Qutuf Dania

06/08/2025

اپنى `"نيکى"` کو چھپانا آپ کى سوچ کا `"امتحان"` ہوتا ہـے
اور دوسروں کے `"گناە"` چھپانا آپ کے `"کردار"` کا امتحان ہوتا ہـے

04/08/2025

کبھی مسکرا بھی لیا کریں 🥰

سعودی عرب میں مقیم ایک دوست بتا رہا تھا کہ؛

"میں جدہ میں ایک دعوت پر مدعو تھا، وہاں ایک عربی کو دیکھا جو قہوے پہ قہوہ "چڑھا" رہا تھا، میں نے اس سے کہا آپ اتنا قہوہ کیوں پیتے ہیں؟ "

اس نے جواب دیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد کی عمر 105 سال ہے اور وہ بالکل صحت مند ہیں !!!

میں نے پوچھا: "آپ کے والد قہوہ زیادہ پیتے ہیں؟"

اس نے جواب دیا : نہیں، وہ لوگوں کے نجی اور ذاتی معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتے۔
منقول

03/08/2025

📍شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"کثرتِ نوافل (نفلی عبادات) اللہ تعالی کی محبت حاصل کرنے کا ایک (اہم) ذریعہ ہے، لہٰذا اگر تم نوافل کا اہتمام زیادہ کرو گے تو خوش ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔"
[📘شرح الأربعين النووية : ٣٨٠]

«🪶انتخاب و ترجمانى : عائشہ أمة النور بنت جمیل الدین۔»

03/08/2025

◻️قال الإمام ابن القيم رحمه الله :

*إنَّ الرِّضا يفتح له باب السَّلَامة، فيجعل قلبه سليمًا نقيًّا من الغشِّ والدَّغل والغلِّ*، *ولا ينجو من عذاب الله إلَّا من أتى الله بقلب سَلِيم، كذلك وتستحيل سَلَامة القلب مع السَّخط وعدم الرِّضا، وكلَّما كان العبد أشدَّ رضى، كان قلبه أسلم»*

📚 |[ مدارج السالكين (٢/٢٠١)]|
┈┉┅┅●📘📕📗●┅┅┉┈
اردو

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

*"رضا (اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا) انسان کے لیے سلامتی کا دروازہ کھول دیتا ہے، جس سے اس کا دل ہر قسم کے کینہ، فریب اور غلط کاری سے پاک و صاف ہو جاتا ہے۔* *اللہ کے عذاب سے صرف وہی شخص بچ پائے گا جو اس کے سامنے سالم دل (پاک دل) لے کر حاضر ہو۔ اسی طرح دل کی سلامتی کا تصور بھی بغیر رضا کے ناممکن ہے۔ بندہ جتنا زیادہ راضی رہے، اس کا دل اتنا ہی پاکیزہ ہوگا۔"*
📚 | مدارج السالکین (۲/۲۰۱)

* *
*ریاضی*

03/08/2025

یہی ذوقِ مطالعہ مطلوب ہے۔۔۔۔۔

میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے شاگرد سید ابو الحسن علی صاحب رحمہ اللہ جب نابینا ہو گئے تو ایک طالب علم سے علامہ ابن الجوزی کی "تلبیس ابلیس" ٬ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کی شفاء العلیل ۔۔۔" اور علامہ آلوسی کی "غاية الأماني في الرد على النبهاني" پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔(مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں:ص 100)

✍️حافظ عبدالرحمن المعلمی

03/08/2025

*Wahb ibn Munabbih said:*

“The unmarried man is like a tree in a desert, shaken by the winds in all directions.”

*Abdul Razzaq in Al-Musannaf [6/171, no. 10386.*

31/07/2025

✒️‏قال الإمام الشاطبي رحمه الله:
من علامات السعادة على العبد: تيسير الطاعة عليه، وموافقة السنة في أفعاله، وصحبته لأهل الصلاح، وحسن أخلاقه مع الإخوان، وبذل معروفه للخلق، واهتمامه للمسلمين، ومراعاته لأوقاته".
📚الاعتصام ٢/ ١٥٢]

*اردو*

✒️امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "بندے کی سعادت کی نشانیوں میں سے یہ ہیں: اس کے لیے اطاعت کو آسان بنانا، اس کے اعمال سنت کے مطابق ہونا، اس کا نیک لوگوں کی صحبت، اس کا اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے ساتھ اس کی سخاوت، مسلمانوں کے لیے اس کا خیال، اور اس کے وقت کا خیال رکھنا۔"
[الاعتصام، 2/152]

* *
*ریاضی*

30/07/2025

`تدبیر سے بے خوفی`

امام ذهبی رحمه اللّٰه (٧٤٨ه‍) فرماتے ہیں
"ہر وہ شخص جو اِس بات سے نہیں ڈرتا؛ کہ وہ کہیں جہنم کی آگ میں نہ چلا جائے، وہ شخص مغرور ہے، کیونکہ وہ اللّٰه کی تدبیر سے بے خوف ہو چکا ہے!"

(سير أعلام النبلاء : ٢٦١/٦)

30/07/2025

‏"مومن عیب چُھپا لیتا ہے، پھر نصیحت کرتا ہے؛ جبکہ منافق عزت پر حملہ کرتا ہے، اور عار دلاتا ہے!"

امام فضیل بن عیاض رحمه اللہ
(جامع العلوم و الحکم : 225/1)

29/07/2025

*مضمون : فلاح پانے والے قرآنی آیات کی روشنی میں*

*مضمون نگار : حافظ عبد الرشید عمری*
*دوحہ - قطر*

قد أفلح المؤمنون (سورة المؤمنون: ١ )
یقینا ایمان والوں نے فلاح پالی
مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے سورہء مؤمنون کی مذكوره پہلی آیت کی تفسیر میں فلاح کی بہت ہی جامع لغوی اور شرعی تعریف و تشریح بیان فرمائی ہے،
فلاح کے لغوی معنی ہیں: چیرنا، کاٹنا، کاشت کار کو بھی فلاح (ل کی تشدید کے ساتھ) کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کو چیر پھاڑ کر اس میں بیج بوتا ہے۔
مفلح(کامیاب) بھی وہ ہوتا ہے، جو صعوبتوں(مشکلات و مصائب) کو کاٹتے اور چیرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے یا کامیابی کی راہیں اس کے لئے کھل جاتی ہیں اس پر بند نہیں ہوتیں،
شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے، جو دنیا میں رہ کر مقصد زندگی کو پہچانتے ہوئے رب کی خالص عبادت سنت نبوی کے مطابق کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر لے اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پاجائے، دخول جنت کا مستحق قرار دیا جائے اور جہنم سے نجات کا مستحق قرار دیا جائے۔
(تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ)

*فلاح پانے والے اہل ایمان کی چند اہم صفات*

اللہ تعالٰی نے سورہء بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات میں متقین کی چند اہم ایمانی صفات کا ذکر کیا ہے ،
غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا، اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا، قرآن اور سابقہ آسمانی کتابوں پر ایمان لانا اور آخرت پر یقین رکھنا۔
متقین کی ان اہم ایمانی صفات کے ذکر کے بعد اللہ نے فرمایا:
أولئك على هدى من ربهم و أولئك هم المفلحون(البقرة:٥)
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے نازل شدہ ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔

اس آیت کی تفسیر مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اللہ اس طرح رقمطراز ہیں:
یہ ان اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ایمان لانے کے بعد تقوی و عمل اور عقیدہء صحیحہ کا اہتمام کرتے ہیں،
محض زبان سے اظہار ایمان کو کافی نہیں سمجھتے ہیں،
فلاح یعنی کامیابی سے مراد آخرت میں رضائے الٰہی اور اس کی رحمت و مغفرت کا حصول ہے،
اس کے ساتھ دنیا میں بھی خوش حالی اور سعادت و کامرانی مل جائے تو سبحان اللہ!
ورنہ اصل کامیابی تو آخرت ہی کی کامیابی ہے ۔
(تفسیر احسن البیان)

اور سورہء مؤمنون کی ابتدائی گیارہ(11)آیتوں میں اللہ نے فلاح پانے والے مومنوں کی آٹھ اہم ایمانی صفات کا ذکر کیا ہے
نماز میں خشوع اختیار کرنا
لغویات(بیہودہ کاموں اور باتوں) سے منہ موڑ لینا
زکات ادا کرنا یا اپنے نفس کا (نیکیوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور گناہوں کو چھوڑتے ہوئے) تزکیہ کرنا
شرمگاہوں کی حفاظت کرنا
صرف بیوی اور لونڈی سے نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا
امانت کی اور عہد و پیمان
کی رعایت و حفاظت کرنا
اور نمازوں کی حفاظت کرنا۔

اللہ تعالٰی نے سورہء نور کی آیت میں فلاح پانے والے اہل ایمان کی ایک اہم ایمانی صفت جو ساری ایمانی صفات کے لئے مرکزی حیثیت کی حامل ہے اس کا ذکر کیا ہے وہ اہم ایمانی صفت یہ ہے۔
*اللہ اور اس کے رسول کا حکم سننے یا پڑھنے کے بعد سمع و طاعت کا عملی جذبہ پیدا ہونا*
إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا و أطعنا و أولئك هم المفلحون(النور:٥١)
ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا یہی لوگ فلاح پانےوالے ہیں ۔

فلاح پانےوالے اہل ایمان کی ایک اہم ایمانی صفت
صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے بندوں کے حقوق ادا کرنا ہے (الروم:٣٨ )

فلاح پانےوالے والے اہل ایمان کو محسنین کہا گیا ہے اور ان کی تین اہم ایمانی صفات
اللہ تعالٰی نے سورہء لقمان کی چوتھی آیت میں بیان کیا ہے
نماز قائم کرنا زکات ادا کرنا اور آخرت پر یقین رکھنا،
ان تین صفات کے ذکر کے بعد پانچویں آیت میں اللہ نے عین وہی خوش خبری دی ہے جو خوش خبری اللہ نے سورہء بقرہ کی پانچویں آیت میں متقین کی ایمانی صفات کے ذکر کے بعد دی ہے
"نماز،زکات اور آخرت پر یقین یہ تینوں نہایت اہم ایمانی صفات ہیں،
اس لئے بطور خاص ان کا ذکر کیا ورنہ محسنین و متقین تمام فرائض و سنن بلکہ تمام مستحبات تک کی پابندی کرتے ہیں" (تفسیر احسن البیان)

*فلاح پانے والے اہل ایمان کا نام حزب اللہ ہے*

اور اللہ کا لشکر اور گروہ ہی فلاح پانے والا ہے
اس حزب اللہ کی ایک اہم ایمانی صفت اسلام کے دشمنوں سے دلی محبت اور خصوصی تعلق نہ رکھنا ہے۔
(المجادلة: ٢٢) اس آیت کا ترجمہ پڑھیں ۔

فلاح پانے والے اہل ایمان کی ایک اہم ایمانی صفت نفس کا تزکیہ کرنا ہے۔
اللہ تعالٰی نے سورہء شمس میں سات آیات میں سات مخلوقات کی قسم کھانے کے بعد فرمایا:
فألهمها فجورها و تقواها
قد أفلح من زكها و قد خاب من دسها (الشمس : ٨، ٩، ١٠)
پھر اس کو سمجھ دی بدی کی اور نیکی کی
جس نے اسے پاک کیا وہ کامیاب ہوا
اور جس نے اسے خاک میں ملادیا وہ ناکام ہوا۔
الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور انہیں انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر و شر کی پہچان کروادی
یا مطلب ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر و شر اور نیکی و بدی کا شعور ودیعت کردیا تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں ۔
(تفسیر احسن البیان)

*تزکیہ نفس:* نفس کے تزکیہ میں دو پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے
ایک پہلو ہے کفر، شرک، نفاق، الحاد، بدعت اور ہر چھوٹی بڑی معصیت سے اپنے نفس کو پاک کرنا۔
اور دوسرا پہلو ہے توحید، ایمان، تقوی اور عمل صالح سے اور ہر چھوٹی بڑی نیکی سے اپنے نفس کو آراستہ کرنا،
جن دو پہلوؤں کو اسلاف کرام اخلاق و زہد کی کتابوں میں *التحلي بالفضائل و التخلي عن الرذائل* سے تعبیر کرتے ہیں،
قرآن و سنت کے نصوص میں ان دونوں احکام کا نام اوامر و نواہی ہے۔
اس طرح تزکیہء نفس کے لئے اوامر پر عمل کرنا اور نواہی کو چھوڑنا ضروری ہے۔

مذکورہ سورتوں کی متفرق آیات میں کسی تخصیص کے بغیر عام اہل ایمان کی اہم عمومی ایمانی صفات کا ذکر ہے کیا گیا ہے،
جن ایمانی صفات سے متصف ہونا ہر بالغ، عاقل اور مسلم (مرد، عورت، جوان اور بوڑھے) کے لئے فلاح پانے کے لئے ضروری ہے۔

اسی طرح کچھ خصوصی صلاحیتوں کے حامل اہل ایمان کے لئے مزید ایمانی صفات سے متصف ہونا بھی ضروری ہے
اہل علم کے لئے اہم علمی اور دعوتی فرائض کی ادائیگی بھی فلاح پانے کے لئے ضروری ہے۔
دعوت الی اللہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ کو اہل علم نے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔
ویسے مجمل اور محدود علم کے مطابق محدود دائرہ میں قرآن و سنت کے نصوص کی روشنی میں ہر بالغ و عاقل مسلمان مرد و عورت پر مذکورہ فریضہ عائد ہوتا ہے۔

سورہء آل عمران میں اللہ نے امت مسلمہ کی ایک جماعت (اہل علم کی جماعت) کے تین اہم دعوتی فرائض ذکر کیا اور کہا کہ ان دعوتی فرائض کو سر انجام دینے والے فلاح پانے والے ہیں۔
اہل علم کے تین اہم دعوتی فرائض یہ ہیں:
دعوت الى الخير یعنی بھلائی کی طرف بلانا،
أمربالمعروف يعنى نیکی کا حکم دینا،
نهى عن المنكر يعنى برائی سے روکنا۔
ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير و يأمرون بالمعروف و ينهون عن المنكر و أولئك هم المفلحون(آل عمران:١٠٤)

مالی طاقت اور جسمانی طاقت رکھنے والے مسلمانوں کے لئے مزید دو ایمانی صفات سے متصف ہونا بھی ضروری ہے،
دولت اور شجاعت کی نعمت پانےوالوں کے حق میں فلاح پانے کے لئے اسلامی احکام کے مطابق اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد فرض ہونے کی صورت میں جہاد کرنا چاہئے۔

اللہ نے سورہء توبہ میں فرمایا:
لیکن خود رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔(التوبة:٨٨)

مذکورہ سورتوں کی متفرق آیات کی روشنی میں اہل ایمان کی کچھ عمومی اور کچھ خصوصی ایمانی صفات کا ذکر کیا گیا ہے ان ایمانی صفات کی پابندی فلاح پانے کے لئے ضروری ہے۔
لیکن اللہ تعالٰی نے بنی آدم کو جس فطرت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، اس فطرت کے تحت انسان سے نیکیوں کے ساتھ برائیوں کا صادر ہونا بھی بشری کمزوری کا حصہ ہے،
لیکن اللہ تعالٰی نے ہر انسان اور ہر مسلمان کے لئے موت آنے سے پہلے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
توبہ کی فضیلت سے متعلق سوؤں کی تعداد میں قرآنی آیات اور صحیح احادیث وارد ہیں،
بشری تقاضوں کے تحت اہل ایمان سے گناہوں کا یقینی امکان ہے، لیکن اہل ایمان گناہوں پر اصرار نہیں کرتے ہیں، بلکہ اللہ کے پاس فورا اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے توبہ و استغفار کا اہتمام کرتے ہیں۔
اللہ تعالٰی نے سورہء نور کی آیت نمبر (31) میں پردے کے احکامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"وتوبوا إلى الله جميعا أيه المؤمنون لعلكم تفلحون"
اے مومنو!تم سب کے سب اللہ کے پاس توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

ان اہم ایمانی صفات کو سمجھ کر انہیں اپنانے کی ہر مسلمان کو ضرورت ہے، تا کہ ہر مسلمان فلاح کا مستحق قرار پائے۔

کسی شاعر نے ایمان کی اہمیت کو جامع الفاظ میں اجاگر کیا ہے۔
*میسر ہو اگر ایمان کامل*
*کہاں کی الجھنیں کیسے مسائل*

اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو علم نافع اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال فرمائے، آمین۔

29/07/2025

ماتم کی نئی شکل:
تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے غم کا اظہار
فواد فوازن بن محمد زمان
متعلم جامعہ سلفیہ بنارس

آج کے ڈیجیٹل دور میں جب کوئی شخص وفات پا جاتا ہے تو اکثر لوگ اس کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر کے غم کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض اوقات تصویر کے ساتھ روتے ہوئے جملے، موسیقی یا سیاہ رنگ کے پس منظر دیے جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں بظاہر ہمدردی اور محبت کے اظہار کے لیے کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ماتم کی ایک نئی شکل ہے جو شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

شریعت کا موقف:

رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر ماتم، نوحہ اور بین کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیثِ مبارکہ:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
"لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ"
(صحیح بخاری: 1294، صحیح مسلم: 103)

یعنی: "وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کے کلمات کہے۔"

آج کل مرنے والے کی تصاویر لگا کر، اُن پر افسوس ناک کلمات لکھ کر، اور رقت آمیز میوزک کے ساتھ ویڈیوز بنانا—یہ سب ماتم کے ہی مختلف انداز ہیں، جن سے ہمیں بچنے کا حکم ہے۔

نصیحت:

اسلام ہمیں صبر، دعا، اور میت کے لیے مغفرت کی دعا کا حکم دیتا ہے۔ غم کا اظہار دل میں ہو، زبان سے صبر کے کلمات نکلیں، اور عمل دعا و صدقہ کی شکل میں ہو۔ سوشل میڈیا پر تصویری یا ویڈیو بین بازی نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ میت کے لیے باعثِ اذیت بھی ہو سکتی ہے۔

قرآنی اصول:
﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾
(البقرة: 156)

یعنی: "جو لوگ مصیبت کے وقت کہتے ہیں: ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"

With Amanullah Naik – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
25/07/2025

With Amanullah Naik – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

Address

Delhi
110005

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qutuf Dania posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Qutuf Dania:

Share