Makran Ehwal

Makran Ehwal Our Aim Is To Highlight The Local Issues Of Makran Impartially And Share The Updates Related To The Concernred Area

وہ یہودیوں کو مارنے آئے۔ انھیں گھسیٹ کر کنسنٹریشن سنٹرز میں ٹھونستے رہے۔۔ میں خاموش رہا، کیونکہ میں یہودی نہ تھا۔وہ کمیو...
08/05/2024

وہ یہودیوں کو مارنے آئے۔ انھیں گھسیٹ کر کنسنٹریشن سنٹرز میں ٹھونستے رہے۔۔
میں خاموش رہا، کیونکہ میں یہودی نہ تھا۔
وہ کمیونسٹوں کو مارتے رہے، میں نےکچھ نہیں کہا ۔ میں اپنی زندگی میں مگن رہا اور کمیونسٹوں کی روح دہلا دینے والی چیخیں میرے کانوں تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں
میں خاموش رہا کیونکہ میں کمیونسٹ نہیں تھا۔
انھوں نے پروٹسٹنٹ کو نشانہ بنا یا مگر میری معمولات زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اور
میں خاموش رہا کیونکہ میں پروٹسٹنٹ نہیں تھا۔
اور پھر ترقی پسند دانشوروں کی باری آئی۔ وہ چیختے چلاتے رہے۔
میں خاموش رہا ، کیونکہ میں ترقی پسند نہیں تھا۔
لیکن جب وہ مجھے مارنے آئے اور میں نےادھر ادھر دیکھا تو میرے لیے کوئی آواز اٹھانے والا بچا ہی نہیں تھا۔ اور میں مایوس و بے چارگی کی تصویر بن کر مار کھاتا رہا۔۔۔۔۔
منقول۔

 #بلیدہ زامران تیسرا  #کتب میلہ وعلمی اور ادبی فیسٹیول کی تیاریاں زور وشور سے جاری، مختلف اہم شخصیات پروگرام میں شرکت کر...
18/03/2022

#بلیدہ زامران تیسرا #کتب میلہ وعلمی اور ادبی فیسٹیول کی تیاریاں زور وشور سے جاری، مختلف اہم شخصیات پروگرام میں شرکت کریں گے

بلیدہ: بلیدہ زامران تیسرا سالانہ کتب میلہ وعلمی وادبی فیسٹیول کی تیاریاں زور وشور کیساتھ جاری ہیں، مختلف اہم علمی وادبی شخصیات شریک ہونگے، کلکشان ٹیم نے ڈائریکٹر عارف بلوچ کی سربراہی میں وفد نے تربت پریس کلب کے صدر طارق مسعود،سینئر صحافیوں مقبول ناصر، اسداللہ بلوچ، پلان خان، اور دیگر سے ملاقات کرکے کتب میلہ میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں مے قبول کرلیا۔اسی طرح کتب میلے میں تربت پریس کلب کے صدر ونامور صحافی طارق مسعود کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد بعنوان: میڈیا اور جدید سوشل میڈیا،عصر حاضر کےتقاضے" پر ہوگا جسکی میزبانی نوجوان ادیب و صحافی و کالم نگار مقبول ناصر سنبھالیں گے،اسی طرح ناموراستاد اور علمی اسکالر سرزاہد حسین سے ملاقات کرکے انہیں خصوصی طورپر دعوت دیا جنہوں نے دعوت قبول کیا،جبکہ اسی طرح پروگرام میں مکران کے مایہ ناز اسکالر واستاد اور سید ھاشمی اسکول تربت کے بانی سر زاہد حسین کیساتھ ایک خصوصی علمی نشست کا اہتمام کیاگیاہے جہاں سرزاہد حسین کیساتھ نامور صحافی وافسانہ نگار الطاف بلوچ میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ، ڈی ای او کیچ ،ڈائیرکٹر ایجوکیشن مکران ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ،ڈی ڈی ای او بلیدہ ،پرنسپل شہید ایوب بلیدئ ڈگری کالج بلیدہ اوربلیدہ زامران کے مختلف علمی اداروں واکیڈمیوں کے سربراہان کو دعوت دیا پروگرام میں دیگر علمی وادبی شخصیات کیساتھ نامور ادیب وشعراء استاد منیر مومن، نامور ماہر لسانیات ضیاء بلوچ، امیردوست، پزیزجی ایم، حافظ عطا آسکانی، عابدعلیم،ودیگر معروف شعراء شریک ہونگے۔

بلوچستان کے عظیم قوم پرست و قوم دوست رہنما  #ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ایک کار حادثے میں شہید ہوگیا ہے۔ موصوف ایک نڈر بےباک او...
25/02/2022

بلوچستان کے عظیم قوم پرست و قوم دوست رہنما #ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ایک کار حادثے میں شہید ہوگیا ہے۔

موصوف ایک نڈر بےباک اور ایک بہترین کردار کے انسان تھے اللہ پاک جنت میں اعلی مقام عطافرمائے۔آمین

 #رژن سکول #بلیدہرژن اسکول پچھلے کئی سالوں سے سر ظہور اور باقی استادوں کی دن رات کی محنتوں سے میناز میں بہتریں اور اعلی ...
24/02/2022

#رژن سکول
#بلیدہ

رژن اسکول پچھلے کئی سالوں سے سر ظہور اور باقی استادوں کی دن رات کی محنتوں سے میناز میں بہتریں اور اعلی تعلیم مہیا کر رہی ہے۔۔
رژن کے طالب علم میٹرک لیول میں آل ڈویژن اور پرووینس میں بہتریں نمبرون سے ٹاپ کر چکے ہے ۔۔
اور اس بار ایم-بی-بی-ایس میں دو سیٹ اپنے نام کر لیے ہیں اور kennedy lugar youth exchange program مین بھی ایک طالبہ سلکٹ ہو چکی ہے ۔۔

💚

20/01/2022
 #تربت ڈپٹی کمشنر تربت کی زیرِ صدارت اجلاستربت ڈپٹی کمشنرکیچ کی زیر صدارت ڈی ای سی کیچ کا اجلاس،منداوردشت میں چند سکولوں...
13/01/2022

#تربت
ڈپٹی کمشنر تربت کی زیرِ صدارت اجلاس

تربت ڈپٹی کمشنرکیچ کی زیر صدارت ڈی ای سی کیچ کا اجلاس،منداوردشت میں چند سکولوں کی غیرفعالی اور دشت سمیت ضلع کیچ میں ٹیچرزکی غیرحاضری کا نوٹس،تنخواہیں بندکرکے کارروائی کا حکم،ٹیچرزکی اٹیچمنٹ غیرقانونی ہے فوری ختم کی جائیں،ٹیچرزکی غیرحاضری پر قطعابرداشت نہیں،افسران سکولوں کا دورہ کرکے 20جنوری تک رپورٹ پیش کریں*۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کیچ کا اجلاس بروز بدھ زیر صدارت کمیٹی کے چیئرمین اورڈپٹی کمشنرکیچ حسین جان بلوچ منعقد ہوئی۔ *اجلاس میں علاقے کا نمائندہ اورصوبائی مشیرپی ایچ ای لالہ رشید دشتی ، ڈی ای او کیچ عبدالغفوردشتی،ڈپٹی ڈی ای او تربت حاجی اخترایاز،ڈپٹی ڈی ای اوزشیرجان دشتی، ممتازبلوچ،ہوتی خان،محمدکریم، آرٹی ایس ایم کیچ کے ڈسٹرکٹ کوآرڈنیٹرحلیم بلوچ، ڈی ای او فیمیل شائستہ حاصل،ڈپٹی ڈی ای اوتربت جنت عزیز،ڈپٹی ڈی ای او مہوش بلوچسمیت میل وفیمل افسران اوراورڈسٹرکٹ خزانہ آفیسرصدام بلوچ موجود تھے۔* اجلاس میں ضلع کیچ کےتعلیمی صورتحال اورٹیچرزکی غیر حاضری پر گفت وشنید ہوئی ۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرحسین جان بلوچ نے کہاکہ وسائل اورسہولیات کی کمی ہے،لیکن جن علاقوں کے اسٹوڈنٹس سکول میں آتے ہیں وہاں ٹیچرز پڑھانے کیلئےموجود نہ ہوں یہ تشویشناک عمل ہے،انہوں نے کہاکہ آر ٹی ایس ایم کے دسمبرکی رپورٹ کے مطابق 156سکولوں میں 46 ٹیچرزغیرحاضرہیں،جبکہ مند اوردشت میں کچھ پرائمری ومڈل سکولز بند ہیں،دشت ومند سمیت ضلع میں ٹیچرزکی غیرحاضریوں کی رپورٹ مل رہی ہے ،لیکن محکمہ تعلیم کے 72مانیٹرنگ آفیسرزوسپروائزرہیں دورہ نہیں کرتے ہیں ،جس سے مسائل اورغیرحاضریاں بڑھ رہے ہیں ،اگرملازمین کی تنخواہوں کی بندش اورکٹوتی کا عمل شروع کیاجائے تمام ٹیچرزاپنے اپنے سکولوں میں حاضر ہوتے ہیں ،انہوں نے ڈی ڈی او کیچ اورڈی ای او فیمیل کو تاکید کی وہ اوردیگرذمہ داران کوسکولوں کے دوروں پر بھیجیں 20جنوری تک دوروں اورغیرحاضریوں کی رپورٹ مجھے فراہم کریں تاکہ رپورٹ کی روشنی میں غیرحاضرٹیچرزکے خلاف کارروائی کی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ سیکرٹری تعلیم اورڈائریکٹرتعلیم نے ٹیچرزکی اٹچیمنٹ ختم کردی ہے اسلئے ضلع کیچ میں جو بھی دیگراسکولوں میں اٹیچ ہے انکی اٹیچمنٹ کینسل کیئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ سکولوں کے کلسٹربجٹ بہتراستعمال کرنے کیلئے انسپیکشن ٹیم تشکیل دی جائیں اسسٹنٹ کمشنر چیئرمین،تحصیلدار،آرٹی ایس ایم،تعلیمی آفیسرممبران ہونگے تاکہ جو سامان خریدی جارہی ہیں وہ ناقص نہ ہوں اگر سامان معیاری نہ ہوئے یا بجٹ مکمل خرچ نہ کی گئی تو کیس اینٹی کرپشن میں بھی دونگا۔انہوں نے کہاکہ ضلع کیچ کے تعلیمی اداروں کیلئے پانچ کروڑ روپے ملے ہیں ،جن اسکولوں کی حالت بہترکراناہے ڈی ای او میل،ڈی ای او فیمیل اورڈپٹی ڈی ای اوزملکر پروپوزل بناکردیں۔ اس موقع پر علاقے کا نمائندہ اورصوبائی مشیر پی ایچ ای لالہ #رشیددشتی نے کہاکہ تحصیل دشت کے جلابانی، بند، چیری کنچتی، گوراگ باغ،کسر بازارسمیت مختلف علاقوں کے سکول بند اورٹیچرزکی غیرحاضریاں ہیں،اسلئے ایسی میکنزم بناکر ہمیں اورسیکرٹری تعلیم کو سفارش کیا جائے کہ بھرتی کا نظام نرم کرکے مقامی لوگ اپنے اپنے سکولوں میں بھرتی ہوسکیں دوسرے علاقوں وتحصیل کے ٹیچرز زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتے ہیں یا بی ایریا میں ٹیچرزکیلئے رہائشی کوآرٹرزتعمیر کرانے کی سفارش کریں۔

 #سردار اختر مینگل
13/01/2022

#سردار اختر مینگل

13/01/2022

*بلوچستان کے صحافیوں کا اجلاس بلوچستان یونین آف جرنلسٹ (حقیقی) کے قیام کا فیصلہ*

بلوچستان بھر کے نوجوان صحافیوں کا اجلاس زیر صدارت محمد اقبال مینگل ہوا جس میں صوبے بھر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اجلاس میں بلوچستان بھر میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے صحافیوں کیلئے ایسی مشترکہ تنظیم بنائی جائے جس میں گوادر سے لیکر ژوب تک تمام صحافیوں کو بلا امتیاز نمائندگی حاصل ہو اجلاس میں صوبے بھر سے شریک صحافیوں نے اپنے اضلاع میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا کہ وہ کس طرح مشکل حالات میں رہتے ہوئے رپورٹنگ کررہے ہیں لیکن جب ان پر مشکل آتی ہے تو وہ خود کو تنہا پاتے ہیں اور ان کی مدد کیلئے کوئی نہیں ہوتا اور بلوچستان میں شہداء صحافت جو صحافت کے عظیم مشن کی ادائیگی کے دوران لقمہ اجل بن گئے ان میں سے زیادہ تر بلوچستان کے اندرونی اضلاع سے ہیں جبکہ ان کی صوبائی سطح پر صحافیوں کی نمائندہ تھی اور نہ ہی علاقائی سطح پر، اور نہ ہی ایسا کوئی اقدام اٹھایا گیا جس کا تقاضا اس وقت حالات نے کئے رکھا تھا اجلاس میں صحافت کے نام پر قابض صحافیوں کے کردار پر بھی بات کی گئی کہ کیسے وہ اپنی نا اہلی چھپانے کیلئے بلوچستان کے عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور عوامی مجالس اور سیمینارز میں اپنی کوتاہی چھپانے کیلئے اکثر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہ تو خبر فائل کرتے ہیں لیکن ان کے اداروں کی نظر میں بلوچستان کے مسائل اور خبروں کی اہمیت نہیں ہے اس وجہ سے وہ خبریں شائع نہیں کرتے جو کہ حقائق سے راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا کے حالات جن میں سوشل میڈیا سر فہرست ہے کے آنے کے بعد صحافت سوشل میڈیا پر عملاً منتقل ہو چکی ہے جس میں ملک بھر کے ٹی وی چینلز کا فیس بک اور یو ٹیوب پر اپنے بیجز بنا نا واضح دلیل ہے جبکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو خبریں اور دیگر مواد ارسال کرنے کیلئے ان کے نمائندے موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں آج کی ڈیجیٹل دنیا میں پاکستان کے صف اول کے صحافیوں کی مثال لی جاسکتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چاہیے وہ ٹوئٹر،فیس بک،یوٹیوب ،واٹس ایپ پر انتہائی متحرک ہیں جبکہ بلو چستان میں ڈمی کردار اور صحافت پر قابض لوگوں کے جو استعداد کار سے محروم ہیں ان میں سے اکثریت کے سوشل میڈیا پر اکاونٹ نہیں ہیں اگر ہیں بھی تو کسی کے 20کسی کے 30فالورز ہیں جو کہ ان کی نااہلی کو آشکار کرتے ہیں جبکہ ایک مقامی صحافی تو ٹوئٹر پر باقاعدہ غیر اخلاقی مواد لائک کر چکے ہیں جبکہ ان کی یہی حالت فیس بک کے اپنے اکائونٹ اور پیجز پر ہے اور نہ ہی کوئی ان کے بقول اپنے ادارے کو رپورٹ کی گئی خبر یا اسٹوری شیئر ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح کہ مردانہ وار صحافت کرتے ہوئے جی ٹی وی کی بیوروچیف محترمہ بشریٰ کا ایکٹیو فیس بک اکاونٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ درحقیقت گرائونڈ پر کام کرتی ہیں جہاں صحافی اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنی مرضی سے ہر چیز شیئر کرسکتا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کااظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں صحافت اب عملاً نوجوان اورپڑھے لکھے نوجوان صحافیوں نے صوبے کا حقیقی مقدمہ لڑنے کیلئے منتقل کر لی ہے بلو چستان کی عوام کا حقیقی مقدمہ صحیح معنوں میں ان صحافیوں کی اس نوجوان قیادت نے سوشل میڈیا پر لڑا ہے اور ڈیجٹیل اور باقی پلیٹ فارمز پر اپنا لوہا منوا یا ہے۔
اجلاس میں اس بات پرا فسوس کااظہار کیا گیا کہ مین اسٹریم میڈیا جہاں بلوچستان کے مسائل کو کوریج نہیں دیتا وہیں اس کی ایک بنیادی وجہ یہاں مقامی ڈمی صحافیوں کا وجود ہے جو کہ عوامی مسائل پر اپنا منہ بند رکھے ہوئے ہیں اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور یہ وہ ستون ہے جس نے باقی تین ستونوں کی کارکردگی بھی عوام کو پہنچانی ہوتی ہے صحا فی کو کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور زبان کہا جاتا ہے لہٰذا بطور صحا فی ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم وہ بولیں اور وہ لکھیں جو معاشرے کی عکاسی ہے اس سلسلے میں باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (حقیقی )کے نام سے نوجوان صحافیوں کیلئے صوبے بھر کیلئے ایک تنظیم بنائی جائے بی یو جے حقیقی پورے بلوچستان کی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ہوگی جس کا وجود صرف کوئٹہ تک محدود نہیں ہوگا اور اس تنظیم کا دائرہ پورے بلوچستان تک پھیلا ہو گا مقصد جہاں صحافیوں کے حقوق کا دفاع کرنا ہوگا وہیں پر ڈمی کردار صحافت کو بھی صوبے سے ختم کرنا ہوگا اورصحافیوں کو اتنا با اختیار کیا جائے گا کہ وہ بغیر کسی ڈر وخوف کے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، کسی بھی رکاوٹ اور مشکلات کا مل کر مقابلہ کریں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بی یو جے حقیقی کا پیج بنا کر صوبے بھر کے صحافیوں کی رپورٹنگ کو شیئر کیا جائے گا صحافی جس کا کسی بھی نظریے سوچ یا فکر سے تعلق ہوگا یہ اس کی ذاتی سوچ ہو گی کسی کو پابند نہیں کیا جائے گا کہ وہ کسی کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہے۔ بلوچستان کے صحافیوں کے حقوق کی جنگ ہر فورم پر لڑی جائے گی اور اس کا اثر صوبے بھر میں دکھائی دے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون وآئین کے اندر رہتے ہوئے صحافیوں کی بقاء اور قابض ٹولے کا بھر پور مقابلہ کرنے کیلئے ہر راستہ اختیار کیا جائے گا جو کہ قانون وآئین کے مطابق ہوگا اور فیصلہ کیا گیا کہ صو بے بھر کے پریس کلبوں کا دورہ کرکے صحافیوں کے حقیقی مسائل کو قریب سے سنا جائے گا اور وہاں سے ایک براہ راست سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا نقطہ نظر اور مسائل عوام کے ساتھ شیئر کئے جائینگے بلوچستان کے صحافیوں کے مسائل کی نشاندہی کر کے ان کے حل کی طرف جایا جائے گا صحافیوں کے نام پر لی گئی رقوم ،مراعات کے احتساب اور اس کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرانے کیلئے متعلقہ فورمز سے تحریری طور پر رابطہ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں بہت جلد ایک وفد اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر صوبوں کے دورے کر کے وہاں کے صحافیوں کو بلوچستان میں صحافت کے نام پر ڈاکہ ڈالنے کے خلاف دستیاب شواہد کے ساتھ ثبوت فراہم کئے جائینگے اور ان کو بتا یا جائے گا کہ یہاں آزاد صحافت کو یرغمال بنا یا گیا ہے اور اس آڑ میں بڑے مفادات لئے جارہے ہیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صحافیوں سے مطالبہ کیا جائے گاکہ وہ اپنے اثاثے پبلک کر دیں اور ان کے بینک اکائونٹ میں رقوم کہاں سے اور کس طرح آئیں۔ کیونکہ جب تک صحافی خود کو جوابدہ نہیں رکھیں گے تب تک وہ کسی اور کا احتساب نہیں کرسکتے اجلاس میں اس بات پر حیرت کااظہار کیا گیا کہ اس وقت میدان میں صف اول کے مجاہد کے طور پر سوشل میڈیا کا تواتر سے استعمال کرنے والے صحافی رہے ہیں یعنی ہل ہم چلائیں، بیج ہم بوئیں،پانی ہم دیں اور فصل کوئی اور لے جائیں یہی کچھ ہمارے نام پر یہاں صحافت پر قابض ٹولہ کررہا ہے آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈمی کردار صحافیوں پر جو بھی الزامات ہیں ان کے متعلق ایک وائٹ پیپر کھلے خط کی شکل میں شائع کر کے عوام کو آگاہ کیا جائے اور ان سے جواب طلب کیا جائے گا کہ عوامی مفاد گروی رکھواتے ہوئے سائیکل سے وزیر اعلیٰ کے جہازوں تک سفر کرنے والے اور جائیدادیں کہاں سے بنائیں۔

12/01/2022

#پنجگور /

پنجگور کی ممتاز سیاسی وسماجی اورکاروبای شخصیت حاجی عبد الغنی بلوچ نے مولانا ہدایت الرحمن کی بلوچستان کو حق دو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور پنجگور کے عوام سے اپیل کی کہ وہ مولانا ہدایت الرحمن کا شاندار اور تاریخی استقبال کرکے حق دو تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں مولانا مظلوموں کا ساتھی ہے اور بلوچستان کے لیے موثر آواز بھی حاجی عبد الغنی بلوچ نےمذید کہا کہ بلوچستان حق دو تحریک کے سربراہ غریب اور مظلوم لوگوں کا ساتھی مولانا ہدایت الرحمن پنجگور والوں کا مہمان بن کر آرہے ہیں اور پنجگور آمد پر میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں حاجی عبدالغنی بلو چ نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن ایک مخلص اور سنجیدہ سیاسی شخصیت ہیں جس طرح حق دو تحریک کے زریعے انہوں نے مظلوم اور سماجی تفریق کے شکار افراد کی نمائندگی کرکے انکی آواز کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچایا ہے وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے بلوچستان کے عوام حق دو تحریک کو امید کی ایک کرن سمجھتے ہیں جس کی قیادت مولانا ہدایت الرحمن جیسے نڈر بہادر مخلص اور ہمدرد انسان کررہے ہیں پنجگور کے عوام کو چائیے کہ وہ مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں اور انکی تحریک جو محروم اور زیادتیوں کے شکار مفلوق الحال لوگوں کے حقوق کی بحالی کے لیے ہے اس کی بھرپور انداز میں تائید اور حمایت کریں انہوں نے پنجگور کے عوام سے اپیل کی کہ وہ مولانا کا فقید المثال استقبال کرکے ریلی اور جلسہ عام میں بھرپورشرکت کریں انہوں نے کہا کہ مولانا کی تحریک ہم سب کے لیے ہے عوام تحریک کو مظبوط اور موثر بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں اور جب ہم سب اکھٹے ہوکر آواز اٹھائیں گے تب جاکر ہمارے مسائل حل ہونگے

Adresse

1136 Rue De Gautray
Saint-Cyr-en-Val
45590

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Makran Ehwal publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Contacter L'entreprise

Envoyer un message à Makran Ehwal:

Partager