Salman Jan

Salman Jan I’m Salman Jan. Previously known as Da Nan Khabar, this platform shares Swat’s local issues, public awareness, and important insights.

Focused on long-term awareness and positive change.

"اندھیر نگری، چوپٹ راج" اور انصاف کا بحران​جب معاشرے میں نظامِ انصاف مفلوج ہو جائے، تھانوں اور کچہریوں سے غریب کو صرف ما...
13/09/2026

"اندھیر نگری، چوپٹ راج" اور انصاف کا بحران
​جب معاشرے میں نظامِ انصاف مفلوج ہو جائے، تھانوں اور کچہریوں سے غریب کو صرف مایوسی ملے اور سنگین جرائم کے مرتکب افراد ضمانتوں پر چھوٹ کر دوبارہ دندناتے پھریں، تو عوام کا فوری انتقام یا "ماورائے عدالت انصاف" پر تالیاں بجانا ایک فطری ردِعمل معلوم ہوتا ہے۔ پشاور کے حالیہ واقعات، جنسی زیادتی کے ملزمان کے پولیس مقابلوں اور سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے اقدامات پر عوامی سطح پر جو ستائش نظر آ رہی ہے، اس کا محرک عدالتوں کی تاخیر اور بے بس عوام کا برسوں کا غصہ ہے۔
​لوگ ریلیف چاہتے ہیں، خواہ وہ گولی سے ملے یا قانون سے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جذبات کی تسکین کسی قوم کا مستقل حل بن سکتی ہے؟
​سیاسی رہنماؤں، بالخصوص ایمل ولی خان کی جانب سے اس عمل پر اٹھائے جانے والے سوالات کو اگر سیاسی چشمے سے ہٹ کر خالصتاً ریاست کے اصولوں کے تحت دیکھا جائے تو تصویر کا ایک اور رخ بھی سامنے آتا ہے:
​مدعی، وکیل اور جج— سب پولیس؟
اگر پولیس کو خود ہی فیصلہ کرنے اور گولی چلا کر "انصاف" نافذ کرنے کا اختیار مل جائے، تو آج یہ ہتھیار سنگین مجرموں کے خلاف چلے گا، لیکن کل کو کسی بے گناہ یا سیاسی مخالف کا منہ بند کرنے کے لیے بھی استعمال ہوگا۔ ماضی میں جعلی پولیس مقابلوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اس راستے پر چلنے والی فورس بالآخر بے لگام ہو جاتی ہے۔
​عارضی واہ واہ بمقابلہ مستقل تباہی
انتقام فوری تسکین دیتا ہے، جبکہ قانون اور انصاف طویل المدتی استحکام۔ جب ہم انکاؤنٹر کلچر کو قانونی شکل یا عوامی قبولیت دیتے ہیں، تو دراصل ہم ریاست کے عدالتی ڈھانچے پر عدم اعتماد کا باضابطہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہر جرم کا فیصلہ سڑک پر ہی ہونا ہے تو پھر عدالتوں، قانون کی کتابوں اور آئین کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
​مسئلے کی اصل جڑ
ایمل ولی خان یا کسی بھی باشعور شہری کی تنقید کسی مخلص پولیس افسر کے خلاف ذاتی عناد کے بجائے اس خوفناک روش کے خلاف ہونی چاہیے جو قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ تاہم، تنقید کرنے والی سیاسی قیادت پر بھی یہ سوال بنتا ہے کہ وہ نظامِ عدل، تفتیش کے جدید طریقوں اور قانون سازی میں اصلاحات کے لیے ایوانوں میں کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ پولیس کو شارٹ کٹ اس لیے لینا پڑتا ہے کیونکہ نظامِ انصاف سڑ چکا ہے۔
​حاصلِ کلام
​جذباتی قومیں فوری تالیوں کے پیچھے بھاگتی ہیں جبکہ دور اندیش قومیں اصولوں اور قوانین پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور مظلوم کا ساتھ دینا فرض ہے، لیکن ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اگر پولیس خود آئین شکنی کا راستہ اختیار کرے گی تو یہ اندھیر نگری کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئی اندھیر نگری کا آغاز ہوگا۔
​ہمیں مضبوط پولیس افسران ضرور چاہئیں، مگر قانون کے دائرے میں؛ اور ایسی سخت عدالتیں درکار ہیں جو ملزم کو ضمانتوں کے چکر میں چھوڑنے کے بجائے تختہ دار تک پہنچائیں— تاکہ نہ جعلی مقابلوں کی ضرورت پڑے اور نہ انصاف کے نام پر لاقانونیت کو فروغ ملے۔ سلمان جان

13/09/2026
13/09/2026

عجب کرپشن کی غضب کہانی

3 ارب 75 کروڑ روپے کی نوشہرہ میگا سٹی سکینڈل کیا ہے
صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد کا کیا کردار ہے
نیب کی تحقیقات کے بعد محکمانہ انکوائری کی کہانی

13/09/2026

سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
عوام نے جن لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ہے، وہ سب گونگے بنے بیٹھے ہیں۔

13/09/2026

حجز انصاف کی فراہمی بہتر انداز میں یقینی بنائیں، چیف جسٹس پاکستان
سڑے راویخ شو کسو

12/09/2026

آمنہ سردار نے شفیع جان کو اُڑا کر رکھ دیا

مان لے گا تو چھوڑ دونگا ، نہیں مانے گا تو نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔!!! سر میری 56 سال عمر ہے شوگر کا مریض ہوں مرجاؤنگا ۔۔!!! تو...
12/09/2026

مان لے گا تو چھوڑ دونگا ، نہیں مانے گا تو نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔!!! سر میری 56 سال عمر ہے شوگر کا مریض ہوں مرجاؤنگا ۔۔!!! تو مر جا میری طرف سے ، میں تیرے لیے شہیید پیکیج کا اعلان کردونگا ۔۔۔!!!! ان تین جملوں میں آپ کو فرعون بولتا نظر آرہا ہو گا ۔۔۔ یہ ڈی پی او بنوں فرقان بلال ہیں ، جو اپنے ایک ڈی ایس پی رحمت اللہ سے فرعون کے لہجے میں بات کررہے ہیں ، ڈی ایس پی رحمت اللہ ایک باکردار اور نیک نام پولیس افسر ہے ، جو شہیید کا بیٹا بھی ہے اور پولیس لائنز میں نوکری کرتا ہے ۔۔۔ ڈی پی او صاحب نے انہیں ایک ناممکن یا ناجائز کام کہا جو وہ نہ کرسکے ، اس بات پر غصے میں آکر ڈی پی او صاحب نے اسمگ۔لنگ کا الزام لگا کر اور کے پی کے سے گاڑیاں پنجاب داخل کرانے کا کمیشن لینے کے جرم میں ڈی ایس پی کو اسی پولیس لائنز میں محبوس کردیا اور سٹاف کو حکم دیا یہ ایک کمرے سے باہر نہ نکلے ، ڈی ایس پی رحمت اللہ کو پانچ دن لائنز میں حبس بے جا میں رکھا گیا ، اس دوران انہوں نے ڈی پی او صاحب سے بات کی ، سر: میں رحمت اللہ بول رہا ہوں ، ڈی پی او صاحب بولے : اچھا رحمت اللہ ا۔سمگلر ، رحمت اللہ بولے : سر خدا کی قسم ایسا کچھ نہیں ہے ، ڈی پی او صاحب نے فیصلہ صادر کیا : مان جاؤ گے تو چھوڑ دونگا ، نہیں مانو گے تو نہیں چھوڑونگا ۔۔ڈی ایس پی رحمت اللہ نے التجا کی : سر میری عمر 56 سال ہے شوگر کا مریض ہوں میں مر جاؤنگا ایسے نہ کریں ، ڈی پی او فرقان بلال نے کہا ، میری طرف سے مر جاؤ میں تمہارے لیے شہیید پیکج کا اعلان کردونگا ۔۔۔۔۔ ڈی پی او نے تو ڈی ایس پی کو مارنے میں کسر نہ چھوڑی لیکن ڈی ایس پی کے گھر والوں کی کوشش پر عدالتی بیلیف نے آکر انہیں بازیاب کروایا اور یوں ڈی ایس پی رحمت اللہ کی جان چھوٹی ، یہ معاملہ منظر عام پر ہے اور حکام بالا حقائق کو دیکھ رہے ہیں لیکن آپ اندازہ لگائیں کہ جو ڈی پی او اپنے ماتحت ڈی ایس پی کے ساتھ یہ سب کچھ کر سکتا ہے وہ عام آدمی کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہو گا ۔۔۔ ظاہر ہے عام آدمی کی حیثیت تو کیڑے مکوڑے جتنی بھی نہیں ہو گی

یہ کس کا بچہ ہے؟ جواب اخلاق کے دائرے میں رہ کر
12/09/2026

یہ کس کا بچہ ہے؟ جواب اخلاق کے دائرے میں رہ کر

12/09/2026

نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، اے این پی

| |

Address

Mingora
Kinnegad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Salman Jan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Salman Jan:

Shortcuts

Share