Pakistan's Living Affairs

Pakistan's Living Affairs Talking about Social Life, Beauty of Pakistan, Social Services, Gesture of Pakistani Peoples Talking About Social Life of Pakistan,Beauty of Pakistan
(1)

02/10/2026
23/09/2026
17/09/2026

کیسے پوتیا لوگ ہیں، میں نے کل رات ایک ویڈیو بنائی تھی کہ مین ہول کا ڈھکن ٹوٹ گیا ہے، آج مقامی انتظامیہ نے چینج کر دیا، لیکن پھر ایک انتہائی قسم کے پوتیا آدمی نے ڈھکن ٹیڑھا کر دیا اب یہ دوبارہ ٹوٹ جائے گا، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر یہ اپنی چوتیا پے کی عقل کہیں اور استعمال کیوں نہیں کرتے

16/09/2026

*ہمارے بچوں کے دشمن، ہمارے اپنے لوگ*

اس ویڈیو میں جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک مین ہول کا ڈھکن غائب ہے۔ کچھ دن پہلے تک اس پر ڈھکن موجود تھا لیکن کچھ خود ساختہ عقل مند اور تعلیم یافتہ لوگوں نے گلی سے نکلتا ہوا سیوریج کا پانی گزارنے کے لیے اس گٹر کا ڈھکن ٹیڑھا کر کے اٹھا دیا، نتیجہ ڈھکن کے اوپر سے گزرنے والی گاڑیوں کی ٹکر سے ڈھکن ٹوٹ پھوٹ گیا۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کو ہوش کے ناخن کب آئیں گے؟ یہیں پر 2 بڑے اسکول آصف اسکول اور گرین پبلک اسکول ہیں اور سینکڑوں چھوٹے بچے صبح اسکول جاتے اور واپسی آتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ کوئی 5 سال تک کا بچہ بھی گر جاتا ہے اس کے اندر تو اس حادثے کا ذمہ دار کون ہوگا؟

یہاں انتظامیہ کی بات بعد میں آئے گی، پہلے اس عقل کے اندھے شخص پر سوال بنتا ہے کہ اس نے اپنی ناقص عقل کا استعمال باہر کیوں کیا، اسے اپنے گھر پہ استعمال کرے۔ اور عموماً یہ چیز بہت زیادہ نوٹس میں آئی ہے کہ جہاں کہیں ہلکا سا پانی کھڑا ہو جائے اسے ڈرین کرنے کے لیے گٹر کا ڈھکن اٹھا دیتے ہیں، نتیجہ وہ ڈھکن ٹوٹ جاتا ہے اور ہمارے بچوں کے لیے ایک چلتی پھرتی موت کا سامان پیدا ہو جاتا ہے۔

15/09/2026

ایک اوورسیز پاکستانی کی دردناک داستان: جب اپنوں کے دیس میں محنت کی کمائی لٹ گئی

​یہ 2012 کا سچا قصہ ہے، جب پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف تھے۔ ملتان کے جم پل محمد افضل کئی سالوں سے سکاٹ لینڈ میں محنت مزدوری کر کے رزقِ حلال کما رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے اپنے آبائی شہر ملتان کی ایک اچھی سوسائٹی میں کچھ پلاٹس خرید لیں، تاکہ جب وہ وطن واپس لوٹیں تو ان کا مستقبل محفوظ ہو اور زندگی آرام سے گزر سکے۔

​اعتماد کا فریب اور دھوکہ دہی

اس مقصد کے لیے انہوں نے شہرِ ملتان کی ایک معروف لاء فرم کے سرپرست ایڈووکیٹ شیخ تنویر احمد سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وکالت کی پیشہ ورانہ حیثیت پر اعتماد کرتے ہوئے مختار نامے (Power of Attorney) کے ذریعے مختلف اوقات میں کروڑوں روپے کے پلاٹس خریدے۔

​چند سال بعد جب محمد افضل پاکستان آئے تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ انہیں معلوم ہوا کہ جن پلاٹس کے لیے انہوں نے اپنی عمر بھر کی کمائی لگا دی تھی، ان میں سے ایک بھی ان کے نام پر موجود نہیں تھا۔ ایڈووکیٹ شیخ تنویر نے مختار نامے، رجسٹریوں اور دیگر قانونی کاغذات میں جعل سازی اور رد و بدل کر کے تمام پلاٹس دیگر افراد کو فروخت کر دیے تھے۔

​نظامِ انصاف سے ناامیدی کا سفر

سال 2012 سے لے کر آج 2026 تک، محمد افضل انصاف کا ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں۔ ان کے پاس تمام مالی لین دین اور دستاویزات کے مکمل ثبوت موجود ہیں، لیکن:

​انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے قائم کردہ خصوصی فورمز سے رجوع کیا۔

​تھانہ، کچہری، ملتان بار، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک دہائیاں دیں۔

​مختلف وکلاء کے ذریعے قانونی درخواستیں جمع کرائیں۔

​اس تمام جدوجہد کے باوجود نتیجہ صفر رہا۔ انصاف ملنا تو دور، کسی بھی جگہ ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں سنا گیا۔ دوسری طرف، نامزد وکیل اپنے اثر و رسوخ، حیلے بہانوں اور تعلقات کا استعمال کر کے ہر قانونی چارہ جوئی کو ناکام بناتا رہا۔

​ایک دکھی دل کی صدا

اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر محمد افضل کہتے ہیں:

​"میرا دل کرتا ہے کہ میں کبھی پاکستان واپس نہ آؤں۔ میں وصیت کر کے جاؤں گا کہ مجھے سکاٹ لینڈ میں ہی دفن کیا جائے، کیونکہ اس بے ایمانوں کے دیس واپس آنے کا کیا فائدہ جہاں غریب اور محنت کش کی کوئی سنتا ہی نہیں۔"

​محمد افضل کا یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ ہمارے ہاں "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کا قانون چل رہا ہے اور مظلوموں کے لیے موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

08/09/2026

ایک واحد جماعت اسلامی ہے جو اس وقت عام آدمی کے مالی مسائل کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ وہ کامیاب ہوتی ہے یا ناکام یہ ثانوی بات ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ عوام کا مقدمہ صرف جماعت اسلامی لڑ رہی ہے۔

07/09/2026

اس لڑکے کا نام گھر میں شاید دانش تھا (کنفرم یاد نہیں) اور شیلٹر میں شان ہے۔۔۔والد کا نام عامر ہے۔ والدہ کا نام یاد نہیں ۔ والد نے دوسری شادی کی تھی۔ دو بھائی اور ایک بہن تھی انکے نام یاد نہیں ہیں۔ والد ویلڈنگ کا کام کرتا تھا۔
شان کے بقول انکا گھر خانیوال میں تھا۔ محلے کا نام یاد نہیں ہے۔۔۔خانیوال میں دس نمبر مچھلی مارکیٹ سے ذرا آگے گھر تھا۔
سوتیلی ماں کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔
ایک پڑوسن اپنے ساتھ بازار لیکر گئی ۔ چیز لیکر دیا اور کہا یہاں بیٹھ جاو میں آتی ہوں۔۔۔ چلی گئی اور دوبارہ نہیں آئی۔ پھر لوگوں نے سینٹر میں جمع کروادیا۔۔شیلٹر میں آئے 18 سے 19 سال ہوگئے۔
خانیوال کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔
شان اب بڑا ہوچکا ہے ۔ تنہائی نے اسکی زندگی پر بہت گہرا اثر کیا ہے۔ وہ روز اپنوں کو یاد کرکے روتا ہے۔
یہ تصویر پرانی ہے امید ہے اسکا خاندان یا پڑوسی دیکھ کر ضرور پہچان لیں گے۔
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔ آپ کا ایک شئیر کسی انسان کو اپنوں سے ملانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

7 Sept 2026

06/09/2026

Allama Iqbal Express Passing near Karachi Airport. Date:06-Sep-2026

Address

Karachi
75210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan's Living Affairs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share