Tanawal Wildlife Explorers

  • Home
  • Tanawal Wildlife Explorers

Tanawal Wildlife Explorers Welcome to Tanawal Wildlife Explorer! We are dedicated to uncovering, documenting, and sharing the incredible biodiversity of the Tanawal region.

From rare species to breathtaking landscapes, join us as we explore the untamed beauty of the wild.

جی۔ تناول خصوصاً دریائے سندھ کے کنارے اور تربیلا ڈیم کے ذخیرے سے متاثر ہونے والا علاقہ، پاکستان کی تاریخ میں ایک بہت بڑی...
22/08/2026

جی۔ تناول خصوصاً دریائے سندھ کے کنارے اور تربیلا ڈیم کے ذخیرے سے متاثر ہونے والا علاقہ، پاکستان کی تاریخ میں ایک بہت بڑی انسانی، معاشی اور ثقافتی تبدیلی کا شکار ہوا۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ تربیلا ڈیم صرف زمین ہی نہیں لے گیا بلکہ کئی پرانی بستیاں، باغات، قبریں، تاریخی مقامات اور لوگوں کا روایتی طرزِ زندگی بھی پانی میں ڈوب گیا۔

تربیلا ڈیم سے تناول پر اثرات

تربیلا ڈیم کی تعمیر 1960ء کی دہائی میں شروع ہوئی اور 1970ء کی دہائی میں دریائے سندھ پر اس کا ذخیرہ بھرنا شروع ہوا۔ 1974ء میں پانی نے بڑی سطح پر پرانی آبادیوں اور زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

تاریخی طور پر تناول کا دریائے سندھ کے دونوں اطراف کا علاقہ انتہائی اہم تھا۔ یہ خطہ صدیوں تک کابل، کشمیر اور ہزارہ کے درمیان آمدورفت کے راستے کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ یہاں مختلف قلعے، بستیاں اور باغات موجود تھے۔

کتنی زمین اور کتنے لوگ متاثر ہوئے؟

دستیاب سرکاری اور تاریخی ریکارڈ کے مطابق:

* تقریباً 82,109 ایکڑ زمین تربیلا منصوبے کے لیے حاصل کی گئی۔
* تقریباً 96,000 افراد اس منصوبے سے متاثر ہوئے۔
* تقریباً 135 دیہات تربیلا جھیل میں زیرِ آب آئے۔
* بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی آبائی زمینیں، گھر اور زرعی ذریعۂ معاش چھوڑنا پڑا۔

یہ صرف مکان چھوڑنے کا معاملہ نہیں تھا۔ ان علاقوں کے لوگوں کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت، باغات، مویشیوں اور مقامی زمین سے وابستہ تھا۔ ورلڈ بینک کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد چھوٹے کسان خاندانوں کی تھی۔

تناول کے باغات اور آم

تناول اپنے باغات کے حوالے سے بھی مشہور تھا۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق یہاں کے آموں کی شہرت اتنی زیادہ تھی کہ 1836ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے کمانڈر جنرل ہری سنگھ نلوہ کو خطرہ مول لے کر اس علاقے سے آم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

جب تربیلا کا پانی پہلی مرتبہ بڑی سطح پر پھیلا تو لوگوں کی بیان کردہ یادوں کے مطابق پانی کی سطح پر آم اور لوگوں کے گھروں کا سامان تیرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ چیزیں ان خاندانوں کی کئی نسلوں کی زندگی کی آخری نشانیاں تھیں۔

تاریخی قلعے اور بستیاں

تربیلا جھیل کے نیچے صرف عام دیہات ہی نہیں گئے بلکہ تاریخی مقامات بھی متاثر ہوئے۔ ان میں بھڑوکٹ (Bharukot) کا تاریخی قلعہ بھی شامل ہے۔

یہ قلعہ آج بھی سال کے بیشتر حصے میں پانی کے نیچے رہتا ہے اور جب سردیوں میں تربیلا جھیل کی سطح کم ہوتی ہے تو اس کے کچھ آثار دوبارہ نظر آ جاتے ہیں۔

اس وجہ سے تربیلا جھیل کو صرف ایک آبی ذخیرے کے طور پر دیکھنا مکمل تصویر نہیں ہے؛ اس کے نیچے ایک پورے تاریخی خطے کے آثار بھی موجود ہیں۔

لوگوں کی نقل مکانی

متاثرہ خاندانوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔ خالبٹ ٹاؤن شپ سمیت مختلف علاقوں میں آبادکاری کی گئی، جبکہ کچھ لوگ دیگر شہروں اور علاقوں کی طرف چلے گئے۔ تاریخی ریکارڈ میں تقریباً 96,000 متاثرین کی آبادکاری کا ذکر ملتا ہے۔

2023ء میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بھی بریفنگ دی گئی کہ تربیلا منصوبے کے نتیجے میں 96,000 افراد متاثر ہوئے تھے اور حکومت کی جانب سے متاثرین کو معاوضہ اور متبادل زمین کی فراہمی کے اقدامات کیے گئے تھے۔

اصل نقصان صرف زمین کا نہیں تھا

تناول کے لوگوں کے لیے سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ:

آبائی زمین → گھر → باغات → کھیت → گاؤں → مسجدیں → قبرستان → مقامی ثقافت → رشتہ داروں کی آبادیاں

یہ پورا معاشرتی نظام بکھر گیا۔

تحقیقی مطالعات میں بھی تربیلا ڈیم کی نقل مکانی کے نتیجے میں معاشی اور سماجی تبدیلیوں، روزگار کے مسائل اور ثقافتی روایات میں تبدیلی کا ذکر ملتا ہے۔

اور تناول کے بعض متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے بعد میں یہ شکایات بھی کیں کہ زرخیز زمینیں ڈوبنے سے ان کا بنیادی ذریعہ آمدن ختم ہوگیا اور انہیں روزگار کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑا۔

ایک اہم بات

اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ “تربیلا ڈیم سے صرف چند گاؤں متاثر ہوئے تھے” تو یہ درست تصویر نہیں ہے۔ اصل اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 96 ہزار لوگ اور 82 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین متاثر ہوئی، جبکہ 135 دیہات زیرِ آب آئے۔

تناول کی تاریخ میں تربیلا ڈیم ایک بہت بڑا موڑ ہے: پاکستان کو بجلی، پانی اور آبپاشی کے اعتبار سے بہت بڑا فائدہ حاصل ہوا، لیکن اس ترقی کی ایک بہت بھاری انسانی اور مقامی قیمت بھی تناول اور آس پاس کے لوگوں نے ادا کی۔

22/08/2026
20/08/2026

🌿🇵🇰 گرین تناؤل پاکستان — ایک سبز خواب کی طرف سفر 🌱

الحمدللہ! Tanawal Wildlife Explorer کی جانب سے سیڈز بالز پھینکنے کا کام مسلسل جاری ہے۔ 🌱💚

سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ الحمدللہ، جو سیڈز بالز ہم نے پہلے پھینکے تھے، ان سے اب ننھے ننھے پودے نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔ 🌿🥹

ان شاء اللہ “Green Tanawal Pakistan” کا یہ مشن اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔ ہمارا مقصد تناؤل کے پہاڑوں اور وادیوں کو مزید سرسبز بنانا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوبصورت، ہرا بھرا ماحول چھوڑنا ہے۔ 🌳🇵🇰

آپ سب کی محبت، دعاؤں اور تعاون کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ۔ ❤️

🙏 آپ بھی اپنے نام کا کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں، یا کسی ایک درخت کی حفاظت کا ذمہ لے لیں۔
شاید آپ کا لگایا ہوا ایک درخت کل کسی پرندے کا گھر، کسی جانور کا سایہ اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ بن جائے۔ 🌳🐦

اللہ تعالیٰ آپ کے اس نیک عمل کو قبول فرمائے، آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے اور ہمارے Green Tanawal Pakistan کے مشن کو کامیاب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲💚🇵🇰

17/08/2026

Yeh konsa Parinda ka bacha hai ?

17/08/2026

Ma sha Allah Tanwal

17/08/2026

Ma sha Allah

🌿 تناؤل وائلڈ لائف ایکسپلورر — گرین تناؤل پاکستان 🌿الحمدللہ! Tanawal Wildlife Explorer کی جانب سے گرین تناؤل پاکستان مہم...
15/08/2026

🌿 تناؤل وائلڈ لائف ایکسپلورر — گرین تناؤل پاکستان 🌿

الحمدللہ! Tanawal Wildlife Explorer کی جانب سے گرین تناؤل پاکستان مہم کے تحت پہاڑوں اور قدرتی علاقوں میں Seed Balls پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 🌱🌳

اس نیک مقصد کے لیے ہمیں مختلف اقسام کے بیجوں کی ضرورت ہے۔ اگر کسی بھائی کے پاس کسی بھی قسم کے درخت، پودے یا جنگلی پھلوں کے بیج موجود ہوں اور وہ اس نیک کام میں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیں تو براہِ کرم ہم سے رابطہ کریں۔

ان شاء اللہ، ان بیجوں سے Seed Balls تیار کرکے اپر اور لوئر تناؤل کے مختلف پہاڑی علاقوں میں پھینکے جائیں گے تاکہ قدرتی طور پر مزید سبزہ اور جنگلات اُگ سکیں۔ 🌿🏔️

آپ کا دیا ہوا ایک چھوٹا سا بیج بھی مستقبل میں ایک بڑے درخت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ 🌳❤️

آئیں، مل کر تناؤل کو مزید سرسبز بنائیں۔ 🇵🇰🌿

جزاکم اللہ خیراً!
اللہ تعالیٰ آپ کے تعاون کو قبول فرمائے اور اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین 🤲

14/08/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿🇵🇰

تناؤل وائلڈ لائف ایکسپلورر کی جانب سے “گرین تناؤل پاکستان” مہم کے تحت آج یومِ آزادی 14 اگست کے مبارک موقع پر ایک خوبصورت قدم اٹھایا گیا۔ الحمدللہ! آج ہم نے تقریباً 250 سے 300 سیڈز بالز اپر اور لوئر تناؤل کے پہاڑی علاقوں میں پھیلا دیے ہیں۔ 🌱💚

یہ صرف بیج نہیں بلکہ ایک امید ہے…
سرسبز پہاڑوں کی امید، پرندوں اور جنگلی حیات کے محفوظ مستقبل کی امید، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صاف ماحول کی امید۔

14 اگست ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک سرزمین نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جس کی حفاظت اور خوبصورتی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آج اس موقع پر ہماری دل سے یہ دعا ہے:

یا اللہ! ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھ، اس کی زمین کو سرسبز، اس کی فضاؤں کو پاکیزہ، اور اس کے لوگوں کو امن، خوشحالی اور اتحاد نصیب فرما۔ آمین 🤲🇵🇰

ہم آپ سب سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ اپنے حصے کا کام ضرور کریں۔
ایک درخت لگائیں 🌳
ایک سیڈز بال پھینکیں 🌱
اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑ کر جائیں۔

یاد رکھیں!
آج کا ایک بیج، کل کی ایک گھنی چھاؤں بن سکتا ہے۔

اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہر پاکستانی اپنے وطن کو سبز اور خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

آئیں! مل کر ایک سرسبز، خوبصورت اور محفوظ تناؤل اور پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ 🌿🇵🇰

تناؤل وائلڈ لائف ایکسپلورر
گرین تناؤل پاکستان 🌱💚🇵🇰

جشنِ آزادی مبارک! ✨

Address


CR44BE

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tanawal Wildlife Explorers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed media company?

Share