07/06/2026
The Kashmir News
کشمیر کئی دہائیوں سے سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا شکار رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام امن، استحکام اور خوف کے بغیر جینے کے حق کے مستحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں کئی زمینی حقائق نے عام کشمیری کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی مختلف مطالبات اٹھانے اور احتجاج منظم کرنے میں سرگرم رہی ہے۔ تاہم اب بہت سی مقامی آوازیں محسوس کرتی ہیں کہ اس کے کچھ حالیہ موقف اور اقدامات کشمیری عوام کی حقیقی ضروریات کی عکاسی نہیں کرتے۔ ایک عام شہری کی روزمرہ زندگی کا انحصار تعلیم، صحت، روزگار اور پرامن ماحول پر ہے۔ جب ہڑتالیں، شٹر ڈاؤن اور تصادم کی سیاست بار بار ہوتی ہے تو عام خاندان، دکاندار، طلبہ اور مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو ایسے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے جو معیار زندگی کو بہتر بنائیں اور کشمیر کے سماجی تانے بانے کی حفاظت کریں، بجائے اس کے کہ ایسے موقف اپنائے جائیں جو خطے میں مزید تقسیم اور معاشی نقصان کا باعث بنیں۔پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مستقل مزاجی سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ سلامتی کونسل سے لے کر جنرل اسمبلی تک، پاکستان نے کشمیری عوام کے حقوق کے حق میں بات کی ہے اور ان کے سیاسی اور انسانی خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اس سفارتی حمایت نے دنیا کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز رکھی ہے اور یاد دلایا ہے کہ کشمیری عوام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات اور فلاح و بہبود کسی بھی مستقبل کی بات چیت میں مرکزی حیثیت رکھنی چاہیے۔کشمیر کے لوگ سب سے بڑھ کر امن چاہتے ہیں۔ تنازع اور عدم استحکام پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچا چکا ہے۔ نوجوانوں کو اسکول اور یونیورسٹیاں کھلی چاہییں، کاروبار کو محفوظ بازار درکار ہیں، اور خاندانوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے کشمیریوں میں یہ شدید خواہش پائی جاتی ہے کہ پاکستان یا پاکستان آرمی کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے سفارتی محاذوں پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف کشیدگی پیدا کرنا کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ پہلے سے حساس خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا انحصار مکالمے، احترام اور تعاون پر ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب ایک کشمیری بچہ بغیر کسی خوف کے اسکول جا سکے، جب ایک ماں اپنے بیٹے کو کام پر بھیجتے ہوئے مطمئن ہو کہ وہ بحفاظت واپس آئے گا، اور جب یہ خطہ تنازع کے بجائے معاشی ترقی کی طرف بڑھے۔ترجیح کشمیری عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہیے۔ سیاسی گروپوں اور کمیٹیوں کو اپنے اقدامات کو اس چیز سے ہم آہنگ کرنا چاہیے جو عام شہری کے لیے فائدہ مند ہو: امن، ترقی اور عزت۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت قابل قدر ہے۔ خطے کے مستقبل کے لیے تمام فریقین کو ایسی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے جو دشمنی میں اضافہ کریں۔ آگے کا راستہ امن، باہمی احترام اور پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف کسی بھی جارحیت سے گریز کا ہے، کیونکہ علاقائی استحکام ہی کشمیری عوام کے بہترین مفاد میں ہے