Madiha Shah Writes

Madiha Shah Writes معمولی سی رائٹر


This is by the Grace of my Allah. This is official page of Madiha Shah.

آمین
31/05/2026

آمین

15/05/2026

Ameen

Follow our page. 🌹
❤️❤️❤️
The Evolution of : A Legacy of Engineering Excellence
Introduction
Bayerische Motoren Werke AG, commonly known as BMW, is a renowned German automobile and motorcycle manufacturer celebrated for its performance-oriented vehicles and cutting-edge technology. Founded in 1916, BMW has become synonymous with luxury, innovation, and driving pleasure. This article explores the history, evolution, and impact of BMW on the automotive landscape.
History and Foundation
BMW was established in Munich, Germany, originally as a manufacturer of aircraft engines during World War I. The company's first product was the BMW IIIa aircraft engine, which gained acclaim for its performance and reliability. However, the end of the war in 1918 led to a ban on aircraft engine production in Germany, prompting BMW to diversify its offerings.— bersama Tasty Besty Food 1M.
In 1923, BMW shifted its focus to motorcycles, launching the R32, which featured a revolutionary flat-twin engine and shaft drive. This motorcycle laid the foundation for BMW's reputation in the two-wheeled segment, eventually leading to several racing successes in the years that followed.
The Automotive Era
BMW entered the automotive market in 1928 with the acquisition of the Fahrzeugfabrik Eisenach. The first BMW car was the BMW 3/15, based on the Austin Seven. The introduction of the BMW 328 in the 1930s marked a turning point for the company, establishing it as a manufacturer of high-performance sports cars. The 328 gained recognition in motorsports, winning the Mille Miglia in 1940.
However, World War II led to significant challenges for BMW. The company was forced to redirect its production to support the German war effort, resulting in severe damage to its factories and infrastructure. After the war, BMW faced the daunting task of rebuilding and redefining its identity.
Post-War Recovery and Growth
In the post-war years, BMW focused on producing small, affordab

" رمضانِ قلب " تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ قسط نمبر ؛۔ 21_________🌙_______مجھے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔مجھے کچھ کہنا تھا ۔۔۔۔۔ کمایار او...
16/04/2026

" رمضانِ قلب "

تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ

قسط نمبر ؛۔ 21

_________🌙_______

مجھے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔

مجھے کچھ کہنا تھا ۔۔۔۔۔

کمایار اور ماہی ایک ساتھ بولے تھے جبکے دونوں نے حیرانگی سے خود کو دیکھا تھا چونکہ دونوں ہی اس لمحے کچھ کہنا چاہتے تھے

سحری کے لیے نیچے جانے والے تھے کہ دونوں نے رات والی بات پر کافی سوچتے ایک فیصلہ لیا تھا یہی وجہ تھی کہ دونوں بات کرنا چاہتے تھے ؛۔

کہو ۔۔۔۔ سن رہا ہوں ، کمایار نے ماہی کو بولنے کا کہا

پہلے تم کہو ۔۔۔۔۔ تمہیں بھی کچھ کہنا ہے نا ۔۔۔؟ ماہی الجھے انداز میں پہلے اُسے کہنے کا بول گئی

پہلے تم ہی بولو گی کمایار جو الفاظ جوڑ رہا تھا لڑکھڑاتے زبان سے کہا

فائن۔۔۔۔۔۔ ماہی نے لمبا سانس کھینچا تھا چونکہ ٹائم اتنا نہیں تھا سحری کے لیے بھی جانا تھا آوازیں پڑنا شروع ہو چکی تھی ؛۔

جو رات سب نے کہا میں نے دل سے اُس پر سوچا ، اور میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ جو رمضان کے بیس دن رہتے ہیں اُس میں ہم ہر قسم کی لڑائی بھولتے ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں

ایک کوشش ۔۔۔۔۔ اچھے دوست بنے کی ویسے بھی ڈیوس کے بعد ہم آزاد ہونے والے ہیں دوستی کا رشتہ قائم کرتے ہیں ۔۔۔؟ ماہی نے بہت آرام سے بولتے اپنی بات رکھی

اوکے ۔۔۔۔۔۔

تو پھر فرینڈز ۔۔۔۔۔؟ کمایار نے اتفاق کیا تھا جبکے ساتھ ہی دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا ۔

ماہی اُسکا انداز دیکھ ہلکے سے مسکرائی ۔

فرینڈز ۔۔۔۔۔۔ ماہی نے فورا سے ہاتھ ملایا تھا ؛۔

لیکن اس دوستی کے کچھ اصول بھی ہیں جو تمہیں فالو کرنے ہونگیں وہ اپنی ٹون میں واپس آتے صاف بولی ۔۔۔۔۔۔

اصول ۔۔۔۔۔؟ وہ چونکا

بعد میں بتاتی ابھی سحری کے لیے چلو ، اس سے پہلے ماما اوپر دادی کو بھیجے ،وہ سڑھیوں کی طرف لپکتے بولی

کمایار بھی مسکراتے پیچھے گیا تھا ؛۔

_______🌙______

کیا یہ سچ ہے ۔۔۔۔؟ تم دونوں نے دوستی کر لی ۔۔۔۔؟ جیسے ہی سب کو خبر پہنچی خوشی چہروں پر گہری ہوئی

بالکل ۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں نے بھی ان لمحوں میں دشمنی کی جگہ دوستی کو چنا ماہی سب کو دیکھ آرام سے بولی

چلو ۔۔۔۔۔۔ ذرا اصول تو بتاؤ ، کمایار نے سب کو دیکھتے ماہی کو مخاطب کیا

اصول ۔۔۔۔؟ علی اور سحر چونکے

اُحد ۔۔۔۔۔۔ میرے رس گُلے توں نے نئے دوستوں کو ہمارے اصول نہیں بتائے ۔۔۔؟ ماہی جو اپنی ٹون میں واپس آ چکی تھی اپنے بھائی کا کندھا دباتے پوچھا

مجھے لگا وہ اصول تو صرف ہم لوگوں کے لیے بنائے تھے اُحد نے تیزی سے جواب پاس کیا

سہی کہا ۔۔۔۔۔۔ وہ اصول ہمارے لیے تھے لیکن تب یہ لوگ ہمارے دوست نہیں تھے اگر اب دوستی کی ہے تو اصول بھی فالو کرنے ہونگیں

ماہی نے سب کو کان کھڑے کرنے پر اکسایا

کیسے اصول ۔۔۔۔؟ حمزہ نے حیران ہوتے پوچھا

پہلا اصول ۔۔۔۔۔۔ اس دوستی میں ہر مشکل پر اپنے دوستوں کا ساتھ دینا ہے اُنکو تنہا نہیں چھوڑنا ، اُحد نے سب سے پہلے بولا

دوسرا اصول ۔۔۔۔۔ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں رائے اپنے دوستوں سے ضرور لینی ہے ، اب کہ حرا نے کہا

تیسرا اصول ۔۔۔۔۔۔ گھر والوں کے سامنے اگر ایک کی پٹائی ہو رہی ہے تو سب اُسکو بچانے کی کوشش کریں گئیں ، عائشہ نے بھی علی کو غور کرنے کا اشارہ کرتے بتایا۔۔۔۔۔۔

چوتھا اصول ۔۔۔۔۔۔ اپنے دوستوں کی برائی بالکل بھی نہیں کرو گے اُحد اور عائشہ ائک ساتھ بولے تھے

پانچواں اور آخری اصول ۔۔۔۔۔۔۔ دوستی کا مطلب ٹائم پاس نہیں یادیں مظبوط رشتہ کسی بھی غلط فہمی میں اپنی دوستی پر آنچ آنے نہیں دو گے ، ماہی نے کمایار کو سرسری سی نگاہ ڈالتے گویا ۔

ڈن ۔۔۔۔۔۔ ہم یہ اصول ضرور فالو کریں گے ، سب نے ایک ساتھ کہا تھا

ماہی سمت اس پل سب ہی خوش تھے بہت زیادہ چونکہ یہاں سے ایک نئی دوستی کا آغاز ہو رہا تھا ؛۔

______🌙________

آج کا دن عجیب طرح سے خوبصورت تھا ، یونی میں سب کچھ ویسا ہی تھا ، جیسا ہر روز ہوتا تھا۔۔۔۔۔

کلاسز۔۔۔۔ لیکچرز ۔۔۔۔۔ نوٹس ۔۔۔مگر پھر بھی کچھ بدلا ہوا تھا ؛۔

آج سب نے مل کر پڑھائی کی ۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کی مدد کی ، باتیں بھی ہوئیں مگر ان باتوں میں نہ کوئی طنز تھا نہ چبھتی ہوئی باتیں نہ وہ پہلے والی تلخی ۔۔۔۔۔۔

ایک ہلکی سی نارمل سی خوشی جیسے سب کچھ آہستہ آہستہ اپنی جگہ پر آ رہا ہو ؛۔

کمایار بھی آج کافی ہلکا محسوس کر رہا تھا اس کے چہرے پر وہ تناؤ نہیں تھا جو پچھلے دنوں میں تھا خاص طور پر اس لیے کیونکہ آج وہ اور ماہی ایک ہی اسائنمنٹ کے پارٹنر بن گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

وہ یاد کرتے مسکرایا جب یونی میں دونوں ہی ایک ساتھ کام کرنے کا سوچے الجھے تھے کہ کیسے پوچھیں کہ اسمائمنٹ مئں پارٹنر بن سکتے ہیں

مجھے لگا تم منع کر دو گی کمایار نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا

ماہی نے بھی ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا
اور مجھے لگا تم کر دو گے

دونوں ایک لمحے کے لیے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہلکا سا ہنس دیے تھے ایک سادہ سا لمحہ مگر دونوں کے لیے نیا۔۔۔۔۔۔

کمایار یاد کرتے مسکرایا تھا یہ احساس ماہی اور کمایار دونوں کے لیے ایک نئی امید لا رہا تھا ؛۔

______🌙_____

ویسے تمہارے کتنے سپارے رہتے ہیں ۔۔۔۔؟ فون کو چارجر پر لگاتے ہوئے علی نے احد کو مخاطب کیا

دس سپارے رہتے ہیں احد نے فورا جواب پاس کیا تھا ماشااللّہ تم نے تو دوسرا قرآن مکمل کرنا ہے علی نے اُسکو بستر سے اٹھتے دیکھ مزید بولا

ہممم۔۔۔۔۔۔

یہ تو کچھ بھی نہیں سہی قرآن تو مکمل ماہی نے تین کر لینے ہیں یہ ہر سال رمضان میں تین قرآن پاک ماشااللّہ سے مکمل کر لیتی ہے احد نے تفیصلی بتایا

کہاں جا رہا ۔۔۔۔۔؟ علی اُسکو دیکھ چونکا

یار ۔۔۔۔۔۔ مجھے بھوک لگ گئی ہے احد نے معصوم سی شکل بناتے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ۔

بھوک تو لگنی ہے افطاری کے فورا بعد ڈنر کھا لیا جاتا ہے یوں ایک بجے بھوک نہیں لگے گئ تو کیا لگے گا ۔۔۔۔؟ علی نے بھی اتفاق کیا چونکہ اُسے بھی لگی ہوئی تھی ؛۔

اٹھ علی ۔۔۔۔۔۔۔ فورا سے تیار ہو آج دیکھ تیرا بھائی تجھے کیسے مزے کرواتا ہے احد کے دماغ میں ایک آئیڈیا ابھرا جو تقربیا رمضان میں ہمشیہ ابھرتا تھا وہ اُسکو اٹھنے کا کہتے خود تیزی سے ٹائپنگی کرتے گروپ پر میسج سینڈ کر گیا کہ سب ٹیرس پر آو ضروری بات کرنی ہے ؛۔

ایسا بھی کیا ہو گیا جو یہاں بلوایا ۔۔۔؟ ماہی اور کمایار سب سے پہلے پہنچے تھے جبکے ماہی نے فورا سے پوچھا۔۔۔۔۔۔

چلو۔۔۔۔۔ باہر چلتے ہیں علی اور اُحد ائک ساتھ بولے

کیا ۔۔۔۔۔۔؟ماہی چونکی

ہاں ۔۔۔۔۔۔ برگر وغیرہ کوئی پیزا کھانے علی نے بھی جوش میں بولا

کیا ہوا۔۔۔۔۔؟ جو ایسے اوپر بلوایا عائشہ نے پوچھا

چلو باہر کھانے چلتے ہیں ، اُحد نے مسکراتے ہوئے آنکھ دبائی

واہ۔۔۔۔۔ باہر ابھی ۔۔۔۔۔؟ سحر فوراً خوش ہو گئی
میں تو ریڈی ہوں
یہ تو بہت اچھا خیال ہے مجھے بھی جانا ہے ، عائشہ بھی ہنستی ہوئی بولی

تم لوگ پاگل ہو گے ہو ۔۔۔۔۔؟ رات کافی ہو گئی ہے پکڑے گئے نا تو شامت آ جائے گی ، حرا نے فوراً ڈانٹنے والے انداز میں کہا

حرا بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے اور ویسے بھی سحری بھی کرنی ہے کوئی فائدہ نہیں ، حمزہ نے بھی سر ہلایا

مگر دوسری طرف سحر عائشہ اُحد اور علی کا جوش کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا

اسی دوران ماہی اور کمایار خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

آنکھوں ہی آنکھوں میں جیسے سوال ہوا

جائیں ۔۔۔۔۔؟ کمایار نے ہلکا سا ابرو اٹھایا جیسے پوچھ رہا ہو

ماہی اُسکا انداز دیکھ حیران و خوش دونوں ہوئی تھی جبکے ویسے ہی اُسے پوچھا

میرے خیال سے آئیڈیا برا نہیں ہے مگر حمزہ کی بات بھی ٹھیک ہے سحری کا ٹائم ہونے والا ہے کمایار نے اپنا پوائنٹ رکھا

مسٹر کمایار چوہدری ۔۔۔۔۔۔ اپنا فیصلہ سنائیں آپ جانے کے حق میں ہیں یا نہیں ۔۔۔؟ باقی باتیں بھول جائیں گھر والوں کی فکر تو ہم نے پہلے کبھی نہیں کی تو اب اتنا کیوں سوچنا ۔۔۔۔؟ ماہی نے صاف کہتے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا

اُحد ، عائشہ لوگ سب خوش ہوئے تھے جبکے کمایار ماہی کا انداز دیکھ دل سے خوش ہوا دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں تھوڑا سا نظریہ چینچ کرتے سوچنا شروع کیا تو جیسے سب کچھ ہی اچھا ہو گیا

ٹھیک ہے پھر چلتے ہیں جو ہوگا دیکھا جائے گا کمایار نے بھی کھل کر بولا

بس پھر کیا تھا ، پلان فائنل ہو گیا ؛۔

________🌙_______

چند ہی دیر بعد سب چپکے چپکے دبے پاؤں گھر سے نکل رہے تھے

کسی کے چہرے پر ہنسی تھی تو کسی کے دل میں ڈر مگر سب کے اندر ایک عجیب سا ایڈونچر تھا ؛۔

آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔ حرا نے سرگوشی کی

آواز نہ آئے ۔۔۔۔۔ حمزہ نے ہنستے ہوئے کہا

تم خود سب سے زیادہ آواز کر رہی ہو عائشہ نے حرا کو دیکھتے بولا

باہر پہنچ کر جیسے سب آزاد ہو گئے گاڑی میں سوار ہوتے اپنی منزل کی طرف نکلے

کسی نے برگر آرڈر کیا کسی نے پیزا کوئی کولڈ ڈرنک لے آیا ۔۔۔۔۔

یہ برگر ورگر گھر بھی منگوا سکتے تھے حرا نے ایک بائٹ کھاتے سب کو گھورا

یار۔۔۔۔۔ یہ مزہ تو گھر میں نہیں آتا علی نے بڑا سا برگر کھاتے ہوئے کہا

بالکل سحر ہنستی ہوئی بولی

ماہی اور کمایار بھی ساتھ بیٹھے تھے پہلے تھوڑی جھجھک تھی پھر آہستہ وہ بھی باتوں میں شامل ہو گئے

کبھی کسی کی پلیٹ سے فرائز اٹھانا کبھی ہنسی مذاق وہ مصنوعی پن جو انہوں نے سوچا تھا کہیں پیچھے رہ گیا

چلو آئس کریم کھاتے ہیں ۔۔۔؟ عائشہ نے فورا سے کہا

اور موٹی ہو جاؤ حرا نے فوراً کہا

ایک رات میں کچھ نہیں ہوتا اُحد نے ہنستے ہوئے جواب دیا

سب آئس کریم لینے چل پڑے ؛۔

پہلے بھی یوں رات میں تم لوگوں نے ایسی واردات ڈالی ہے ۔۔۔؟ کمایار نے ماہی کی مسکراہٹ دیکھ پوچھا

ایک واردات ۔۔۔۔۔؟ تمہاری سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی ہم نے کتنے بڑے بڑے کارنامے کیے ہیں ماہی نے قہقہہ لگاتے علی سحر حمزہ سب کو حیران کیا

بالکل عائشہ بھی ہنستے بولی

ایسے ہی کھڑے کھڑے ماہی اُحد اور عائشہ پرانی باتیں سنانے لگے

ہم اکثر ہی رات کو یوں نکل پڑتے تھے اور خوب مزے ہوتے ہمارے اُحد نے پُرجوش انداز میں کہا

کبھی پکڑے نہیں گے ۔۔۔؟ علی حیران ہوا تھا

ایک دو بار پٹائی لگی ہماری ماہی نے کھل کر بتایا

بھائی صاحب ۔۔۔۔۔ اور جو ہم لوگ بہانے بناتے تھے کیا ہی کہانی سناتے کہ گھر والے خود ہی اکتا جاتے عائشہ نے آئس کریم کے مزے لیتے مزید گویا

اندازہ ہو گیا مجھے تم لوگ کافی پاگل ہو ، کمایار یہ سب سنتا رہا پھر آہستہ سے بولا

ماہی نے مسکرا کر کہا
دیکھ لو پھر ۔۔۔۔ ہم دوستی میں ایسے ہی کھلے دل والے ہیں تمہیں ابھی عادت نہیں ہے میرے ساتھ رہو گے تو ماہی نے مسکراتے کہا

شاید تمہارے ساتھ رہنے سے عادت ہو جائے ، اس سے پہلے ماہی بات مکمل کرتی کمایار نے پہلی بار کھل کر ہنستے درمیاں مئں بولا

سب نے ہی دونوں کو دیکھ دل میں خوشی محسوس کی ایسے ہی باتوں ہنسی اور مذاق میں وقت کا کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوا

اوہ ۔۔۔۔۔ بھائی سحری کا وقت ہو گیا ، اچانک حمزہ نے گھڑی دیکھی

کیا۔۔۔۔۔ سب ایک ساتھ چونک اٹھے

ہم گئے۔۔۔۔ حرا نے سر پکڑ لیا

سب جلدی جلدی واپس نکلے ہنستے بھاگتے گھبراتے ہوئے

راستے میں ماہی اور کمایار ایک ساتھ چل رہے تھے ؛۔

ویسے آج کی رات کافی اچھی گئی ، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کمایار نے آہستہ سے گویا

ماہی نے اس کی طرف دیکھا جبکے دل میں وہ بھی خوش تھی
سہی کہا تم نے آج کی رات کافی اچھی گئی ہمشیہ یاد رہے گی ایک اچھی یاد کے طور پر پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ؛۔

_______🌙_____

جاری ہے

انشااللہ اگلی قسط جلدی مل جائے گی

رمضان اسیپشل " رمضانِ قلب " تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ قسط نمبر ؛۔ 19 تا 20 پارٹ ( ٹو ) _________🌙_______سحری کے بعد کا وقت تھا۔...
07/04/2026

رمضان اسیپشل

" رمضانِ قلب "

تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ

قسط نمبر ؛۔ 19 تا 20 پارٹ ( ٹو )

_________🌙_______

سحری کے بعد کا وقت تھا۔گھر میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی اور ایک عجیب سی خاموش خوشی فضا میں محسوس ہو رہی تھی ۔

دادا جان اور دادی جان اپنے کمرے میں بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔
دیکھا۔۔۔۔۔؟ میں نے کہا تھا وہ مان جائیں گئیں دادا جان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، دونوں مان گئے۔ دادای جان نے ہلکا سا سر ہلایا؛۔

ہاں۔۔۔۔۔ ابھی تو مان گئے ہیں، مگر اصل امتحان اب شروع ہوگا ، دادی نے معنی خیز انداز میں کہا۔

چلو ہمارا پلان تو کامیاب ہوا جیسے ہی دادا جان نے یہ کہا دونوں کے چہروں پر ہلکی سی مطمئن مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔۔۔

دادا جان نے اور دادی نے مل کر دونوں سے بیس دن کا کہا تھا اب دیکھنا تھا کہ ان کا یہ طریقہ ان دونوں کو کس موڑ پر لے جاتا ہے ؛۔

تھوڑی دیر بعد، دادا جان نے گھر کے باقی سب بچوں کو اپنے کمرے میں بلا لیا ، اُحد، علی، عائشہ، سحر، حرا اور حمزہ سب حیران پریشان ایک ایک کر کے کمرے میں آ گئے ، جبکے من میں سوال تھا کہ ایسا بھی کیا ہو گیا جو دادا جان نے سب کو اکٹھا ہونے کا کہا تھا ۔

کیا ہوا دادا جان ۔۔۔۔؟ حمزہ نے سب سے پہلے پوچھا۔

دادا جان نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا، پھر سنجیدہ مگر نرم لہجے میں بولے ۔

دیکھو بچوں تم لوگ اچھے سے جانتے ہو کہ کمایار اور ماہی اس نکاح سے خوش نہیں اُنکو لگتا ہے کہ وہ کبھی ساتھ میں خوش نہیں رہ سکتے دادا جان نے سیدھے بات شروع کی تو سب دماغ میں الجھے کہ ان سے کمایار اور ماہی پر بات کیوں کی جا رہی ہے ؛۔

میں اور تمہاری دادی چاہتے ہیں کہ وہ دونوں دل سے ایک بار اپنے رشتے کو قبول کرتے سمجھنے کی کوشش کریں اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب وہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے کو وقت دے سمجھیں دادا جان نے آہستہ آہستہ کہتے سب کو مزید الجھا رہے تھے ۔

بچوں ہمیں تم سب کی مدد چاہیے۔ جیسے ہی دادی نے گویا ، سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

مدد ۔۔۔۔کس چیز میں۔۔۔۔۔؟ علی نے فوراً پوچھا۔

دادا جان نے گہری سانس لی، ماہی اور کمایار کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں ، یہ سنتے ہی سب جیسے جم سے گئے۔

کیا۔۔۔۔۔ ؟ عائشہ اور سحر بیک وقت بول پڑیں۔ حرا کی آنکھیں پھیل گئیں، اُحد نے حیرت سے دادا جان کو دیکھا، جبکہ حمزہ کے چہرے پر آدھی حیرت اور آدھی دلچسپی آ گئی ؛۔

بٹ دادا جان ۔۔۔۔۔ وہ دونوں تو۔۔۔۔۔ سحر نے کہنا چاہا۔

ہم جانتے ہیں وہ کیا چاہتے ہیں۔ مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کیا بن سکتے ہیں دادی جان نے مسکرا کر بات کاٹی۔۔۔۔۔۔

اگر ایک موقع دیا جائے ، تو رشتہ گہرا ہو سکتا ہے دادا جان نے قدرے مضبوط لہجے میں کہا؛۔

آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں دادا جان ۔۔۔۔؟ اُحد نے ماتھے پر لائن ڈالتے پوچھا

صرف اتنا کہ تم لوگوں نے ہر صورت میں ان دونوں کو ساتھ لانا ہے ، میں نہیں چاہتا کہ یہ رشتہ ختم ہو۔تم لوگ ہر وقت ان دونوں کے درمیان دوستی محبت سمجھانے سمجھنے میں مدد کرو گے کوشش کرنا کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ میں گزرے ؛۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ۔۔۔۔۔ حیرت آہستہ آہستہ ایک عجیب سی خوشی اور جوش میں بدلنے لگی۔۔۔۔۔۔

مطلب۔۔۔۔۔ ہم لوگ کوئی مشن شروع کرنے والے ہیں۔۔۔۔؟ علی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

اوہ ہو۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو مزے کا کام ہے حمزہ فوراً بولا، سحر کی آنکھوں میں چمک آ گئی ؛۔

سچ میں ۔۔۔۔ ہم دونوں کو قریب لائیں گے۔۔۔۔۔ ؟ عائشہ نے یقین کرنا چاہا جبکے خوشی چہرے پر چھائی ۔۔۔۔۔۔

اگر اس سے ماہی خوش ہو سکتی ہے ، تو میں ساتھ ہوں ،اُحد نے سنجیدگی سے کہا ۔

ہم پوری کوشش کریں گے دادا جان۔۔۔۔۔ حرا نے بھی دھیرے سے کہا، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ، آخر میں سب نے یک زبان ہوتے گویا ؛۔

دادا جان کے چہرے پر اطمینان آ گیا، بس یہی سننا تھا مجھے ۔۔۔۔۔ دادی جان نے محبت سے سب کو دیکھا ۔

یاد رکھنا۔۔۔۔۔ یہ کھیل یا تماشہ نہیں ہے، رشتے جڑنے کا معاملہ ہے ، سب نے سنجیدگی سے سر ہلا دیا ؛۔

مگر ان کے چہروں پر چھپی ہوئی ایک ہلکی سی شرارتی خوشی بھی صاف نظر آ رہی تھی ۔

_______🌙______

کچھ دیر بعد سب یونی کے لیے نکل گئے ، وہ سب ایک جگہ کینٹین میں بیٹھے تھے۔

تو بھائیو اور بہنو پلان کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟ حمزہ نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا ۔

ہمیں ایسے موقعے بنانے ہوں گے جہاں وہ دونوں ساتھ وقت گزاریں ، سحر نے سوچتے ہوئے کہا ۔

اور انہیں اکیلا بھی چھوڑنا ہوگا کبھی کبھی تاکہ وہ ساتھ میں اچھا فیل کرے علی نے فورا سے معنی خیز لہجے میں گویا ؛۔

بس ایسا نہ ہو کہ وہ دونوں قریب آنے کی بجائے اور زیادہ لڑ پڑیں ، عائشہ نے ہلکی سی فکر کے ساتھ سوچتے بولا ۔

دیکھو ۔۔۔۔۔ ہمیں سمجھداری سے کام لینا ہوگا ، زبردستی یا جلدی بازی نہیں کرنی اُحد نے سنجیدگی سے استفسار کیا ۔

سب گہری سوچ میں ڈوب گئے آخر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف ماہی اور کمایار بھی اپنے اپنے ذہن میں الجھنیں لیے یونی پہنچے ، کلاس روم میں جب دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔۔۔۔۔

تو ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی ، پھر جیسے کسی انجانی مجبوری کے تحت، وہ دونوں ایک ہی بینچ پر آ کر بیٹھ گئے۔

لیکچر شروع ہو گیا، مگر دونوں کی توجہ کہیں اور تھی ، کمایار نے آہستہ سے کہا، ماہی ۔۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔۔۔؟ ماہی نے ہلکا سا اس کی طرف دیکھا ۔

مجھے بات کرنی ہے ، یونی سے فری ہوتے بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔؟ کمایار نے تیزی سے پوچھا

ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ ماہی نے چند لمحے اسے دیکھا،پھر آہستہ سے سر ہلا دیا ؛۔

کلاس ختم ہونے کے بعد دونوں ایک نسبتاً سنسان جگہ پر آ گئے۔ کچھ دیر خاموشی رہی پھر کمایار نے گہری سانس لی۔

دادا جان نے جو کہا ہے وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، وہ کبھی ہونے والا نہیں ہے ہم دونوں جانتے ہیں ؛۔

بالکل ۔۔۔۔۔ میں اور تم کبھی بھی قریب نہیں آ سکتے ماہی نے بھی ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ دی ۔

لیکن۔۔۔۔۔۔ کمایار نے آگے کہا
یہ ایک مسلہ ہے بیس دن تک ناٹک کرنا ہوگا ہم ایک کام کر سکتے ہیں۔ ماہی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

ہم دونوں مل کر یہ ناٹک کر لیتے ہیں ، بیس دن اچھے سے ایک ساتھ رہنے کا ڈرامہ تاکہ بیس دن سکون سے نکل جائے نا کوئی محنت کرنی پڑے اور نا ہی کسی کو پتا چلے گا ماہی کی آنکھوں میں کمایار کی بات سن ایک لمحے کے لیے سوچ آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بیس دن کے بعد ایسے ہماری آزادی۔۔۔۔ ماہی نے بھی آہستہ سے گویا کمایار نے سر ہلایا ؛۔

ایکسیکٹلی ۔۔۔۔ ماہی نے ہلکی سی سانس لی، ٹھیک ہے ہم ساتھ مل کر یہ ناٹک کر لیتے ہیں۔

دونوں کے چہروں پر ایک عجیب سی سکون بھری مسکراہٹ آ گئی ، جیسے انہوں نے کوئی مسئلہ حل کر لیا ہو۔

مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ تھوڑی دور کھڑے سحر اور اُحد یہ سب سن چکے تھے۔ یہ لوگ ناٹک کرنے والے ہیں۔۔۔۔؟ سحر نے آہستہ سے اُحد کی طرف دیکھا ۔

ہاں ۔۔۔۔ کہا تو یہی ہے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، اُحد نے سنجیدگی سے بولا پھر بغیر وقت ضائع کیے واپس پلٹ گئے ؛۔

" گائز ہم ایک نیوز لائے ہیں تم لوگوں کو اندازہ لگا سکتے ہو کہ ابھی ہم نے کیا سنا۔۔۔؟ پاریکنگ ایریا میں پہنچتے ہی سحر نے جلدی سے کہا ۔

سب فوراً متوجہ ہو گئے۔ کمایار اور ماہی وہ دونوں صرف ناٹک کرنے والے ہیں بیس دن کا۔۔۔۔۔اُحد نے بات مکمل کی۔۔۔۔۔

کیا۔۔۔۔؟ سب ایک ساتھ بول اٹھے۔مطلب وہ ہمیں سب کو بے وقوف بنانے کا سوچ رہے ۔۔۔؟ علی نے حیرت سے پوچھا

اس کا مطلب وہ لوگ دادا جان اور دادی کے ساتھ ناٹک کھیلنا چاہتے ہیں عائشہ کے چہرے پر فکر آ گئی ؛۔

تو پھر ہمارا پلان کیسے کھیلیں گے ۔۔۔۔؟ حرا بھی فکر مند ہوئی

فکر نہیں کرو گائز ۔۔۔۔۔۔ انکے اس ناٹک کو سچ بنا دیں گئے حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

پلان اب اور بھی دلچسپ ہو گیا ہے سحر کی آنکھوں میں چمک آ گئی ؛۔

اب ہمیں ان کا ناٹک حقیقت بنانا ہے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اب یہ صرف ایک کوشش نہیں رہی تھی یہ ایک چیلنج بن چکا تھا احد نے بھی حصہ ڈالا تھا ۔

_______🌙______

" گائز ۔۔۔۔۔ سب اتنا خاموش کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔؟ علی اور اُحد نے ٹیرس پر آتے ہی پلان شروع کر دیا تھا ۔

سب افطاری سے فارغ ہوتے ٹیرس پر جمع ہو چکے تھے چونکہ تھوڑی دیر ہی وہ لوگ فارغ ٹائم میں گپ شپ کر پاتے تھے چونکہ عشاء جلدی ہو جاتی تھی جس وجہ سے تروایح کی نماز کے لیے بھاگنا پڑتا تھا ؛۔

کیا کرے ۔۔۔۔؟ افطاری کے بعد ایک سُستی سی سوار ہو جاتی ہے کچھ بھی کرنے کو دل نہیں چاہتا حمزہ نے آنکھ مارتے لٹکائے منہ سے گویا

کمایار اور ماہی بھی بیٹھے خاموشی سے اپنے فونز میں گم تھے باقی سب بھی ویسے ہی بیٹھے تھے

ویسے اُحد یار ۔۔۔۔۔۔ جتنا میں نے سنا تھا تم سے کہ پاکستان میں تم لوگ رمضان میں بہت انجوائے کرتے ہو مزے ہی مزے ہوتے ہیں مجھے ویسا کچھ نظر تو نہیں آ رہا تم لوگوں نے ہمیں بالکل بھی خوش نہیں کیا علی نے بات بناتے سب کو دیکھ پھینکی ۔

ماہی جو فون میں اپنے کلاس فلور سے چیٹ کر رہی تھی علی کے الفاظ سن متوجہ ہوئی ؛۔

قسم سے علی یار ۔۔۔۔۔ ہم ہر سال بہت مزے کرتے تھے پتا نہیں اس بار کیا ہوا ہے موقعہ ہی نہیں ملا کچھ کرنے کا اُحد نے افسردگی سے کہتے شانے اچکائے ۔۔۔۔۔۔۔

ویسے بالکل ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔۔۔۔ مجھے لگا تھا تم لوگوں کے ساتھ یہاں کافی کچھ کرنے کو ملے گا جتنا کمایار نے ماہی کا بتایا تھا ہمیں ویسا تم لوگوں کے گروپ میں مزا نہیں آیا حمزہ بھی میدان میں اترا ۔

ماہی کے بارے میں کیا بتایا ۔۔۔؟ عائشہ نے شوخ انداز میں آنکھیں سکڑتے پوچھا جبکے ماہی نے بھی کمایار کو سرسری سی نگاہ ڈالتے دیکھ حمزہ کی طرف لگائے ۔۔۔۔۔

یہی کہ ماہی بہت انجوائے کرنے والی خوش رہنے والی تنگ کرنے والی لڑکی ہے جو ہر پل کو بہت اچھے سے جیتی ہے حمزہ نے کمایار کی گھوری کو نظر اندازہ کرتے صاف بتایا ۔

ماہی جتنا حیران ہوتی کم تھا وہ کیا اُسکی تعریف بھی کر دیتا تھا یہ پہلی بار اُس پر عیاں ہوا تھا ؛۔

ماہی ۔۔۔۔۔ جتنا تمہارا سننا ہوا ہے میں نے یقین نہیں آ رہا تم تو بالکل بھی شرارتی نہیں ہو علی نے بھی یہ کہنا جیسے فرض سمجھا ۔

تم لوگ کیا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔؟ صاف صاف بتاؤ ، ماہی نے سرد سانس بھرتے فون ٹیبل پر رکھتے پوری طرح متوجہ ہوتے استفسار کیا ؛۔

ہم لوگ چاہتے ہیں کہ یہ جو رمضان کے اگلے انیس دن رہ گے ہیں اُس میں کافی اچھی یادیں اکٹھی کریں تاکہ رمضان کی یادیں یادگار بن جائے حمزہ نے پُرجوش انداز میں کہتے سب کو خوش کیا

کمایار حیران تھا اُسکے بہن بھائی کس قدر عجیب بےہیو کر رہے تھے جیسے کچھ دیکھا ہی نا ہو ؛۔

ٹھیک ہے پرومنس کرتی ہوں رمضان کے باقی دنوں میں ہم لوگ انجوائے کرتے خوبصورت یادیں بنائیں گئیں ماہی نے مسکراتے سب کو خوش کیا تھا ۔

سب نے ایک ساتھ خوش ہوتے اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔

دیکھا ۔۔۔۔۔۔ ہماری ماہی کا انداز۔۔۔؟ اُحد خوشی سے چہک اٹھا تھا جبکے علی اور سحر کو دیکھ بولا

ویسے ۔۔۔۔ ہم شروع کہاں سے کریں گے ۔۔۔؟ عائشہ نے پر جوشی سے پوچھا

تم لوگ بتاؤ ، ماہی نے صاف سب کی رائے جانی چاہی سب ہی سوچ میں پڑے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ کمایار اور ماہی قریب بھی آ سکیں اور انجوائے بھی ہو جائے

کچھ بھی شروع کرنے سے میرے ایک سوال کا جواب چاہیے ماہی اور کمایار سے ۔۔۔۔۔۔ حرا نے بھی اچھے سے ایکٹنگ کرتے ثابت کیا کہ وہ کمال کی ایکٹر بن کر سکتی ہے ؛۔

کیسا سوال ۔۔۔؟ کمایار سب سے پہلے چونکا تھا جبکے ماہی نے بھی کزن کو دیکھا ۔

یہی کہ تم لوگ اپنی گارنٹی دو کہ اگلے بیس دن تک کسی قسم کا ذاتی جھگڑا نہیں کرو گے تم لوگوں کی وجہ سے سب کا موڑ آف ہو جاتا ہے ۔

جانتے ہیں کہ تم دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے لیکن کیا بیس دن تک اچھے دوست نہیں بن سکتے کچھ وقت کے لیے بھول جاؤ کہ تم لوگوں ایک دوسرے کے نکاح میں ہو بھول جاؤ کہ کوئی ایسا حادثہ تم لوگوں کی زندگیوں میں ہوا ہے حرا نے بنا رکے ایک ہی سانس میں بولا ۔

ماہی اور کمایار نے غور سے سنتے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا جبکے گہری سوچ میں پڑے :۔

حرا نے بالکل ٹھیک کہا ، کل تک سوچو پھر ہی کچھ کریں گے حمزہ نے بھی اتفاق کرتے سب کو اٹھنے کا کہا تو سبھی اٹھتے وہاں سے گے ۔

______🌙_____

جاری ہے

رمضان اسیپشل " رمضانِ قلب " تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ قسط نمبر ؛۔ 19 تا 20  ۱_________🌙_______اگلی صبح گھر میں ایک عجیب سی تھکن...
28/03/2026

رمضان اسیپشل

" رمضانِ قلب "

تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ

قسط نمبر ؛۔ 19 تا 20 ۱

_________🌙_______

اگلی صبح گھر میں ایک عجیب سی تھکن اور خاموشی پھیلی ہوئی تھی، باقی سب یونی جانے کی تیاری میں لگے ہوئے تھے، مگر دو کمرے ایسے تھے جہاں زندگی جیسے رک سی گئی تھی۔

کمایار اور ماہی دونوں نے یونی جانے سے صاف انکار کر دیا تھا ؛۔

وہ اب کسی بھی طرح اس رشتے سے نکلنا چاہتے تھے ، نہ بات کرنے کی ہمت تھی، نہ ایک دوسرے کا سامنا کرنے کی دونوں اپنے اپنے کمروں میں بند رہے دروازے بھی بند، اور دل تو پہلے سے ہی بند تھے ۔

سارا دن اسی کیفیت میں گزر گیا ، کمایار کبھی خاموشی سے کھڑکی کے پاس کھڑا باہر دیکھتا، کبھی بے چینی سے کمرے میں چکر لگاتا ، لیکن ایک چیز اس نے نہیں چھوڑی ۔۔۔۔۔

نماز ۔۔۔۔۔ پہلی بار تھا کہ دین کو دل سے فالو کر رہا تھا روزہ رکھتے پورے دل سے عبادت بھی کر رہا تھا وہ وقت پر مسجد گیا، سر جھکا کر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوا، جیسے دل کا بوجھ صرف وہی ہلکا کر سکتا ہو ؛۔

دوسری طرف ماہی بھی اپنے کمرے میں تھی ، آنکھیں سوجھی ہوئی، دل بھاری مگر اس نے بھی اپنے رب کا دامن نہیں چھوڑا اس نے بھی وضو کیا، جائے نماز بچھائی، اور خاموشی سے عبادت میں دل لگانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔

یوں ہی دن ڈھل گیا ، افطاری بھی خاموشی سے کی گئی اور رات آ ٹھہری ۔۔۔۔۔

_______🌙______

رات کے آخری پہر جب ہر طرف خاموشی گہری ہو جاتی ہے اور اللہ کے خاص بندے تہجد کے لیے اٹھتے ہیں ؛۔

اسی وقت دادا جان نے کمایار کو اپنے کمرے میں بلوا لیا ، کمایار آہستہ قدموں سے اندر آیا ، اس کے چہرے پر تھکن، الجھن اور بغاوت سب ایک ساتھ نظر آ رہے تھے ۔

دادا جان بستر کے کنارے بیٹھے تھے ، انہوں نے کمایار کو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا ؛۔

" بیٹا ۔۔۔ ان کی آواز نرم تھی مگر اس میں وزن تھا، یہ رشتہ اب ایسے ختم نہیں ہو سکتا ، جیسے تم سوچ رہے ہو ۔۔۔۔۔"

کمایار نے فوراً سر اٹھایا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر دادا جان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔

" میری بات پہلے غور سے سنو۔۔۔۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی ، کمایار سمجھ گیا گیا کہ ایک بار پھر سمجھایا جائے گا ۔۔۔۔۔۔"

" اگر تم نے یہ رشتہ ختم کرنے کی کوشش کی تو صرف تم دونوں الگ نہیں ہوگے، پورا خاندان بکھر جائے گا ، جو میں اپنے جیتے جی بالکل ہونے نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔۔"

کمایار کی نظریں جھک گئیں ، اُس نے لمبا سانس کھینچا تھا وہ کس مصیبت میں پڑ گیا تھا ؛۔

دادا جان نے گہری نظر سے اسے دیکھا ۔

" اپنے تایا جان کو دیکھو ، کبھی سوچا ہے کیا گزرے گی ان سب پر۔۔۔۔۔۔؟ یاد رکھو نکاح والا دن خاندان کی عزت، رشتوں کی حرمت سب داؤ پر لگ گیا تھا اس دن ۔۔۔۔۔ اگر پھر سے یہ کھیل شروع ہوا وہ سب بکھر جائے گا "

" تم سمجھ رہے ہو نا۔۔۔۔۔؟ اگر تم نے بھی ایسا کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔؟ ہماری کیا عزت رہ جائے گی۔۔۔؟ ان کے لہجے میں ہلکی سی سختی آ ٹھہری ۔۔۔۔۔"

کمایار کے دل میں جیسے ایک بوجھ اور بڑھ گیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، اپنی تکلیف بتانا چاہتا تھا مگر الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے۔۔۔۔۔۔

" میری خاطر بس ۔۔۔۔۔ ایک بار اس خوبصورت رشتے کو موقع دو ، ایک دوسرے کو سمجھو، وقت دو مجھے یقین ہے، تم دونوں خوش رہ سکتے ہو ، دادا جان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔"

کمایار نے ہلکا سا سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں الجھن تھی امید بھی شاید۔۔۔۔۔

" دادا جان، میں۔۔۔۔ کیسے آپ کو سمجھاؤں۔۔۔۔۔۔"

" نہیں ۔۔۔۔۔ دادا جان نے فوراً اسے روک دیا ، میں کوئی بحث نہیں سنوں گا پھر وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، اور ایک فیصلہ کن انداز میں بولے ۔۔۔۔۔"

" دیکھو ۔۔۔۔۔ بیٹا میں سختی کرنا نہیں چاہتا نکاح اور شادی کوئی کھیل نہیں ہے بس اس لیے تم پر دباؤ دے رہا ہوں میں جانتا ہوں اس میں دل کا لگنا بھی ضروری ہے ، ٹھیک ہے میں تمہیں بیس دن دیتا ہوں ۔۔۔۔ دادا جان نے سوچتے تفیصل سے گویا ؛۔

کمایار نے چونک کر انہیں دیکھا۔

" رمضان کے اگلے بیس دن ۔۔۔۔۔ دادا جان نے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں کہا ۔
" تمہیں سچے دل سے اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کرو کرنی ہوگی ، ان بیس دن میں کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی دھوکہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔"

کمایار کے چہرے پر ہلکی سی روشنی آئی ، وہ تھوڑا تھوڑا سمجھ رہا تھا ؛۔

" اگر ۔۔۔۔۔ اگر میں نہ کر پایا تو۔۔۔؟ اس نے آہستہ سے پوچھا۔

دادا جان نے اسے غور سے دیکھا۔

تو پھر میں تمہارے فیصلے پر غور کروں گا ۔

یہ سنتے ہی کمایار کے دل میں جیسے ایک امید جاگی ؛۔

مگر اگلا جملہ پھر بوجھ بن کر گرا۔۔۔۔۔۔

" لیکن اگر تم نے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی مجھے پتا چلا کہ تم نے بالکل بھی دل سے اس رشتے کو سنبھالے کی کوشش نہیں کی تو بہت برا ہوگا کمایار میاں ۔۔۔۔۔۔۔"

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

" ٹھیک ہے دادا جان ۔۔۔۔ میں کوشش کروں گا ، کہ اگلے بیس دن میں دل سے اس رشتے کو سمجھوں اور نبھانے کی کوشش کروں گا چند لمحوں بعد کمایار نے آہستہ سے سر جھکا کر مظبوط لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔"

________🌙_______

اسی وقت، گھر کے دوسرے حصے میں ماہی عبادت والے کمرے میں تہجد کی نماز سے فارغ ہوئی تھی آنکھوں میں نمی، لبوں پر خاموش دعائیں۔۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی وہ دعا ختم کر کے اٹھی، دادی جان وہاں آ گئیں اور پاس بیٹھی ۔۔۔۔

"ماہی ۔۔۔۔ ان کی آواز میں شفقت تھی۔

" پتر ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں تم بہت پریشان ہو ، یہ سنتے ہی ماہی کی آنکھیں پھر بھر آئیں، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔۔۔۔۔۔"

پتر یہ رشتہ ۔۔۔ دادی نے آہستہ سے کہا ۔

" صرف تم دونوں کا نہیں ہے۔ اس میں بہت سے دل جڑے ہوئے ہیں ، خون کے رشتے ہیں، جو تم لوگوں کی نادانی کی وجہ سے بکھر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔"

ماہی خاموشی سے سنتی رہی ، چونکہ اور کوئی آپشن نہیں تھا وہ اپنی ماں سے بھی لیکچر لے چکی تھی ۔

میں تمہیں مجبور نہیں کر رہی ، دادی نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے گویا ۔
بس یہ کہہ رہی ہوں ایک بار دل سے اس رشتے کو موقع دو ، اپنی دادی کے کہنے پر ایک بار دل سے اس رشتے کو قبول کرو ۔۔۔۔۔۔

ماہی کی نظریں حیرانگی سے اٹھتی جھکی گئیں۔

" پتر ۔۔۔ کیا تم اپنی دادی کے لیے یہ کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔؟ دادی نے امید بھری نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔"

دادی آپ کے لیے جان بھی حاضر ہے مگر یہ میں نہیں کر پاوں گی پلیز مجھے سمجھیں ۔۔۔۔۔

میں آپ سب کا دل دکھانا نہیں چاہتی ، پلیز ۔۔۔۔ دادی مجھے اس رشتے سے آزاد کروا دیں وہ بھیگی پلکوں سے روتے بولی ۔۔۔۔

دادی اُسکی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ خود بھی دکھی ہوئی ۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے پتر ۔۔۔۔۔۔ میں ایک حل پیش کرتی ہوں ، وہ پیار سے کہتے ساتھ اُسکے آنسو صاف کر گئی ۔

" رمضان کے اگلے بیس دن تم سچے دل سے اس رشتے کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اگر اس کے بعد بھی تمہیں لگے کہ تم نہیں نبھا سکتی تو ہم تمہارے کیے فیصلے پر سوچیں گے ۔۔۔۔۔"

مطلب ۔۔۔۔۔ آپ کہہ رہی ہیں ، یہ بیس دن مجھے اس رشتے کو دل سے قبول کرنا ہوگا ۔۔۔۔؟ اگر کامیاب نا ہوئی تو آپ لوگ میرا فیصلہ مانے گے ۔۔۔۔۔؟ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ماہی نے آہستہ سے بولتے پوچھا

ہاں ۔۔۔۔۔۔ دادی نے سر ہلاتے صاف بتایا ۔

ماہی کے چہرے پر ہلکی سی امید جھلکی ، ٹھیک ہے دادی جان ۔۔۔۔۔ اس نے دھیرے سے کہا میں آپ کے کہنے پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی ۔۔۔۔۔۔

دادی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"اللہ تمہارے دل کو سکون دے، پتر ۔۔۔۔۔۔"

رات ختم ہونے کو تھی مگر ایک نیا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔

بیس دن ، دو دل ، ایک رشتہ ۔۔۔۔۔ اور ایک امتحان، جس میں صرف صبر، نیت اور وقت ہی فیصلہ کرنے والے تھے۔۔۔۔۔۔

______🌙______

جاری ہے

رمضان اسیپشل " رمضانِ قلب " تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ قسط نمبر ؛۔ 17 تا 18_________🌙_______گھر کا دروازہ زور سے کھلا اور اگلے ہ...
23/03/2026

رمضان اسیپشل

" رمضانِ قلب "

تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ

قسط نمبر ؛۔ 17 تا 18

_________🌙_______

گھر کا دروازہ زور سے کھلا اور اگلے ہی لمحے کمایار اور ماہی تیز قدموں سے اندر داخل ہوئے ، دونوں کے چہروں پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا، آنکھوں میں آگ سی جل رہی تھی اور سانسیں تیز تھیں ؛۔
دادا جان ۔۔۔۔ کمایار کی آواز پورے ہال میں گونجی۔

سب چونک کر ان کی طرف متوجہ ہو گئے ، دادی، ماہی کے والدین، پھوپھی سب کے چہروں پر حیرانی پھیل گئی۔

" ہم دونوں اس رشتے کو نہیں رکھ سکتے ، ماہی نے بغیر کسی تمہید کے کہا ۔۔۔۔"

ایک لمحے کے لیے جیسے وقت رک گیا ہو۔

کیا مطلب ۔۔۔؟ دادی کی آواز کانپ گئی۔

" ہم علیحدگی چاہتے ہیں ، ابھی کے ابھی کمایار نے سخت لہجے میں کہتے سب کی زمین ہلائی ۔۔۔۔"

یہ سنتے ہی سب کے چہرے زرد پڑ گئے۔ حرا، عائشہ، اُحد، علی، حمزہ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا سن رہے ہیں ؛۔

یہ رشتہ ہم پر زبردستی تھوپا گیا تھا ، ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے ماہی نے بھی غصے میں اپنے دل کی بات کہی ۔

اور تم ۔۔۔۔ کمایار نے ماہی کی طرف دیکھ کر دانت چبائے ، تم نے آج یونی میں جو کچھ کہا ۔۔۔۔۔

جو سچ تھا ، ماہی نے بات کاٹ دی،میں تمہارے ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتی وہ بھی پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی ؛۔

" بس ۔۔۔۔۔۔ بہت بول لیا تم دونوں نے دادا جان کی گرج دار آواز نے سب کو خاموش کر دیا ۔۔۔"

تم میرے ساتھ آؤ ، انہوں نے کمایار کی طرف اشارہ کیا۔

تم ادھر آؤ میرے ساتھ ، اور دادی نے فوراً ماہی کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔۔۔

دونوں بالکل بھی کوئی بات سننا نہیں چاہتے تھے پھر بھی ضبط کرتے خاموش ہوئے ؛۔

_______🌙_______

کمرے میں داخل ہوتے ہی دادا جان نے دروازہ بند کیا اور گھوم کر کمایار کو گھورا۔

اب بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟ وہ غصۓ سے دیکھتے پوچھنا شروع ہوئے ۔

کمایار نے غصے میں ساری بات سنا دی ، یونی کا جھگڑا، ماہی کا انکار، سب کے سامنے بات کا نکل جانا ہر چیز۔۔۔۔۔

وہ میرے ساتھ کام بھی نہیں کرنا چاہتی ، کمایار نے کہا،اور مجھے یہ سب برداشت نہیں ۔۔۔۔۔۔

ویسے بھی دادا جان ہم دونوں خوش نہیں ہیں میں سوچ لیا ہے مجھے اس کے ساتھ اس رشتے کو ہر حال میں ختم کرنا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا بس آپ پیپرز بلوانے ۔۔۔۔

دادا جان خاموشی سے سنتے رہے مگر جیسے جیسے بات ختم ہوئی، ان کے چہرے پر غصہ واضح ہونے لگا ؛۔

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔۔۔۔؟ وہ اچانک بلند آواز میں بولے۔

کمایار ساکت رہ گیا۔

" نکاح کیا ہے تم نے ، کوئی کھیل نہیں ہے یہ دادا جان کی آواز میں سختی تھی،یہ کوئی مذاق ہے کہ جب دل چاہا کر لیا، جب دل چاہا ختم کر دیا۔۔۔۔؟

لیکن دادا جان ۔۔۔۔۔ کمایار نے کچھ کہنے کی کوشش کی ۔

چپ ۔۔۔۔۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ؛۔

تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے یونی میں کیا کہا ۔۔۔؟ بیوی کے بارے میں ایسے الفاظ۔۔۔۔؟

کمایار شاک سا ہوتا الجھا جبکہ نظریں جھکا گیا ، وہ جانتا تھا دادا جان ایسے ہی اُسے روم میں نہیں لائے ؛۔

ماہی تمہاری ذمہ داری ہے ، اس رشتے کو نبھانا ہوگا ، جیسے بھی ہو ، دادا جان نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔۔۔۔

کمایار میں دوبارہ تمہارے منہ سے علیحدگی کا لفظ نہ سنوں ، سمجھ گے ۔۔۔۔؟ وہ اس کے قریب ہوتے بولے ؛۔

کمایار خاموش کھڑا رہا مگر اس کے اندر طوفان ابھی بھی چل رہا تھا ، وہ جتنا اس الجھنا سے نکلنا چاہتا تھا اُتنا ہی اُسے اس مسلے میں الجھایا جا رہا تھا ؛۔

دو سری طرف دادی نے ماہی کو بٹھایا، اس کے چہرے کو غور سے دیکھا آنکھوں میں نمی تھی، مگر غصہ حد سے زیادہ جھلک رہا تھا ۔۔۔۔۔

بیٹا ماہی ۔۔۔۔ پتر کیا ہوا ہے ۔۔۔۔؟ وہ جانتی تھی پوچھنے کی دیر ہے اور ماہی کو خاموش کروانا مشکل ہو جائے گا لیکن اب تفیصل سے سب جاننا بھی ضروری تھا ؛۔

ماہی نے بھی ساری بات سنا دی کمایار کی باتیں، اس کا لہجہ، اس کا سب کے سامنے نکاح کا ذکر کرنا باتیں طنز مارنا سب کچھ دادی کے آغوش اتار دیا ۔

میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی دادی ماہی کی آواز بھرائی ہوئی تھی،وہ مجھے سمجھتا ہی نہیں بلکہ مجھے نیچا دکھاتا ہے ۔۔۔۔

دادی نے گہرا سانس لیا۔

نکاح تو ہو چکا ہے۔ اب یہ رشتہ اتنا آسان نہیں کہ ختم کر دیا جائے بیٹا ۔۔۔۔ انہوں نے نرمی سے کہا،

تو کیا میں پوری زندگی ایسے گزاروں ۔۔۔؟ ماہی نے فوراً سے پوچھا ۔

دادی کی آنکھوں میں سنجیدگی آ گئی۔

" تمہیں معلوم ہے ہمارے معاشرے میں طلاق کا داغ کیا ہوتا ہے ۔۔۔؟ دادی جانتی تھی مشکل ہے نامکمن نہیں

ماہی خاموش ہو گئی وہ جانتی تھی اب مکمل لیکچر ملنے والا ہے ۔۔۔۔

ایک لڑکی کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے ، پتر دادی نے دھیرے سے کہا ۔
لوگ باتیں کرتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں زندگی آسان نہیں رہتی ۔۔۔۔

دادی مجھے نہیں جاننا کہ کیا ہوتا ہے مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ میں مزید اس بوجھ کو خود پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی وہ دادی کی بات مکمل ہوتے ہی سیدھا بولی

دادی جو مزید سمجھانے کا ارادہ رکھے ہوئے تئیں خاموش ہوتے آہ بھر گئی ؛۔

______🌙_____

گھر کا ماحول غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ وہی گھر جہاں ہر شام ہنسی، شور اور تاش کی آوازیں گونجتی تھیں، آج جیسے کسی انجانی فکر کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔

اوپر والے لاؤنج میں اُحد، علی، عائشہ، حمزہ، سحر اور حرا سب اکٹھے بیٹھے تھے، مگر کسی کے پاس بات کرنے کو الفاظ نہیں تھے ، ہر کوئی بظاہر خاموش تھا، مگر اندر ہی اندر ایک ہی سوال سب کو کھائے جا رہا تھا کہ ماہی اور کمایار کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔۔۔؟

سحر نے ایک گہری سانس لی اور خالی نظروں سے سامنے دیکھتے ہوئے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگی ، حرا بار بار لب کاٹ رہی تھی۔ حمزہ سر جھکائے موبائل کو دیکھنے کا بہانہ کر رہا تھا، مگر اس کی نظریں کہیں اور گم تھیں ؛۔

تبھی سیڑھیوں کی طرف سے قدموں کی آواز آئی ، کاشف اور ندا اوپر آئے ، دونوں نے جیسے ہی سب کو اس غیر معمولی خاموشی میں بیٹھا دیکھا تو چونک گے ۔

" یہ کیا ہو رہا ہے آج ۔۔۔؟ کاشف نے حیرت سے پوچھا ۔

"اتنی خاموشی کیوں ہے ۔۔۔؟ آج تاش نہیں کھیلی جا رہی۔۔۔۔؟ وہ میاں بیوی حیران ہوئے تھے ؛۔

سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، مگر کوئی جواب نہ دے سکا ۔

" آج دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔ آخرکار سحر نے ہلکی آواز میں کہا ۔

"ماہی کہاں ہے۔۔۔۔؟ ندا کی نظر فوراً عائشہ پر گئی ۔

" آپ بتائیں… کہاں ہے وہ۔۔۔؟ عائشہ نے سر اٹھایا ساتھ ہی شانے اچکائے ۔ ۔۔۔۔"

" اس کا مطلب ابھی بھی وہ اپنے کمرے میں ہے تب سے باہر نہیں نکلی ، ندا نے آہستہ سے جواب دیا ؛۔

" اور کمایار۔۔۔۔؟ یہ سن کر علی نے فوراً بھائی کا پوچھا۔۔۔۔"

وہ بھی اپنے کمرے میں ہے ، صاف کہہ دیا مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ کاشف نے ہلکی سی بے بسی سے کندھے اچکاتے بتایا ؛۔

" مجھے سمجھ نہیں آ رہا ، ان دونوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، دونوں ہی اس نکاح سے خوش نہیں ہیں ، یہ سن کر اُحد نے پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے گویا ۔

یہ جملہ جیسے سب کے دل کی بات تھا۔ خاموشی ایک بار پھر چھا گئی، مگر اس بار زیادہ دیر نہیں رہی۔

" میرے خیال سے کمایار بھائی کو ماہی کو سمجھانا چاہیے ، اس کے لیے یہ سب قبول کرنا آسان نہیں ہے ، عائشہ نے سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔"

" اور ماہی کو بھی سوچنا چاہیے نا کہ کمایار کے لیے بھی یہ سب آسان نہیں ہے ، صرف ماہی ہی مشکل میں نہیں ہے ، علی فوراً بول پڑا ۔۔۔۔۔"

" تم ہمیشہ خلاف ہی بولو گے ۔۔۔۔؟ عائشہ نے خفگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔"

" اور تم ہمیشہ اپنی بہن کے حق میں ۔۔۔۔۔ علی نے جواب دیا۔

کیونکہ وہ میری بہن ہے ، اُسکے ساتھ غلط ہوا ہے عائشہ کی آواز اونچی ہو گئی۔

اور کمایار بھی میرا بھائی ہے ، اُسکے ساتھ بھی کچھ اچھا نہیں ہوا علی بھی پیچھے نہ رہا۔

بات بڑھنے لگی۔ سحر نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی، مگر دونوں کی آوازیں تیز ہو چکی تھیں۔ حمزہ اور حرا بھی پریشان ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

" بس کرو ۔۔۔۔ تم لوگ شروع مت ہو جاؤ ، پہلے ہی ایک جنگ چل رہی ہے تم لوگ اپنی جنگ مت شروع کرو ماحول گرم ہوتا دیکھ کر کاشف نے سخت لہجے میں ٹوکا ۔۔۔۔"

سب ایک دم خاموش ہو گئے۔

" دیکھو ۔۔۔۔ یہ وقت لڑنے کا نہیں ہے ، میرے خیال سے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کی ضرورت ہے ،سمجھنے کی ضرورت ہے ، زبردستی کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ، کاشف نے گہری سانس لے کر نسبتاً نرم لہجے میں کہا۔۔۔۔"

ہمیں ان پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ حالات کو تھوڑا وقت دینا ہوگا ، ندا نے بھی سر ہلایا ؛۔

سب کے چہروں پر ناگواری اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی، مگر کسی کے پاس اس سے بہتر حل بھی نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ سب خاموش ہو گئے، مگر دلوں کا بوجھ کم نہ ہوا۔

______🌙_____

دوسری طرف، رات کے سناٹے میں دادا اور دادی اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔

کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ دونوں اپنے اپنے خیالوں میں گم تھے۔

ہم نے شاید جلدی کر دی ، دادی نے آہستہ سے بات شروع کی ۔۔۔۔ وہ جانتی تھی ضرور وہ بھی اس سوچ میں ہی کہیں گم ہیں ۔۔۔۔۔

" ہم نے جو کیا، بچوں کی بھلائی کے لیے کیا تھا ، مگر لگتا ہے وہ تیار نہیں تھے ، دادی نے افسردگی سے ان کی طرف دیکھا؛۔

" کمایار کی آنکھوں میں میں نے آج جو دیکھا وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دادا نے گہری سانس لی ۔۔۔"

اور ماہی وہ بچی اندر سے ٹوٹ رہی ہے ، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی دادی کی آنکھیں نم ہو گئیں ؛۔

دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا اگر یہ رشتہ ان دونوں کے لیے بوجھ بن رہا ہے تو ۔۔۔۔۔ دادی نے آہستہ سے کہا ۔۔۔۔۔

" نہیں ۔۔۔۔۔ بیگم ہرگز نہیں ، یہ کبھی مت سوچنا کہ وہ جو چاہتے ہیں ویسا ہوگا کیونکہ ہم ہمارے بچوں کو ایسی غلطی ہرگز کرنے نہیں دے گئے پہلے انہیں موقع دیں گے شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے۔۔۔۔؟ دادا جان نے فوراً بات کاٹتے کہا ۔۔۔۔۔"

دادی نے خاموشی سے سر ہلا دیا، مگر ان کے چہرے پر تشویش برقرار تھی ؛۔

رات گہری ہوتی جا رہی تھی، مگر اس گھر کے کسی کمرے میں سکون نہیں تھا، ہر دل میں ایک ہی بے چینی تھی ، کیا یہ رشتہ کبھی قبولیت پا سکے گا، یا سب کچھ بکھرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟

______🌙______

جاری ہے

Address

129th Street
Reading
RG11AF

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madiha Shah Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Madiha Shah Writes:

Share

Category