MNNNEWS

MNNNEWS Islamabad journalists since the late '80s — Mian Sohail Iqbal, Farooq Faisal Khan & Aslam Dogar — now exploring the digital media landscape

بجٹ، سیاسی مذاکرات اور عمران خان سے ملاقات کا معاملہ؛ پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف سامنے آگیاراولپنڈی (ایم این این): پاکستان ...
03/06/2026

بجٹ، سیاسی مذاکرات اور عمران خان سے ملاقات کا معاملہ؛ پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف سامنے آگیا

راولپنڈی (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے منگل کے روز ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور خیبر پختونخوا کے بجٹ پر مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت بجٹ کی منظوری کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ تاہم اس موقع پر علیمہ خان نے مداخلت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر بجٹ کا عمل کیوں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ گزشتہ سال بھی عمران خان نے ہدایت دی تھی کہ بجٹ پر ان سے مشاورت کی جائے، لہٰذا حتمی منظوری سے قبل ان سے ملاقات ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پارٹی کا اولین مطالبہ عمران خان کو علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جائے اور الزام عائد کیا کہ ملاقاتوں پر پابندی مخصوص مقاصد کے تحت لگائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں موجود عمران خان کے فیصلے آج بھی پارٹی کے لیے حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت میں فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا۔

سہیل آفریدی کے مطابق صوبائی کابینہ بجٹ تجاویز کی منظوری دے چکی ہے اور حکومت سرپلس بجٹ پیش نہیں کرے گی بلکہ صحت، تعلیم، زراعت، نوجوانوں کی ترقی اور جنگلات کے فروغ پر مشتمل عوام دوست بجٹ متعارف کرائے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے اور ان کی جماعت ماضی کی طرح آج بھی تصادم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔

اڈیالہ روڈ کے دھگل چیک پوسٹ کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا سے متعلق معاملات پر پاکستان پیپلز پارٹی سے بات چیت ہوئی ہے، تاہم وفاقی سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت فی الحال اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔

گوہر علی خان نے کہا کہ پورا ملک عمران خان کی صورتحال پر تشویش رکھتا ہے اور پی ٹی آئی خود کو پاکستان کا ایک اہم حصہ سمجھتی ہے۔ سائفر کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان اس مقدمے میں بری ہو چکے ہیں اور یہ معاملہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

انہوں نے سیاسی رابطوں میں تاخیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تمام فریقوں کے درمیان مستقل رابطے کے لیے ہاٹ لائن یا مؤثر مواصلاتی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔

ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پارٹی میں اختلافات اور فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان پارٹی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوتے تو عہدیداروں کو خود تبدیل کر دیتے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے تمام 92 ارکان اپنی سیاسی حیثیت عمران خان کے مرہون منت ہیں اور بجٹ کے معاملے میں پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض ارکان کے تحفظات موجود ہیں اور بتایا کہ وہ سات ناراض اراکین سے ملاقات کر چکے ہیں۔

دریں اثنا جیل ذرائع کے مطابق چار رکنی طبی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ ٹیم نے ان کی آنکھوں سمیت مجموعی صحت کا جائزہ لیا۔

جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان بھی تقریباً 50 منٹ تک ملاقات ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

علیمہ خان نے ایک بار پھر کہا کہ اپنے بھائی سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اگر خاندان کو ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے عمران خان اور سابق آرمی چیف کے درمیان کسی ملاقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔

بھارت پانی کو دہشت گردی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، دیامر بھاشا ڈیم فوری مکمل کیا جائے: بلاول بھٹودیامر، گلگت...
03/06/2026

بھارت پانی کو دہشت گردی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، دیامر بھاشا ڈیم فوری مکمل کیا جائے: بلاول بھٹو

دیامر، گلگت بلتستان (ایم این این): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے، کیونکہ بھارت پانی کو پاکستان کے خلاف ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

دیامر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم صرف دیامر کے عوام کا حق ہی نہیں بلکہ پاکستان کی اہم ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر معاہدہ سندھ طاس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پانی کو دہشت گردی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 4,500 میگاواٹ صلاحیت کا دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنی معروف "شہباز اسپیڈ" کے ذریعے اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرائیں۔

15 ارب ڈالر لاگت کے اس منصوبے کو مکمل ہونے پر دنیا کے بڑے ڈیموں میں شمار کیا جائے گا۔ اس سے 12 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی سیراب ہوگی جبکہ تربیلا ڈیم کی عمر میں 35 سال کا اضافہ متوقع ہے، جس سے ملکی معیشت اور آبی تحفظ کو تقویت ملے گی۔

بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام سے 7 جون کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے اور پارٹی کا وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے، تاہم اسے نو نشستوں سے محروم کر دیا گیا۔

انہوں نے سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بعض عناصر سمجھتے تھے کہ پارٹی قیادت ختم ہو جائے گی، مگر صدر آصف علی زرداری نے عوام کی آواز بلند کرنا جاری رکھا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا۔

بلاول نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ثمرات ملنے چاہییں کیونکہ ایک مضبوط گلگت بلتستان پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں صحت کی سہولتوں میں نمایاں توسیع کی گئی، ہسپتالوں کا جال بچھایا گیا اور ادویات، آپریشنز اور ٹرانسپلانٹس مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی ہی سہولتیں گلگت بلتستان میں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔

بلاول بھٹو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پاکستان میں موجود تمام غیر ملکی فوجی اڈے بند کیے تھے۔ بظاہر بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ایبسولیوٹلی ناٹ" کے دعووں سے پہلے ہی غیر ملکی فوجی اڈے بند کیے جا چکے تھے۔

امریکا کا پاکستان، بھارت سمیت 60 معیشتوں پر جبری مشقت کے الزامات کے تحت نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویزواشنگٹن (ایم این این)...
03/06/2026

امریکا کا پاکستان، بھارت سمیت 60 معیشتوں پر جبری مشقت کے الزامات کے تحت نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

واشنگٹن (ایم این این): امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (یو ایس ٹی آر) نے پاکستان، بھارت سمیت 60 معیشتوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان ممالک نے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد تک ہوں گے اور حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور تبصروں کے مرحلے سے گزریں گے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنے تجارتی اور ٹیرف ایجنڈے کو قانونی چیلنجز کے بعد دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یو ایس ٹی آر نے کہا کہ چین، یورپی یونین، جاپان اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے خلاف تحقیقات کی گئیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا انہوں نے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے یا نہیں اور ان پالیسیوں کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑا۔

تحقیقات کے نتیجے میں یو ایس ٹی آر نے قرار دیا کہ 54 معیشتیں، جن میں چین، بھارت، ویتنام، تائیوان اور برطانیہ شامل ہیں، جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر پابندیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہیں۔

مزید چھ معیشتوں — پاکستان، کینیڈا، میکسیکو، انڈونیشیا، ایکواڈور اور یورپی یونین — کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے ایسی پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابل قبول ہے اور اس سے امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تجویز کے تحت پاکستان، کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، بنگلہ دیش، ملائیشیا، تائیوان، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جبکہ باقی 45 ممالک کی مصنوعات پر 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف لگایا جائے گا۔

کچھ اشیا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں، مجوزہ ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اسی طرح شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت آنے والی بعض مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔

یو ایس ٹی آر نے عوام سے 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں، جس کے بعد سماعتیں منعقد کی جائیں گی اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب چین نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جبری مشقت کا کوئی وجود نہیں اور واشنگٹن اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یورپی یونین نے بھی مجوزہ ٹیرف کو بلا جواز قرار دیا ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ نے بھی امریکی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔

عقد ثانی۔۔۔حلالہ۔۔۔حافظ اور محافظ(فاروق فیصل خان)بچپن میں ننھیال جایا کرتے تو بتایا جاتا تھا کہ مولانا مفتی محمود اور  م...
03/06/2026

عقد ثانی۔۔۔حلالہ۔۔۔حافظ اور محافظ
(فاروق فیصل خان)
بچپن میں ننھیال جایا کرتے تو بتایا جاتا تھا کہ مولانا مفتی محمود اور مولانا مودودی امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور پاکستان کے مخالف اس لئے فیلڈ مارشل ایوب خان نے مولانا مودودی کی جماعت پر پابندی عائد کی تھی۔ددھیال میں معاملہ بر عکس تھا ادھر بتایا جاتا کہ ذوالفقار علی بھٹو روس کے اور شیخ مجیب الرحمان بھارت کے ایجنٹ ہیں۔دونوں نے ملی بھگت سے پاکستان کو دو لخت کیا۔ اخبارات اور مطالعہ پاکستان پرھنے کے قابل ہوئے تو "انکشافات" ہوئے مرحوم خان عبدالغفار خان،صمد خان اچکزئی،سائیں جی ایم سید تو پکے پاکستان مخالف تھے۔۔۔کچھ عرصہ بعد مری اور مینگل قبائل بارے بھی ایسا ہی ذہن بنایا گیا۔وقت آگے کو بڑھا ملک پر اسلام کا غلبہ ہوا تو پاکستان "مخالف"بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ "اسلام دشمن" ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تو تاریخ کے اوراق سے بتایا گیا کہ مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان تو پرانے احراری ہیں۔ انہیں، جے یو آئی اور پی پی پی کو پاکستان سے کیا دلچسپی۔۔۔وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا گیا۔"پاکستان دشمن"بھٹو کی بیٹی حادثات زمانہ کہہ لیں یا فضائی حادثہ کے بعد برسراقتدار آئیں تو چند ماہ بعد ہی قوم کو بتا دیا گیا کہ یہ تو اپنے مرحوم باپ کا ایجنڈا پورا کرنے آئی ہیں۔سو سیکورٹی رسک قرار پا کر گھر بھیج دی گئیں۔نواز شریف منظر پر ابھرے یا ابھارا گیا لیکن معصوم ایک مرتبہ پھر دھوکہ کھا گئے۔انجانے یا جلد بازی میں مناسب چھان پھٹک نہ کر سکے اور ہندو بنیا اپنے بندے کو فٹ کرانے میں کامیاب ہوئے۔۔۔۔"مومنین" اتنے سادہ تھے کہ دونوں کی جماعتوں کو تین تین مواقع فراہم کئے کہ شاید بھارت کی محبت سے تائب ہو کر پاکستان کی محبت میں گرفتار ہو جائیں لیکن بے سود۔۔پورے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے تحت دونوں کو الگ الگ تین طلاقیں دے کر رخصت کیا۔۔۔لیکن پھر کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ کیفیت تو پہلے مرد سے ناآسودگی کی بنا پر طلاق لینے والی خاتون سی ہے جس نے عقد ثانی کے چند دنوں بعد کہا کہ پہلے والا ہی ٹھیک تھا۔۔۔۔سو پہلے والے دونوں سے بیک وقت عقد ثانی کر لیا گیا۔۔۔۔لیکن اب کی مرتبہ احتیاط یہ کی گئ ہے کہ محسن نقوی کی صورت شہہ بالا کا بھی انتظام کیا ہے۔۔۔۔اور کسی مولوی یا مولانا کی بھی ضرورت نہیں کہ ہم خود حافظ بھی ہیں اور محافظ بھی۔

03/06/2026

وہ تو اپنے ریٹائر پر بھی نظر نہیں ڈالنے دیتے
مجھے کیوں نکالا اور شہباز شریف
از فاروق فیصل خان

اقتدار اور پیسے کے کھیل کا کوئی اصول نہیں ہوتا۔۔۔نتیجہ ہوتا ہے، تخت یا تختہ۔۔۔نفع یا نقصان۔۔یہ کھیل بھی جنگ کی طرح ہے جس میں سب کچھ جائز قرار پاتا ہے۔جیت گئے تو طاقت،اختیار اور ملکی وسائل آپ کے قدموں میں۔ ہار گئے تو پھانسی کا پھندا یا دن کی روشنی میں کھلے آسمان تلے موت کی گولی۔۔۔خوش قسمتی ساتھ دے تو جلا وطن نہیں تو جیل کی کال کوٹھڑی۔۔۔زندہ رہیں گے تو پھر کھیل سکیں گے۔تین دفعہ کے منتخب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے دوران ایک مرتبہ پھر مجھے کیوں نکالا کا سوال اٹھاتے ہوئے اس کی کچھ ذمہ داری وہاں کے عوام پر بھی ڈال دی ہے کہ انہوں نے اس پر احتجاج کیوں نہ کیا؟
میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس لئے وہ یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔وہ اکثر عوام سے احتجاج نہ کرنے کا گلہ بھی کرتے ہیں، ماسوائے ایک آدھ مرتبہ کے، نکالنے کے ذمہ داران کا تذکرہ نہیں کرتے۔کبھی نظریاتی ہونے کا دعوٰی کرتے ہوئے جرنیلوں بارے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ یہ کون ہوتے ہیں، ان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تو کبھی بھول کر کسی جلسہ میں نام لے کر چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں۔اپنے مجرم جنرل باجوہ کی مدت ملازمت کی توسیع کا معاملہ ائے تو کھیل کے اصول جس میں کوئی اصول نہیں پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔دو مرتبہ کی وزارت اعلی، تین مرتبہ کی وزارت عظمی کے سب سے زیادہ فیوض و برکات تو ان کے خاندان کے حصہ میں آئے ہیں اور قرضوں کی بمعہ سود ادائیگی عوام کے ذمہ۔یقیننآ انہوں نے رب کی رضا کے لئے ایسے کام کئے ہوں گے کہ اللہ بھی ان سے راضی ہے۔الحمداللہ ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف تین مرتبہ وزیر اعلی پنجاب رہنے کے بعد ملک کے دوسری مرتبہ وزیر اعظم ،سمدھی اسحاق ڈار نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ،بیٹی مریم نواز شریف سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیر اعلٰی،ایک داماد علی ڈار وزیر اعلی کے مشیر، کزن عابد شیر علی سینیٹر،سسرالی بلال یسین صوبائی وزیر اور آپ خود لاہور بحالی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
بھولے سے گذشتہ رات ملاقات میں میاں صاحب کے سوال کا ذکر کیا تو کہنے لگا جب میاں صاحب کو نکالا گیا تو ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزارت اعلی آن کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کے پاس تھی اور وہ اب وزیراعظم ہیں،کبھی گھر میں ان سے ہی پوچھ لیں کہ ان کو کیوں اور کس نے نکالا؟ ان کو سادہ سا جواب مل جائے گا۔۔میاں صاحب میاں صاحب اپ کو پتہ ہے اقتدار کے کھیل کا کوئی اصول نہیں ہوتا،اس کے حصول کے لئے سب جائز ہے،ضرورت پڑنے پر اپنے مجرم کی سہولت کاری بھی کرنا پڑتی ہے اور جن کو کٹہرے میں کھڑے کرنے کا کہا تھا ان کی تابعداری بھی۔پائین(بھائی جان) اپ کا ہی شاگرد ہوں۔۔۔نتیجہ دیکھیں اقتدار اپنے پاس ہی ہے۔۔۔وزیراعظم میں ہوں یا آپ کیا فرق پڑتا ہے۔پنجاب کی وزارت اعلی بھی آپ کی۔۔۔اقتدار ،طاقت اور ملکی وسائل سب گھر کی لونڈی۔۔۔لاہور کی ترقی پر 700 ارب لگائیں یا سات ہزار ارب یہ موقع سوال کرنے کا نہیں۔اپ تو جانتے ہی ہیں وہ اپنے ریٹائر پر نظر بھی نہیں ڈالنے دیتے۔۔۔

ایران اور لبنان جنگ پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو انٹرنیشنل ڈیسک (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ...
01/06/2026

ایران اور لبنان جنگ پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

انٹرنیشنل ڈیسک (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان ایران اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس کی تفصیلات امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس اور دیگر ذرائع نے رپورٹ کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گفتگو اس وقت سخت ہوگئی جب ٹرمپ نے اسرائیل کے لبنان میں ممکنہ فوجی آپریشنز، خصوصاً بیروت کے قریب حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ مزید عسکری کارروائیاں امریکہ کی جاری سفارتی کوششوں، ایران سے مذاکرات اور خطے میں جنگ بندی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو مذاکرات کو ناکام بنا سکتے ہیں، جبکہ نیتن یاہو نے حزب اللہ اور ایران سے منسلک اہداف پر سخت کارروائی کا مؤقف اپنایا۔

ذرائع کے مطابق گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ ایران مذاکرات اور لبنان میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں جاری تھیں۔

کچھ میڈیا رپورٹس نے نامعلوم حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ گفتگو کے دوران ٹرمپ نے سخت زبان استعمال کی اور ناراضگی کا اظہار کیا، تاہم ان جملوں کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

گفتگو کے بعد رپورٹس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے اپنے بعض فوجی منصوبوں میں تبدیلی یا توقف کیا، جبکہ دونوں فریقوں نے عوامی طور پر تعلقات کو مضبوط قرار دیا۔

بعد ازاں ایکسیوس اور دیگر ذرائع نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ خطے میں وسیع سفارتی رابطوں میں مصروف رہے، جن میں لبنان جنگ بندی سے متعلق بات چیت بھی شامل تھی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026: تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ، تین ممالک اور 16 اسٹیڈیمز میں انعقاداسپورٹس ڈیسک (ایم این این): فیفا ورل...
01/06/2026

فیفا ورلڈ کپ 2026: تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ، تین ممالک اور 16 اسٹیڈیمز میں انعقاد

اسپورٹس ڈیسک (ایم این این): فیفا ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن ہوگا جو پہلی بار تین ممالک — امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو — میں مشترکہ طور پر منعقد کیا جائے گا۔

اس ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جبکہ یہ 11 جون سے 19 جولائی تک 16 شہروں اور 16 اسٹیڈیمز میں کھیلا جائے گا۔ مجموعی طور پر 12 گروپس اور 104 میچز ہوں گے۔

میچز امریکہ کے 11، میکسیکو کے 3 اور کینیڈا کے 2 اسٹیڈیمز میں ہوں گے، جبکہ فاصلے ہزاروں کلومیٹر پر محیط ہوں گے۔

اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی 48 ٹیموں میں دنیا بھر کی قومی ٹیمیں شامل ہوں گی جن میں امریکہ، کینیڈا، میکسیکو، ارجنٹائن، برازیل، فرانس، جرمنی، انگلینڈ، اسپین، پرتگال، اٹلی، نیدرلینڈز، بیلجیئم، کروشیا، یوراگوئے، کولمبیا، جاپان، جنوبی کوریا، سعودی عرب، ایران، آسٹریلیا، مراکش، نائیجیریا، سینیگال، مصر اور تیونس سمیت ایشیا، افریقہ، یورپ، شمالی و جنوبی امریکہ اور اوشیانا سے مزید کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں شامل ہوں گی۔

میکسیکو کے اسٹیڈیمز

ٹورنامنٹ کا آغاز میکسیکو سٹی اسٹیڈیم سے ہوگا جہاں افتتاحی میچ میں میزبان میکسیکو کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہوگا۔ یہ 83 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والا تاریخی اسٹیڈیم 1970 اور 1986 کے ورلڈ کپ فائنل بھی منعقد کر چکا ہے۔

گواڈالاخارا اسٹیڈیم چار میچز کی میزبانی کرے گا اور اپنی منفرد ڈیزائن اور شائقین کے پرجوش ماحول کے باعث مشہور ہے۔ اس کی گنجائش تقریباً 48 ہزار ہے۔

مونٹیری اسٹیڈیم پہاڑی مناظر کے درمیان واقع ہے اور 2015 میں کھولا گیا تھا۔ یہ بھی چار میچز کی میزبانی کرے گا اور تقریباً 53 ہزار شائقین کو سمیٹ سکتا ہے۔

کینیڈا کے اسٹیڈیمز

ٹورنٹو اسٹیڈیم 12 جون سے 3 جولائی تک چھ میچز کی میزبانی کرے گا اور تقریباً 45 ہزار شائقین کی گنجائش رکھتا ہے۔

وینکوور اسٹیڈیم سات میچز کی میزبانی کرے گا اور ٹورنامنٹ کے مصروف ترین مقامات میں شامل ہوگا۔ اس کی گنجائش 54 ہزار ہے اور یہ شہر کے خوبصورت اسکی لائن کے باعث مشہور ہے۔

امریکہ کے اسٹیڈیمز

سیٹل اسٹیڈیم چھ میچز کی میزبانی کرے گا اور اپنے شور بھرے ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔

سان فرانسسکو بے ایریا اسٹیڈیم جدید اور ماحول دوست ڈیزائن کے ساتھ چھ میچز کی میزبانی کرے گا۔

لاس اینجلس اسٹیڈیم آٹھ میچز کی میزبانی کرے گا جن میں کوارٹر فائنل بھی شامل ہے۔ یہ دنیا کے جدید ترین اسٹیڈیمز میں شمار ہوتا ہے۔

ہیوسٹن اسٹیڈیم سات میچز کی میزبانی کرے گا جبکہ ڈلاس اسٹیڈیم 94 ہزار شائقین کے ساتھ ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہوگا اور سیمی فائنل بھی یہاں کھیلا جائے گا۔

کنساس سٹی اسٹیڈیم چھ میچز، جبکہ اٹلانٹا اسٹیڈیم آٹھ میچز بشمول سیمی فائنل کی میزبانی کرے گا۔

میامی اسٹیڈیم سات میچز کی میزبانی کرے گا جن میں تیسری پوزیشن کا میچ بھی شامل ہے۔

فلاڈیلفیا اور بوسٹن اسٹیڈیمز بھی اہم ناک آؤٹ میچز کی میزبانی کریں گے۔

فائنل

ٹورنامنٹ کا اختتام نیویارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں ہوگا جہاں 19 جولائی کو فائنل کھیلا جائے گا اور نیا عالمی چیمپئن سامنے آئے گا۔ یہ اسٹیڈیم 82 ہزار سے زائد شائقین کی گنجائش رکھتا ہے۔

نواز شریف کا گلگت بلتستان کا اہم دورہ, انتخابی مہم کے دوران سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیالاہور (ایم این این): سابق وزیرِاعظم ...
01/06/2026

نواز شریف کا گلگت بلتستان کا اہم دورہ, انتخابی مہم کے دوران سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا

لاہور (ایم این این): سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف منگل کو گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے، جہاں وہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات سے قبل پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقات کریں گے۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف اپنے دورے کے دوران پارٹی رہنماؤں اور امیدواروں سے ملاقات کریں گے اور انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی اور فلاح سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی جائے گی۔

گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ عام انتخابات 7 جون کو ہوں گے، جو چار ماہ کی تاخیر کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں۔

نواز شریف فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے زیادہ فعال سیاست سے دور ہیں، تاہم وہ مسلم لیگ ن میں اہم مشاورتی کردار ادا کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سیاسی رہنما تصور کیے جاتے ہیں۔

رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خطہ پاکستان کے تمام حصوں کے برابر اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے پیر کو الزام عائد کیا کہ انتخابات سے قبل منظم پری پول دھاندلی اور ریاستی دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے۔

پارٹی کے مطابق وفاقی ادارے، مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، خاص طور پر سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ کو انتخابی پوسٹرز کے معاملے پر نوٹس جاری کیے جانے پر۔

پارٹی نے الزام لگایا کہ ایسے اقدامات کا مقصد امیدواروں کو تحریکِ انصاف چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔

پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن وفاقی سطح پر انتخابی مہم اور انتظامی اثرورسوخ کے ذریعے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی امیدواروں کو خطے میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں پر کارروائی نہ کرنا اور پی ٹی آئی امیدواروں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف اقدامات الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف کا یورپی یونین سے تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، کاجا کالس سے ملاقاتاسلام آباد (ایم این ای...
01/06/2026

وزیرِاعظم شہباز شریف کا یورپی یونین سے تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، کاجا کالس سے ملاقات

اسلام آباد (ایم این این): وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیر کو یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجا کالس سے ملاقات میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور خلیجی خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت پر یورپی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر جہتی شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں اسلام آباد میں ہونے والے آٹھویں پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سلامتی، ہجرت، پائیدار ترقی اور رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔

ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِاعظم نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت پر یورپی قیادت کو سراہا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مشترکہ کردار ادا کرے۔

کاجا کالس نے پاکستان کو خطے کی ایک اہم طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور دونوں کے درمیان تعاون تجارت سے آگے بڑھ کر موسمیاتی استحکام، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، صاف توانائی، نقل و حرکت اور دیگر شعبوں تک پھیل رہا ہے۔

کاجا کالس نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یورپ میں ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کاجا کالس کے دورے کو پاکستان اور یورپی یونین تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب نے تعلقات کو مزید جامع، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس: این سی سی آئی اے کی سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف درخواستاسلام آباد (ایم این این): ن...
01/06/2026

ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس: این سی سی آئی اے کی سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف درخواست

اسلام آباد (ایم این این): نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پیر کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے 12 مئی کے اس حکم کو واپس لینے کی استدعا کی جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کیا جائے۔

ایجنسی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی یہ ہدایت عدلیہ کی خودمختاری اور برابری کے اصول پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وکیل ہونے کی بنیاد پر دونوں کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔

ادھر سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 26 مئی کی مہلت گزر جانے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیر کو بھی کیس کی سماعت نہ ہو سکی اور استغاثہ کی جانب سے مہلت مانگنے پر سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

این سی سی آئی اے نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایسا کوئی غیر معمولی یا ہنگامی پہلو موجود نہیں تھا جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملے میں مداخلت کرنا پڑتی۔

درخواست میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کرنا کوئی حتمی حکم نہیں تھا، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنا قابل سماعت نہیں بنتا۔

ایجنسی نے مزید مؤقف اپنایا کہ اعلیٰ عدالتیں عموماً ابتدائی مرحلے میں زیر التوا مقدمات میں مداخلت سے گریز کرتی ہیں، سوائے ان معاملات کے جہاں سنگین قانونی بے ضابطگی یا فوری انصاف کی ضرورت ہو۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وہ مصروفیات کے باوجود خاص طور پر عدالت آئے تاکہ درخواستوں کی سماعت کر سکیں۔ انہوں نے استغاثہ سے عدم حاضری پر سوال کیا اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کی یاد دہانی بھی کرائی۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت 4 جون جمعرات تک ملتوی کر دی۔

ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ جنوری میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔ دونوں کو متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت جنوری میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دونوں نے فروری میں اپنی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جبکہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائی کورٹ کو ان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

Address

Manchester

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MNNNEWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MNNNEWS:

Share