Zarb Digital

Zarb Digital ہر خبر پر ضرب
A Strike to News

04/09/2026

کوئٹہ:خاتون ٹیچر کیساتھ اسنیچنگ کا واقعہ:پولیس کی کارروائی، 2 ملزمان گرفتار

گرفتار ملزمان سے خاتون ٹیچر کا چرایا گیا پرس،اے ٹی ایم کارڈ،فون، نقدی برآمد،پولیس

28/08/2026

بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت بی این پی اور بی ایس او کا مشترکہ اجلاس النوید ہاؤسنگ اسکیم، مغربی بائی پاس میں حاجی میر وحید لہڑی کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔

اجلاس میں بی این پی ضلع کوئٹہ اور بی ایس او کے زیرِ اہتمام راہشون سردار عطاءاللہ مینگل کی پانچویں برسی اور شہداءِ شاہوانی اسٹیڈیم کی پہلی برسی کے حوالے سے منعقد ہونے والے تعزیتی ریفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

27/08/2026

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن پریس کانفرنس کررہے ہیں

صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے بلوچستان بھر کے بلدیاتی نمائندہ وفد کی ملاقات فنڈز کا اجراء نہ ہوا تو بلوچستان اس...
26/08/2026

صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے بلوچستان بھر کے بلدیاتی نمائندہ وفد کی ملاقات

فنڈز کا اجراء نہ ہوا تو بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا سمیت صوبے بھر میں احتجاج کا راستہ اختیار کرینگے، بلدیاتی نمائندوں کا موقف

وزیر اعلی بلوچستان سے ملاقات کرکے بلدیاتی فنڈز کے اجراء کا مسئلہ حل کیا جائیگا منتخب بلدیاتی نمائندوں کو احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی، صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری

کوئٹہ: 26 اگست 2026ء

صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے بلوچستان بھر کے ڈسٹرکٹ چیئرمینوں، میئرز، میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسل چیئرمینوں کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور مالی سال 2026-27 کے فنڈز کے فوری اجراء کا مطالبہ کیا۔ بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری کو بتایا کہ اگر ستمبر کے پہلے ہفتے تک فنڈز جاری نہ کیے گئے تو بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دینگے اور صوبے کے تمام اضلاع میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ جھالاوان ہاؤس میں صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے ڈسٹرکٹ چیئرمین قلعہ عبداللہ حاجی دین محمد سیگی کی قیادت میں بلدیاتی نمائندوں کے وفد نے ملاقات کی، وفد میں میئر میونسپل کارپوریشن پشین اکبر ترین، مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ چیئرمینوں، میونسپل کمیٹیوں کے نمائندوں اور آل بلوچستان یونین کونسل چیئرمین ایسوسی ایشن کے عہدیداران سمیت دیگر بلدیاتی نمائندے شریک تھے جبکہ ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار حاجی صلاح الدین زہری بھی اس موقع پر موجود تھے بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی مشیر نوابزاہ امیر حمزہ خان زہری کو آگاہ کیا کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر کے خلاف گزشتہ پانچ روز سے بلدیاتی اداروں میں احتجاجاً تالہ بندی جاری ہے، جس کے باعث بلدیاتی نظام اور ترقیاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فنڈز کی عدم فراہمی سے بلوچستان میں ترقی کا سفر رک گیا ہے اور منتخب بلدیاتی نمائندے اپنے حلقوں میں عوامی مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں وفد نے واضح کیا کہ اگر مالی سال 2026-27 کے فنڈز کا اجراء نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دینگے اور صوبے کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اس موقع پر صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا کہ وارڈز اور یونین کونسلز سے منتخب ہونے والے کونسلرز ہی حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندے ہیں پیپلزپارٹی اور صوبائی حکومت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کے مسائل اور فنڈز کے اجراء کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کرکے ڈسٹرکٹ چیئرمینوں و یونین کونسل چیئرمینوں کے مطالبات ان کے سامنے رکھوں گا۔ امید ہے کہ حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات کیے جائیں گے اور بلوچستان بھر کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی دوسری جانب چیئرمین یونین کونسل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سید ثناء اللہ آغا کی قیادت میں وفد نے بھی صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے الگ ملاقات کی اور انہیں یونین کونسل چیئرمینوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

شہید سکندر زہری یونیورسٹی کو درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومت مکمل تعاون کرے گی، صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہریصوبائی ...
25/08/2026

شہید سکندر زہری یونیورسٹی کو درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومت مکمل تعاون کرے گی، صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری

صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے شہید سکندر زہری یونیورسٹی خضدار کے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر سہراب بزنجو کی ملاقات

کوئٹہ: 25 اگست 2026

صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے شہید سکندر زہری یونیورسٹی خضدار کے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر سہراب بزنجو نے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار حاجی صلاح الدین زہری بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے ڈاکٹر سہراب بزنجو کو وائس چانسلر تعینات ہونے پر مبارکباد دی اور شہید سکندر زہری یونیورسٹی خضدار کو درپیش مالی و انتظامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے وائس چانسلر کو یقین دہانی کرائی کہ یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی مسائل کے حل کیلئے بلوچستان حکومت کی جانب سے مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا کہ تعلیم کے فروغ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری کی کاوشوں سے شہید سکندر زہری یونیورسٹی خضدار کا قیام عمل میں آیا، جسے ہر صورت کامیاب اور فعال ادارہ بنا کر جھالاوان کے عوام کو معیاری تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی، رکن اسمبلی ام کلثوم بلوچ کی الگ الگ ملاق...
25/08/2026

صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی، رکن اسمبلی ام کلثوم بلوچ کی الگ الگ ملاقات

بلوچستان کی ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، امیر حمزہ زہری

کوئٹہ: 25 اگست 2026

صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی، رکن صوبائی اسمبلی ام کلثوم بلوچ اور پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی کاکڑ نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران سیاسی و علاقائی امور، موجودہ صورتحال اور محکمہ بلدیات کے زیرِ انتظام جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں حکومت اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہے، جبکہ قیامِ امن، عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی محکمہ بلدیات کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعاون اور رہنمائی سے محکمہ بلدیات صوبے کے مختلف علاقوں میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں اور شہری و دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کو اپنا کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

یوم آزادی قومی جوش و جذبے اور تجدید عہد کے ساتھ منایا جائے، نوابزادہ امیر حمزہ زہریبلوچستان پاکستان کا اہم اور خوبصورت ح...
14/08/2026

یوم آزادی قومی جوش و جذبے اور تجدید عہد کے ساتھ منایا جائے، نوابزادہ امیر حمزہ زہری

بلوچستان پاکستان کا اہم اور خوبصورت حصہ ہے یہاں کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قربانیاں دی ہیں، صوبائی مشیر بلدیات

کوئٹہ: 13 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے 14 اگست یوم آزادی بھرپور جوش و جذبے اور قومی یکجہتی کے ساتھ منانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جس کی قدر و حفاظت ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کی لازوال جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان ایک آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قیام پاکستان کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے مثال قربانیاں دیں، لاکھوں افراد نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال کی قربانی دے کر آزادی کی منزل حاصل کی صوبائی مشیر بلدیات و دیہی نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے کہا کہ آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ ہمارے اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ یوم آزادی ہمیں نہ صرف خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ یہ دن ہمیں اپنے قومی فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی، استحکام اور سلامتی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہے تو بلوچستان ہے اور بلوچستان پاکستان کا اہم اور خوبصورت حصہ ہے بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ صوبے کے عوام کے قومی جذبے اور حب الوطنی کو اجاگر کرنے کے لیے یوم آزادی کی تقریبات کو بھرپور انداز میں منعقد کیا جانا چاہیے صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے ہدایت کی کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی طرز پر صوبے بھر کی تمام میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیوں اور دیگر متعلقہ بلدیاتی اداروں کے دفاتر سمیت سرکاری عمارتوں کو قومی پرچموں، جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا جائے تاکہ جشن آزادی کے موقع پر شہر اور اضلاع میں قومی جوش و جذبے کا بھرپور اظہار ہو انہوں نے کہا کہ جشن آزادی کے موقع پر سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی تقریبات میں عوام کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے اور نوجوانوں، طلبہ، خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی تقریبات کا حصہ بنایا جائے۔ یوم آزادی کی تقریبات کا مقصد نئی نسل کو تحریک پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کے افکار اور ملک کے قیام کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کرنا بھی ہےبصوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر بھی زور دیا کہ وہ 14 اگست کے موقع پر منعقد ہونے والی سرکاری اور قومی تقریبات میں بھرپور شرکت کریں، قومی پرچم لہرائیں اور عوام کے ساتھ مل کر جشن آزادی کا دن قومی جوش و جذبے سے منائیں انہوں نے کہا کہ آزادی کی خوشی منانے کے ساتھ ہمیں اپنے ملک میں اتحاد، بھائی چارے، برداشت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر بحیثیت قوم متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں اپنے وطن کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اجتماعی طور پر جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔

06/08/2026

کیا جمعہ خان نیچاری کے اہلخانہ حکومت کی حراست میں ہیں؟،میر ضیاء لانگو سے صحافی دانش مراد کا سوال

قاضی جمعہ خان نیچاری کے اہلخانہ حکومت کے حراست میں نہیں نہ ہی انہوں نے اس حوالے سے ہم سے کوئی رابطہ کیا ہے،میر ضیاء لانگو کا جواب

بلوچستان میں قانون کہاں ہے ؟ اسماء جتک کا کیستحریر :سمی دین بلوچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کل سے سوش...
06/08/2026

بلوچستان میں قانون کہاں ہے ؟ اسماء جتک کا کیس

تحریر :سمی دین بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل سے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اسمہء جتک کی ویڈیو گردش کر رہی ہے، مگر چونکہ اسماء کا تعلق بلوچستان سے ہے، اس لیے نہ قومی میڈیا نے اسے اپنی ہیڈ لائن بنایا، نہ کسی بڑے نیوز روم نے اس کی فریاد کو سنجیدگی سے لیا۔ بلوچستان میں اگر ایک لڑکی اپنی اور اپنے خاندان کی جان کی بھیک مانگ رہی ہو، تو یہ بھی اس ملک کے لیے خبر نہیں بنتی۔

اسماء جتک جنہیں 5 فروری کی رات خضدار میں اس کے گھر سے سردار ثنااللہ زہری کی سرپرستی میں سرگرم اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ظہور جمالزئی نے صرف اس لیے اغوا کیا کہ اس نے شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ اسے تین دن تک جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا، ہراساں کیا گیا، اور دباؤ میں لا کر اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔ اس کے خلاف اسماء کے خاندان اور عوام نے شدید احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں اسے بازیاب کرایا گیا۔ بعد ازاں حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈز پر دستخط کرتے ہوئے اسماء اور اس کے خاندان کو تحفظ اور ملوث افراد کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ مگر یہ وعدے بھی ہمیشہ کی طرح کاغذوں تک محدود رہے۔

کل اسماء جتک ایک بار پھر قرآن ہاتھ میں لیے متعلقہ حکام سے فریاد کر رہی تھی کہ ظہور جمالزئی اور اس کا مسلح گروہ اسے اور اس کے خاندان کو دوبارہ قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اسے تحفظ دیا جائے۔ مگر چند ہی گھنٹوں بعد اس کے والد کو سرِعام گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے اس کے منگیتر اور ماموں کو بھی قتل کیا جا چکا تھا۔

اب سوال صرف ظہور جمالزئی جیسے مسلح عناصر کا نہیں، بلکہ اس ریاست اور یہاں کے قانونی نظام کا ہے جس کے سائے میں ایسے گروہ اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ اغوا کریں دھمکیاں دیں قتل کریں، مگر قانون ان تک نہ پہنچ سکے۔ بلوچستان کا اصل المیہ چند غنڈے نہیں، بلکہ وہ قانونی، سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ہے جو ایسے عناصر کو، تحفظ دیتا اور انہیں قانون سے بالاتر بنا دیتا ہے۔

حکومتِ بلوچستان کو جواب دینا ہوگا کہ جنوری 2025 میں جس چارٹر آف ڈیمانڈز پر اس نے دستخط کیے تھے، اس کی حیثیت کیا تھی؟ اگر سرکاری ضمانت کے باوجود ایک خاندان کو تحفظ نہیں مل سکتا تو پھر حکومت کے دستخط، وعدے اور بیانات محض احتجاج ختم کرانے کے کاغذی حربے تھے۔

بلوچستان حکومت جو آئے روز اپنی کارکردگی اور گڈ گورننس کے دعوے کرتی ہے، کیا آج اسماء جتک اور اس کے خاندان کو انصاف دے سکے گی؟ کیا وہ بااثر مسلح عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ثابت کرے گی کہ بلوچستان میں قانون طاقتور اور کمزور، دونوں کے لیے برابر ہے؟

اگر اس بار بھی انصاف نہ ملا اور تحفظ کے وعدے کاغذوں تک محدود رہے، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ نام نہاد سردار عوام کے نمائندے نہیں، بلکہ بلوچ سرزمین پر مسلط ایسے بااثر غنڈے اور کرائے کے قاتل ہیں جو ہر قسم کی قانونی جوابدہی سے محفوظ ہیں۔

Address

Quetta

Telephone

+923003898839

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zarb Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zarb Digital:

Shortcuts

Share