05/09/2026
تنویر الیاس کی ہاوسنگ سوسائٹی تاج ریزیڈینشیا متاثرین کا احتجاج شدت اختیار کر گیا
6، 7 سال پہلے پلاٹوں کی فائلیں خریدنے والے سیکڑوں متاثرین آج بھی اپنے حق کے منتظر — رقم واپسی یا پلاٹس کی فراہمی کا مطالبہ
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس سے منسوب ہاؤسنگ سوسائٹی تاج ریزیڈینشیا کے متاثرین کئی سال گزرنے کے باوجود اپنے پلاٹس اور جمع شدہ رقوم کے حصول کے لیے دربدر ہیں۔
متاثرین کے مطابق انہوں نے تقریباً 6 سے 7 سال قبل اقساط پر پلاٹوں کی فائلیں خریدیں، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ پلاٹس مل سکے اور نہ ہی ان کی سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے آ سکی۔
متاثرین نے بتایا کہ دسمبر 2025ء سے سردار تنویر الیاس اور متعلقہ انتظامیہ سے متعدد ملاقاتیں کی گئیں، جبکہ اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کے بلیو ایریا میں سردار پلازہ کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا۔
صورتحال نے اس وقت مزید سنگین رخ اختیار کیا جب مئی 2026ء میں متاثرین نے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA) سے رجوع کیا۔ متاثرین کے مطابق RDA نے اپنی ویب سائٹ پر تاج ریزیڈینشیا کے Cosmos، Lotus اور Blue Bell بلاکس کو غیر قانونی قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق 14 مئی 2026ء کو RDA کی جانب سے تاج ریزیڈینشیا کے مالک سردار تنویر الیاس کو باقاعدہ خط بھی ارسال کیا گیا، جبکہ اس خط کی نقول SNGPL، IESCO، PTCL، FIA اور NAB سمیت متعلقہ اداروں کو بھی ضروری کارروائی کے لیے بھجوائی گئیں۔
معاملہ اب قومی احتساب بیورو (NAB) تک بھی پہنچ چکا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ 2 جولائی 2026ء سے ہر ماہ NAB راولپنڈی کی کھلی کچہری میں مسلسل شرکت کر رہے ہیں اور اپنی شکایات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
3 ستمبر 2026ء کو ہونے والی NAB کی کھلی کچہری میں بھی تاج ریزیڈینشیا کے متاثرین نے شرکت کی اور اپنی شکایات و مطالبات حکام کے سامنے رکھے۔
⚠️ متاثرین کی ڈی جی NAB اور وزیراعلیٰ پنجاب سے پُرزور اپیل
تاج ریزیڈینشیا کے متاثرین نے ڈی جی NAB راولپنڈی اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر متاثرین کی داد رسی کی جائے اور کئی سال قبل پلاٹ فائلوں میں لگائی گئی مکمل سرمایہ کاری واپس دلوانے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ سالہا سال سے جاری انتظار نے انہیں شدید مالی اور ذہنی اذیت سے دوچار کر رکھا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ:
"جب تک متاثرین کو ان کا حق نہیں مل جاتا، تاج ریزیڈینشیا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔"