Awaz e Kashmir

Awaz e Kashmir Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awaz e Kashmir, Digital creator, Ashton-under-Lyne.

"آوازِ کشمیر – جہاں ہر خبر کی گونج سچائی کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔ تازہ ترین خبریں، گہرا تجزیہ، اور وہ پہلو جو اکثر نظر انداز ہوتے ہیں۔ جُڑیں اور جانیں اصل کہانی!"

10/06/2026

کیا کشمیری واقعی پاکستان کا کھاتے ہیں؟

کبھی کبھی سوشل میڈیا پر کچھ لوگ بڑے اعتماد سے لکھتے ہیں کہ "کشمیری پاکستان کا کھاتے ہیں"۔ یہ جملہ نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ حقائق کے بھی خلاف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ کسی دینے والے اور لینے والے کا نہیں بلکہ ایک جسم اور روح کا رشتہ ہے۔ اگر انصاف کے ساتھ اعداد و شمار دیکھے جائیں تو آزاد کشمیر پاکستان کی معیشت، توانائی اور زرمبادلہ میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سب سے پہلے بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو دیکھتے ہیں۔ برطانیہ، یورپ، خلیجی ممالک اور دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد کشمیری آباد ہیں۔ مختلف معاشی تخمینوں کے مطابق ان کی ترسیلاتِ زر سالانہ تقریباً 1.5 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان بنتی ہیں، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 420 سے 840 ارب روپے سالانہ بنتی ہیں۔ یہ زرمبادلہ پاکستان کے فارن ایکسچینج ذخائر کو مضبوط کرتا ہے اور ملکی معیشت کا اہم سہارا ہے۔

پھر آزاد کشمیر کے دریاؤں کو دیکھیں۔ منگلا ڈیم، نیلم جہلم اور دیگر منصوبوں سے سالانہ تقریباً 10 سے 11 ارب یونٹ بجلی قومی نظام میں شامل ہوتی ہے۔ اس بجلی کی معاشی قدر تقریباً 150 سے 220 ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔ یہ وہ توانائی ہے جس سے پاکستان کے گھر روشن ہوتے ہیں، صنعتیں چلتی ہیں اور معیشت کا پہیہ گھومتا ہے۔

آزاد کشمیر کے موجودہ بجٹ میں صرف اندرونی محصولات (Inland Revenue) کی مد میں تقریباً 85 ارب روپے سالانہ آمدن ظاہر کی گئی ہے، جبکہ بجلی کے شعبے سے تقریباً 19.58 ارب روپے آمدن شامل ہے۔ جنگلات، معدنیات، سیاحت اور دیگر ذرائع سے بھی کروڑوں اور اربوں روپے کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔

اگر صرف ان شعبوں کو جمع کیا جائے تو آزاد کشمیر سے وابستہ سالانہ معاشی سرگرمی کا حجم تقریباً 700 ارب سے 1.2 کھرب روپے تک بنتا ہے۔

اب ایک اور دلچسپ حقیقت دیکھیے۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 سال میں خیبر پختونخوا کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں تقریباً 216 ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ آزاد کشمیر کو صرف 6.4 ارب روپے ملے۔

اگر منگلا اور نیلم جہلم کے لیے بھی وہی اصول اور تناسب پوری طرح لاگو کیا جائے جو بڑے ہائیڈل منصوبوں کے لیے استعمال ہوتا ہے تو بہت سے ماہرین کے اندازوں کے مطابق آزاد کشمیر کا سالانہ حصہ موجودہ ادائیگیوں سے کئی گنا زیادہ بن سکتا ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود کشمیری پاکستان کے ساتھ حساب نہیں کرتے۔

وہ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے دریاؤں کی قیمت ادا کرو۔

وہ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے زرمبادلہ کا حساب دو۔

وہ یہ نہیں کہتے کہ ہماری بجلی کا پورا معاوضہ دو۔

کیونکہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ منافع اور نقصان کا نہیں، محبت، قربانی اور مشترکہ شناخت کا رشتہ ہے۔

ہم پاکستان سے الگ کوئی قوم نہیں سمجھتے۔ پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری امید ہے اور ہمارے دلوں کے قریب ہے۔

اس لیے جب کوئی کہتا ہے کہ "کشمیری پاکستان کا کھاتے ہیں" تو جواب غصے میں نہیں بلکہ محبت سے دینا چاہیے:

"بھائی! اگر حساب کتاب کھولنا پڑ جائے تو شاید دونوں طرف بہت کچھ نکل آئے، لیکن ہم حساب نہیں کرتے۔ کیونکہ پاکستان ہمارا ہے، ہم پاکستان کے ہیں، اور اپنے گھر والوں سے حساب نہیں کیا جاتا۔"

10/06/2026

جو پاکستان سے دوست کل سے شور مچا رہے ہیں کہ کشمیر کو بہت کچھ مل رہا ہے وہ صرف یہ دیکھ لیں۔
پھر بھی اہم بات ہمارا احتجاج پاکستان کے خلاف نہی آزاد کشمیر میں طرز حکمرانی کے خلاف ہے
ہم کشمیر حکومت سے اپنا حق مانگ رہے ہیں
پاکستان ہمارا ہے ہم پاکستانی ہیں
ہم ایک سادہ اور منصفانہ تناسبی حساب کریں، تو تصویرو کچھ یوں بنتی ہے:
آزاد کشمیر کی بڑی ہائیڈل پیداوار (منگلا + نیلم جہلم + دیگر) تقریباً 10 تا 11 ارب یونٹ سالانہ سمجھی جاتی ہے۔
تربیلا کی سالانہ پیداوار عموماً 15 تا 18 ارب یونٹ کے درمیان رہتی ہے۔
یعنی آزاد کشمیر کی مجموعی ہائیڈل پیداوار تربیلا کے تقریباً 60–70٪ کے برابر بنتی ہے۔
اب اگر KP کے لیے زیر بحث NHP کی رقم 100 ارب روپے سالانہ فرض کی جائے تو اسی تناسب سے آزاد کشمیر کا حصہ تقریباً:
60٪ پر: 60 ارب روپے سالانہ
70٪ پر: 70 ارب روپے سالانہ
بنتا ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف سرکاری اور پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 سال میں:
KP کو تقریباً 216 ارب روپے
آزاد کشمیر کو صرف 6.4 ارب روپے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں ادا کیے گئے۔ �

09/06/2026

مارچ میں شرکت کرنے والے تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس فیصلہ کن موڑ پر چند اصول ضرور اپنائیں۔

اپنے علاقے، محلے یا گاؤں کے لوگوں کے ساتھ منسلک رہیں، عوام میں گل ملنے کے بجائے اپنے پہچان کے لوگوں کیساتھ رہیں۔۔
پانی کی بوتل لازماً ساتھ رکھیں۔
شیلنگ کی صورت میں ماسک، رومال یا گیلا کپڑا استعمال کریں اور ہوا کے رخ کے مخالف سمت میں استعمال کریں۔
اپنے موبائل فون کو چارج رکھیں اور اہم نمبرز محفوظ کرلیں۔ اہم نمبر علاقے کے زمہ داران ، ایکشن کمیٹی کے زمہ داران جن کے ساتھ آپ مارچ میں آئے ہیں۔
بزرگوں اور کا خصوصی خیال رکھیں۔
کسی بھی افواہ یا غیر مصدقہ اطلاع پر یقین نہ کریں، صرف ذمہ دار ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ پروپگنڈے سے ہر دو صورتوں میں بچنے کی کوشش کریں۔
نظم و ضبط برقرار رکھیں اور طے شدہ قیادت یا منتظمین کی ہدایات پر عمل کریں۔
ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور کسی ساتھی کو تنہا نہ چھوڑیں۔
اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور ہر حال میں پرامن رہیں۔
اپنے ساتھ ہلکا پھلکا کھانا، ضروری ادویات اور بنیادی ضروریات کی اشیاء رکھیں۔ جیسے خشک میوہ جات ، چنے ، کجھوریں
یاد رکھیں۔ کسی بھی اجتماعی جدوجہد کی اصل طاقت اس کے لوگوں کا اتحاد، نظم و ضبط، صبر اور باہمی تعاون ہوتا ہے۔ اپنے مقصد، اپنے ساتھیوں اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور ہر حال میں پُرامن منظم اور باوقار رہیں۔یہی رویہ کسی بھی مارچ کو مضبوط اور مؤثر بناتا ہے۔
مشکوک افراد کی صورت میں زمہ داران کو اطلاع کریں۔

پیچھے دیکھو پیچھے یہ دگڑ دلا ہے جو کشمیریوں کو منگتے کہ رہا ہے اس دگڑ دلے پر لعنت ڈال کر شہر کرو۔
09/06/2026

پیچھے دیکھو پیچھے یہ دگڑ دلا ہے جو کشمیریوں کو منگتے کہ رہا ہے اس دگڑ دلے پر لعنت ڈال کر شہر کرو۔

09/06/2026

حکومت نے جو ایک کروڑ کا اعلان کیا ہے یہ پیسہ ان کے باپ کا ہے ریاست کا پیسہ ہے ریاست کا۔

09/06/2026

مستری بھی سن لے مزدور بھی سن لے
عاصم بھی سن لے شہباز بھی سن لے
53 کا ٹولہ بھی سن لے
اکیلا ممتاز بھی سن لے
آئی جی بھی سن لے
رینجر بھی سن لے
یہ کشمیر ہے مر جائیں گے کشمیری لیکن پیچھے نہی ہٹیں گے ۔۔

09/06/2026

کشمیریوں کے قاتل ای جی کو فل فور کشمیر بدر کیا جائے کشمیر کشمیریوں کا ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہی۔
#کشمیری

09/06/2026

کشمیریوں یہ جنگ تم جیت کے رہو گے
لٹیروں کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔۔

09/06/2026

رولاکوٹ کے مناظر

کشمیر شہ رگ نہی چراگاہ ہے ان کیلے یہ صرف وسائل لوٹنے آتے ہیں ان معصوم لوگوں کا کیا قصور تھا۔۔۔
09/06/2026

کشمیر شہ رگ نہی چراگاہ ہے ان کیلے یہ صرف وسائل لوٹنے آتے ہیں ان معصوم لوگوں کا کیا قصور تھا۔۔۔

Address

Ashton-under-Lyne
OL69HN

Telephone

+923127373337

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaz e Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share