13/09/2026
"اندھیر نگری، چوپٹ راج" اور انصاف کا بحران
جب معاشرے میں نظامِ انصاف مفلوج ہو جائے، تھانوں اور کچہریوں سے غریب کو صرف مایوسی ملے اور سنگین جرائم کے مرتکب افراد ضمانتوں پر چھوٹ کر دوبارہ دندناتے پھریں، تو عوام کا فوری انتقام یا "ماورائے عدالت انصاف" پر تالیاں بجانا ایک فطری ردِعمل معلوم ہوتا ہے۔ پشاور کے حالیہ واقعات، جنسی زیادتی کے ملزمان کے پولیس مقابلوں اور سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے اقدامات پر عوامی سطح پر جو ستائش نظر آ رہی ہے، اس کا محرک عدالتوں کی تاخیر اور بے بس عوام کا برسوں کا غصہ ہے۔
لوگ ریلیف چاہتے ہیں، خواہ وہ گولی سے ملے یا قانون سے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جذبات کی تسکین کسی قوم کا مستقل حل بن سکتی ہے؟
سیاسی رہنماؤں، بالخصوص ایمل ولی خان کی جانب سے اس عمل پر اٹھائے جانے والے سوالات کو اگر سیاسی چشمے سے ہٹ کر خالصتاً ریاست کے اصولوں کے تحت دیکھا جائے تو تصویر کا ایک اور رخ بھی سامنے آتا ہے:
مدعی، وکیل اور جج— سب پولیس؟
اگر پولیس کو خود ہی فیصلہ کرنے اور گولی چلا کر "انصاف" نافذ کرنے کا اختیار مل جائے، تو آج یہ ہتھیار سنگین مجرموں کے خلاف چلے گا، لیکن کل کو کسی بے گناہ یا سیاسی مخالف کا منہ بند کرنے کے لیے بھی استعمال ہوگا۔ ماضی میں جعلی پولیس مقابلوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اس راستے پر چلنے والی فورس بالآخر بے لگام ہو جاتی ہے۔
عارضی واہ واہ بمقابلہ مستقل تباہی
انتقام فوری تسکین دیتا ہے، جبکہ قانون اور انصاف طویل المدتی استحکام۔ جب ہم انکاؤنٹر کلچر کو قانونی شکل یا عوامی قبولیت دیتے ہیں، تو دراصل ہم ریاست کے عدالتی ڈھانچے پر عدم اعتماد کا باضابطہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہر جرم کا فیصلہ سڑک پر ہی ہونا ہے تو پھر عدالتوں، قانون کی کتابوں اور آئین کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
مسئلے کی اصل جڑ
ایمل ولی خان یا کسی بھی باشعور شہری کی تنقید کسی مخلص پولیس افسر کے خلاف ذاتی عناد کے بجائے اس خوفناک روش کے خلاف ہونی چاہیے جو قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ تاہم، تنقید کرنے والی سیاسی قیادت پر بھی یہ سوال بنتا ہے کہ وہ نظامِ عدل، تفتیش کے جدید طریقوں اور قانون سازی میں اصلاحات کے لیے ایوانوں میں کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ پولیس کو شارٹ کٹ اس لیے لینا پڑتا ہے کیونکہ نظامِ انصاف سڑ چکا ہے۔
حاصلِ کلام
جذباتی قومیں فوری تالیوں کے پیچھے بھاگتی ہیں جبکہ دور اندیش قومیں اصولوں اور قوانین پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور مظلوم کا ساتھ دینا فرض ہے، لیکن ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اگر پولیس خود آئین شکنی کا راستہ اختیار کرے گی تو یہ اندھیر نگری کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئی اندھیر نگری کا آغاز ہوگا۔
ہمیں مضبوط پولیس افسران ضرور چاہئیں، مگر قانون کے دائرے میں؛ اور ایسی سخت عدالتیں درکار ہیں جو ملزم کو ضمانتوں کے چکر میں چھوڑنے کے بجائے تختہ دار تک پہنچائیں— تاکہ نہ جعلی مقابلوں کی ضرورت پڑے اور نہ انصاف کے نام پر لاقانونیت کو فروغ ملے۔ سلمان جان