Madiha Shah Writes

Madiha Shah Writes معمولی سی رائٹر


This is by the Grace of my Allah. This is official page of Madiha Shah.

" ممی ٹھیک کہہ رہی تھی ، روح کے بنا ہمیں اکیلے یہاں ایک ساتھ ہونا چاہیے تھا ، مہراز جو لیپ ٹاپ لیتے نیچے لان میں بیٹھ اپ...
12/09/2026

" ممی ٹھیک کہہ رہی تھی ، روح کے بنا ہمیں اکیلے یہاں ایک ساتھ ہونا چاہیے تھا ، مہراز جو لیپ ٹاپ لیتے نیچے لان میں بیٹھ اپنا کچھ آفس کا کام ختم کرتے آیا تھا ۔۔۔۔۔
روح کو عبادت کے ساتھ سوتے دیکھ دل میں سوچتے لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھ گیا ۔ ایک ہفتہ ہو گیا ہمیں یہاں آئے ہوئے ۔لیکن ۔۔۔۔۔ عبادت تم ساتھ ہوتے ہوئے بھی ساتھ نہیں ہو ۔
وہ واچ اتار عبادت والی سائیڈ پر آتے اُسکے پاس بیڈ پر بیٹھا تھا جبکے واچ وہی سائیڈ ٹیبل پر رکھی ؛۔
" میں تمہیں سننا چاہتا ہوں ، تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتا ہوں، بتانا چاہتا ہوں کہ مہراز زیاد نے زندگی میں پہلی بار سچی محبت صرف عبادت سے کی ہے۔۔۔۔۔۔۔"
وہ گھبمیر سے لہجے میں بولتے ساتھ ہی تھوڑا سا جھکتے اُسکے قریب ہوا تھا یوں کہ وہ اُسکی سانسوں کی آواز سن خود کی سانسوں کی تپش اُسکے چہرے پر چھوڑ گیا ؛۔
" عبادت تمہارے پیار کو پانے کے لئے یہ مہراز زیاد ساری عمر بھی انتظار کر سکتا ہے ، لیکن اس بار سب کچھ صرف تمہاری خوشی سے ہوگا ۔ وہ وقت دور نہیں جب مہراز زیاد تمہارے یارم ابہام گیلانی شاہ کو ہمشیہ کے لیے تمہارے پاس لے آئے گا ؛۔
وہ ویسے ہی اُسکو نگاہوں میں رکھے محبت سے اُسکے ماتھے پر بوسہ دیتے اٹھا تھا ، جبکے عبادت کسماتے کروٹ لیتے روح کی طرف منہ کر گئی ۔۔۔۔۔"

https://youtu.be/5W4-5Yi_aXM?si=_8zcWE5bn4z_RxYp

عبادت جو جانے لگی تھی ، مہراز نے آگے ہوتے جیسے اُسکو جانے سے روکا ۔ عبادت جو پہلے ہی نظریں جھکائے ہوئے تھی ، مقابل کے ای...
10/09/2026

عبادت جو جانے لگی تھی ، مہراز نے آگے ہوتے جیسے اُسکو جانے سے روکا ۔ عبادت جو پہلے ہی نظریں جھکائے ہوئے تھی ، مقابل کے ایسے سامنے آنے سے بھی مقابل پر نظرِ کرم ڈالنے کی غلطی نہیں کی ۔
جبکے فورا سے دوسری طرف سے جانے کی کوشش کی ، مہراز بھی جیسے سوچ آیا تھا ، کہ نا خود اُس سے دور بھاگے گا اور نا ہی اُسکو خود سے دور جانے دے گا ۔۔۔۔ “
عبادت اُسکے پھر سے آنے ہونے پر ویسے ہی نظریں جھکائے پھر سے دائیں طرف سے جانے کو آگے بڑھی ، مہراز بھی دائیں طرف ہوا تھا
“ یہ ایسے کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔؟ عبادت جس کو غصہ آنے لگا تھا ، دل میں بڑبڑاتے چہرہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف کیا ۔ جیسے مقابل کو بتایا گیا تھا کہ آج بھی وہ دونوں کے درمیان وہی سب کچھ دیکھتی ہے جو چھوڑا گیا تھا ۔۔۔۔”
“ کتنی دیر تک ایسے خود کو مجھ سے دور رکھ پاو گی ۔۔۔؟ ایک دن عبادت تمہیں اپنے دل سے جیتوں گا ، مجھے اپنا مقام تمہارے دل میں بنانا ہے ابہام کی طرح ۔۔۔ اور آج سے میرے قدم صرف تمہاری طرف بڑھے گئے ۔۔۔۔۔”
وہ بھی دل میں سوچتا ویسے ہی دو قدم لیتے اُسکے پیچھے کھڑے ہوتے خود کو اُسکے قریب کیا یوں کہ عبادت جو مقابل کو اگنور کرنے کے لیے ایسے ہی چیزوں کو ہاتھ لگاتے ٹائم پاس کر رہی تھی ،
آئینے سے مقابل کو دیکھ سکتی ، جبکے نا چاہتے ہوئے بھی نگاہیں اٹھاتے مقابل کو دیکھنا ہی پڑا ۔
مہراز زیاد جو چاہتا تھا وہ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا ، جبکے دونوں نظریں ملی تھیں ۔ میں جیولری نکالنے میں ہیلپ کر دیتا ہوں ؛۔
“ نہیں ۔۔۔ میں ۔۔۔۔خو۔۔۔۔۔”
“ تھینک یو ۔۔۔۔۔” اس سے پہلے عبادت مقابل کو مدد کے لیے منع کرتی وہ اسُکے یوں پاس کھڑے ہونے سے ہی خود ہی سانسوں کو اُسکے سحر میں جکڑ گیا ؛۔
جبکے تیزی سے اُسکے ریشمی بالوں کو بہت پیار سے چھوتے کندھے سے پیچھے ہٹاتے کان کی لو چھو گیا ، عبادت جو اندھوں کی طرح چہرہ جھکا چکی تھی مقابل کے یوں قریب آنے پر کچھ بھی سمجھ نہیں پائی کیا کہے ۔۔۔۔”
“ تھینک یو ۔۔۔۔۔۔ مجھے ایک موقعہ دینے کا ، جیسے ہی مہراز نے گھمبیر سی الفاظ میں اُسکے دائیں کان کا جھمکا نکالتے یہ الفاظ ادا کیے ، عبادت نے فٹ سے نگاہیں اٹھاتے مقابل کو گھورا ؛۔
مہراز کو تو کچھ یونہی لگا تھا ، آئی می ۔۔۔۔۔ ہمارے رشتے کو نا چاہتے ہوئے بھی موقعہ دینے کے لیے ، وہ تیزی سے بولتے اپنے جملے درست کر گیا ۔
جبکے نگاہیں ویسے ہی آئینے پر وہ ٹکائے ہوئے تھا ، عبادت جو مقابل پر نگاہیں کرم ڈالتے خوش کر گئی تھی فورا سے پلکیں جھکی ؛۔
وہ اسُکو خاموشی طاری لیے دیکھ بہت ہی پیار سے اُسکی ریشمی زلفیوں کو بائیں سائیڈ کندھے سے ہٹاتے دوسرے کان کی اوڑھ جھکا تھا ۔
جبکے عبادت اُسکے ہاتھ کا لمس مشکل سے برادشت کرتے خود کو نارمل رکھا ؛۔
“ شکریہ ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے مقابل مزید کوئی مدد کرتا عبادت نے تیزی سے بولتے جیسے مقابل کو خود کی حرکتوں پر تالا لگانے کا گویا ۔۔۔۔”
مہراز جو کھو رہا تھا اُسکے روپ پر وہ بہک رہا تھا ، اُسکے ایسے اچانک سے بولتے تیزی سے جانے پر دل کے ارمان وہی دبا گیا ؛۔
“ آئی ۔۔۔۔۔ پرومنس ۔۔۔۔۔” عبادت ۔۔۔۔۔ ایک دن ۔۔۔۔۔” وہ اُسکو جاتے بیڈ پر لیٹتے دیکھ چینج کرنے گیا ۔۔۔۔ چونکہ آج جیسے بھی تھا مہراز زیاد اُسکو خود کی نگاہوں میں پائے بہت خوش تھا ۔۔۔”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

https://youtu.be/V2Uv_HroKzo?si=TGSImFEZFcp28oQZ

“ کیا ۔۔۔۔۔؟ تجھے ۔۔۔۔۔ پریزے سے ملنا ہے ۔۔۔؟ ریان کا منہ کھلا تھا ۔ جبکے آنکھیں پھاڑ زایان کو دیکھا ۔ ایسے تو مت دیکھ ۔...
10/09/2026

“ کیا ۔۔۔۔۔؟ تجھے ۔۔۔۔۔ پریزے سے ملنا ہے ۔۔۔؟ ریان کا منہ کھلا تھا ۔ جبکے آنکھیں پھاڑ زایان کو دیکھا ۔
ایسے تو مت دیکھ ۔ میں نے کون سا تجھ سے تیری جان مانگ لی ہے ۔۔۔؟ زایان جو پریزے کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ اپنی دل ہی سنتا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔۔۔۔۔
ریان ( پریزے کا بھائی ) کو معصوم سا چہرہ بناتے مدد طلب نگاہوں سے دیکھا ۔
نامکمن ۔۔۔۔ میں یہ کام بالکل بھی نہیں کر سکتا ، ویسے بھی توں اُس سے نہیں مل سکتا ، جو بھی بات کرنی ہوئی کل کرتے رہنا شادی کے بعد ؛۔
ریان نے صاف انکار کیا تھا ۔ جبکے زایان جس کو لگا تھا کہ ریان ضرور اُسکو سمجھے گا اُسکا انکار سن حیران ہوا ۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ توں مجھے کیوں نہیں ملوا سکتا ۔۔۔؟ دیکھ ۔۔۔ سالہ ابھی توں بنا نہیں ہے ، کم از کم ہماری دوستی کا ہی کوئی لحاظ رکھ لے ۔۔۔؟ میں نے کتنی امید سے تجھے کہا ہے ، زایان نے ریان کو اپنے ساتھ بٹھاتے ہاتھ جوڑے تھے ؛۔
ہماری دوستی کی وجہ سے ہی اتنے آرام سے انکار کیا ہے ، نہیں تو بھلا کوئی بھائی اپنی بہن سے کسی غیر کو شادی سے پہلے ملنے دیتا ہے ۔۔۔؟
ویسے قسم سے اگر مجھے پتا ہوتا نا کہ توں نے یونی میں میری بہن کو اپنی محبت میں الجھا رکھا ہے تو میں تجھے اچھے سے صاف کرتا ۔۔۔۔۔
ریان نے بھی جیسے بھائی ہونے کا پورا فرض ادا کیا تھا ، جبکے زایان اُسکی باتیں سن کانوں کو ہاتھ لگاتے چہرے پر شاک ہونے کے زوایے بھی بنا گیا ؛۔
“ اللہ معاف کرے تجھ جیسے سالے سے ۔۔۔۔۔ دیکھا تم ایسے تھے ، اسی لیے اللہ میاں نے مجھے تجھ سے یونی میں دور رکھا ۔ اور ویسے بھی سالے صاحب یہ مت بھولو کہ تمہاری بہن سے پہلے میرا نکاح ہو چکا ہے ۔ تو میں اُس سے مل سکتا ہوں ، زایان نے بھی جیسے صاف بتایا تھا کہ وہ حق رکھتا ہے ۔۔۔۔
جو مرضی کر لے ، میں کوئی ملاقات ہونے نہیں دے سکتا ، ریان بھی جیسے ناک سے مکھی اڑائی تھی ۔
ریان ۔۔۔۔۔ میرے دوست ۔۔۔۔۔ میرے بھائی ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔ ایسے مت کر ۔۔۔۔۔ یار مجھے تیزی بہن کو ایک بار دیکھنا ہے ۔ اُس سے بات کرنی ہے ۔۔۔
پلیز۔۔۔۔۔ میری مدد کر ۔۔۔۔۔ دیکھ جب تیری شادی ہو گئ نا ، قسم سے میں بھی تیری مدد کروں گا ۔ پرومنس کرتا ہوں ۔
اچھا تجھے جو چاہے وہ بھی دوں گا ۔ بتا کیا چاہتا ہے میں تیرے لیے کیا کروں ۔۔۔؟
“ سچ میں کرے گا ۔۔۔۔۔؟ ریان کو جیسے موقعہ ملا تھا ، وہ تیزی سے پوچھ گیا ۔
سچ میں کروں گا ۔ زایان تو خوش ہو چکا تھا ۔ جبکے ویسے ہی چمکتے چہرے سے ریان کو دیکھا ،۔
تجھے صرف اتنا کرنا ہے ، کہ یونی میں ہماری باسکٹ بال ٹیم کا مجھے کپتان بنانے کا ہمارے کوچ ممبرز کو بولنا ہے ۔ریان نے بتسی نکالتے مقابل کو حیران کیا تھا۔۔۔۔۔۔
سالے ۔۔۔۔۔۔ یہ کیسی چیز مانگ رہا ہے ۔۔۔؟ توں مجھے کپتان ہٹنے کا بول رہا ہے ۔۔۔؟ زایان تو صدمے سے جیسے گرنے کو ہوا ،۔
دیکھ ،۔۔۔۔ اب تجھے میں بھی تو اپنی بہن سے ملنے کی اجازت دے رہا ہوں تو اُسکی اتنی سی قیمت ادا کرنی تو بنتا ہے ۔۔۔؟ ریان نے بہت آرام سے بولتے واپس سے مقابل کو صوفے پر بٹھایا تھا ۔۔۔۔
“ میں تجھے معاف نہیں کروں گا ، سالے میرا ٹائم بھی آئے گا ۔ زایان نے دانت پیستے مسکراتے ریان کو دیکھا تھا ۔
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ، میں بول دونگا ۔ چل ۔۔۔۔۔ اب مجھے کسی طرح اُس ہال میں اپنی بہن کے پاس لے کر چل ۔۔۔۔
“ زایان نے مقابل کو فورا سے اٹھتے اپنے کام پر عمل کرنے کا گویا ،ویٹ کر ۔۔۔۔ میں آتا ہوں ، ریان فورا سے مسکراتے وہاں سے گیا ؛۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“ ریان ۔۔۔۔۔ جو توں نے میرے ساتھ کیا ہے نا ۔۔۔۔ خدا کی قسم یہ وقت تجھ پر آنے دے ذرا میں پورا حساب برابر کروں گا ۔
ابھی زایان سبھی خاندان کے مردوں کے ساتھ عورتوں کے ہال کی طرف بڑھا تھا ، کہ ریان جو مسلسل مسکراتے زایان کے ہمراہ چل رہا تھا ، اُسکے کان کے قریب سرگوشی کرتے اُسکو وان کیا ۔۔۔”
“ ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
یار ۔۔۔۔۔ میں نے کیا کیا ۔۔۔۔؟ دیکھ تجھے لے کر جا تو رہا ہوں ، اب اگر تجھے نہیں پتا تھا کہ مہندی کا فنکشن ساتھ ہی رکھا ہوا ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔
ریان جو جانتا تھا کہ زایان کو ابھی کسی نے خبر نہیں دی کہ مہندی کا فنکشن ساتھ ہی رکھا گیا ہے ، اُسے پریزے سے ملوا نے کی قیمت وہ بڑی لے اڑا تھا ؛۔
جیسے ہی وہ سبھی ہال میں داخل ہوئے ، لڑکیوں سمت خاندان کی سبھی عورتیں زایان کی بلائیں لیتی اُسکو اسیٹج کی طرف بڑھی ۔
جہاں اُسکی ہمسفر ۔۔۔۔۔۔ دولہن کے روپ کی طرح میک اپ سمت پھولوں کے ہاروں میں سجی مقابل کا دل دھڑکا گئی ؛۔
ایسے ہی دونوں کو ساتھ بٹھاتے عورتوں نے مہندی کی رسم ادا کی ، جبکے اُسکے بعد ایک بار پھر ہال میں لڑکیوں نے ڈانس کرتے ماحول کو گرم کیا ۔۔۔

https://youtu.be/qtnEP1nuYUs?si=8N9Rg_-0yFDdJbvi

“ کیا مصیبت ہے ۔۔۔۔۔ کسی کو اُسکی غلطی تو نظر آتی ہی نہیں ۔۔۔۔ پریزے جو روم میں آتے تقریبا سبھی جگہوں کو چیک کر چکی تھی ...
09/09/2026

“ کیا مصیبت ہے ۔۔۔۔۔ کسی کو اُسکی غلطی تو نظر آتی ہی نہیں ۔۔۔۔ پریزے جو روم میں آتے تقریبا سبھی جگہوں کو چیک کر چکی تھی کہ مقابل کے پوچھے بنا ہی اپنا منہ دکھائی کا گفٹ اپنے ہاتھوں میں کر لے کہ ساری ٹینشن ختم ہو ۔۔۔۔
روم کا ایک ایک کون دیکھ چکی تھی لیکن اُسکو کوئی بھی گفٹ نہیں ملا تھا ۔ شادی پر ملے باقی سبھی گفٹ ویسے ہی ٹیبل پر پڑے نظر آئے تو وہ کچھ سوچتی ان کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔۔”
ابھی وہ گفٹ اٹھاتے دیکھنے لگی تھی کہ اچانک سے زایان کے روم میں آنے پر وہ سیدھے ہوتے کھڑی ہوئی ، یوں کہ مقابل نے شکی نگاہوں سے اسُکو گھورا تھا ؛۔
“ کل رات تم نے جو کیا ۔۔۔۔۔ میں کبھی نہیں بھولوں گا ، وہ اپنے دل میں سرسری سی نگاہ ڈالتے نگاہوں کو گھوماتے ساتھ ہی قدم کبرڈ کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔”
“ اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ مجھے اچھے سے منا لیں ، الٹا خود ہی منہ بنائے پھیر رہا ہے ، وہ بھی دل میان سوچتے غصے سے مقابل کے پیچھے ہوئی ۔
میرا گفٹ کہاں ہے ۔۔۔۔؟نا چاہتے ہوئے بھی بات کا آغاز اُسے کرنا پڑا ۔
کون سا گفٹ ۔۔۔۔؟ وہ جو خود کے ریسپشن کے لیے کپڑے لینے آیا تھا ، کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ پارلر جانے والا تھا اُسکے ایسے اچانک سے آتے گفٹ مانگنے پر چونکا ۔۔۔۔”
“ میری منہ دکھائی دو ۔۔۔۔۔ وہ مقابل کے الٹے پوچھے گئے سوال پر گھوری سے نوازتے تیکے سے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
تم نے منہ دکھائی کی رسم ادا ہی کہاں کرنے دی جو میں تمہیں منہ دکھائی دوں ۔۔؟ وہ جو غصے سے بھڑکا ہوا تھا اُسکو جیسے موقعہ ملا تھا ۔
وہ تیزی سے بولتے ساتھ ہی اپنے کپڑے نکال بیڈ پر رکھنا شروع ہوا ، جبکے پریزے کا حیرانگی سے منہ کھلا تھا ؛۔
اچھا ۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں منہ نہیں دکھایا ۔۔۔؟ غلطی ساری تمہاری تھی ، تمہاری وجہ سے سب کچھ ہوا۔۔۔۔۔
زایان ۔۔۔۔۔ مجھے میرا گفٹ دو ، وہ اُسکو آرام سے اپنا سامان اکٹھا کرتے دیکھ مقابل کے پیچھے پیچھے چلتے دو ٹوک بولی ۔
کوئی گفٹ نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔۔۔ رات گئی تو بات گئی والا حساب سمجھو ۔ بھول جاؤ ۔۔۔ کہ سہاگ رات پر منہ دکھائی کا کوئی تحفہ بھی دینا ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کل رات جو ہمارے درمیان ہونا چاہیے تھا اور وہ نہیں ہوا تھا بالکل ویسے ہی بھول جاؤ گفٹ بھی ۔۔۔۔۔ “
وہ کھا جانے والے لہجے میں بھڑکتے ساتھ ہی بیگ میں پرفیوم ڈالنا شروع ہوا ۔
شرم کرو ۔۔۔۔۔ سب مجھ سے گفٹ کا پوچھ رہے ہیں ، مجھے میرا گفٹ ابھی کہ ابھی چاہیے ۔ پریزے اُسکی باتیں سن غصے سے مزید تپی ۔
شرم میں کروں ۔۔۔۔؟ کل رات خراب تم نے کی ، اور شرم میں کروں ۔۔۔؟ پریزے بی بی شرم مجھے نہیں تمہیں کرنی چاہیے تھی ، کل رات چھوٹی سی بات پر تم نے ہماری سب سے خوبصورت رات خراب کر دی ۔۔۔
تمہیں بالکل بھی افسوس نہیں ہوا نا ۔۔۔۔؟ ویسے ہی مجھے بھی فرق نہیں پڑتا کون تم سے کیا پوچھ رہا ہے ، بتا دو سب کو ۔۔۔۔ کہ میں نے تمہیں کوئی گفٹ نہیں دیا اور ساتھ میں یہ بھی لازم بتانا کہ اُسکی وجہ کیا تھی ۔۔۔۔۔
سب کو بہت شوق سے بتانا کہ تم نے مجھے گھونگٹ اٹھانے کا موقعہ ہی نہیں دیا ۔ یہ ضرور بتانا کہ اسی وجہ سے زایان نے کوئی گفٹ دیا ہی نہیں ، وہ بیگ کی زیپ بند کرتے دانت پیستی واک آوٹ کر گیا ؛۔
جبکے پریزے رونے والی شکل بناتے بیڈ پر گری چونکہ جیسے بھی تھا اُسنے ایسا تو نہیں چاہا تھا ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

https://youtu.be/vNMVPjtjBas?si=D7uIzFTeXkTia7O7

“ مجھے یارم اور ابہام کی کچھ تصویریں چاہیے ،حامد کے پوچھنے پر دماغ فورا سے کام پہ لگا وہ تیزی سے بولا تھا یارم ۔۔۔۔۔۔ اب...
07/09/2026

“ مجھے یارم اور ابہام کی کچھ تصویریں چاہیے ،حامد کے پوچھنے پر دماغ فورا سے کام پہ لگا وہ تیزی سے بولا تھا
یارم ۔۔۔۔۔۔ ابہام ۔۔۔۔۔۔؟ حامد چونکا تھا جبکے چہرے پر سینجدگی طاری ہوئی ، تمہیں ان کی تصویریں کیوں چاہیے ۔۔۔؟ اب کی بار تھوڑے سخت لہجے میں استفسار کیا ۔
“ چاچو ۔۔۔۔۔۔ میں یارم کو عبادت کے پاس واپس لاؤں گا ، پلیز ۔۔۔۔۔ مجھے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں آپ بس مجھے ابہام اور یارم کی تصویریں بھیجے
میں جانتا ہوں اگر کوئی میری مدد کر سکتا ہے اس کام میں تو وہ صرف آپ ہیں ۔ مہراز ایک ہی سانس میں بولتے حامد کو جیسے کچھ بھی کہنے سے روک گیا ؛۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ میں تمہیں تصویریں بھیجتا ہوں ، لیکن مہراز ۔۔۔۔۔۔ وقت بدل گیا ہے ، اگر اُسکا ماضی اُسکے پاس آتے ٹھہر گیا تو کچھ بھی پہلے کی طرح تمہارے اور اُسکے درمیان ٹھیک نہیں ہو پائے گا ۔۔۔
بہتر یہی ہو گا تم ان راستوں پہ مت چلو جن پر تم چل نا سکو ، حامد جانتا تھا اتنا آسان نہیں ہوگا اُسکے لیے ۔۔۔۔ اسی لیے جیسے سمجھانا چاہا ؛۔
“ چاچو ۔۔۔۔۔۔ جانتا ہوں وقت بدل چکا ہے، مگر۔۔۔۔ چاچو شاید آپ نہیں جانتے ۔۔۔۔ ابہام آج بھی اُسکے دل کے ساتھ سانسوں میں بستا ہے ۔۔۔۔ اور یارم آج بھی اُسکے جینے کی وجہ ہے ۔
اگر وہ اس زندگی میں سفر کر رہی ہے تو یارم کے ملنے کی امید اُسے زندہ رکھے ہوئے ہے ۔ مجھے نہیں لگتا مجھے آپ کو کچھ بھی سمجھانے یا بتانے کی ضرورت ہے ، آپ نے مجھ سے بہتر اُسکا وہ حال دیکھا ہے ۔۔۔۔
وہ درد بھری آواز میں کہتے حامد کو بھی جیسے ایک لمحے ماضی کے اُس برے وقت میں لے گیا جسے وہ سب فراموش کیے بیٹھے تھے ۔
اور رہی بات میرے اور اُسکے رشتے کی ۔۔۔۔۔ تو پہلے بھی کہاں کچھ ٹھیک تھا جو اب بگڑنے کا ڈر ہوگا ۔۔۔؟ وہ سرد مہری سے بولتے آنکھیں بند کر گیا ؛۔
حامد جس کے پاس کچھ بھی کہنے کو نہیں تھا ، فون بند کرتے وہی چئیر پر بیٹھے ۔ جبکے انھیں مہراز کی وہ باتیں یاد آئی ۔ جب وہ پاکستان آتے ہی سیدھا روح کو لیتے عبادت سے ملنے آیا تھا ۔۔۔۔
لیکن اتفاق سے عبادت اُس وقت گھر پہ موجود نہیں تھی ، وہ شاید کبھی بھی حامد کو اپنے اور عبادت کے درمیان ہوئی لڑائی کا نا بتاتا اگر حامد اُسکو دیکھتے سوال نا پوچھتا ۔
حامد کے پوچھنے پر مہراز نے سب کچھ بتا دیا ، کہ کیسے اُس نے اپنی بیوی پر شک کیا پھر کیسے ان کے درمیان لڑائی ہوئی ۔۔ کیا کچھ نہیں کیا اس نے ۔۔۔۔۔
جیسے ہی حامد نے مہراز کے منہ سے یہ سب کچھ سنا ، حامد کا ہاتھ اٹھا تھا اور مہراز کے چہرے پہ نشان ڈال گیا ۔ جبکے حامد اتنا غصے میں آ چکا تھا کہ مہراز کو فورا سے جانے کو کہا اور ساتھ ہی پھر کبھی شکل نا دکھانے کا کہا ۔
مہراز جانتا تھا جو کچھ اُسنے عبادت کے ساتھ کیا اُسکے سامنے یہ سزا کچھ بھی نہیں ، حامد کے کہنے پر مہراز اُسی پل وہاں سے اپنے گھر چل دیا ۔۔۔
حامد جو ساری رات اُس دن پریشان رہے وہ مہراز کی باتوں سے غصے تھے لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ عبادت خوشیوں کو بھول غم میں واپس لوٹے ۔
اگلے دن ہی مہراز کو اپنے آفس میں بلواتے اُسے کہا اگر وہ عبادت کو اپنی زندگی میں رکھنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اُسے اپنا بزنس پاکستان میں شفیٹ کرنا ہوگا تاکہ عبادت ہمشیہ اُنکی نظروں کے سامنے رہ سکے ؛۔
جب تک وہ اپنا بزنس یہاں نئیں شفیٹ کرتا تب تک وہ عبادت سے مل نہیں سکتا ، مہراز جو ایک بار عبادت سے بات کرنا چاہتا تھا اُسے دیکھنا چاہتا تھا چاچو کے حکم پر دل پہ پتھر رکھے اسی کام میں مصروف ہوا ۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

https://youtu.be/1IFoLu_B9kg?si=p_Jr78ewlMdKehwf

“ اب بس ۔۔۔۔۔ میں اب اُسکا مزید ویٹ نہیں کروں گی ۔ عبادت جو مقابل کا انتظار کرتے کرتے تھک چکی تھی ۔ بے دردی سے اپنی چند ...
06/09/2026

“ اب بس ۔۔۔۔۔ میں اب اُسکا مزید ویٹ نہیں کروں گی ۔ عبادت جو مقابل کا انتظار کرتے کرتے تھک چکی تھی ۔
بے دردی سے اپنی چند چوڑیاں اتار ڈریسنگ ٹیبل پر پھینک گئی ، جبکے ساتھ ہی دوپٹے کی پن نکالی ۔
جبکے ریشمی بال جو کندھے پر بکھرے سے پڑے تھے ان کو دیکھ وہ غصے سے تیزی سے پن نکالنا شروع ہوئی ۔۔۔
“ نا تو کال اٹھا رہا ہے اور نا ہی کسی مسیج کا رپلائے کر رہا ہے ، اگر دوست اتنے ہی عزیر تھے تو ان سے شادی کر لیتا ، وہ غصے سے بولتی ساتھ ہی گلے میں پہنے ہار کو دیکھ تیزی سے دوپٹے کی باقی پن نکالنا شروع ہوئی ؛۔
“ آئے ذرا یہ ۔۔۔۔۔ بالکل بھی بات نہیں کروں گی ، وہ بیٹھے سے اٹھتے ٹہلنا شروع ہوئی ۔۔۔۔
ابھی وہ دوپٹے کی لاسٹ پن نکالتی دروازے کا لاک گھومتے ٹک سے دروازہ کھول وہ اندر داخل ہوا تھا ۔
عبادت جو ٹہل رہی تھی پن پر ہاتھ رکھے ویسے ہی مقابل کو دیکھ گئی جو اپنا ویکسٹ کوٹ ہاتھ میں پکڑے اپنی دولہن کو دیکھ گیا تھا ۔
“ ایم سوری ۔۔۔۔۔۔! وہ اُسکا روپ دیکھ فٹ سے کوٹ صوفے پر رکھتے اُسکی طرف آیا ۔
مجھے لگا تم سو گئی ہو گی ۔ وہ اُسکا غصے سے سجا چہرہ دیکھ فورا سے بولتے قریب آیا ۔ جبکے عبادت منہ پھیرتے واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوئی ۔۔”
“ ایم سوری عبادت ۔۔۔۔۔۔ دراصل میں کسی کام سے گیا تھا ، وہ اُسکو سر پر لگی پن نکالتے دیکھ مزید تھوڑا قریب ہوا ۔۔۔۔
میں نکال دیتا ہوں ، وہ اُسکو خاموش دیکھ ڈرتے ڈرتے اُسکے ہاتھ کو ٹچ کر گیا ۔
کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ مقابل کی طرف پلٹتے تیزی سے بولی ؛۔
آہ ۔۔۔۔۔عبادت جو پلٹی تھی مقابل کو اتنا قریب دیکھ ڈرتے لڑاکھڑائی تبھی وہ گرنے کو ہوئی
مقابل نے اُسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اُسکو گرنے سے بچایا تھا جبکے ابھی کچھ یوں تھا کہ وہ مقابل کی بانہوں کے سہارے پر حصار میں قید ہوئی تھی ؛۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے کے چہرے کا طوائف شروع کر چکی تھی جبکے عبادت کا دوپٹہ سر سے اترا کندھے پر جھول گیا ۔۔۔۔
عبادت جو مقابل کو خود کے قریب محسوس کرتے دل کی دھڑکنیں تیز کر گئی تھی ، فورا سے یاد آتے کھڑی ہوئی ابہام جو کھو چکا تھا اُس پر ویسے ہی نظریں ٹکائے اُسکو کھڑا کرتے تکنا شروع ہوا
عبادت جو مقابل کے حصار سے نکالنا چاہتی تھی اُسکو ویسے ہی خود کی کمر پر حصار باندھے دیکھ مقابل کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کر گئی ؛۔
“ آج تو میں تمہیں خود سے دور جانے نہیں دے سکتا ۔ وہ اُسکو جھکتا دیتے مزید خود کے قریب کرتے گویا ۔۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔ تو مسٹر ابہام کو یاد آ گیا کہ آج ان کی شادی ہوئی ہے ۔۔۔؟ وہ ویسے ہی اُسکے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرتے ساتھ ہی ایک ادا سے اپنے ریشمی گنے بالوں کو کندھے سے پیچھے پھیلا گئی ۔۔۔۔
مجھے سب کچھ بہت اچھے سے یاد ہے ، مسز ابہام شاہ ۔۔۔۔۔ کہ آج میری مبارک شادی ہوئی ہے ۔ وہ شرارت سے اُسکو دیکھتے ساتھ ہی ہلکے سے ہونٹوں کو گول کرتے سامنے کھڑی خوبصورت چہرے پر پھوک مارتے خود کی قربت کا جیسے جادو چلانے کا کام شروع کر گیا ۔۔
عبادت جو پہلے ہی مشکل سے مقابل کی طرف دیکھ رہی تھی مقابل کے اس عمل پر آنکھیں بند کرتی ساتھ ہی دل کا شور سن گئی ۔
ویسے میرے پاس تمہارا گفٹ ہے ۔ وہ اُسکو لیتے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لے گیا ۔ جبکے تبھی مقابل نے محبت سے سامنے ڈرو کھولتے ایک ڈبی نکالنے ڈائمنڈ کی رنگ اُسکے مہندی سے سجے ہاتھ میں پہنائی ۔۔۔۔
عبادت کا چہرہ مسکرایا تھا جبکے ساتھ ہی محبت سے اپنے شوہر کو دیکھا ۔ میں بہت خوش ہوں عبادت ۔۔۔۔۔ وہ ویسے ہی اُسکو مرر کے سامنے کھڑے دیکھ محبت سے اُسکے کندھے پر چہرہ رکھتے گویا ۔۔۔۔۔”
تم نے بتایا نہیں کیسا لگا میرا گفٹ ۔۔؟ وہ اُسکے بدن سے اٹھتی خوشبو کو خود کی سانسوں میں بڑھتے ساتھ ہی اُسکے بالوں کو ہر پن جوڑے سے آزاد کرتے خود کے سلگتے ہونٹوں کو اُسکی سہرائی دار گردن پر رکھ گیا ۔
عبادت مقابل کے اتنے سے عمل پر ہی دلوں جان سے سلگی ، جبکے وہ ہاتھوں کو مٹھیوں کی مانند بند کرتے مقابل کی بڑھتی شدت کو برادشت کرنا شروع ہوئی
ابہام جو اُسکی گردن پر جھک چکا تھا ویسے ہی اُس پر جھکے محبت سے اُسکے کانوں میں پر لب رکھتے اپنی محبت کی تپش چھوڑ کندھے پر جھکا ۔۔۔
تم نے جواب نہیں دیا ۔۔۔ وہ جیسے اُسکی حالت سے لطف اندوز ہوا تھا ؛۔
“ بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ عبادت اپنے ہاتھ کو دیکھتی ساتھ ہی مقابل کو دیکھ مشکل سے کہہ پائی ۔ جبکے تبھی ابہام نے اُسکو بانہوں میں اٹھاتے اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھائے ۔
دونوں ہی اس پل بہت خوش تھے
عبادت نے پوری محبت سے ابہام کو خود کی بانہوں کے حصار میں بھرا ۔ جبکے خوبصورت چاندنی رات بھی جیسے ان کے ملنے سے مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔

https://youtu.be/b2BlJoyFfME?si=6nlyqoQI3G_EYRp-

ر زمین پر پڑا لکڑی کا بلا (بیٹ) اٹھا لیا، "آپ نے ہادی بھائی کو اتنی جلدی آؤٹ کر دیا... ویسے، مجھے بھی کرکٹ کھیلنی ہے!"ار...
06/09/2026

ر زمین پر پڑا لکڑی کا بلا (بیٹ) اٹھا لیا، "آپ نے ہادی بھائی کو اتنی جلدی آؤٹ کر دیا... ویسے، مجھے بھی کرکٹ کھیلنی ہے!"

ارسلان نے اپنی ایک ابرو اٹھائی، اس کی سیاہ آنکھوں میں ایک شاطرانہ مسکراہٹ ابھری

: "تمہیں؟ کرکٹ؟ ۔۔۔۔۔۔۔زوہا شاہ... کیا تمہیں بال پکڑنا بھی آتی ہے؟"

زوہا نے روٹھ کر اپنا منہ دوسری طرف کیا اور بیٹ کو شانے پر رکھا:

"آپ مجھے کمزور سمجھ رہے ہیں؟ مجھے سب آتا ہے! آپ مجھے بال کروا کے تو دیکھیں۔"

ارسلان نے ہلکا سا قہقہہ لگایا—ایک ایسا کھلم کھلا قہقہہ جو صرف زوہا کے سامنے ہی اس کے لبوں پر آتا تھا۔

اس نے زمین سے بال اٹھائی اور وکٹ سے کچھ قدم دور جا کر کھڑا ہو گیا۔

"ٹھیک ہے، اگر تم کہتی ہو تو..." ارسلان نے مسکرا کر کہا، "لیکن میری بال کا سامنا کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا مسز ارسلان شاہ۔"

"آپ بس بال کروائیں!" زوہا نے بڑے غرور سے بیٹ کو وکٹ کے سامنے ٹکایا اور پوزیشن لی۔

ارسلان نے بہت ہی آہستہ اور معصومانہ رفتار سے بال زوہا کی طرف پھینکی تاکہ اسے کوئی چوٹ نہ لگے۔ بال بالکل سیدھی اور دھیمی آئی۔

زوہا نے پورے زور سے بیٹ گھمایا—*سوئش!*

لیکن بیٹ ہوا میں گھوم گیا اور بال سیدھی جا کر اس کی وکٹ سے ٹکرا گئی! *تھپ!*

ارسلان نے اپنے دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور ایک دلکش فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ زوہا کو دیکھا:

"پہلی ہی بال پر آؤٹ! مسز ارسلان شاہ کی کرکٹ اننگز کا اختتام ہو گیا۔"

زوہا نے حیرت سے اپنے پیچھے گری ہوئی وکٹ کو دیکھا، پھر ارسلان کو جو اس کا مذاق اڑا رہا تھا

۔ اس کے گال شرم اور خفگی سے سرخ ہو گئے۔

if you want to read complete novel go to link

https://madihashahwrites.blogspot.com/2026/09/sehra-ki-rait-mohabbat-ka-raaz-by-ayesh.html?m=1

“ ماشااللّہ ۔۔۔۔۔۔ آج تو کوئی لاجواب سے بھی لاجواب نظر آ رہا ہے ۔۔۔؟ آج ارداہ کیا ہے ۔۔۔۔؟ کہتی ہو تو سیدھے اپنے گھر لے ...
05/09/2026

“ ماشااللّہ ۔۔۔۔۔۔ آج تو کوئی لاجواب سے بھی لاجواب نظر آ رہا ہے ۔۔۔؟
آج ارداہ کیا ہے ۔۔۔۔؟ کہتی ہو تو سیدھے اپنے گھر لے چلوں ۔۔۔؟ وہ معنی خیز لہجا لیا عبادت کو اپنی گہری نظروں میں رکھے بولا
عبادت جو گاڑی میں آتے بیٹھی تھی ، اُسکی شرارت سے بھری آنکھوں میں دیکھ ساتھ ہی اپنے ہاتھ کا ایک چھوٹا سا مکہ بناتی مقابل کے کندھے پر جھڑ گئی ؛۔
وہ اُس کے ایسے شرمانے پر خوب مسکرایا جبکے آرام سے گاڑی آگے بڑھائی ۔
“ یہ خوبصورت نام تمہارے نام ۔۔۔۔۔ ابھی وہ لوگ ہوٹل پہنچے تھے ۔ کہ ابہام اُسکے لیے چئیر پیچھے کرتے ساتھ ہی اُسکے قریب ہوتے بولا ۔۔۔
اتنی مہربانی ۔۔۔۔۔ نیت کیا ہے ۔۔۔؟ اُسنے بھی موقعے پر جیسے حساب برابرا کرنا چاہا ۔ ابہام کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔۔
“ ہائے ۔۔۔۔۔۔ مت نیت پوچھو ۔۔۔۔ وہ ایک ادا سے دل پر ہاتھ رکھتے اُسکے قریب ہوتے بیٹھا ۔ عبادت جو مسکرا رہی تھی اُسکے اچانک سے قریب ہونے پر شرماتی ادھر ادھر نظریں گھومنا شروع ہوئی “
نیت تو ایسی ہے کہ دل چاہتا ہے تمہیں دل میں کہیں قید کر لوں ۔ اور پھر وہ پل کبھی ختم نا ہو ۔ وہ مزید قریب ہوتے اپنے دل کا حال بیان کر گیا
“ یہاں مجھے کوئی نظر کیوں نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔؟ عبادت ہال خالی دیکھ بات کا موضوع بدل گئی ۔
کیوں کہ آپ کے شوہر صاحب نے یہ جگہ خاص بک کروائی ہماری اس خوبصورت شام کے لیے ۔۔۔۔
وہ اپنے دل پر قابو رکھتے اٹھتے عبادت کے بالکل سامنے ٹیبل کے دوسرے پار بیٹھا ۔۔۔۔
“ اف ۔۔۔۔۔ اتنا پیار ۔۔۔۔؟ عبادت حیران ہوئی تھی جبکے زبان سے بے دھیانی میں پھسلا ۔۔۔۔۔
یہ تو ابھی کچھ بھی نہیں ہے ۔ وہ مسکراتے معنی خیر بولا تو عبادت جو ابہام کی طرف دیکھ رہی تھی اپنے لیے اتنی چاہتِ محبت دیکھ خود کی قسمت پر حیران ہوئی
تبھی ابہام نے ویٹر کو آتے دیکھا آج ابہام نے سب کچھ عبادت کی پسند کا کھانا تیار کروایا تھا ۔
چونکہ وہ یہ شام اُسکی زندگی میں بہت خاص بنانا چاہتا تھا ۔ تاکہ زندگی میں یہ شام ہمشیہ ان دونوں کا یاد رہے
تبھی دونوں نے ایک ساتھ ڈنر کیا ، ہلکا سا میوزک جو بج رہا تھا ماحول کو مزید خوبصورت بنا رہا تھا ؛۔
ابہام نے ڈنر کے فورا بعد ہی عبادت کے سامنے ہاتھ کرتے ڈانس کی فرمائش کی ۔ وہ مسکراتی بنا کچھ کہے مقابل کا ہاتھ تھام مقابل کو زمین سے آسمان کی خوبصورت وادیوں میں جیسے لے گئی ۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ کو پا کر جیسے اس دنیا سے کہیں دور خوابوں کے نگر میں پہنچے ۔
ابہام عبادت کو اپنے اتنے قریب دیکھ جیسے خود کی قسمت پر یقین نہیں کر پا رہا تھا ۔
“ اگر ایسے ہی مجھے دیکھتے رہے تو میں ڈانس نہیں کروں گی ۔ عبادت جو مقابل کی گہری نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی ۔ اب کہ بولتے ساتھ ہی مقابل کے سینے سے ہاتھ ہٹتے جانے کی کوشش کی ۔۔۔
وہ بنا ہاتھ چھوڑے ہی اُسکو اپنی طرف کھینچ گیا ۔ عبادت جو تیار نا تھی اُسکے ایسے کھنچنے پر مقابل کے بے حد قریب ہوئی ۔۔۔۔
میرا حق بنتا ہے اپنی خوبصورت بیوی کو دیکھنے کا ۔۔۔ میں کوئی گناہ تھوڑی کر رہا ہوں ۔ اللہ نے تمہیں میرے سکون کے لیے ہی بنایا ہے ۔
وہ معنی خیز ہوتا ساتھ ہی عبادت کے کھولے کالے گنے بالوں میں انگلی چلاتے اُسکے دل کی دھڑکنیں تیز کر گیا ؛۔
“ ویسے بھی میں چاہتا ہوں جانے سے پہلے تمہیں اچھی طرح دیکھ لوں تاکہ میرے دن اچھے سے گزر سکیں ۔
اب کہ وہ تھوڑا مسکراتے سیدھے پوانڈ پر آیا ۔
“ کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔؟ “ عبادت جو نروس ہوتی ادھر ادھر سرسری سی نگاہیں گھوما رہی تھی مقابل کے سوال پر ڈانس رک چکا تھا اور سیدھا سوال کرتے مقابل کی نظروں میں نظریں ڈالتے مقابل کو اپنے حق کا بتایا ؛۔
اتنے رعب دار اندازہ میں پوچھوں گی تو میں کہیں جا ہی نہیں سکوں گا ۔ لیکن تمہاری اس ادا پر بھی ابہام اپنا دل ہارا ہوا ایک بار پھر محسوس کر رہا ہے
وہ ویسے ہی اُسکو دیکھتے ساتھ ہی محبت سے اُسکی کمر کے گرد حصار بناتے قریب کر گیا
“ میری ڈیوٹی نے مجھے یاد کیا ہے تو جانا تو پڑے گا ۔ ویسے بھی ایک سے دو ماہ کی بات ہے ، میں جلدی ہی کراچی سے واپس آ جاؤں گا ۔
وہ بہت پیار سے دیکھتے عبادت کی نگاہوں میں پانی جمع کروا گیا جانے کیوں وہ اُسکے ایسے اچانک سے بتانے پر ڈر اٹھی تھی ۔، شاید اُسکی زندگی میں جتنا کچھ ہو چکا تھا یہی اسی وجہ سے ایسا تھا ۔۔۔۔
“ عبادت ۔۔۔۔۔۔ ابہام کی نظروں سے اُسکی آنکھوں میں چمکتے آنسووں چھپ نا سکے تھے ۔
سمجھ گئی میں ۔۔۔۔۔ تمہارا کام آ گیا ہے ۔ وہ فورا سے مقابل کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے ساتھ ہی نظروں سمت چہرہ نیچے جھکا گئی تاکہ وہ اُسکے آنسووں کو نا دیکھ پائے
ابہام نے اُسکو خود سے دور جانے کی کوشش کرتے دیکھ اب کہ سختی سے بازو کو جھٹکا دیتے قریب کیا جس سے نا چاہتے ہوئے بھی بھیگی پلکیں اٹھتی سیدھی مقابل کے دل پر وار کر گئیں ۔۔۔۔۔”
“ یہ آنسووں ۔۔۔۔۔ وہ اُسکی پلکوں سے بہتے آنسووں کو رخسار پر آتے دیکھ فورا سے انگلیوں کے پوروں سے چن گیا ۔
کیا اتنی محبت ہو گئی مجھ سے ۔۔۔۔۔ کہ میرے دور جانے سے ڈر لگنا شروع ہو گیا ۔۔۔؟ وہ ویسے ہی اُسکی پلکوں پر نظریں جمائے گویا
تو عبادت جو پہلے ہی مشکل سی گھڑی میں کھڑی تھی نظریں جھکا گئی ۔ ابہام کو اُسکا ایسے نظریں جھکانا بہت کچھ عیاں کر گیا تھا ۔
“ عبادت ۔۔۔۔۔ میری طرف دیکھو ۔۔۔۔ اب کہ مقابل نے مسکراتے دل سے اپنی بیوی کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے خود کو دیکھنے کا گویا ۔
تم ایک پولیس آفیسر کی بیوی ہو ۔ یہ بات کبھی مت بھولنا ۔ تم وہ لڑکی ہو جس سے ابہام شاہ نے پہلی نظر میں دیکھتے محبت کی تھی ۔
تم بہت خاص ہو میرے لیے ۔۔۔۔ کبھی بھی یہ آنسووں تمہاری آنکھوں میں دیکھنا نہیں چاہتا ۔،وہ محبت سے چور لہجے میں بولتے عبادت کو بہت پیار سے اپنی حالت بتا گیا
اُسکے لئے بھی کچھ آسان نہیں تھا ۔ وہ کہاں اُس سے دور جانا چاہتا تھا لیکن یہ کیس بھی اس کے لیے بہت ضروری تھا :۔
“ جانتی ہوں تمہارا کام ۔۔۔۔۔ اور یہ بھی پتا ہے یہ جاب کرنا تمہارا سب سے بڑا شوق ہے ۔
ہمت لاتے گلابی لبوں سے یہ الفاظ نکلے تھے ۔ ابہام مسکرایا تھا جبکے ساتھ ہی بولا
کوئی نہیں ابھی پہلی بار تم یہ سب دیکھ رہی ہو ۔ تمہیں عادت پڑ جائے گی ۔ وہ مقابل کے اتنے کہتے ساتھ ہی ناک دبانے پر مسکرائی ۔
ہمیں چلنا چاہیے ۔ بہت لیٹ ہو گیا ہے ۔ جیسے ہی عبادت نے ٹائم دیکھا ابہام کو واپس چئیر پر بیٹھتے دیکھ اٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
ابھی کہاں اتنا ٹائم ہوا ہے ۔ ویسے بھی ہمیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔؟ ہم کوئی بچے تھوڑے ہیں ۔۔۔؟ ویسے بھی میاں بیوی ہیں ۔
وہ بنا موقعہ دئیے عبادت کو ایک ہی سانس میں گویا ۔
مجھے پتا ہے ہم بچے نہیں ہیں ، لیکن یارم سوئے گا نہیں ۔چاچی لوگ پریشان ہو رہی ہونگی ۔
وہ اُسکا ہاتھ کھنچتی ساتھ ہی کھڑا کرتے بولی تو ابہام اُسکے ایسے کہنے پر منہ بناتے ساتھ چلا ۔۔،

https://youtu.be/B8zOBTUhTZk?si=JRigzV8Jl6LQbMFf

Soon Season 2 inshallah Madiha Shah Writes Meri Raahein Tere Tak Hai by madiha shah
05/09/2026

Soon Season 2 inshallah


Madiha Shah Writes


Meri Raahein Tere Tak Hai by madiha shah


میں کل آپ کو کیفے میں ملوں گئی ۔ تب سبھی سوالوں کے جواب بھی دے دوں گئی ؛۔ وہ بہت مشکل سے ہمت کرتے اتنا بول پائی تھی ، چو...
04/09/2026

میں کل آپ کو کیفے میں ملوں گئی ۔ تب سبھی سوالوں کے جواب بھی دے دوں گئی ؛۔
وہ بہت مشکل سے ہمت کرتے اتنا بول پائی تھی ، چونکہ ابہام کے ساتھ اُسکا اچانک سے جو رشتہ بدلا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی دوستی کو سائیڈ پر رکھتے کیسے مخاطب کرے۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔۔ ابھی وہ پلٹی تھی اپنے مکمل کرتے کہ ابہام کے کان جیسے پہلی بار اتنے عرصے بعد عبادت کی آواز اتنے قریب سے سن دل خوش ہوا تھا
کہ اُسکا “ آپ ۔۔۔۔۔۔ سن صدمے سے آگے ہوتے اُسکا راستہ روک گیا ۔۔۔۔
عبادت جو ضبط کرتے اُسکی ایسی حرکتیں برادشت کر رہی تھی کہ پہلے ایسے ابہام کو نہیں جانتی تھی ۔ مشکل سے آنکھوں میں نرمی رکھتے مقابل کو دیکھا ،۔“
“ بہت شکریہ ۔۔۔۔۔ میڈم جو تم نے مجھے اتنے پیار سے دیکھا ۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑتے سر خما کرتے شوخی سے بولا تو عبادت نے نا سمجھی سے اُسکو گھورا ۔۔۔۔
مجھے یہ بتاؤ ۔۔۔۔۔ ہمارے درمیان یہ آپ کب سے آیا ۔۔۔؟ مجھے تو تم ہمشیہ ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ توں ۔۔۔۔۔ ہمیں ۔۔۔۔ہم ۔۔۔۔ مخاطب کرتی تھی ۔ ابھی ایسا کیا ہوا جو آپ تک کا سفر تہ کر گئی ۔۔۔؟
وہ اُسکو آنکھوں میں پوری طرح قید کیے ہی آئی ابرواٹھاتے دریافت کر گیا ؛۔
“ عبادت اُسکا سوال سن خاموشی سے نظریں جھکا گئی تبھی مقابل نے دھیرے سے انگلی کی مدد سے اُسکا شفاف چہرہ اوپر اٹھایا تھا ۔
عبادت ۔۔۔۔۔۔؟ وہ اُسکی آنکھیں ویسے ہی نیچے دیکھ دھیمے سے بولتے خود کی سانسوں کی تپش اُسکے چہرے پر چھوڑنا شروع ہوا ، عبادت اُسکی خوشبو خود پر طاری ہوتی دیکھ فورا سے دور ہوئی تھی ؛۔
میں نے بالکل ایسے ہی سفر تہ کیا ، جیسے تم یونی میں آپ کا سفر کرتے تھے ۔ وہ تیزی سے بولی تھی اور ساتھ ہی خود کی حالت پر قابو پاتے برتن ادھر ادھر کرنا شروع ہوئی
ابہام کا چہرہ مسکرایا ۔ کہ چلو ۔۔۔۔۔ کم از کم اُسکے سوالوں کو سن جواب تو دینے لگی ۔
وہ تو یونی تھی۔۔۔۔۔۔ تب حالات کچھ اور تھے ۔ ابھی تم ۔۔۔۔ وہ اُسکے پیچھے فریج تک جاتے بازو سے پکڑے اُسکا چہرہ اپنی طرف کر گیا ۔۔۔۔
ابھی تو تم ابہام کی بیوی ہو ۔۔۔۔۔ اب تو تمہارے پاس بھی حق موجود ہیں ۔ ویسے ہی جیسے میرے پاس تمہارے سبھی حق موجود ہیں ۔۔۔۔۔
مجھے تم بالکل ویسی ہی عبادت چاہیے جس کو یونی میں ۔۔۔ میں نے جانے سے پہلے چھوڑا تھا ۔ اگلی بار میں آپ نہیں سننا چاہتا ۔۔۔۔۔۔” وہ اپنا سحر اُس پر چھوڑ جانے کے لیے پلٹا ۔ عبادت جو اُسکی آنکھوں میں کھو چکی تھی
خود پر حیران ہوتی مقابل کی پست کو دیکھ گئی ۔ تبھی وہ واپس پلٹا تھا ۔ اور ہاں ۔۔۔۔۔ وہ اتنا کہتے تیزی سے اُسکے قریب ہوا۔۔۔۔۔
یوں کہ کان کے بے حد قریب جا چکا تھا ۔ عبادت نے دھڑکتے دل کی دھڑکن سنی تھی ؛۔
تمہاری ساس کب کی اپنی بہو کی راہ تک رہی ہیں ، ان کو جاتے ہی خوش کر لینا ۔ چونکہ ساری ہمیں اُن کے سائے میں رہنا ہے ۔۔۔۔
ویسے آپس کی بات ہے ، مجھے پتا ہے تم اُنکو پہلی ملاقات میں ہی خوش کر لو گئ ۔ کیونکہ آج تم لگ بھی حسین رہی ہو ۔ اور زار کی بات بتاؤں ۔۔۔؟
وہ جو پہلی بات کہتے اُس سے پیچھے ہوا تھا ، یہ کہتے پھر سے قریب ہوا۔۔
کیونکہ میری ماں کو حسین لوگ پہلی ملاقات میں ہی اچھے لگنے لگ جاتے ہیں ۔ بالکل میری طرح ۔۔۔ وہ یہ کہتے ساتھ ہی شرارت سے آنکھ مارتے کیچن سے باہر نکلا
چونکہ وہ کسی کے آنے کی آہٹ سن چکا تھا ۔ “ پاگل ۔۔ عبادت اُسکے الفاظ سن صرف مسکرا ہی سکی جبکے دل میں بڑبڑاتے ایک نیا نام مقابل کو دیا گیا ۔۔۔”

https://youtu.be/zpeaeElFe98?si=d-ojiclnMwkO_VBG

Address

129th Street
Reading
RG11AF

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madiha Shah Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Madiha Shah Writes:

Shortcuts

Share

Category