28/09/2026
استادخالد بزمی کی بیماری، شاگردوں کی بے قراری اور دعاؤں کا سفر
استاد صرف وہ شخص نہیں ہوتا جو کتاب پڑھا دے، بلکہ حقیقی استاد وہ ہوتا ہے جو اپنے علم، کردار اور شفقت سے اپنے شاگردوں کے دل میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لے۔ ایسے استاد کی تکلیف صرف ایک فرد کی تکلیف نہیں رہتی، بلکہ اس کے سینکڑوں شاگردوں کے دلوں کو بے چین کر دیتی ہے۔
محترم استاد خالد بزمی صاحب کو اچانک ہارٹ اٹیک کی خبر جب ان کے شاگردوں تک پہنچی تو ہر طرف تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ جن سینکڑوں طلبہ نے ان سے تعلیم حاصل کی، وہ اپنے محبوب استاد کی علالت کی خبر سن کر پریشان ہو گئے۔ کسی نے فون کیا، کسی نے خیریت دریافت کی اور کسی نے خاموشی سے اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا دیے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ان کے شاگرد اپنے استاد کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ فاصلے بہت تھے، مگر دل اپنے استاد کے لیے ایک ہی دعا میں جڑے ہوئے تھے:
یا اللہ! ہمارے استاد خالد بزمی صاحب کو صحتِ کاملہ عطا فرما، ان کی تکلیف کو آسان فرما اور انہیں جلد از جلد مکمل صحت یابی نصیب فرما۔ آمین۔
قطر میں موجود ان کے شاگرد فری جان، چوہدری رئیس اور ارسلان مانی بھی اپنے استاد کی بیماری پر شدید فکر مند رہے۔ انہوں نے استاد محترم کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور اپنے ساتھی شاگردوں کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی زندگی، صحت اور سلامتی کے لیے دعا کی۔
یہ منظر اس بات کا خوبصورت ثبوت ہے کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتا۔ برسوں پہلے پڑھایا ہوا ایک سبق، استاد کی ایک نصیحت، شفقت بھرا ایک جملہ اور تربیت کا ایک لمحہ انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
آج استاد خالد بزمی صاحب بیماری کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، مگر ان کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے شاگرد جہاں جہاں موجود ہیں، اپنے اپنے انداز میں اپنے استاد کے لیے دعاگو ہیں۔ کسی کے ہاتھ مسجد میں اٹھ رہے ہیں، کسی کی آنکھیں نم ہیں اور کوئی اپنے رب سے تنہائی میں استاد کی صحت مانگ رہا ہے۔
بے شک بیماری انسان کو کمزور کر دیتی ہے، مگر دعائیں دلوں کو جوڑ دیتی ہیں۔ استاد خالد بزمی صاحب کے لیے ان کے شاگردوں کی یہ محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ جو استاد اپنے شاگردوں کے دلوں میں علم اور محبت کا چراغ روشن کر دے، اسے وقت اور فاصلے کبھی جدا نہیں کر سکتے۔
اللہ تعالیٰ استاد محترم خالد بزمی صاحب کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، ہر بیماری اور تکلیف کو دور فرمائے، انہیں لمبی، صحت مند اور بابرکت زندگی عطا کرے اور ان کے تمام شاگردوں کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔