SaGar Times

SaGar Times Daily News/Articles and current Updates

01/06/2026

ہند۔پاک،
برما، نیپال، ایران، بنگلہ دیش
اور افغانستان میں 26 جون 2026
بروز جمعہ کو دسویں محرم 1447 ہے،
ان شآءاللہ! (مولانا) ثمیرالدین قاسمی (انگلینڈ) ( )

تاج محل کو مندر قرار دینے والی رپورٹ پر سدھیر چودھری کے شو کو این بی ڈی ایس اے کی پھٹکار"نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹ...
01/06/2026

تاج محل
کو مندر قرار دینے
والی رپورٹ پر سدھیر چودھری
کے شو کو این بی ڈی ایس اے کی پھٹکار"
نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (NBDSA) نے معروف صحافی سدھیر چودھری کے ایک ٹی وی شو پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل کو ہندو مندر قرار دینے سے متعلق پیش کی گئی رپورٹنگ غیرجانبدارانہ نہیں تھی۔ اتھارٹی کے مطابق پروگرام میں موضوع کو متوازن انداز میں پیش نہیں کیا گیا اور صحافتی اصولوں کے مطابق مختلف پہلوؤں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ این بی ڈی ایس اے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسی رپورٹنگ ناظرین کو یکطرفہ تاثر دے سکتی ہے، جو غیر جانبدار صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب پروگرام میں تاج محل کی تاریخی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے اور اسے مبینہ طور پر ایک قدیم ہندو مندر سے جوڑا گیا۔ این بی ڈی ایس اے نے اس طرزِ پیشکش پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ خبروں اور تاریخی موضوعات کی رپورٹنگ میں توازن اور غیرجانبداری برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس فیصلے کے بعد میڈیا حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔(منقول)( )

"کھیرا سب کے لئے فائدہ مند نہیں، کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے؟"کھیرا عام طور پر ایک صحت بخش اور ہلکی غذا کے طور پر جانا...
31/05/2026

"کھیرا
سب کے لئے
فائدہ مند نہیں،
کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے؟"
کھیرا عام طور پر ایک صحت بخش اور ہلکی غذا کے طور پر جانا جاتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔
اس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق کھیرے میں 95 فیصد سے زائد پانی کے ساتھ وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسم میں سوزش کم کرنے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور جلد کی صحت بہتر بنانے میں بھی مددگار سمجھا جاتا ہے۔
تاہم جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ کچھ مخصوص طبی مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔

سانس اور بلغم کے مسائل میں احتیاط:
ماہر غذائیت کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو بعض افراد میں بلغم بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، کھانسی، دمہ، سائنوس یا دیگر سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لئے اس کا استعمال مسائل کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر سرد موسم میں۔

نظامِ ہاضمہ کمزور ہو تو مسئلہ بن سکتا ہے:
اگرچہ کھیرے میں موجود فائبر ہاضمے کے لئے مفید ہے، لیکن حساس معدہ رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اس میں موجود کیوکربیٹاسن نامی مرکب بعض لوگوں میں گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً وہ افراد جو آئی بی ایس یا دیگر معدے کے مسائل کا شکار ہوں۔

جوڑوں کے درد میں اضافہ ممکن:
ماہرین کے مطابق گٹھیا یا جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ کھیرے کی سرد تاثیر بعض کیسز میں سوزش اور درد کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ٹھنڈے موسم میں۔

پیشاب کی نالی کے مسائل والے افراد کے لئے خطرہ:
کھیرے میں قدرتی طور پر پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس لیے پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا دیگر مسائل میں مبتلا افراد کے لئے اس کا زیادہ استعمال نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ ایسے افراد کو محدود مقدار میں استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لئے احتیاط ضروری:
اگرچہ کھیرا عام طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے بیج بعض صورتوں میں شوگر لیول کو حد سے زیادہ کم کرسکتے ہیں، خاص طور پر اگر مریض انسولین یا دیگر ادویات استعمال کررہا ہو۔ اس سے کمزوری، چکر اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

رات کے وقت استعمال کیوں نقصاندہ؟
ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی زیادہ پانی والی ساخت رات میں بار بار واش روم جانے کی وجہ بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ٹھنڈی تاثیر بھی رات کے وقت جسم کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔
ماہرین کے مطابق کھیرا بلاشبہ ایک مفید غذا ہے، لیکن ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔ اس لیے اپنی صحت اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ (منقول) ( )

"پہلے ناکہ بندی، پھر مسجد چوک پر چلا بلڈوزر... فرید آباد میں اُس رات کیا ہوا؟"ہریانہ کے فرید آباد میں مبینہ غیرقانونی تع...
30/05/2026

"پہلے
ناکہ بندی، پھر
مسجد چوک پر چلا بلڈوزر...
فرید آباد میں اُس رات کیا ہوا؟"
ہریانہ کے فرید آباد میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر کارروائی نے ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے پہلے علاقے کی ناکہ بندی کی، بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی اور بعد میں مسجد سمیت کئی تعمیرات پر بلڈوزر چلایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی جمائی کالونی اور مجیسر کے اطراف واقع علاقوں میں کی گئی، جہاں حکام کا دعویٰ ہے کہ تعمیرات سرکاری اور جنگلاتی زمین پر قائم تھیں۔ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کی مہم کے تحت مسجد سمیت متعدد عمارتوں کو منہدم کیا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل پورے علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا تھا اور آمد و رفت محدود کر دی گئی تھی۔ کئی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں مسجد کے انہدام اور لوگوں کے احتجاج کے مناظر بھی دکھائے گئے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی عدالتی احکامات کے مطابق کی گئی، جبکہ بعض مقامی افراد اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیرِسماعت ہونے کے باوجود انہدام کیوں کیا گیا۔
بلڈوزر کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول دیکھا گیا، تاہم پولیس اور انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ صورتحال قابو میں ہے اور قانون و نظم برقرار رکھنے کے لئے اضافی فورس تعینات کی گئی تھی۔ (منقول: )

"نظر بد سے بچنے کی مسنون دعا کیا ہے؟"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسن و حس...
30/05/2026

"نظر بد
سے بچنے کی
مسنون دعا کیا ہے؟"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ
سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لئے (ان کلمات سے) پناہ طلب کیا کرتے تھے: "أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ" (صحیح بخاری: 3371) ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔“ (منقول) ( )

29/05/2026

"حج
کی سعادت
حاصل کرنے کے بعد
حجاج کی مکہ مکرمہ سے واپسی"
ہزاروں مسلمانوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد جمعہ کو مکہ مکرمہ سے واپسی کا سفر شروع کردیا ہے۔
امسال دنیا کے عظیم ترین مذہبی اجتماع میں 165 ممالک کے 17 لاکھ سے زیادہ حجاج نے شرکت کی۔
"میں یقین نہیں کرسکتا کہ میں نے حج مکمل کرلیا ہے،" پہلی بار حج کی سعادت حاصل کرنے والے 37 سالہ مصری حاجی احمد ممدوح نے کہا۔
اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: "میں بہت خوش ہوں کہ میں نے مناسکِ حج بحفاظت مکمل کیے۔ حج واقعی تھکا دینے والا ہوتا ہے بالخصوص ایسے گرم موسم میں۔"
الجزائر کے 74 سالہ حاجی الزاوی نے اپنی اہلیہ کے گرد بازو لپیٹ کر کہا: "ہمارا خواب ایک ساتھ حج کرنا تھا، شادی کے 50 سال بعد اب یہ خواب پورا ہوگیا ہے۔"
جمعہ کے روز حج کے تیسرے دن حجاج مکہ کے جنوب مشرق میں وادی منی میں رمی جمرات مکمل کریں گے جس میں وہ شیطان کے علامتی ستونوں پر کنکریاں ماریں گے۔
اس کے بعد وہ بسوں میں سوار ہو کر الوداعی "طواف" کرنے کے لئے مکہ کی مسجدالحرام جائیں گے۔ اس میں اسلام کے مرکزی مقام خانہ کعبہ کے گرد سات بار چکر لگایا جاتا ہے۔
سعودی حکام نے حالیہ برسوں میں گرمی سے حفاظت کے اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں زیادہ سایہ دار علاقے اور صحت کے ہزاروں اضافی کارکنان کی تعیناتی شامل ہے۔
سعودی ہلالِ احمر نے جمعرات کو کہا کہ اس نے حج سیزن شروع ہونے کے بعد سے 83,000 سے زائد افراد کو ہنگامی طبی خدمات فراہم کیں۔ (منقول) ( )

ایک ایسا فنکارجس کے ہاتھوں کی تحریر مدینہ منورہ کے درودیور پر منقش ہوگئی استاد شفیق الزمان خان وہ نام ہے جس نے تقریباً 3...
29/05/2026

ایک
ایسا فنکار
جس کے ہاتھوں
کی تحریر مدینہ منورہ
کے درودیور پر منقش ہوگئی
استاد شفیق الزمان خان وہ نام ہے
جس نے تقریباً 30 سال مسجد نبوی میں
خدمت کرتے ہوئے خطاطی کو نئی روح بخشی۔
1990 کے دوران ایک بین الاقوامی مقابلہ جیتنے کے بعد انہیں
یہ اعزاز نصیب ہوا کہ وہ اس مقدس مسجد کی خطاطی کی بحالی اور خوبصورتی کا حصہ بنیں۔ انہوں نے عثمانی دور کے 177 گنبدوں پر قرآنی آیات کو نہ صرف بحال کیا بلکہ انہیں ایسا حسن بخشا جو آج بھی دیکھنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ روضۂ رسول ﷺ میں ان کے ہاتھ سے بنے سونے سے مزین فن پارے آج بھی عقیدت کا مرکز ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے بجائے اپنے ہاتھ کی مہارت پر یقین رکھتے ہیں۔ کئی بار کتبہ مکمل کرنے کے لئے پوری رات لگا دیتے تھے۔ ان کی اسی لگن اور فن کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے 2014 کے دوران انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ گمنامی سے سفر شروع کرنے والا یہ فنکار، آج دنیا بھر میں فن خطاطی کی پہچان بن چکا ہے۔ (منقول) ( )

28/05/2026

"یوم القر:
ایام تشریق کے
پہلے روز حجاج کرام
رمی جمرات کے لئے منیٰ میں مقیم"
حجاج کرام نے جمعرات گیارہ ذوالحجہ (28 مئی 2026) کو ایام تشریق کے پہلے روز منیٰ میں قیام کیا۔ اسے "یوم القر" کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کیونکہ حاجی اس دن منیٰ میں ٹھہرتا اور قیام کرتا ہے تاکہ جمرہ صغریٰ سے آغاز کرتے ہوئے، پھر جمرہ وسطیٰ اور پھر جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مارنے کا عمل انجام دے۔ یہ حاجیوں کی جانب سے یوم النحر کے بیشتر اعمال جیسے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا، طواف افاضہ اور قربانی کرنا مکمل کرنے کے بعد ہوا۔ یہ سب کچھ ایک مربوط آپریشنل نظام کے تحت ہوا جسے متعلقہ حکام نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت اور انہیں آسانی و اطمینان کے ساتھ مناسک ادا کرنے کے قابل بنانے کے لئے وقف کیا تھا۔
جمرات کی عمارت نے صبح کے ابتدائی اوقات ہی سے تینوں جمرات کو کنکریاں مارنے کے لئے حاجیوں کی آمد دیکھی، جس کا آغاز جمرہ صغریٰ سے ہوا، پھر جمرہ وسطیٰ اور پھر جمرہ عقبہ، جو کہ پیش قدمی کے دقیق منصوبوں اور گہرے فیلڈ نظم و ضبط کے تحت ہوا جس نے نقل و حرکت کی روانی اور مختلف راستوں اور منزلوں پر ہجوم کی تقسیم میں مدد فراہم کی۔
سکیورٹی، صحت اور خدمات سے متعلق حکام نے منیٰ میں حاجیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ہنگامی حالات میں رد عمل کی رفتار کو بڑھانے کے لئے تنظیمی، طبی امداد اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کی تعیناتی کے ذریعے میدان میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا۔
حاجی "یوم القر" کے دوران اللہ تعالیٰ کے اس فرمان "واذكروا الله في أيام معدودات" (اور اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں یاد کرو) کی تعمیل کرتے ہوئے کثرت سے ذکر، دعا اور تلبیہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ایام تشریق اس ایمانی ماحول کا تسلسل ہیں جس میں حاجی سفرِ حج کے دوران رہتے ہیں۔
حجاج کرام ایام تشریق کے دوران منیٰ میں رات گزارنا جاری رکھیں گے، جبکہ جو شخص ایام تشریق کے دوسرے دن سورج غروب ہونے سے پہلے جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہونا چاہے، اس کے لئے جلدی کرنے کی اجازت ہے۔
بہت سے حاجی تیرہویں تاریخ کو رات گزارنے اور کنکریاں مارنے کے ساتھ اپنے مناسک مکمل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، دوسری طرف متعلقہ حکام نے ایام تشریق کے دوران حاجیوں کی خدمت کے لئے اپنی مختلف آپریشنل اور تکنیکی صلاحیتوں کو ایک مربوط نظام کے ذریعے وقف کر رکھا ہے جس میں ٹرانسپورٹ، کولنگ، پانی کی فراہمی، صحت کی دیکھ بھال اور رہنمائی کی خدمات کے ساتھ ساتھ چوبیس گھنٹے صفائی اور ماحولیاتی صحت کے کام شامل ہیں۔
سعودی عرب سال بہ سال حج کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جو اللہ کے مہمانوں کی دیکھ بھال اور انہیں امن، سلامتی اور راحت کے ساتھ مناسک ادا کرنے کے قابل بنانے کی سطح کی عکاسی کرتا ہے۔ (منقول) ( )

"قربانی واجب ہونے سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ"✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن (   )
28/05/2026

"قربانی
واجب ہونے سے
متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ"
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن ( )

"عازمین حج نے جمرہ عقبہ کو ماری کنکریاں""عیدالاضحیٰ کے پہلے دن  سے  3 دن تک چلتا ہے رمی جمرات کا یہ عمل"رمی جمرات 3 دنوں...
27/05/2026

"عازمین
حج نے جمرہ
عقبہ کو ماری کنکریاں"
"عیدالاضحیٰ کے پہلے دن سے
3 دن تک چلتا ہے رمی جمرات کا یہ عمل"
رمی جمرات 3 دنوں تک جاری رہتا ہے، جس میں حجاج تینوں جمرات (چھوٹے، درمیانے، بڑے) پر 7-7 کنکریاں مارتے ہیں۔ پہلے دن صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں، باقی 2 جمرات پر رمی اگلے دنوں میں کی جائے گی۔موصولہ تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے 17 لاکھ سے زائد عازمین حج آج منیٰ میں اہم رکن ’رجمی جمرات‘ انجام دیتے نظر آئے۔ مختلف ذرائع اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے سامنے آ رہی خبروں کے مطابق حجاج کرام نے سب سے پہلے جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) پر کنکریاں مارنے کا عمل شروع کیا، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یادگار ہے۔ رمی جمرات کا یہ عمل 3 دنوں تک جاری رہتا ہے، جس میں حجاج تینوں جمرات (چھوٹے، درمیانے اور بڑے) پر 7-7 کنکریاں مارتے ہیں۔ آج کے دن صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں، جبکہ باقی 2 جمرات پر رمی اگلے دنوں میں کی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ بہتر ماحول میں مناسک حج کی ادائیگی اور حجاج کی حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سعودی حکام نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ رمی کے مقام پر جدید جمرات کمپلیکس قائم کیا گیا ہے، جس میں متعدد سطحوں پر پل اور ریمپ شامل ہیں تاکہ ہجوم کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔ شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے سایہ دار مقامات، کولنگ یونٹس اور طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔بہرحال، حج کے دوران رمی جمرات کا مرحلہ عید الاضحیٰ کے دن یعنی یوم النحر کیساتھ شروع ہوتا ہے، جو مسلمانوں کیلئے قربانی اور ایثار کا تہوار ہے۔ رمی جمرات کے بعد حجاج قربانی کرتے ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یادگار ہے۔ اس کے بعد وہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں اور طوافِ وداع کیلئے مکہ مکرمہ روانہ ہوتے ہیں۔ (منقول) ( )

Address

Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SaGar Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share