Iqtebaas

Iqtebaas Iqtebaas • इक़्तिबास • اقتِباس is your go-to destination for timeless quotes and deep insights. Join us in celebrating the power of words.

We capture the essence of wisdom across cultures and languages bringing you inspiration, reflection, and motivation. Welcome to Iqtebaas • इक़्तिबास • اقتِباس, a sanctuary for lovers of timeless words and thoughts. Our page is dedicated to the art of quotation, bringing you powerful, inspiring, and thought-provoking extracts from the world's greatest minds and literary works. Whether it's a piece of wisdom from a classical poet, a profound thought from a philosopher, or a simple yet meaningful quote that resonates with your soul, you'll find it here. Join us as we explore the beauty of language across Urdu, Hindi, and Arabic, connecting cultures through the power of words. We believe that a single quote can change your perspective, uplift your spirit, and offer solace in difficult times. Follow us to enrich your mind, spark conversations, and share the joy of learning with a community of like-minded individuals. Let the words inspire you and be a source of daily motivation. Iqtebaas is not just about quotes; it's about understanding the depth of thought and the richness of cultural heritage. Share our posts, engage in discussions, and contribute to the collective wisdom of our community. Community Guidelines:

Respectful and positive engagement is encouraged. Share your favorite quotes and thoughts, and feel free to discuss them with the community. No hate speech, offensive language, or derogatory comments. Let's keep this space uplifting and inspiring for everyone. Thank you for being a part of Iqtebaas • इक़्तिबास • اقتِباس. Let's cherish the power of words together!

02/10/2026

🌙 بے کس پہ کرم کیجیے، سرکارِ مدینہ ﷺ 🌙

محبتِ رسولِ اکرم ﷺ سے سرشار یہ خوبصورت نعتِ پاک پیشِ خدمت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبیِ کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت، سنت اور تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

❤️ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کو پسند آئے तो Like करें، अपने दोस्तों और परिवार के साथ Share करें और चैनल को Subscribe जरूर करें।

Naat: بے کس پہ کرم کیجیے، سرکارِ مدینہ ﷺ
Category:** Naat Sharif | Islamic | Naat-e-Rasool ﷺ

18/09/2026
आज यानी 20 जुलाई 2026 को प्रदर्शनकारियों पर किए गए लाठीचार्ज को इस मुल्क के नए-नए क्रांतिकारी लोकतंत्र का क़त्ल बता रहे ...
20/07/2026

आज यानी 20 जुलाई 2026 को
प्रदर्शनकारियों पर किए गए लाठीचार्ज को
इस मुल्क के नए-नए क्रांतिकारी
लोकतंत्र का क़त्ल बता रहे हैं,
अगर ये वाक़ई क़त्ल है
तो यह क़त्ल इनके लिए नया हो सकता है,
लेकिन भारत में रहने वाले मुसलमानों के लिए
यह क़त्ल बिल्कुल नया नहीं है…
आज जो नए-नए क्रांतिकारी पैदा हुए हैं,
उन्हें याद दिलाना चाहूंगा
कि 15 दिसंबर 2019 की उस खौफनाक रात को याद करें
जिस रात इसी दिल्ली पुलिस ने
जामिया मिल्लिया इस्लामिया की लाइब्रेरी में
घुसकर छात्रों पर ज़ुल्म-ओ-सितम बरपाया था
याद कीजिए उस दिन को
जब इसी दिल्ली पुलिस ने
हिजाब पहने हुए मुस्लिम लड़कियों को
निशाना बनाकर लाठियों से उन्हें ज़ख्मी किया था
याद कीजिए अलीगढ़ मुस्लिम यूनिवर्सिटी में की गई
पुलिस की बर्बरता को…
याद कीजिए शाहीन बाग में धरने पर बैठी
हमारे घरों की ज़ीनत को
500 रुपये में बिकने वाली ख़्वातीन का टैग दिया गया…
हमारे ही बच्चों को पीटा गया
जामिया मिल्लिया इस्लामिया में
छात्रों पर दिल्ली पुलिस के सामने
"रामभक्त गोपाल" ने गोली चलाई…
आज लाठीचार्ज जो हुआ है उसे आप लोकतंत्र का क़त्ल बता रहे हैं…
लेकिन इससे भी कहीं ज़्यादा भयानक दिन
और रातें हमने देखी हैं
और इससे भी भयानक यह
कि मुसलमानों के खिलाफ
बिरादरीने वतन का
एक बहुत बड़ा तबका
लाठी-डंडे लेकर सड़कों पर उतर आया था…
मुसलमानों पर जब दिल्ली पुलिस
लाठी बरसा रही थी…
तब बिरादराने वतन ने नारा लगाया…
“दिल्ली पुलिस तुम लाठी बजाओ, हम तुम्हारे साथ हैं”
और जब सिर्फ नारों से सुकून नहीं मिला
तो खुद पुलिस की जैकेट
और हेलमेट पहनकर
बिरादरीने वतन
मुस्लिम बच्चों-बच्चियों पर लाठियां चलाने आ गए…
आज आप लोग
सिर्फ एक दिन की लाठीचार्ज को
लोकतंत्र का क़त्ल बता रहे हैं
जबकि आप हर तरह से
इस भयानक मंजर से बचे हुए हैं…
जबकि मुसलमानों ने
अपने हक के लिए शांतिपूर्ण एहतेजाज करते हुए
गोलियां खाईं,
लाठियां खाईं,
जेलों में गए
और आज भी जेलों में कैद हैं
अगर आप मुसलमानों पर हुए जुल्म के वक्त
सड़कों का रुख कर लिए होते
तो शायद आज आपको इन लाठियों को चार्ज नहीं करना पड़ता!

Shaan Ibn Irfan

Bechain bahut firna, ghabraye huye rahna.Ek aag si jazbon ki, dahkaye huye rahna....!
29/04/2026

Bechain bahut firna, ghabraye huye rahna.
Ek aag si jazbon ki, dahkaye huye rahna....!

‏ایک زمین/ ردیف پر آٹھ غزلیں پڑھیںشام تک صُبْح کی نظروں سے اُتر جاتے ہیں اِتنے سمجھوتوں پہ جِیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں ہم ت...
28/04/2026

‏ایک زمین/ ردیف پر آٹھ غزلیں پڑھیں

شام تک صُبْح کی نظروں سے اُتر جاتے ہیں
اِتنے سمجھوتوں پہ جِیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

ہم تو بے نام اِرادوں کے مُسافر ٹھہرے
کچھ پتا ہو تو بتائیں کہ کِدھر جاتے ہیں

گھر کی گِرتی ہُوئی دِیوار ہے ہم سے اچھّی
راستہ چلتے ہُوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں

اِک جُدائی کا وہ لمحہ، کہ جو مرتا ہی نہیں
لوگ کہتے تھے سبھی وقت گُزر جاتے ہیں

پھر وہی تلخئ حالات مُقدّر ٹھہری
نشے کیسے بھی ہوں کُچھ دِن میں اُتر جاتے ہیں

وسیم بریلوی
===========

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں
لوحِ ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں

حسن سے لیجئے تنظیمِ دو عالم کا سبق
صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں

ہم نے پایا ہے محبت کا خمارِ ابدی
کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اتر جاتے ہیں

اتنے خائف ہیں مے و مہ سے جنابِ واعظ
نامِ کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں

مے کدہ بند، مقفل ہیں درِ دَیر و حرم
دیکھنا ہے کہ شکیلؔ آج کدھر جاتے ہیں

شکیل بدایونی
===============

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں مرے خواب مگر
میری دیواروں سے ٹکراکے بکھر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

راسته روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے
کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اُتر جاتے ہیں

جاوید اختر
========================

شکیل جمالی

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں

موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے
لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں

پاؤں میں اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم
دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں

کیا جنوں خیز مسافت تھی ترے کوچے کی
اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں

یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی
تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نادر لکھنوی
سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیں
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں

لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہوں گے جواں
جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

جنبش تیغ نگہ کی نہیں حاجت اصلاً
کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں

ان کو عشاق ہی کے دل کی نہیں ہے تخصیص
کوئی شیشہ ہو پری بن کے اتر جاتے ہیں

برق کی طرح سے بیتاب جو ہیں اے نادرؔ
تار گھر کس کی وہ لینے کو خبر جاتے ہیں

==≠===================

احمد نثارؔ

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مرجاتے ہیں
اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں

جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں
اور کس نام سے ایام گذر جاتے ہیں

وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن
شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں

جس طرف جاکے کوئی لوٹ کے آیا ہی نہیں
جانے کیوں لوگ اسی راہ گذر جاتے ہیں

اپنی منزل کا پتہ پوچھتے پھرتے پھرتے
جانے کس راہ پہ جانا تھا کدھر جاتے ہیں

زیست کو زیست کی صورت نہیں دیکھی ہم نے
چاہت ِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

میرے اندر بھی کئی موج ابھر تے ہیں نثارؔ
جانے کیوں کر میرے اندر ہی اتر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حبسِ دنیا سے گزر جاتے ہیں
ایسا کرتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے؟
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں

دل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی
بال بے وجہہ بکھر جاتے ہیں

اب نہ دیکھو میری بنجر آنکھیں
چڑھتے دریا تو اتر جاتے ہیں

دھوپ کا روپ رچانے والے
شام کو اور نکھر جاتے ہیں

اب نہ مڑ مڑ کر پکارو ان کو
لوگ رستے میں ٹھہر جاتے ہیں

خالی دامن سے شکایت کیسی؟
اشک آنکھوں میں تو بھر جاتے ہیں

تم کہاں جاؤ گے سوچو محسنؔ؟
لوگ تھک ہار کے گھر جاتے ہیں...!

محسنؔ نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پِلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عباس تابش

اگر یہ کاوش پسند آئے تو کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

जब भी ज़मीर ओ ज़र्फ़ का सौदा हो दोस्तोक़ायम रहो हुसैन के इन्कार की तरह                          ~अहमद फ़राज़  बहादुरी को...
02/03/2026

जब भी ज़मीर ओ ज़र्फ़ का सौदा हो दोस्तो
क़ायम रहो हुसैन के इन्कार की तरह
~अहमद फ़राज़

बहादुरी को सलाम!!!

Address

Jahanaganj
Azamgarh
276131

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqtebaas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share