The Kashmir News

The Kashmir News Latest and authentics Breaking News of Azad Kashmir and Maqbooza(Ocupied) Kashmir. Don't Forget to L

09/06/2026
09/06/2026

Don’t try to ruined our history,our struggle and our sacrifices Kashmir News

08/06/2026

Stop killing innocent Kashmiri we want peace and stability in our region

The Kashmir News
07/06/2026

The Kashmir News

کشمیر کئی دہائیوں سے سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا شکار رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام امن، استحکام اور خوف کے بغیر جینے کے حق کے مستحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں کئی زمینی حقائق نے عام کشمیری کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی مختلف مطالبات اٹھانے اور احتجاج منظم کرنے میں سرگرم رہی ہے۔ تاہم اب بہت سی مقامی آوازیں محسوس کرتی ہیں کہ اس کے کچھ حالیہ موقف اور اقدامات کشمیری عوام کی حقیقی ضروریات کی عکاسی نہیں کرتے۔ ایک عام شہری کی روزمرہ زندگی کا انحصار تعلیم، صحت، روزگار اور پرامن ماحول پر ہے۔ جب ہڑتالیں، شٹر ڈاؤن اور تصادم کی سیاست بار بار ہوتی ہے تو عام خاندان، دکاندار، طلبہ اور مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو ایسے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے جو معیار زندگی کو بہتر بنائیں اور کشمیر کے سماجی تانے بانے کی حفاظت کریں، بجائے اس کے کہ ایسے موقف اپنائے جائیں جو خطے میں مزید تقسیم اور معاشی نقصان کا باعث بنیں۔پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مستقل مزاجی سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ سلامتی کونسل سے لے کر جنرل اسمبلی تک، پاکستان نے کشمیری عوام کے حقوق کے حق میں بات کی ہے اور ان کے سیاسی اور انسانی خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اس سفارتی حمایت نے دنیا کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز رکھی ہے اور یاد دلایا ہے کہ کشمیری عوام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات اور فلاح و بہبود کسی بھی مستقبل کی بات چیت میں مرکزی حیثیت رکھنی چاہیے۔کشمیر کے لوگ سب سے بڑھ کر امن چاہتے ہیں۔ تنازع اور عدم استحکام پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچا چکا ہے۔ نوجوانوں کو اسکول اور یونیورسٹیاں کھلی چاہییں، کاروبار کو محفوظ بازار درکار ہیں، اور خاندانوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے کشمیریوں میں یہ شدید خواہش پائی جاتی ہے کہ پاکستان یا پاکستان آرمی کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے سفارتی محاذوں پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف کشیدگی پیدا کرنا کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ پہلے سے حساس خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا انحصار مکالمے، احترام اور تعاون پر ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب ایک کشمیری بچہ بغیر کسی خوف کے اسکول جا سکے، جب ایک ماں اپنے بیٹے کو کام پر بھیجتے ہوئے مطمئن ہو کہ وہ بحفاظت واپس آئے گا، اور جب یہ خطہ تنازع کے بجائے معاشی ترقی کی طرف بڑھے۔ترجیح کشمیری عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہیے۔ سیاسی گروپوں اور کمیٹیوں کو اپنے اقدامات کو اس چیز سے ہم آہنگ کرنا چاہیے جو عام شہری کے لیے فائدہ مند ہو: امن، ترقی اور عزت۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت قابل قدر ہے۔ خطے کے مستقبل کے لیے تمام فریقین کو ایسی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے جو دشمنی میں اضافہ کریں۔ آگے کا راستہ امن، باہمی احترام اور پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف کسی بھی جارحیت سے گریز کا ہے، کیونکہ علاقائی استحکام ہی کشمیری عوام کے بہترین مفاد میں ہے

کشمیر کئی دہائیوں سے سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا شکار رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام امن، استحکام اور خوف کے بغی...
07/06/2026

کشمیر کئی دہائیوں سے سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا شکار رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام امن، استحکام اور خوف کے بغیر جینے کے حق کے مستحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں کئی زمینی حقائق نے عام کشمیری کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی مختلف مطالبات اٹھانے اور احتجاج منظم کرنے میں سرگرم رہی ہے۔ تاہم اب بہت سی مقامی آوازیں محسوس کرتی ہیں کہ اس کے کچھ حالیہ موقف اور اقدامات کشمیری عوام کی حقیقی ضروریات کی عکاسی نہیں کرتے۔ ایک عام شہری کی روزمرہ زندگی کا انحصار تعلیم، صحت، روزگار اور پرامن ماحول پر ہے۔ جب ہڑتالیں، شٹر ڈاؤن اور تصادم کی سیاست بار بار ہوتی ہے تو عام خاندان، دکاندار، طلبہ اور مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو ایسے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے جو معیار زندگی کو بہتر بنائیں اور کشمیر کے سماجی تانے بانے کی حفاظت کریں، بجائے اس کے کہ ایسے موقف اپنائے جائیں جو خطے میں مزید تقسیم اور معاشی نقصان کا باعث بنیں۔پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مستقل مزاجی سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ سلامتی کونسل سے لے کر جنرل اسمبلی تک، پاکستان نے کشمیری عوام کے حقوق کے حق میں بات کی ہے اور ان کے سیاسی اور انسانی خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اس سفارتی حمایت نے دنیا کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز رکھی ہے اور یاد دلایا ہے کہ کشمیری عوام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات اور فلاح و بہبود کسی بھی مستقبل کی بات چیت میں مرکزی حیثیت رکھنی چاہیے۔کشمیر کے لوگ سب سے بڑھ کر امن چاہتے ہیں۔ تنازع اور عدم استحکام پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچا چکا ہے۔ نوجوانوں کو اسکول اور یونیورسٹیاں کھلی چاہییں، کاروبار کو محفوظ بازار درکار ہیں، اور خاندانوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے کشمیریوں میں یہ شدید خواہش پائی جاتی ہے کہ پاکستان یا پاکستان آرمی کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے سفارتی محاذوں پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف کشیدگی پیدا کرنا کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ پہلے سے حساس خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا انحصار مکالمے، احترام اور تعاون پر ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب ایک کشمیری بچہ بغیر کسی خوف کے اسکول جا سکے، جب ایک ماں اپنے بیٹے کو کام پر بھیجتے ہوئے مطمئن ہو کہ وہ بحفاظت واپس آئے گا، اور جب یہ خطہ تنازع کے بجائے معاشی ترقی کی طرف بڑھے۔ترجیح کشمیری عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہیے۔ سیاسی گروپوں اور کمیٹیوں کو اپنے اقدامات کو اس چیز سے ہم آہنگ کرنا چاہیے جو عام شہری کے لیے فائدہ مند ہو: امن، ترقی اور عزت۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت قابل قدر ہے۔ خطے کے مستقبل کے لیے تمام فریقین کو ایسی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے جو دشمنی میں اضافہ کریں۔ آگے کا راستہ امن، باہمی احترام اور پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف کسی بھی جارحیت سے گریز کا ہے، کیونکہ علاقائی استحکام ہی کشمیری عوام کے بہترین مفاد میں ہے

29/05/2026

When kids dying it hurts 🥲🥲🥲

In this holy month Kashmiri and Palestine brothers and sisters needs our prayers so please share these pictures as much ...
28/05/2026

In this holy month Kashmiri and Palestine brothers and sisters needs our prayers so please share these pictures as much as you can

18/04/2026

New hia share it with your friends

محترم بھائی پروفیسر ڈاکٹر محمود اختر صاحب! آپ کی ریٹائرمنٹ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! فزکس کے لیے آپ کی لگن نے لاتعد...
22/12/2025

محترم بھائی پروفیسر ڈاکٹر محمود اختر صاحب! آپ کی ریٹائرمنٹ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! فزکس کے لیے آپ کی لگن نے لاتعداد طلباء کو متاثر کیا ہے، اور یہ آپ کی میراث کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ معاشرے میں آپ کی خدمات کو آنے والی نسلوں تک محسوس کیا جائے گا۔ آپ کے لیے خوشی، تجسس اور دریافت کرنے کی آزادی سے بھرپور ریٹائرمنٹ کی خواہش کرتا ہوں۔ آپ کو بہت یاد کیا جائے گا لیکن آپ کا اثر مستقبل کی تشکیل کرتا رہے گا۔

Address

134 Kingsway Road
Luton
LU11TT

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Kashmir News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Kashmir News:

Share

Category