06/01/2026
سوال: Quiestion:
والدین عزیز و احباب کے موت کے بعد انکے ایصال ثواب کےکیا
طریقہ ہے۔؟
کچھ لوگ سالگرہ birthday تو بچوں کا مناتے ہیں۔بھاری بھرکم دعوت ولیمہ wedding ceremony,wedding anniversary شادی ھال میں انتظام کرجاتے ہیں۔
اگرولیمہ ۔نکاح مختلف کانفرنس ۔وغیرہ پر سات آٹھ قسم کے کھانے۔اور کولڈڈرنکس پیش کیے جاسکتے ہیں۔تو اپنے عزیزواقارب پرخیرات کھلانے پر ہچکچھاہٹ اور بہانے کیوں؟
لیکن میت کے ایصال ثواب کیلیے کی گئی طریقوں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔جیسے کھانا دینا۔یتماء پر خرچ کرنا۔والدین و عزیز احباب کے نام پر قربانی کر نا وغیرہ. قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب درکار ہے۔شکریہ۔
Ans:جواب
حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ
ثواب کی نیت کے ساتھ والدین کی قبر کی زیارت کرنے والے کو مقبول حج کا ثواب ملے گا۔۔۔
2- حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لیے پانی کا کنواں کھدلوایا تھا، کیونکہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ والدہ کی طرف سے کون سا صدقہ افضل ہے، تو آپ ﷺ نے پانی کا صدقہ بتایا، جس پر سعد رضی اللہ عنہ نے یہ عمل کیا اور کہا کہ یہ سعد کی والدہ کے لیے ہے.
هَذِهِ لِاُمِّ سَعْدٍ یعنی یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے(یعنی ان کی رُوح کوثواب پہنچانے کےلئے)ہے۔(بحوالہ ابوداؤد شریف ، مشکواۃ شریف)
3- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے ایک شحض نے عرض کی یا رسول اللہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا ہے اگر میں والدہ کی طرف سے صدقہ کرو (یعنی صدقہ میں کرو اور ثواب والدہ کو ایصال کروں)تو کیا والدہ کو ثواب ہو گا
آپ صلی اللہ علیہ والی وسلم نے فرمایا ہاں تیری ماں کو ثواب پہنچ جاے گا۔
صحیح مسلم ج 1 ص 324 : شرح حدیث :اس حدیث کی شر ح میں امام نوری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہے کے حدیث سے ثابت ہوا کے میت کی طرف سے صدقہ کیا جاے تو میت کو اس کا ثواب ہوتا ہے۔
(نووی شرح مسلم ج 1 ص 324)
زندہ کے عمل کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پہ علماء کا اجماح ہے جو مضبوط دلیل ہے ۔
4- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی علیہ السلام سے پوچھا : میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے اپنے پیچھے مال چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی۔ اگر میں ان کی جانب سے صدقہ خیرات کردوں، کیا ان کے گناہوں کے لیے معافی کا ذریعہ ہوجائے گا؟ فرمایا: ہاں! تمہارے صدقات سے ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔
صحيح مسلم (3/ 1254):
5- حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔
ترمذی، السنن، کتاب الزکاة، باب ما جاء فی فضل الصدقة، 2 : 43، رقم : 2663
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دنبہ اپنی طرف سے قربانی کرتے تھے اور ایک دنبہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے قربانی کرتے تھے۔
ويطعمون الطعام علی حبه مسکينا و يتيما و اسير
(القرآن)
ترجمہ: مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں مسکین، یتیم، اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے سوال پوچھا :
کونسا الاسلام بہتر ہے؟
فرمایا :
تطعم الطعام و تقرئ السلام علی من عرفت و من لم تعرف.
(بخاری و مسلم، بحواله، مشکوٰة، 397)
کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، جس کو پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ(۱۵) وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ(۱۶) كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷) وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ‘‘(فجر:۱۵۔۱۸)
ترجمہ: تو بہرحال آدمی کوجب اس کا رب آزمائے کہ اس کوعزت اور نعمت دے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی۔اور بہرحال جب (اللّٰہ) بندے کو آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ اور تم ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔
حضرت سعید ابن مسیبؓ، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا.
(ابن ماجہ، السنن، كِتَابُ الرُّهُونِ، بَابُ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ، رقم الحدیث: 2474)
جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی کی کثرت تھی تو اُس نے ایک غلام آزاد (کرنے جتنا ثواب حاصل) کیا، اور جس نے مسلمان کو ایسی جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی کی قلت تھی تو اس نے اسے زندہ (کرنے جتنا ثواب حاصل) کیا۔
پانی پلانا صدقہ ہے، اور اس صدقہ کا ثواب اپنے مرحومین کو ایصال کرنا جائز اور ان کے لیے باعثِ راحت ہے۔ اس لیے کنویں، نل، ٹینکی یا واٹر کولر کی شکل میں مسافروں، ناداروں اور غرباء کے لئے پانی کا انتظام کرنا یا صاف پانی کی فراہمی کیلئے فلٹریشن کولر لگانا سب امورِ خیر ہیں، جن کا ثواب اپنے زندہ اور فوت شدہ اعزاء و اقرباء کو ایصال کیا جاسکتا ہے۔
حضرت سعد بن عبادہؓ روایت کرتے ہیں کہ اُن کی والدہ فوت ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:
يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ. فَتِلْکَ سِقَايَةُ سَعْدٍ أَوْ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِيْنَةِ.
أخرجه النسائي في السنن، کتاب الوصايا، باب ذکر اختلاف علیٰ سفيان، 6: 254-255، الرقم: 3662-3666
یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے عرض کیا: تو کونسا صدقہ بہتر رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پلانا۔ (تو انہوں نے ایک کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔) پس یہ کنواں مدینہ منورہ میں سعد یا آلِ سعد کی پانی کی سبیل (کے نام سے مشہور) تھا۔
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ
(الحشر: 10)
🔹 یہ آیت واضح دلیل ہے کہ بعد میں آنے والے اہلِ ایمان پہلے گزر جانے والوں کے لیے دعا کرتے ہیں، اور دعا کا فائدہ اموات کو پہنچتا ہے۔
وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
(بنی اسرائیل: 24)
🔹 والدین کے لیے دعا کا حکم اس بات کی دلیل ہے کہ دعا کا نفع زندگی اور وفات دونوں صورتوں میں پہنچتا ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:
ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میری والدہ اچانک فوت ہو گئیں، اگر وہ بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں
📚 (بخاری: 1388، مسلم: 1004)
🔹 واضح نص کہ صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزے ہوں، اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔
📚 (بخاری: 1952، مسلم: 1147)
🔹 جب بدنی عبادت کا ثواب پہنچ سکتا ہے تو تلاوت و ذکر بدرجہ اولیٰ پہنچے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے…
نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے
📚 (مسلم: 1631)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ
وہ اپنے والد حضرت عمرؓ کی طرف سے صدقہ کیا کرتے تھے۔
📚 (المصنف لابن ابی شیبہ)
🔹 حضرت علیؓ
وہ میت کے لیے دعا اور خیرات کو مستحب سمجھتے تھے۔
یاد رہے چہلم۔جمعہ مبارک کا صدقہ وخیرات تلاوت کلام۔تیجا۔رسم قل صرف نام ہے باقی اس میں ہونے والا صدقہ و خیرات ۔تلاوت کلام پاک و دعاء.عید میلادالنبی ؐ ایصال ثواب بہ نیت ایصال ثواب مردہ گان کیلیے ہوتا ہے باقی نام مختلف علاقوں میں مختلف ہونگے۔
اور خیرات و صدقہ کا طریقہ کار اور حیثئیت کے مطابق بھی لوگ کرتے ہیں۔مسجد بنانا۔کسی کو حج و عمرہ کروانا۔راستہ بنانا۔سکول ومدارس کے بچوں کی ضروریات پوری کرنا وغیرہ۔
اور اگر باقی کام آپ ڈھنکے کی چوٹ پر کھلم کھلا کرتے ہیں تو مردہ گان کی ایصال ثواب اور دیگر نیک کام بھی کھلم کھلا کیجیے گا۔
اگر وہاں سماج سیوا کے لیے عربت و قرض کا رونا دھونا نہیں کرتے تو اس کیلیے بھی کمربستہ ہوجائیے۔
ان کاموں کے انجام دینے کیلیے رب نے توفیق اور وسائل تو انشاءاللہ اسطرح نیک ترین کام کیلیے رب وسیلہ بنادے گا۔
جزاء ک اللہ خیر اً کثیراً