04/03/2026
🔥 گیلووے کا چونکا دینے والا بیان: “یہ خبر دفن کر دی گئی”
"یہ ویتنام جنگ کے بعد امریکا کی سب سے بڑی واحد ہولناک کارروائی ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ایک دور افتادہ علاقے میں واقع ایک پرائمری اسکول کی کلاسوں میں 7 سے 12 سال کی عمر کی 167 بچیوں کا قتلِ عام — ایسی وجہ کے بغیر جسے کوئی سمجھ بھی سکے۔
ان تمام بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ سب کو۔ پانچ کلاس رومز میں موجود ہر ایک بچی کو مار دیا گیا۔ مزید ساٹھ بچیاں اسپتال میں زخمی حالت میں ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
جنگ کے اسی پہلے دن کے بعد، 40 والی بال کھلاڑی — تین ٹیمیں، سب خواتین — ایک ہی فضائی حملے میں مار دی گئیں۔
شاید میں آپ کو یہ خبر پہلی بار بتا رہا ہوں، لیکن ممکن ہے کہ آپ کو اسکول کی ان بچیوں کے قتلِ عام کا علم بھی نہ ہو۔ یہ دنیا کی ریکارڈ شدہ تاریخ میں بچیوں کا سب سے بڑا واحد قتلِ عام ہے، پھر بھی کوئی اس پر بات نہیں کر رہا۔
میں اس نکتے کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا، مگر ایک لمحہ کے لیے سوچیں: اگر روس نے 167 یوکرینی اسکول کی بچیوں کو قتل کیا ہوتا، اگر فلسطینیوں نے 167 اسرائیلی اسکول کی بچیوں کو مار دیا ہوتا، اگر ایران نے 167 بچیوں کو قتل کیا ہوتا — تو یہ دنیا کی سب سے بڑی صحافتی خبر بنتی اور برسوں تک زیرِ بحث رہتی۔
یہ خبر بھی انہی اسکول کی بچیوں اور والی بال کھلاڑیوں کی طرح دفن ہو گئی ہے۔
یہ ایک اچانک حملہ تھا۔ یہ مذاکرات کے دوران کیا گیا، جب ویانا میں اگلے دن کے لیے تاریخ طے ہو چکی تھی، اور ایرانی وزیرِ خارجہ ٹرمپ کے داماد اور اس کے رئیل اسٹیٹ ایجنٹ دوست اسٹیو وٹکوف سے ملنے جا رہے تھے — دو ایسے افراد جنہیں مسلم دنیا، سفارت کاری یا عسکری معاملات کا کوئی علم نہیں، مگر انہیں inexplicably ڈونلڈ جے ٹرمپ کے چیف مذاکرات کار بنا دیا گیا تھا۔
مذاکرات پیر کو جاری رہنے تھے، لیکن ہفتہ کے روز وہ جنگ شروع کر دی گئی جسے ہمیشہ “ایپسٹین جنگ” کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔"