27/09/2026
راجہ زر ( وفات 10 جنوری 2013 )
راجہ زر منجوٹھہ نزد بیول کہ رہائشی تھے ۔ گھکڑ کسوال فیملی سے تعلق تھا۔سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم بزرگ حضرت میاں محمد بخش علیہ الرحمہ کے سلسلہ کے عظیم صوفی بزرگ میاں بدوح کا مزار اقدس با مقام منجوٹھہ مرجع خلائق ہے ۔ راجہ محمد زر کے آباؤاجداد اجداد آپ کے خادمین میں سے تھے مزار شریف کے احاطے میں وسیع و عریض قطعہ آراضی راجہ صاحب کے ہی خاندان سے مختص کر رکھا تھا۔ راجہ محمد زر کی طبیعت پر صوفیانہ رحجان اس پس منظر کا نتیجہ تھا۔ شعر خوانی اور مداح سرائی کا ذوق اسی در سے ملا۔ انہوں نے شعر خوانی کے فن کو باقاعدہ طور پر اپنے ہی گاؤں کے بزرگ فضل حسین سے سکیھا ۔ استاد ساہیں رحم علی نوشاہی سے بھی استفادہ کیا ۔ راجہ محمد زر اپنے وقت کے بہترین شعر خوان تھے۔ اپنے معاصرین شعر خوانوں کے ساتھ بزم آرائی کی ۔ لیکن راجہ محمد زر دنیائے شعر خوانی کے بے زر شعر خوان تھے ۔ زندگی بھر شعر خوانی کی مد میں ایک روپیہ نہ لیا ۔ اپنے ذوق کی تکمیل کے لیے دور دراز پروگرام کے لیے جاتے اخراجات اور سازندوں کی خدمت اپنی جیب سے کرتے ۔ ان کے لخت جگر راجہ قمر بھی بہت گُرسُر والے شعر خوان ہیں ۔ لیکن اب وہ بھی شعرخوانی کو خیر آباد کہہ چکے ہیں ۔ 10 جنوری 2013 کو یہ بے لوث شعر خوان راجہ محمد زر خالق حقیقی سے جا ملا۔ اللہ کریم راجہ محمد زر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے امین ۔
ماخذ، پوٹھوہار میں فن شعر خوانی