب کے توسط سے اس کتاب کو پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔
کچھ شعرا شہرت کے شور میں نہیں، شاعری کی دیانت میں اپنا راستہ بناتے ہیں۔
یہ کتاب بھی ایک ایسے ہی شاعر شاہ زیب صاحب کی تخلیقی ریاضت کا ثمر ہے، جو شعری سفر کو نمود و نمائش اور کمرشل تقاضوں سے بے نیاز، اپنی داخلی آواز کی سچائی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

“پیوند”کے اشعار پڑھتے ہوئے خیال کی پختگی، مضمون کی خوب صورتی اور اظہار میں ایک تازہ جدت محسوس ہوئی۔ کہیں لفظ چونکا دیتا ہے، کہیں خیال ٹھہرنے پر مجبور کرتا ہے اور کہیں شعر دل میں دیر تک اپنی گونج قائم رکھتا ہے۔

ایسی شاعری محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے۔
اس خوب صورت شعری کاوش پر ان کو دلی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان کے اس شعری مجموعے سے انتخاب کے چند اشعار ملاخطہ فرمائیں:

میں اس بِنا پہ اندھیرا وسیع کرتا ہوں
کہیں سے روشنی ردِ عمل میں آ جاۓ
ــ
کوئ خبر مرے حال کی نکل آۓ
کسی طرح سے بھی اُس شخص سے مِرا پوچھو
ــ
خود کو واپس مِلا نہ مَیں اُتنا
جتنا اُس کی طرف بقایا تھا
ــ
میں نے آ کر اِنہیں رُلایا تھا
اِس سے پہلے اُداس تھے سارے
ــ
ایک تو وہ ہے جو آتا ہے مرے حصے میں
باقی اِس گھر میں اُترتا ہے مضافات کا دکھ

دور کی سوچنے والوں میں بہت بیٹھا ہوں
ان کی صحبت میں ملا ہے مجھے خدشات کا دکھ
ــ
اور کچھ دن کا ہے اثر میرا
اور کچھ دن کی احتیاط ہوں میں
ــ
ہم کو دکھ بھی نہیں ملے سستے
زندگی کے کباڑخانے سے

میں کھڑا رہ گیا ہوں ہوں آخر میں
سب کو ترتیب میں بٹھانے سے
ــ
ساتھ جڑوا نہیں جنا ہوں مَیں
خواب سے عمر میں بڑا ہوں مَیں
ــ
یہ بات تیرے لیے باعثِ ندامت ہے
میں تیرے ساتھ بھی اچھا نظر نہیں آتا
ــ
لواحقین کو میت بھی مل نہیں سکتی
میں مر گیا ہوں کسی داستان کے اندر
ــ
گِھرا رہتا تھا اُس کے مسترد کردہ زمانوں میں
وہ اپنے خارجی رستے، مِرے اندر اُٹھاتا تھا
ــ
باغ سے کتنا کشادہ ہے دریچہ اُس کا!
جس میں ہر پھول کا گلدان الگ ہوتا ہے
ــ
جوں ہی زنداں سے رہائ کا سَمے آتا ہے
تحفتاً پاؤں میں زنجیر مجھے ملتی ہے

میں جسے وقت پہ ہر بار ملا کرتا تھا
آج اُس شخص کی تاخیر مجھے ملتی ہے
ــ
مجھے بھی دیکھ میں تنہائ میں اکیلا ہوں
تمہارے پاس تو اُس شخص کی کمی بھی ہے

#اردو #شاعری #غزل

03/09/2026
03/09/2026

پس انداز : اسد فاطمی
پَیوند : شاہ زیب

سانجھ پبلی کیشنز لاہور

#اردوشاعری #غزل #کتاب

ہماری آنکھ کی آواز کو سن کر بناتے ہیں کئی اندھے یہاں پر خواب کے منظر بناتے ہیں فسردہ بستیوں میں اک طوائف کو مکاں دے کر ع...
02/09/2026

ہماری آنکھ کی آواز کو سن کر بناتے ہیں
کئی اندھے یہاں پر خواب کے منظر بناتے ہیں

فسردہ بستیوں میں اک طوائف کو مکاں دے کر
علاقے کے مکیں ماحول کو بہتر بناتے ہیں

بہت زرخیز لگتی ہیں محبت کی گزرگاہیں
مگر یہ راستے بھی جسم کو بنجر بناتے ہیں

ہوا مانی نہیں الٹا لڑائی پہ اتر آئی
چراغوں نے کہا تھا روشنی مل کر بناتے ہیں

ہمارے ہاتھ سے نعمت نہ چھن جائے اندھیرے کی
کہ ہم اس کی مدد سے رات کی چادر بناتے ہیں

سماعت کی ملاوٹ کا مزہ اپنی جگہ پر زیب
اشارے گفتگو کو کس قدر سندر بناتے ہیں

کتاب : پیوند
شاعر:شاہ زیب
انتخاب:ثناگل
Shah Zaib

لوگوں کو خودکشی سے بچانے والا نانجنگ کا فرشتہ — چن سی (Chen Si)—نہ وہ ڈاکٹر ہے، نہ ماہرِ نفسیات، نہ پولیس والا اور نہ ہی...
01/09/2026

لوگوں کو خودکشی سے بچانے والا نانجنگ کا فرشتہ — چن سی (Chen Si)

نہ وہ ڈاکٹر ہے، نہ ماہرِ نفسیات، نہ پولیس والا اور نہ ہی کسی سرکاری ریسکیو ادارے کا ملازم۔ مگر اس نے اپنی زندگی کے بیس سے زیادہ سال ایسے لوگوں کو بچانے میں گزار دیے جو اپنی زندگی ختم کرنے کے ارادے سے نانجنگ کے دریائے یانگسی کے پل پر آتے تھے۔
کہانی سن 2000 کے آس پاس شروع ہوئی، جب چن سی کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خودکشی کرنا چاہتی تھی۔ اس واقعے نے اسے اندر تک متاثر کیا۔ چند سال بعد اس نے باقاعدگی سے نانجنگ یانگسی ریور برج پر جانا شروع کردیا۔
وہ پل پر چلتا رہتا، لوگوں کے چہروں اور حرکات کو غور سے دیکھتا۔ برسوں کے تجربے نے اسے یہ پہچان سکھا دی کہ کون محض دریا دیکھنے آیا ہے اور کون زندگی سے ہار کر ریلنگ کے پاس کھڑا ہے۔
ایسا شخص دکھائی دیتا تو چن سی اس کے پاس جاتا۔
بات کرتا۔
اس کی کہانی سنتا۔
پوچھتا: آخر ہوا کیا ہے؟
کسی پر قرض تھا، کوئی محبت میں شکست کھا چکا تھا، کوئی بے روزگاری سے پریشان تھا، کسی کے گھر میں بیماری تھی۔ چن سی صرف یہ کہہ کر واپس نہیں آتا تھا کہ "زندگی بہت خوبصورت ہے۔" جہاں اس کے بس میں ہوتا، وہ ان کے اصل مسئلے میں بھی مدد کرنے کی کوشش کرتا۔
کئی مرتبہ اسے ریلنگ عبور کرچکے لوگوں کو پکڑ کر واپس کھینچنا پڑا۔
2024 تک شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق چن سی 469 لوگوں کو خودکشی سے بچا چکا تھا۔
اسے لوگ “Angel of Nanjing” — نانجنگ کا فرشتہ کہتے ہیں۔
شاید اس کہانی کی سب سے خوبصورت بات 469 کا عدد نہیں۔
بلکہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی نے اپنی زندگی کے بیس سے زیادہ سال یہ سوچتے ہوئے گزار دیے کہ کسی اجنبی کی زندگی بھی اتنی قیمتی ہے کہ اسے بچانے کے لیے اپنا وقت، اپنی توانائی اور اپنی محبت صرف کی جا سکتی ہے۔
کبھی کبھی کسی انسان کو زندگی میں واپس لانے کے لیے کوئی بہت بڑا فلسفہ نہیں چاہیے ہوتا۔
کبھی صرف ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو رُک کر پوچھ لے:
“بتاؤ، تمہارے ساتھ ہوا کیا ہے؟”

01/09/2026

❤️

Adresse

Paris

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Wowwords publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager