17/09/2026
⭐️⭐️ فنِ شعر خوانی کا عظیم فنکار ⭐️⭐️
چودھری محمد اکرم — فنِ شیرخوانی کا درخشاں ستارہ
کہتے ہیں کہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اشک بار آتا ہے۔ وہ روتے ہوئے آنکھ کھولتا ہے، جبکہ عزیز و اقارب اس کی آمد پر خوشیاں مناتے اور مبارک باد دیتے ہیں۔ مگر زندگی کی اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان اپنا سفر اس انداز سے طے کرے کہ جب واپسی کا وقت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ ہو اور زمانہ اس کی جدائی پر اشک بار ہو۔
چوہدری محمد اکرم کی زندگی بھی اسی قول کی ایک جیتی جاگتی تصویر تھی۔
آسمانِ شعرخوانی کا یہ درخشاں ستارہ، چودھری اعظم خان کے گھر، سنہ 1944ء میں مانکیالہ، نزد ساگری، میں طلوع ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے دنوں ہی سے ان کی آواز میں ایک ایسی کشش تھی جو دوسروں سے ممتاز تھی۔ چوتھی جماعت میں زیرِ تعلیم تھے تو جماعت میں آوازیں لگایا کرتے تھے۔ استاد اُن کی اس حرکت کو پسند نہیں کرتے تھے، مگر ساگری اسکول کے اُس سادہ مزاج استاد کو کیا معلوم تھا کہ جس آواز کو وہ محض ایک شرارت سمجھ رہے ہیں، وہی آواز مستقبل میں ہزاروں دلوں کی ترجمان بننے والی ہے۔
چوتھی جماعت میں لیاقت اُن کے ہم جماعت اور قریبی دوست تھے۔ انہی کے توسط سے ننھے اکرم کو استاد رحم علی نوشاہی کی خدمت میں جانے کا موقع ملا۔ مردم شناس استاد نے اس بچے کے اندر چھپی ہوئی غیر معمولی صلاحیت کو فوراً پہچان لیا۔ انہوں نے چوہدری اکرم کی سرپرستی فرمائی، رہنمائی کی اور اپنی محفلوں میں شعر پڑھنے کا موقع دینا شروع کیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس سفر کا آغاز ہوا، جو آگے چل کر ایک عظیم فنکار کی پہچان بنا۔
کچھ عرصے بعد استادِ محترم اپنے اس ہونہار شاگرد کو اپنے مرشدِ قلندرِ دوراں، حضرت عربی شاہ قلندر کی خدمت میں لے گئے۔ استاد کے ہمراہ ننھے چوہدری اکرم نے جب اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا تو مردِ قلندر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے محبت سے ہونہار بچے کی کمر تھپتھپائی، داد دی اور فرمایا:
"ارے! یہ تو ہمارا چھوٹا خوشحال ہے!"
یہ واقعہ سنہ 1958ء کا ہے، جب چوہدری اکرم کی عمر محض چودہ برس تھی۔
اس کے بعد 1968ء سے 2000ء تک وہ فنِ شعرخوانی میں مسلسل بلندیوں کو چھوتے رہے۔ انہیں نصرتِ پوٹھوہار، فخرِ پوٹھوہار اور پروفیسرِ موسیقی جیسے خطابات سے نوازا گیا۔
چوہدری محمد اکرم درحقیقت وہ عظیم شیرخوان تھے جنہوں نے فنِ شعرخوانی کو نئی بلندیوں سے آشنا کیا۔ انہوں نے اس فن کو ایک محدود طبقے کی محفلوں سے نکال کر عوام الناس تک پہنچایا اور اسے وسیع عوامی مقبولیت عطا کی۔
ان کا کمال یہ تھا کہ وہ استاد شعراء کا پختہ کلام ایسے حسنِ ادا اور مؤثر انداز سے پیش کرتے کہ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی فنِ شیرخوانی کا قدردان بن گیا۔ یوں چوہدری محمد اکرم نہ صرف ایک عظیم فنکار تھے بلکہ فنِ شعرخوانی کو عوامی اور ادبی وقار عطا کرنے والی ایک عہد ساز شخصیت بھی تھے۔
اور پھر وہ دن بھی آیا جب یہ درخشاں ستارہ افقِ حیات سے غروب ہو گیا۔
چار فروری سنہ 2000ء کی وہ شام آج بھی اُن کے چاہنے والوں کے لیے ایک دردناک یاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کی وفات کی خبر پھیلی تو کشمیر سے لے کر ملک کے مختلف حصوں تک اُن کے عقیدت مند جوق در جوق اُن کے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ گاڑیوں، کاروانوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں، ہر سمت سے آنے والے انسانوں کا ہجوم اور ہر چہرے پر غم—یہ سب اُن کی عوامی مقبولیت کی ایسی گواہی تھی جس کے لیے کسی سند یا لفظ کی ضرورت نہیں تھی۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ میں تاحدِ نگاہ انسانوں کا سیلاب دکھائی دیتا تھا۔ علماء، فضلاء، مشائخ، شعراء، شعرخوان اور عوام الناس سب اپنے اپنے انداز میں اس عظیم فنکار کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔
اُس روز ایک حقیقت پوری طرح آشکار تھی:
چوہدری محمد اکرم رخصت ہو گئے تھے، مگر اُن کی آواز، اُن کا فن اور اُن کی یاد لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو چکی تھی۔
شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی اُس کے سانسوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اُن دلوں میں ہوتی ہے جن میں اُس کی یاد زندہ رہے۔
چوہدری محمد اکرم جسمانی طور پر رخصت ہو گئے، مگر فنِ شعرخوانی کی تاریخ میں اُن کا نام آج بھی ایک روشن حوالہ ہے۔
Pothohari Behtak