03/06/2026
یہ فوٹو عائشہ کی ہے جو صرف سترہ سال کی تھی۔اسے تھی لکھتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے۔
عائشہ ایک معصوم بچی جو گھر کا چولہا جلانے کے لیے گھر سے دور کسی اور کے گھر کام کرنے گئی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جہاں وہ روزی کمانے جا رہی ہے وہاں اس کی زندگی ہی ختم ہو جائے گی۔
جو الزامات سامنے آئے ہیں وہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ ایک طاقتور طبقے کی اس سوچ کا اظہار ہے کہ غریب کی بیٹی کی کوئی قدر نہیں، کوئی آواز نہیں، کوئی انصاف نہیں۔ مگر اس بار آواز اٹھی ہے۔
یہاں ایک تکلیف دہ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ والدین کی ذمہ داری کیا تھی۔ غربت ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں لیکن ایک کم عمر بچی کو اجنبی لوگوں کے گھر اکیلے چھوڑ دینا، اس کی خبر نہ لینا، اس سے رابطہ نہ رکھنا، یہ بھی ایک سوال ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے۔ والدین کا فرض صرف یہ نہیں کہ بچے کو روزگار پر بھیج دیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اس سے مسلسل رابطہ رکھیں اور اگر کوئی بات بھی مشکوک لگے تو فوری قدم اٹھائیں۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ مر گئی اور مرنے سے پہلے اس نے بتایا کہ کیا ہوا۔ اس کا آخری بیان اب اس کی واحد گواہی ہے۔
اب فرض بنتا ہے ریاست کا، عدالت کا، میڈیا کا کہ یہ کیس دب نہ جائے، فائلوں میں گم نہ ہو جائے اور ملزمان اگر قصوروار ہیں تو بچ نہ نکلیں۔
عائشہ کو انصاف ملنا چاہیے، نہ صرف اس کی روح کی تسکین کے لیے بلکہ اس لیے بھی کہ کوئی اور عائشہ ایسے کسی گھر میں قدم رکھنے سے پہلے محفوظ رہ سکے۔ اور کوئی اور ماں باپ اپنی بچی کو اس طرح نہ کھوئیں۔🥀