03/07/2026
ایک لمحے کی تلخ کلامی کی سزا ان ماؤں کو ملی جن کی گودیں اجڑ گئیں، ان بچوں کو ملی جن کا مستقبل چھن گیا، اور ان خاندانوں کو ملی جن کے کفیل ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔
ژوب بس حادثے نے جہاں 40 معصوم جانوں کے چراغ گل کر دیے، وہیں اس نے مجموعی طور پر ہماری ذہنی کیفیت اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کیا چند مسافروں سے جھگڑے کا بدلہ ان سب معصوموں کی جان لے کر پورا ہونا تھا؟
زخمی مسافر کے بیان کے مطابق ڈرائیور نے معمولی تلخ کلامی پر قابو پانے کے بجائے انتقاماً پوری بس کھائی میں گرا دی۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں صبر و تحمل کا مادہ اس حد تک ختم ہو چکا ہے کہ انسان اپنی معمولی انا کی خاطر درجنوں انسانوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، زخمیوں کو جلد شفائے کاملہ دے اور ہم سب کو اپنے غصے پر قابو پانے اور ایک دوسرے کے لیے سراپا امن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔