Fikr o Nazar

Fikr o Nazar DM for paid promotions

ایک لمحے کی تلخ کلامی کی سزا ان ماؤں کو ملی جن کی گودیں اجڑ گئیں، ان بچوں کو ملی جن کا مستقبل چھن گیا، اور ان خاندانوں ک...
03/07/2026

ایک لمحے کی تلخ کلامی کی سزا ان ماؤں کو ملی جن کی گودیں اجڑ گئیں، ان بچوں کو ملی جن کا مستقبل چھن گیا، اور ان خاندانوں کو ملی جن کے کفیل ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔
ژوب بس حادثے نے جہاں 40 معصوم جانوں کے چراغ گل کر دیے، وہیں اس نے مجموعی طور پر ہماری ذہنی کیفیت اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کیا چند مسافروں سے جھگڑے کا بدلہ ان سب معصوموں کی جان لے کر پورا ہونا تھا؟

زخمی مسافر کے بیان کے مطابق ڈرائیور نے معمولی تلخ کلامی پر قابو پانے کے بجائے انتقاماً پوری بس کھائی میں گرا دی۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں صبر و تحمل کا مادہ اس حد تک ختم ہو چکا ہے کہ انسان اپنی معمولی انا کی خاطر درجنوں انسانوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، زخمیوں کو جلد شفائے کاملہ دے اور ہم سب کو اپنے غصے پر قابو پانے اور ایک دوسرے کے لیے سراپا امن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

آج ایک دوست نے ایک پیر صاحب کے مزار کی تصویر دکھائی، جس میں مزار کی دیوار کے ساتھ اے سی کا آؤٹ ڈور یونٹ صاف نظر آ رہا ہے...
21/06/2026

آج ایک دوست نے ایک پیر صاحب کے مزار کی تصویر دکھائی، جس میں مزار کی دیوار کے ساتھ اے سی کا آؤٹ ڈور یونٹ صاف نظر آ رہا ہے۔ پہلے تو میں سمجھا کہ شاید یہ اے سی مزار کے متولی کے کمرے یا زائرین کی سہولت کے لیے لگایا گیا ہو گا۔ مگر دوست نے ہنستے ہوئے بتایا کہ "یہ مریدوں کے لیے نہیں، بلکہ اے سی تو پیر صاحب کی قبر ٹھنڈی کرنے کے لیے خاص طور پر لگایا ہوا ہے!"

میں تب سے یہی سوچ رہا ہوں کہ قبر کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن جہاں تک ہم نے دین اور عقل کی بات سیکھی ہے، قبر تو انسان کے اپنے اچھے اعمال اور ایمان کی برکت سے ہی ٹھنڈی اور روشن ہوتی ہے۔ یہ دنیاوی تھری-اسٹار یا فائیو-اسٹار انورٹر اے سی آخر وہاں کیا فائدہ دے سکتے ہیں؟

مزار کے اندر ایک شاندار، چمکتا ہوا شیشے کا کیبن بنایا گیا ہے اور اس کے اندر دو ٹن کا ٹاور اے سی فٹ ہے، جو چوبیس گھنٹے سیدھا قبرِ مبارک پر ٹھنڈی ہوا پھینک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ہمارے ہاں توہم پرستی اور اندھی عقیدت کس معراج پر پہنچ چکی ہے۔

روزانہ سینکڑوں مرید اس آستانے پر اس امید کے ساتھ ننگے پاؤں دوڑے چلے آتے ہیں کہ پیر صاحب ان کی دنیاوی مشکلات حل کریں گے، بگڑی بنائیں گے اور اولاد یا نوکری کا بندوبست کریں گے۔ اب بندہ سر پکڑ کر نہ بیٹھے تو کیا کرے؟ جو پیر صاحب شدید گرمی کے اس موسم میں خود کو تپش سے بچانے کے لیے مریدوں کے چندے اور اس چائنیز اے سی کے مرہونِ منت ہوں، جو خود واپڈا کی لوڈ شیڈنگ اور وولٹیج کے جھٹکوں کی زد میں ہوں، وہ مریدوں کی ڈوبتی کشتیاں پار کیسے لگائیں گے؟ یہاں تو پیر صاحب کا اپنا "سسٹم" باہر لگے اس آؤٹ ڈور یونٹ کے پنکھے کا محتاج نظر آتا ہے!

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مزار پر حاضری دینے والے اس مرید کے اپنے گھر کا حال یہ ہوگا کہ بجلی کا بل دیکھ کر ہی اسے ہارٹ اٹیک آنے لگتا ہے۔ اس کے اپنے کمرے میں لگا ہوا پرانا پنکھا بھی موت کے جھٹکے کھا کر چلتا ہوگا اور پورا خاندان مچھر مارتے ہوئے تپتی چھت کے نیچے راتیں گزارتا ہو گا۔ لیکن واہ رے اندھی عقیدت! مرید خود گرمی میں مر جائے گا، مگر پیر صاحب کی قبر کو شیشے کے پیچھے "کول" رکھنے کے لیے اپنی حلال کی کمائی سے نذرانے کا لفافہ ہنسی خوشی دے کر جائے گا تاکہ مزار کا بھاری بھرکم کمرشل بجلی کا بل ٹائم پر جمع ہو سکے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب کائنات کے مالک نے خود صاف لفظوں میں فرما دیا کہ "میں تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں"، تو پھر اس سیدھے، سچے اور بالکل مفت راستے کو چھوڑ کر شیشے کے ائیر کنڈیشنڈ کیبنوں میں واسطے اور منتی دھاگے کیوں تلاش کیے جا رہے ہیں؟ جب اللہ تعالیٰ بغیر کسی بل، بغیر کسی نذرانے اور بغیر کسی متولی کی سفارش کے ہر وقت ہماری پکار سننے کے لیے تیار ہے، تو پھر ان دنیاوی سہولتوں کے سہارے کھڑے آستانوں پر لائنیں لگانے کا کیا تک بنتی ہے؟

کیا پاکستان میں منگل اور بدھ کو گوشت پر پابندی کے پیچھے کوئی مذہبی راز ہے، یا کہانی کچھ اور ہے؟پاکستان میں منگل اور بدھ ...
20/06/2026

کیا پاکستان میں منگل اور بدھ کو گوشت پر پابندی کے پیچھے کوئی مذہبی راز ہے، یا کہانی کچھ اور ہے؟
پاکستان میں منگل اور بدھ کو مارکیٹ میں عام طور پر تازہ بڑا اور چھوٹا گوشت (بیف اور مٹن) دستیاب نہیں ہوتا اور قصابوں کی دکانیں بند ہوتی ہیں۔ اس روایت کے پیچھے کوئی مذہبی وجہ نہیں ہے، بلکہ سراسر حکومتی حکمتِ عملی اور معاشی ضرورت چھپی ہے۔
​اس فیصلے کے پیچھے دو بنیادی وجوہات اور حکمتیں ہیں:
​1۔ ​یہ قانون سب سے پہلے 1960ء کی دہائی میں (صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں) متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ملک میں گائے، بھینسوں، بھیڑ اور بکریوں کی تعداد کو تیزی سے کم ہونے سے بچانا تھا۔ اگر ہفتے کے ساتوں دن بلا تعطل جانور ذبح کیے جاتے، تو ملک میں لائیو اسٹاک کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ تھا۔ ہفتے میں دو دن کا ناغہ دینے سے مویشیوں کی افزائشِ نسل (breeding) کے لیے وقت مل جاتا ہے اور گوشت کی سپلائی برقرار رہتی ہے۔
​2۔ ​ماضی میں (اور اب بھی کچھ حد تک) ان دو دنوں کو "Meatless Days" (بے گوشت دن) کہا جاتا تھا۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عوام میں روزانہ گوشت کھانے کے رجحان کو تھوڑا کم کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں طلب اور رصد (Demand and Supply) کا توازن نہ بگڑے اور قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ ہوں۔

​یہ قانون صرف سرکاری مذبح خانوں (Slaughterhouses) پر لاگو ہوتا ہے جہاں ان دو دنوں میں جانور ذبح کرنے پر پابندی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دکانوں پر تازہ گوشت نہیں ملتا۔

​آج کے دور میں اگرچہ یہ قانون کاغذات میں اب بھی موجود ہے، لیکن اس کا اطلاق اب صرف سرخ گوشت (بیف اور مٹن) پر ہوتا ہے۔ چکن (مرغی کا گوشت) اور مچھلی ان دنوں میں بھی عام دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے سپر مارکیٹس اور ہوم ڈیلیوری سروسز کے پاس پہلے سے فریز کیا ہوا گوشت ان دنوں میں بھی مل جاتا ہے، لیکن روایتی مارکیٹوں میں قصاب اب بھی اس قانون اور روایت کے تحت منگل اور بدھ کو چھٹی کرتے ہیں۔
#حکمتِ_عملی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ کی حدود میں سابقہ اہلیہ اور ساس پر فائرنگ کے لرزہ خیز واقعے میں زخموں کی تا...
18/06/2026

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ کی حدود میں سابقہ اہلیہ اور ساس پر فائرنگ کے لرزہ خیز واقعے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ماں کے بعد بیٹی بھی دم توڑ گئی، جس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ دوہرے قتل کی سنگین واردات میں تبدیل ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے علاقے ریس کورس کے رہائشی ملزم بلال حسین کا اپنی سابقہ اہلیہ فرحانہ یونس کے ساتھ شدید گھریلو تنازعہ چل رہا تھا اور دونوں کے درمیان چند روز قبل طلاق بھی ہو چکی تھی، تاہم گھریلو سامان، گاڑی کی ملکیت اور دیگر مالی معاملات پر اختلافات برقرار تھے۔ واقعے کے روز مقتولہ فرحانہ یونس اپنی والدہ نگہت یاسمین کے ہمراہ تھانہ ریس کورس راولپنڈی میں اسی تنازعے کے خلاف درخواست دینے کے بعد واپس اسلام آباد G-6/1-4 میں اپنی ایک رشتہ دار کے گھر پہنچی تھیں۔

اسی دوران ملزم بلال حسین نے موٹر سائیکل (نمبر 567-C) پر ان کا پیچھا کیا اور گلی نمبر 102 میں دونوں خواتین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے ماں اور بیٹی شدید زخمی ہو گئیں۔ دونوں زخمی خواتین کو فوری طور پر پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پہلے نگہت یاسمین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوئیں، جبکہ کچھ ہی دیر بعد تشویشناک حالت میں زیر علاج فرحانہ یونس بھی دم توڑ گئیں۔

واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ تھانہ آبپارہ پولیس نے جائے وقوعہ سے تمام تکنیکی شواہد اور اطراف کے گھروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور راولپنڈی پولیس کے اشتراک سے ملزم کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اسے جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔




شعور کی کمی یا ترجیحات کا فرق. آپ کے خیال میں بشریٰ انصاری کی اس بات میں کتنا وزن ہے؟پاکستانی شوبز کی سدا بہار اداکارہ ب...
30/05/2026

شعور کی کمی یا ترجیحات کا فرق. آپ کے خیال میں بشریٰ انصاری کی اس بات میں کتنا وزن ہے؟

پاکستانی شوبز کی سدا بہار اداکارہ بشریٰ انصاری نے ملک کی راکٹ کی رفتار سے بڑھتی ہوئی آبادی پر ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانے وقتوں میں سڑکوں پر "فاصلہ رکھیں، ورنہ حادثہ ہو سکتا ہے" والے بورڈز کے ساتھ ساتھ "بچوں میں وقفہ رکھیں" کے بورڈز بھی نظر آتے تھے، لیکن اب شاید لوگوں نے انہیں سرکاری اشتہار سمجھ کر اگنور کر دیا ہے یا وہ بورڈز ہی غائب ہو گئے ہیں!

اداکارہ نے بڑے ہی دیسی لیکن پتے کی بات کرتے ہوئے یاد دلایا کہ:
​"بھئی! رزق کا وعدہ اللہ نے ضرور کیا ہے، لیکن ساتھ میں عقل نامی ایک چیز بھی تو دی ہے نا!"
​ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس عقل کا استعمال نہیں کرتے۔ کسی کے ہاں 5، کسی کے ہاں 6، اور کچھ تو ماشاءاللہ نو (9) پر ناٹ آؤٹ کھیل رہے ہیں۔
ان کا سیدھا سادہ مشورہ ہے:
​"جو دنیا میں پہلے سے موجود ہیں، پہلے ان کو تو 'پورا' کر لو! نئے مہمانوں کو لا کر دنیا میں کیوں پریشان کرنا ہے؟"
آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟

25/05/2026

چھ سال تک ریت کے ٹیلے میں دفن۔ اغوا کے بعد مبینہ طور پر قتل ہونے والی عظمیٰ کی کہانی۔ انسان ظلم پر اتر آئے تو وہ درندوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ بورے والا میں ریت کی کھدائی کے دوران ایک خاتون کا ایک ایسا انسانی ڈھانچہ برآمد ہوا ہے، جس نے چھ سال پرانے اغوا اور سفاکانہ قتل کے ہولناک راز سے پردہ اٹھایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، بورےوالا کے ایک نواحی علاقے میں ریت کی کھدائی کا کام جاری تھا کہ اچانک زمین سے ایک انسانی ڈھانچہ نمودار ہوا۔ اس خوفناک منظر کے سامنے آتے ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ موقع پر پہنچ کر پولیس نے جب تفتیش کا آغاز کیا تو ڈھانچے کے قریب سے کچھ چوڑیاں اور گلے سڑے کپڑے بھی برآمد ہوئے، جو اس بات کی واضح علامت تھے کہ مقتولہ کوئی خاتون تھی۔

مزید تفتیش کے دوران مقتولہ کی بوڑھی ماں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر بیٹی کے ان ہی گلے سڑے کپڑوں اور چوڑیوں کی مدد سے اس کی شناخت کر لی۔ ماں نے انکشاف کیا کہ یہ انسانی ڈھانچہ اس کی بیس سالہ بیٹی عظمیٰ کا ہے، جسے آج سے چھ سال قبل اغوا کیا گیا تھا۔

والدہ کے مطابق، ظالموں نے عظمیٰ کو اغوا کرنے کے بعد مبینہ طور پر بے رحمی سے قتل کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے اس کی لاش کو ریت کے اس ویران ٹیلے میں دفن کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ عظمیٰ کے اغوا کے وقت پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ تو درج کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصے تک اسے زندہ یا مردہ برآمد کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے تھے۔ اب چھ سال بعد قدرت کے انصاف نے اس اندھے قتل کا سراغ زمین کا سینہ چیر کر باہر نکال دیا ہے۔

پولیس نے مقتولہ کا انسانی ڈھانچہ اپنی تحویل میں لے کر اس کے سیمپلز تفصیلی ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ سائنسی بنیادوں پر شناخت کی حتمی تصدیق کی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس لرزہ خیز واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث سفاک ملزمان کو جلد ہی قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دلائی جائے گی۔
​ ​ ​ ​

25/05/2026

یہ صحت کا بجٹ کدھر جاتا ہے؟ آپ لوگ اگر بتا سکیں۔۔
‏وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے بڑے سرکاری ہسپتالوں، بالخصوص پمز اور پولی کلینک میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت، صفائی کی ابتر صورتحال اور حکومت کی عدم توجہی کے باعث نظامِ صحت مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس سے غریب مریضوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی اور او پی ڈی وارڈز میں مریضوں کا بے پناہ دباؤ ہے، جہاں بیڈز کی شدید قلت کے باعث ایک ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو لٹایا جا رہا ہے، جبکہ جنہیں بیڈ میسر نہیں، وہ کئی کئی گھنٹے لوہے کے سخت سٹریچرز اور ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تڑپنے پر مجبور ہیں۔ ہسپتال کے اندر واش رومز اور وارڈز میں گندگی کے ڈھیر، شدید تعفن اور بکھرا ہوا طبی فضلہ خود نئی بیماریاں اور انفیکشن پھیلانے کا سبب بن رہا ہے، لیکن انتظامیہ اور عملہ اس سنگین صورتحال سے بالکل بے نیاز نظر آتا ہے۔

​مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت ہے اور سرنج سے لے کر لائف سیونگ ڈرگز تک سب کچھ باہر کے پرائیویٹ اسٹورز سے مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے، جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی سٹی سکین اور ایم آر آئی مشینیں نجی لیبارٹری مافیا کے گٹھ جوڑ سے مستقل خراب رکھی جاتی ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو سرکاری ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا مریضوں کے ساتھ انتہائی نامناسب، تلخ اور لاپرواہی پر مبنی رویہ ہے؛ سینئر ڈاکٹرز سرکاری اوقات میں ڈیوٹی سے غائب یا بے حس رہتے ہیں تاکہ مجبور مریض شام کے وقت بھاری فیسوں کے عوض ان کے ذاتی پرائیویٹ کلینکس کا رخ کریں جہاں انہیں وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ حکومت اور وزارتِ صحت کی اس سنگین انسانی بحران پر مسلسل خاموشی اور فنڈز کی عدم فراہمی کے خلاف عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور انہوں نے اعلیٰ حکام سے ہسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی، صفائی کے ہنگامی اقدامات اور غفلت برتنے والے عملے کے سخت احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

​‎ ‎ ‎ ‎ ‎

24/05/2026

‏سرگودھا کے علاقے 46 اڈا فیصل آباد روڈ پتھانہ عطا شہید کی حدود میں ایک بااثر شخص نے سرِعام ایک خاتون کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اس کی عزتِ نفس کو پامال کیا اور مبینہ طور پر اس کے کپڑے پھاڑ کر اس کی حرمت لوٹنے کی کوشش کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ دلخراش مناظر لوگوں کے سامنے پیش آئے، مگر ملزم کے خوف اور اثر و رسوخ کے باعث کوئی بھی مؤثر مزاحمت سامنے نہ آسکی اور مجمع خاموش تماشائی بنا رہا۔

​متاثرہ خاتون نے فوری طور پر مدد کے لیے 15 پر کال کر کے مقامی پولیس کو مطلع کیا، مگر الزام ہے کہ پولیس نے موقع پر پہنچنے کے باوجود ملزم کے خلاف فوری کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی مقدمہ درج کرنے میں دلچسپی دکھائی۔ بعد ازاں، جب مظلوم خاتون انصاف کی تلاش میں ڈی پی او آفس پہنچی اور ایس پی کے سامنے پیش ہوئی، تو پولیس نے مبینہ طور پر اپنی غفلت پر پردہ ڈالنے کے لیے ملزم کے خلاف انتہائی کمزور اور بوگس دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر دی۔ اس ناقص قانونی کارروائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملزم کو اگلے ہی روز مقامی عدالت سے آسانی کے ساتھ رہائی مل گئی۔

​یہ واقعہ صرف ایک خاتون پر ہونے والا ظلم نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب ایک مظلوم عورت کو سرِعام بے آبرو کیا جائے اور پھر انصاف کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جائیں، تو معاشرے میں خوف، مایوسی اور بے یقینی کا راج قائم ہوتا ہے۔ اگر بااثر افراد اسی طرح قانون سے بالاتر رہیں گے اور کمزور انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا، تو عام شہری کا ریاست اور اس کے اداروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں سمیت مرکزی ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لا کر متاثرہ خاتون کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔

​‎




Address

London

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fikr o Nazar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share