22/08/2026
جی۔ تناول خصوصاً دریائے سندھ کے کنارے اور تربیلا ڈیم کے ذخیرے سے متاثر ہونے والا علاقہ، پاکستان کی تاریخ میں ایک بہت بڑی انسانی، معاشی اور ثقافتی تبدیلی کا شکار ہوا۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ تربیلا ڈیم صرف زمین ہی نہیں لے گیا بلکہ کئی پرانی بستیاں، باغات، قبریں، تاریخی مقامات اور لوگوں کا روایتی طرزِ زندگی بھی پانی میں ڈوب گیا۔
تربیلا ڈیم سے تناول پر اثرات
تربیلا ڈیم کی تعمیر 1960ء کی دہائی میں شروع ہوئی اور 1970ء کی دہائی میں دریائے سندھ پر اس کا ذخیرہ بھرنا شروع ہوا۔ 1974ء میں پانی نے بڑی سطح پر پرانی آبادیوں اور زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
تاریخی طور پر تناول کا دریائے سندھ کے دونوں اطراف کا علاقہ انتہائی اہم تھا۔ یہ خطہ صدیوں تک کابل، کشمیر اور ہزارہ کے درمیان آمدورفت کے راستے کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ یہاں مختلف قلعے، بستیاں اور باغات موجود تھے۔
کتنی زمین اور کتنے لوگ متاثر ہوئے؟
دستیاب سرکاری اور تاریخی ریکارڈ کے مطابق:
* تقریباً 82,109 ایکڑ زمین تربیلا منصوبے کے لیے حاصل کی گئی۔
* تقریباً 96,000 افراد اس منصوبے سے متاثر ہوئے۔
* تقریباً 135 دیہات تربیلا جھیل میں زیرِ آب آئے۔
* بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی آبائی زمینیں، گھر اور زرعی ذریعۂ معاش چھوڑنا پڑا۔
یہ صرف مکان چھوڑنے کا معاملہ نہیں تھا۔ ان علاقوں کے لوگوں کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت، باغات، مویشیوں اور مقامی زمین سے وابستہ تھا۔ ورلڈ بینک کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد چھوٹے کسان خاندانوں کی تھی۔
تناول کے باغات اور آم
تناول اپنے باغات کے حوالے سے بھی مشہور تھا۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق یہاں کے آموں کی شہرت اتنی زیادہ تھی کہ 1836ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے کمانڈر جنرل ہری سنگھ نلوہ کو خطرہ مول لے کر اس علاقے سے آم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔
جب تربیلا کا پانی پہلی مرتبہ بڑی سطح پر پھیلا تو لوگوں کی بیان کردہ یادوں کے مطابق پانی کی سطح پر آم اور لوگوں کے گھروں کا سامان تیرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ چیزیں ان خاندانوں کی کئی نسلوں کی زندگی کی آخری نشانیاں تھیں۔
تاریخی قلعے اور بستیاں
تربیلا جھیل کے نیچے صرف عام دیہات ہی نہیں گئے بلکہ تاریخی مقامات بھی متاثر ہوئے۔ ان میں بھڑوکٹ (Bharukot) کا تاریخی قلعہ بھی شامل ہے۔
یہ قلعہ آج بھی سال کے بیشتر حصے میں پانی کے نیچے رہتا ہے اور جب سردیوں میں تربیلا جھیل کی سطح کم ہوتی ہے تو اس کے کچھ آثار دوبارہ نظر آ جاتے ہیں۔
اس وجہ سے تربیلا جھیل کو صرف ایک آبی ذخیرے کے طور پر دیکھنا مکمل تصویر نہیں ہے؛ اس کے نیچے ایک پورے تاریخی خطے کے آثار بھی موجود ہیں۔
لوگوں کی نقل مکانی
متاثرہ خاندانوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔ خالبٹ ٹاؤن شپ سمیت مختلف علاقوں میں آبادکاری کی گئی، جبکہ کچھ لوگ دیگر شہروں اور علاقوں کی طرف چلے گئے۔ تاریخی ریکارڈ میں تقریباً 96,000 متاثرین کی آبادکاری کا ذکر ملتا ہے۔
2023ء میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بھی بریفنگ دی گئی کہ تربیلا منصوبے کے نتیجے میں 96,000 افراد متاثر ہوئے تھے اور حکومت کی جانب سے متاثرین کو معاوضہ اور متبادل زمین کی فراہمی کے اقدامات کیے گئے تھے۔
اصل نقصان صرف زمین کا نہیں تھا
تناول کے لوگوں کے لیے سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ:
آبائی زمین → گھر → باغات → کھیت → گاؤں → مسجدیں → قبرستان → مقامی ثقافت → رشتہ داروں کی آبادیاں
یہ پورا معاشرتی نظام بکھر گیا۔
تحقیقی مطالعات میں بھی تربیلا ڈیم کی نقل مکانی کے نتیجے میں معاشی اور سماجی تبدیلیوں، روزگار کے مسائل اور ثقافتی روایات میں تبدیلی کا ذکر ملتا ہے۔
اور تناول کے بعض متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے بعد میں یہ شکایات بھی کیں کہ زرخیز زمینیں ڈوبنے سے ان کا بنیادی ذریعہ آمدن ختم ہوگیا اور انہیں روزگار کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑا۔
ایک اہم بات
اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ “تربیلا ڈیم سے صرف چند گاؤں متاثر ہوئے تھے” تو یہ درست تصویر نہیں ہے۔ اصل اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 96 ہزار لوگ اور 82 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین متاثر ہوئی، جبکہ 135 دیہات زیرِ آب آئے۔
تناول کی تاریخ میں تربیلا ڈیم ایک بہت بڑا موڑ ہے: پاکستان کو بجلی، پانی اور آبپاشی کے اعتبار سے بہت بڑا فائدہ حاصل ہوا، لیکن اس ترقی کی ایک بہت بھاری انسانی اور مقامی قیمت بھی تناول اور آس پاس کے لوگوں نے ادا کی۔