The islamic knowledge

The islamic knowledge Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The islamic knowledge, Newspaper, Dalkhola.

"قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے نازل ہوا ہے، لیکن کیا ہم واقعی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟
اس سفر کا پہلا قدم اٹھانے کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ انشاء اللہ ہر آیت کی روشنی آپ کی زندگی بدل دے گی!

03/05/2026

عورتوں کے لیے زیارتِ قبور: جواز و ممانعت کا تحقیقی جائزہ

از قلم محمد سلمان ہاشمی

انبیاے عظام و اولیاے کرام کی‌حیات میں ان کی زیارت و ملاقات جس طرح سعادت مندی اور نیکی کے زمرے میں آتی ہے
اسی طرح ان پاکیزہ سیرت، برگزیدہ ہستیوں کی وفات کے بعد ان کی قبور پر حاضری دینا، فاتحہ خوانی کرنا تلاوت قرآن کا عمل کرنا بلا شبہ مشروع اور مبارک عمل ہے۔
حضور ﷺ خود محبوب ترین ہستی ہو کر جنت البقیع میں زیارت قبور کے لیے باقاعدہ تشریف لے جاتے تھے، یہی عمل حضرت فاطمہ و حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی ثابت ہے۔

ائمہ حدیث و تفسیر کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تمام مسلمان خواہ مرد ہو یا عورت زیارت قبور کی اجازت ہے۔ لیکن چند شرائط ہیں۔
قبل از بحث زیارت کے لغوی و اصطلاحی معنی سے واقفیت ضروری ہے۔
عربی لغت کے اعتبار سے زیارت کا معنی دیکھیں تو یہ لفظ زَارَ، یَزُوْرُ، زَوْراً سے مشتق ہے جس میں ملنے، دیکھنے، نمایاں ہونے، رغبت اور جھکاؤ کے معانی پاۓ جاتے ہیں۔ اصطلاحی و شرعی اعتبار سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ذوات عالیہ اور مقامات مطہرہ کو اللہ تعالی نے خصوصی رحمت و برکت سے نوازا ہے اور ان مقامات مقدسہ پر حاضری کے لیے جانا مشروع، مسنون، مندوب اور مستحب عمل ہے۔عرف عام میں اسی کو زیارت کہتے ہیں
جس طرح مردوں کو تذکیر آخرت کے لیے زیارت قبور کا حکم ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی بعض شرائط کے ساتھ زیارت قبور کی اجازت ہے۔ عورتوں کے لیے یہ زیارت قبور کا جواز احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم و احوال صحابیات رضی اللہ تعالی عنھن سے بھی ثابت ہے تاہم بعض ائمہ دین نے عورتوں کو مزارات پر جانے سے منع فرمایا ہم ان دونوں پہلوؤں کو خوف طوالت کے سبب اختصار کے ساتھ یکے بعد دیگرے پیش کرتے ہیں۔
۱۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں: "مَرّ النبیُ بِاِمْرأۃِ تَبْکِی عِنْدَ قبر، فَقالَ: اتَّقِی اللہ وَ اصْبِرِیْ"
ترجمہ: حضور نبی اکرم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس زار و قطار رو رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر کر
الصحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب زیارت قبور، ۱: ٤٣١۔
السنن الکبریٰ: ۱۰: ۱۰۱۔
مسند امام احمد بن حنبل ۳: ۱۴۳۔

اس حدیث مبارکہ کی رو سے عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس عورت کو قبر پر آنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ رونے سے منع فرمایا اگر عورتوں کو مطلقا زیارتِ قبور کی ممانعت ہوتی تو آپ ﷺ اس عورت کو قبر پر آنے سے منع فرماتے

اسی ضمن میں حضرت عبد اللہ بن أبی ملیکہ کی روایت کردہ حدیث کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو دیکھا کہ وہ قبرستان سے آرہی ہیں تو انہوں نے استفسار کیا: "یَا ام المومنین! مِن این اقبلتِ؟ قالتْ: مِن قَبْراَخِی عبد الرحمن بن ابی بکر، فقلتُ لھا: الیس کَان رسول اللہ ﷺ نَھی عن زِیَارَۃِ القُبُوْرِ ؟ قالتْ: نعم ، کانَ نَھی ثُم أمر بزیارتھا"

ترجمہ: اے ام المومنین آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں ؟ فرمایا: میں اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر کی قبر سے (آرہی ہوں)، میں نے عرض کیا: کیا حضور ﷺ نے زیارت قبور سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: حضور ﷺ نے پہلے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں جانے کی اجازت دے دی

امام حاکم، المستدرک ۱: ٥٣٢
السنن الکبریٰ ۴: ٦٧
امام عبد الرزاق ، المصنف، ۳: ٥٧٢

۳۔ تیسری حدیث پاک امام جعفر الصادق اپنے والد گرامی امام محمد الباقر سے روایت کرتے ہیں: "کاَنتْ فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تزور قبر حمزۃ کل جمعۃ"
ترجمہ: حضور نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہر جمعہ کو حضرت حمزہ کی قبر پر حاضری دیتی تھیں

امام عبد الرزاق ، المصنف ، ۳: ٥٧٢

ان احادیث سے یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچتا ہے کہ عورتوں کا قبر پر جانا مشروع و مسنون عمل ہے۔

بعض فقہاے کرام عورتوں کا مزار میں حاضر ہونے پر عدم جواز کے قائل ہیں۔ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: "أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ. قَالَ وَفِي الْبَابِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُرَخِّصَ النَّبِيُّ ﷺ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كُرِهَ زِيَارَةُ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ، لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ"

ترجمہ: حضور نبی اکرم ﷺ (کثرت سے) قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی` ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علما کے نزدیک یہ حکم اس وقت تھا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی اجازت نہیں دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت فرما دی تو یہ اجازت مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل ہے۔ بعض علما فرماتے ہیں عورتوں کی زیارت قبور کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان میں صبر کم اور رونا دھونا زیادہ ہوتا ہے۔

امام ترمذی ، الصحیح ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی کراھیۃ زیارۃ القبور النساء ، ۳: ۳۷۱، رقمِ حدیث ۱۰۵۶، (مکتبہ: دار الجیل ، بیروت لبنان)

شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری میں لکھا ہے: "قال القرطبي هذا اللعن إنما هو للمكثرات من الزيارة لما تقتضيه الصفة من المبالغة"

ترجمہ: (امام) قرطبی نے کہا یہ لعنت کثرت سے زیارت کرنے والیوں کے لئے ہے جیساکہ صفت مبالغہ کا تقاضا ہے۔

فتح الباری ، ۳: ۱۴۹ ، بیروت، لبنان

بایں معنی کہ "زوّارات" مبالغہ کا صیغہ ہے "فعّالات" کے وزن پر ہے جس میں زیادہ اور کثرت کے معانی پاۓ جاتے ہیں
امام ابن حجر عسقلانی مزید فرماتے ہیں: یہ (عورتوں کا زیارت قبور پر عدم جواز کا قول) اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ شوہر کا حق ضیاع ہونے کا خوف ہو، زینت کا اظہار اور بوقت زیارت چیخ و پکار، آگے لکھتے ہیں: "اذا أمن جمیع ذالك فلا مانع من الاذن، لان تذکر الموت یحتاج الیه الرجال و النساء"

* جب ان تمام ناپسندیدہ امور سے اجتناب ہو جائے تو پھر رخصت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مرد اور عورت دونوں موت کی یاد کی محتاج ہیں۔

فتح الباری ، ۳: ۱۴۹ ، بیروت، لبنان

علامہ ابن نجیم اپنی مایۂ ناز تصنیف البحر الرائق میں فرماتے ہیں: "و قیل تحرم علی النساء، و الاصح أن الرخصة ثابته لھما"

”یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیارت قبر عورتوں کے لیے حرام ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ زیارت قبور کی اجازت مرد و زن دونوں کے لیے ثابت ہے“

البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ۲: ۲۱۰ (مطبوعہ: مصر، مطبوعۃ علمیۃ)

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: "أما على الأصح من مذهبنا وهو قول الكرخي وغيره من أن الرخصة في زيارة القبور ثابتة للرجال والنساء جميعا، فلا إشكال"

احناف کے نزدیک صحیح قول امام کرخی وغیرہ کا ہے وہ یہ کہ زیارت قبور کی اجازت مرد و زن دونوں کے لیے ثابت ہے جس میں کوئی اشکال نہیں۔
رد المختار علی الدر المختار 2: 626۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عورتوں کا زیارت قبور کے لیے جانا اگر آخرت کی یاد دہانی، حصول عبرت، نصیحت اور زہد کے لیے ہو تو جائز و مشروع ہے، لیکن اگر ان کا جانا فتنہ اور بے حیائی کا باعث ہو اور شرعی حدود و قیود کا ارتفاع ہو تو پھر ممنوع ہے۔ انہی وجوہات کے باعث ہمارے بہت سے اکابرین جن میں امام الہند مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، جنہوں نے عورتوں کے لیے زیارت قبور کو جانا حرام قرار دیا ہے-

ارشاد نبوی ﷺ اور شارحین حدیث و ائمہ فقہ کی اراء کی روشنی میں جمہور کا موقف یہی ہے کہ عورتوں کا زیارت قبور کے لیے جانا بعض شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ مثلاً:
• اس زیارت کا مقصد تذکر موت و آخرت ہو۔
• اس زیارت کا مقصد اپنے عزیز رشتہ دار اور عام مومنین مُردوں کو دعا اور فاتحہ سے فائدہ پہنچانا ہو۔
• اختلاط مرد و زن نہ ہو فتنہ اور بے حیائی سے تحفظ ہو۔
• عورتیں وہاں جا کر جزع و فزع کر کے غم تازہ نہ کریں۔
• کثرت سے زیارت کرنے والی نہ ہو۔

محمد سلمان ہاشمی

Address

Dalkhola

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The islamic knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category