SaGar Times

SaGar Times Daily News/Articles and current Updates

ایکپرانے ہم جماعت سے ملاقات ہوئی۔ ایک خاتون باربی کیو کے دوران ٹھوکر کھاکر گرگئیں۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر کو دکھای...
02/09/2026

ایک
پرانے ہم جماعت
سے ملاقات ہوئی۔ ایک
خاتون باربی کیو کے دوران ٹھوکر
کھاکر گرگئیں۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر کو دکھایا جائے، لیکن وہ پُراعتماد تھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی جوتی کی وجہ سے اینٹ سے ٹکرا گئیں۔ دوستوں نے ان کی مدد کی، صفائی کروائی اور کھانے کی پلیٹ دی۔ پھر وہ باقی وقت سب کے ساتھ خوشی سے گزارتی رہیں۔

مگر ملاقات کے بعد، ان کے شوہر نے سب کو اطلاع دی کہ انہیں اسپتال لے جایا گیا اور شام 6 بجے ان کا انتقال ہوگیا—باربی کیو کے دوران ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔
اگر وہاں موجود لوگ فالج کی علامات پہچان لیتے، تو شاید وہ آج بھی زندہ ہوتیں۔

درحقیقت، فالج کی کچھ علامات ہوتی ہیں اور اسے روکا جاسکتا ہے۔ ایک نیوروسرجن کا کہنا ہے کہ اگر وہ فالج کے مریض تک تین گھنٹوں کے اندر پہنچ جائیں، تو وہ فالج کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں۔

راز یہ ہے کہ فالج کی علامات کو جلد پہچانا جائے اور مریض کو تین گھنٹوں کے اندر علاج فراہم کیا جائے—یہ مشکل نہیں۔

*فالج کی شناخت* کے لئے
یاد رکھیں *تین آسان حروف: S، T، R*
براہِ کرم پڑھیں اور سیکھیں!
اگر آپ کے اردگرد لوگ *فالج کی علامات* نہ پہچان سکیں، تو مریض کو شدید دماغی نقصان ہوسکتا ہے۔

*تین آسان سوالات پوچھیں:*

*S: (Smile) مسکرائیں*
مریض سے کہیں کہ وہ مسکرائے۔
اگر منہ کا ایک کونہ نیچے جھک جائے، تو یہ علامت ہے۔

*T: (Talk) بات کریں*
مریض سے کہیں کہ ایک سادہ جملہ بولے، جیسے:
"آج دھوپ والا دن ہے"
اگر جملہ بے ربط یا الجھا ہوا ہو، تو یہ بھی علامت ہے۔

*R:(Raise) ہاتھ اٹھائیں*
مریض سے کہیں کہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔
اگر ایک ہاتھ نیچے گرجائے، تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔

📌 نوٹ:
ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض سے کہیں کہ زبان باہر نکالے۔
اگر زبان ایک طرف کو مڑی ہوئی ہو یا ٹیڑھی ہو، تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔

اگر مریض ان چاروں میں سے اگر کوئی ایک عمل نہ کرسکے، تو فوراً ایمبولینس یا اسپتال کو کال کریں اور علامات بتلائیں۔

اگر ہر شخص جو یہ پیغام پڑھے، اسے دس اور لوگوں کو بھیجے، تو کم از کم ایک جان بچائی جاسکتی ہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے! (منقول) ( )

"پرنسپل کے بروقت فیصلے نے 900 بچوں کی جان بچالی"نیپال میں تاریخ کے خوفناک ترین (مڈسلائیڈ) سیلاب سے چند لمحے قبل اسکول پر...
01/09/2026

"پرنسپل
کے بروقت فیصلے
نے 900 بچوں کی جان بچالی"
نیپال میں تاریخ کے خوفناک ترین (مڈسلائیڈ) سیلاب سے چند لمحے قبل اسکول پرنسپل کو تباہ کن سیلاب کی اطلاع ملی ، اس کے بعد سیکنڈوں کے اندر اسکول سے 900 بچے اونچی جگہ منتقل کئے 700 سے زائد راستے میں تھے جن کے ڈرائیورز کو اطلاع دی گئی، تمام بچوں کی جان بچ گئی۔ اسکول میں 1643 بچے تھے اور سب بچ گئے مگر اسکول کا نام و نشان تک نہ رہا۔ (منقول) ( )

"انسانی دانت کی بناوٹ اور ساخت (Anatomy of a Human Tooth)"دانت صرف چبانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ ہضم اور خوبصورت...
31/08/2026

"انسانی
دانت کی بناوٹ
اور ساخت (Anatomy of a Human Tooth)"
دانت صرف چبانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ ہضم اور خوبصورتی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دانت متعدد تہہ دار اجزاء اور پیچیدہ نظام پر مشتمل ہوتے ہیں؟آئیے دانت کی اندرونی و بیرونی ساخت اور اس کے 14 اہم حصوں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں:
1️⃣ اینامل (Enamel)
دانت کی سب سے بیرونی اور سخت ترین حفاظتی تہہ جو 98% معدنیات (Minerals) پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ دانت کو ٹوٹنے اور کیڑا لگنے سے بچاتی ہے۔
2️⃣ ڈینٹینو-اینامل جوڑ (Dentin-Enamel Junction - DEJ)
یہ وہ درمیانی سرحد ہے جو اینامل اور اس کے نیچے موجود ڈینٹین (Dentin) کو اپس میں جوڑتی ہے۔
3️⃣ ڈینٹین (Dentin)
دانت کا مرکزی اور بڑا حصہ جو دانت کو مضبوطی اور ساخت فراہم کرتا ہے۔
4️⃣ ڈینٹین کی نالیاں (Dentinal Tubules)
ڈینٹین میں موجود باریک خوردبینی نالیاں جو ٹھنڈا، گرم یا درد کے احساسات کو دانت کے اعصاب تک منتقل کرتی ہیں۔
5️⃣ پری ڈینٹین (Predentin)
پلپ (Pulp) کے بالکل ساتھ موجود ڈینٹین کی ایک غیر معدنی (Unmineralized) تہہ۔
6️⃣ پلپ چیمبر (Pulp Chamber)
دانت کا سب سے حساس اور نرم حصہ جس میں خون کی رگیں، لمفیٹکس (Lymphatics) اور اعصاب (Nerves) موجود ہوتے ہیں۔
7️⃣ اوڈونٹو بلاسٹ تہہ (Odontoblast Layer)
کالم کی شکل کے خلیات (Columnar Cells) پر مشتمل تہہ جو ڈینٹین کو بنانے اور برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔
8️⃣ روٹ کینال (Root Canal)
دانت کی جڑ کے اندر موجود راستہ، جس کے ذریعے خون کی رگیں اور اعصاب پلپ تک پہنچتے ہیں۔
9️⃣ سیمنٹم (Cementum)
دانت کی جڑ کی سطح کو ڈھانپنے والی ایک خاص معدنی تہہ جو جڑ کو محفوظ رکھتی ہے۔
🔟 پیریوڈونٹل لیگامینٹ (Periodontal Ligament - PDL)
یہ ریشہ دار کنیکٹیو ٹشو (Fibrous Connective Tissue) کا جال ہے جو دانت کو جبڑے کی ہڈی کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ کر رکھتا ہے۔
1️⃣1️⃣ ایلیوولر ہڈی (Alveolar Bone)
جبڑے کی وہ ہڈی جس میں دانت کی جڑ موجود ہوتی ہے اور جو دانت کو اپنی جگہ پر قائم رکھتی ہے۔
1️⃣2️⃣ جنجیوا / مسوڑھے (Gingiva)
نرم اور مضبوط ٹشو جو دانت کی جڑ اور ارد گرد کی ہڈی کی حفاظت کرتے ہیں۔
1️⃣3️⃣ ایپیکل فارامین (Apical Foramen)
دانت کی جڑ کے نچلے سرے پر موجود ایک باریک سوراخ، جہاں سے خون کی رگیں اور اعصاب دانت کے اندر داخل ہوتے ہیں۔
1️⃣4️⃣ خون کی رگیں اور اعصاب (Blood Vessels & Nerves)
دانت کو ضروری غذائیت، احساسات (Sensations) اور ترمیم و تجدید کی صلاحیت فراہم کرنے والا نظام۔

💡 کیا آپ جانتے ہیں؟
دانت کا اینامل انسانی جسم کا سب سے سخت ترین عنصر ہے، جو ہڈی سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے! دانتوں کی روزانہ صفائی اور دیکھ بھال ان تمام تہوں کو صحت مند رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ (منقول: ایکس اکاؤنٹ اور مصنوعی ذہانت) ( )

انتہائی افسوسناک خبریہ ہے کہ سالم عثمانی صاحب دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ مطبخ میں بحیثیت کارکن اپنی خدمات انجام دے رہے تھے...
31/08/2026

انتہائی
افسوسناک خبر
یہ ہے کہ سالم عثمانی صاحب
دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ مطبخ میں
بحیثیت کارکن اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔
انہیں طبی معائنہ کے لئے ایمس ہسپتال دہلی لے جایا گیا تھا، جہاں دورانِ علاج ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سالم عثمانی قاری کامل صاحب مرحوم سابق استاد درجہ حفظ دارالعلوم دیوبند کے فرزند تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِجمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ (منقول) ( )
نوٹ: نماز جنازہ بعد نماز ظہر ہوگی ان شآءاللہ

"ہمالیہ کا غصہ… محض چند منٹ، اور ایک پوری وادی پانی، برف اور پتھروں کے نیچے دب گئی"نیپال اور تبت کی سرحد پر جو کچھ ہوا، ...
30/08/2026

"ہمالیہ
کا غصہ…
محض چند منٹ،
اور ایک پوری وادی پانی،
برف اور پتھروں کے نیچے دب گئی"
نیپال اور تبت کی سرحد پر جو کچھ ہوا، اسے محض ایک سیلاب کہہ دینا شاید اس سانحے کی اصل شدت کو چھوٹا کردینا ہے۔
یہ صرف پانی نہیں تھا…
اس کے ساتھ برف تھی، پہاڑ تھا، چٹانیں تھیں، مٹی تھی اور ہزاروں ٹن تلچھٹ تھی۔
نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر ایک بڑے برفانی حصے کے ٹوٹنے اور نیچے گرنے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ برفانی تودہ تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی کی طرف آیا، اپنے راستے میں چٹانیں اور ملبہ سمیٹتا گیا اور دریائے لَہینڈے کے نظام کو شدید متاثر کیا۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق برف اور ملبے نے دریا کا راستہ عارضی طور پر بند کرکے ایک قدرتی بند بنا دیا، پھر وہ بند ٹوٹا تو پانی اور ملبے کا ایک دیوہیکل ریلا نیچے کی طرف دوڑ پڑا۔
اور پھر…
جو کچھ ہوا، وہ چند منٹوں میں ہوا۔
بھوٹی کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی اچانک یوں بڑھا کہ نیچے کی آبادیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ گالچھھی کے علاقے میں پانی کی سطح تقریباً آدھے گھنٹے میں نو میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سیلاب کا یہ ریلا صرف پانی نہیں تھا۔
یہ ایک چلتا پھرتا پہاڑ تھا۔
برف، پتھر، کیچڑ، درخت، مٹی اور تلچھٹ سب ایک ہی رفتار سے نیچے آ رہے تھے۔ راستے میں آنے والی سڑکیں، پل، عمارتیں اور بجلی کے منصوبے اس طاقت کے سامنے ایسے غائب ہوئے جیسے وہ کبھی وہاں تھے ہی نہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال اور تبت دونوں طرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، لیکن تباہ شدہ سڑکیں، پل، ملبہ اور مسلسل خطرات امدادی کام کو انتہائی مشکل بنا رہے ہیں۔
سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ماہرین ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں دے سکے کہ پہاڑ نے اچانک اپنا بوجھ کیوں چھوڑا۔
ایک امکان زلزلے کا ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں تقریباً 4.4 شدت کے زلزلے کا ذکر ہے، جس نے ممکنہ طور پر برفانی تودے یا پہاڑی ملبے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو۔ لیکن سائنس دان ابھی اسے حتمی وجہ قرار نہیں دے رہے۔
دوسرا سوال موسم کا ہے۔
حالیہ درجۂ حرارت میں اضافہ اور برف کے پگھلنے کے آثار بھی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ صرف ایک واقعے کو دیکھ کر یہ کہنا درست نہیں کہ ’’موسمیاتی تبدیلی نے یہ سیلاب پیدا کیا‘‘۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ گرم ہوتا ہوا ہمالیائی ماحول برف، گلیشیئرز، پہاڑی ڈھلوانوں اور برفانی جھیلوں کے نظام کو زیادہ غیر مستحکم بنا رہا ہے۔
اور اصل کہانی شاید یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
نیپال گزشتہ تین دہائیوں میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی کھو چکا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ دہائی میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار اس سے پچھلی دہائی کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ رہی۔
یہ صرف نیپال کا مسئلہ نہیں۔
ہمالیہ میں جو برف آج پگھل رہی ہے، وہ کل دریاؤں کے پانی کا حصہ بنے گی۔
اور یہی پہاڑ دریائے سندھ، گنگا اور برہم پتر جیسے عظیم دریائی نظاموں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔
یعنی ہمالیہ میں ہونے والی تبدیلی کا اثر نیپال اور تبت سے نکل کر بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔
آج مسئلہ زیادہ پانی کا ہے…
کل مسئلہ کم پانی کا بھی ہو سکتا ہے۔
آج گلیشیئر پگھل کر سیلابی خطرہ بڑھا رہے ہیں، لیکن اگر یہی گلیشیئر مسلسل سکڑتے گئے تو آنے والے برسوں میں دریاؤں کے خشک موسم کے بہاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہمالیائی گلیشیئرز کا سکڑنا مستقبل میں سندھ، گنگا اور برہم پتر جیسے دریاؤں کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔
اور شاید یہی نیپال کے آج کے سانحے کا سب سے بڑا سبق ہے۔
ہم پہاڑوں کو خاموش سمجھتے ہیں۔
وہ خاموش نہیں ہوتے۔
وہ صرف بہت دیر تک خاموش رہتے ہیں۔
پھر کبھی ایک زلزلہ…
کبھی شدید بارش…
کبھی برفانی تودہ…
کبھی پگھلتی ہوئی برف…
اور کبھی دریا کے راستے میں بننے والا چند گھنٹوں کا قدرتی بند…
سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور چند منٹوں میں وہ تباہی پیدا کر دیتے ہیں جس کے سامنے انسان کی ساری منصوبہ بندی بے بس دکھائی دیتی ہے۔
نیپال کا یہ سانحہ صرف ایک ملک کی خبر نہیں۔
یہ دیگر پڑوسی ممالک کے لئے بھی تنبیہ ہے۔
کیونکہ ہمالیہ کی برف ہماری سرحدوں کو نہیں مانتی۔
اس کا پانی بھی سرحدوں کو نہیں مانتا…
اور اگر پہاڑ بدل رہے ہیں تو ان کے نیچے بسنے والے ملک بھی بدلتے ہوئے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔
اب وقت صرف سیلاب کے بعد امداد پہنچانے کا نہیں۔
گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی، پہاڑی دریاؤں کی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ، جدید ابتدائی وارننگ نظام اور سرحد پار ممالک کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ کیونکہ اگلی بار سوال یہ نہیں ہوگا کہ سیلاب آئے گا یا نہیں…
سوال صرف یہ ہے کہ:
پہاڑ کب ٹوٹے گا… اور ہمیں خبر کتنی دیر پہلے ہوگی؟ (منقول)( )

"غیبت اور اس کے احکامات کیا ہیں؟"ارشاد باری تعالی ہے:وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ...
29/08/2026

"غیبت
اور اس کے
احکامات کیا ہیں؟"
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ۔ (حجرات 49:12)
اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے، بے شک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اس پرسکون اور رحم دل معاشرہ میں شخصی عزت نفس، بزرگی اور آزادی کے ارد گرد ایک دیوار قائم کرتی ہے اور ساتھ ساتھ موثر انداز میں ہمیں یہ درس بھی دیتی ہے کہ ہم نے اپنے شعور اور ضمیر کو کیسے پاک کرنا ہے۔ بے شک لوگوں کی آزادی اور عزت نفس کی پامالی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔۔۔۔
قرآن کریم نے غیبت سے منع کیا اور ہمارے سامنے ایک ایسی چیز کا تصور پیش کیا جس کے تصور سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے بھائی کا تصور پیش کیا جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔۔۔۔
غیبت کی تعریف:
"ذكرك اخاك بما يكره" اور "انماالغيبة ان يذكر على وجه الغضب یريد السب"
برا بھلا کہنے کے طور اور عیب لگانے کےطور پر اپنے بھائی کی ان چیزوں کا ذکر کرنا جس کا ذکر کرنا وہ ناپسند کرتا ہے اس کے پیٹ پیچھے۔
علامہ راغب اصفہانی [قرآن مجید کی ڈکشنری مرتب کرنے والے ایک بڑے عالم] المفردات میں غیبت کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ غیبت یہ ہے کہ ایک آدمی بلا ضرورت دوسرے شخص کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں۔
قلت لنبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبک من صفیۃ کذا و کذا۔ قال عن مسدد، تعنی قصیرۃ، قال صلی اللہ علیہ وسلم، لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی، کتاب البر و الصلۃ و الادب)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لئے کافی ہے۔ ابو داؤد نے مسدد سے روایت کیا کہ اس سے مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا،
"تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر تم دریا کے پانی میں ملاؤ تو اس کی حالت کو بدل دے۔"
غیبت کے اسباب:
غیبت کے بے شمار اسباب ہوسکتے ہیں، لیکن میرے نزدیک پانچ قابل ذکر ہیں:
· غصے کی حالت میں ایک انسان دوسرے انسان کی غیبت کرتا ہے۔
· لوگوں کی دیکھا دیکھی اور دوستوں کی حمایت میں غیبت کی جاتی ہے۔
· انسان کو خطرہ ہو کہ کوئی دوسرا آدمی میری برائی بیان کرے گا، تو اس کو لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لئے اس کی غیبت کی جاتی ہے۔
· کسی جرم میں دوسرے کو شامل کر لینا حالانکہ وہ شامل نہ تھا، یہ بھی غیبت کی ایک صورت ہے۔
· ارادہ فخر و مباہات بھی غیبت کا سبب بنتا ہے۔ جب دوسرے کے عیوب و نقائص بیان کرنے سے اپنی فضیلت ثابت ہوتی ہو۔۔۔۔
امام ترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:
یا رسول اللہ! ما النجاۃ؟ قال امسک علیک لسانک و لیسعک بیتک وابک علی خطبئتک۔
عرض کیا، "یا رسول اللہ! کامیابی کیا ہے؟"
آپ نے ارشاد فرمایا، "اپنی زبان روک لو اور چاہیے کہ تمہارا گھر تم پر کشادہ ہو [یعنی اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کے سبب تمہارے تعلقات اپنے گھر والوں سے اچھے ہو جائیں] اور اپنی غلطیوں پر رویا کرو۔"
غیبت کے درجات:
عام حالات میں غیبت کرنا گناہ کبیرہ ہے اور زنا سے بڑا گناہ ہے۔ خصوصی حالات میں غیبت کے چار درجات ہیں۔
1- کفر
2- نفاق
2- گناہ کبیرہ
3- مباح
4- واجب
جہاں غیبت کرنیکی اجازت نہیں ہے وہاں غیبت کرنے پر کسی کے نکیر کرنے پر یہ کہنا کہ یہ غیبت تھوڑی ھے۔ یہ تو "اظہارحقیقت" ہے ۔ یہ درجہ "کفر" ہے۔
بغیر نام لئے کسی شخص کی غیبت ایسے آدمی کے سامنے کرنا جو اس کو نام لئے بغیر بھی پہچان لے۔ یہ درجہ "نفاق" ہے۔
غیبت کو غیبت جانتے ہوئے ناجائز مواقع پر (جہاں شریعت نے غیبت کی اجازت نہیں دی ہے) کرنا یہ درجہ "گناہ کبیرہ" ہے۔
اور آگے آنے والے استثنائی مواقع پر غیبت کرنا "مباح" اور "واجب" کا درجہ رکھتا ہے ۔
استثنائی مواقع:
وہ مواقع جہاں علماء نے غیبت کو غیبت نہیں فرمایا ہے، ان میں سے بارہ مقامات کو فقہ وفتاوی کی حرف آخر کتاب رد محتار میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عربی شعر میں جمع فرمایا ہے۔
بما يكره الانسان يحرم ذكره-
سوى عشره حلت اتت تلو واحد-
تظلم وشروا جرح و بين مجاهرا-
بفسق ومجہولا وغشالقاصد-
وعرف کذااستفت استعن عندزاجر-
کذالک اھتمم حذرفجورمعاند-
۱:- فریادظلم کرنا کسی فریاد رس کے پاس۔
۲:- کسی کی اصلاح کی نیت وغرض سے اس کے سرپرست (اس کے استاد یا والد وغیرہ جس سے اصلاح کی امید ہو) کے پاس اس کے عیب کو بیان کرنا.
۳:- مفتی کے پاس فتویٰ طلب کرنے کے لئے "مباح" ہے۔
۴:- خرید وفروخت میں کسی کو دھوکے میں پڑھنے سے بچانے کے لئے "مباح" ہے۔
۵:- کسی پارٹنر کو دوسرے دھوکہ باز کے دھوکے سے بچانے کے لئے اس کی بدمعاملگی سے مطلع کرنا "مباح" ہے۔
۶:- کسی رشتہ نکاح کیلئے، یا شراکت داری، یا امانت رکھنے کے لئے ، یا رفاقت سفر کے لئے کسی کے بارے میں استفسار کرنے پر صحیح صورتِ حال بتا دینا مباح ہے۔
۷:- دینداری کا لبادہ اوڑھ کر مضرت (دینی و دنیوی) پہچانے والے کے شر سے لوگوں کو باخبر کرنا۔ یہ "واجب" کے درجے میں ہے۔ نہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔
۸:- مجہول کی غیبت یعنی بغیر نام لئے ہوئے "مباح" ہے۔
۹:- بطور افسوس اور ترحم کے کسی کی کمزوری کا ذکر کرنا مباح ہے۔
۱۰:- کھلم کھلا فسق و فجور کرنے والے کے فسق و فجور کو ذکر کرنا۔ جبکہ اس فسق و فجور پر خود فاعل کو پشیمانی نہ ہوتی ہو۔ یہ "مباح" ہے۔
۱۱:- حدیث کے راویوں کی یا مصنفین کی یا گواہوں کی جرح کرنا۔ یعنی ان کی ان کمزوریوں کو بیان کرنا جس سے ان کا معتبر ہونا ساقط ہو جاتا ہے۔ اس کو بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے۔ حفاظت دین متین کی خاطر۔ بلکہ باعث ثواب ہے۔ نہ بیان کرنے پر گنہگار ہوگا۔
۱۲:- دین میں نئی بات پیدا کرنے والے کی حرکتوں کو لوگوں میں بیان کرنا اس کی باتوں میں پڑھنے سے لوگوں سے بچانے کے لیے اس کی حرکتوں کو لوگوں میں ظاہر کرنا واجب ہے۔ بلکہ باعث ثواب ہے ، نہ کرنے والا گنہگار ہے ۔
۱۳:- فاسدالعقیدہ آدمی کی بد عقیدگی کو بیان کرنا تھا کہ لوگ بچیں۔یہ "واجب" ہے۔
۱۴:- نکاح رفاقت سفر ، شراکت داری ، پڑوسی بننا ، امانت رکھنے کی خاطر کسی کے استفسار کا جواب دینا "مباح" ہے۔
۱۵- عرف کے ساتھ تذکرہ کرنا ، یہ "مباح" ہے۔ یعنی ایسا عیب جو اس کا عرف ہی بن گیا ہو ، اورصاحب عیب کو برا بھی نہ معلوم ہوتا ہو -
فقط ، و الله اعلم و علمه اتم!!
(هذا كله من رد المحتار من ص ٢٨٩ الي ص ٢٩٠)غیبت کا سننا حرام ہے:
جو شخص غیبت سن رہا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کے قول کو رد کرے اور کہنے والے کا انکار کرے۔ اور اگر وہ انکار نہیں کرسکتا یا یہ کہ غیبت کرنے والا اس کی بات کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر اگر ممکن ہو تو اس محفل کو چھوڑ دے۔ جس طرح غیبت کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں کی، اسی طرح غیبت سننے والے سے بھی پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں سنی۔
اگر غیبت کو سننے والا شخص بھی صحت مند اور طاقتور ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کو منع کرے اور اگر اتنی ہمت و جرأت نہیں ہے تو دل میں اس کے کہنے کو برا جانے۔۔۔۔ بعض اوقات بظاہر انسان کسی کو غیبت سے روک رہا ہوتا ہے مگر دلی طور پر وہ چاہتا ہے کہ غیبت ہوتی رہے۔ ایسا شخص منافق اور گناہگار ہے۔
اگر کوئی شخص ہے جو نہ غیبت کرنے والے کو روک سکتا ہے اور نہ ہی محفل کو چھوڑ سکتا ہے تو پھر وہ غیبت کو توجہ سے نہ سنے بلکہ دل و زبان سے اللہ کا ذکر شروع کر دے۔ اس طریقہ پر عمل کے باوجود اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑجائے تو اس کا مواخذہ نہ ہوگا۔۔۔۔
غیبت کی مزید جائز صورتیں:
· ظلم کی شکایت کرنا غیبت نہیں۔۔۔
· برائی کو روکنے کے لئے مدد طلب کرنا غیبت نہیں۔
· [اہل علم سے] فتوی طلب کرنے کے لئے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت نہیں۔۔۔ مگر احتیاط اور افضلیت اسی میں ہے کہ وہ فتوی طلب کرتے وقت لوگوں کے نام نہ لے۔
· [اعلانیہ] برائی کرنے والوں کی برائی کا اظہار کرنا غیبت نہیں [جیسے حکمران کی برائی۔]
· مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے غیبت کرنا جائز ہے۔
غیبت سے بچنے کے طریقے:
· انسان ذکر خدا میں مشغول رہے۔ نماز میں خشوع و خضوع کی کیفیت اپنائے۔
· قرآن و حدیث میں غیبت پر کی گئی وعید کا تصور کرے۔
· موت کا تصور ہر وقت ذہن میں موجود رہے۔
· معاشرتی سطح پر عزت نفس کے مجروح ہونے کا تصور بھی ذہن نشین رہے۔
· انسان اکثر اوقات دشمنوں کی غیبت کرتا ہے۔ اسی عادت کی بنا پر دوستوں کی غیبت بھی ہو جاتی ہے لہذا یہ تصور پیش نظر رہنا چاہئے کہ اگر میرے دوست کو میری غیبت کا علم ہوگیا تو دوستی کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔
· غیبت کرنے والا شخص اپنی نیکیاں بھی اس شخص کو دے دیتا ہے جس کی وہ غیبت کرتا ہے لہذا یہ تصور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ روز قیامت میرے پاس کیا رہے گا۔
· سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رب نے غیبت سے منع فرمایا اور رب کے احکام کو پس پشت ڈال کر کامیابی سے ہم کنار ہونا ممکن نہیں۔.....
سوال ___غیبت کی تعریف کیا هے، غیبت کسے کهتے هے؟ آخر غیبت کس طرح زنا سے بهی زیاده بدتر ہوتی ہے؟
جواب___غیبت کی تعریف یه هے که کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات کرنا که وه بات واقع میں اس میں موجود هو اگر وه سنے تو وه اس سے ناراض هوجائے اور اس بات کو ناپسند کرے.
اگر اس میں وه برائی اور عیب موجود هی نهیں اور کوئی بیان کرے کسی سے تو پهر اس کو غیبت نهیں بلکه بهتان کهتے هیں یه تو اس سے بهی بڑا گناه هے.
دوسری بات کا جواب.....حضرت ابی سعید و جابر رضی الله تعالی عنه سے روایت هے که نبی علیه السلام نے فرمایا
الغیبته اشد من الزنا
غیبت کرنا زنا کرنے سے زیاده سخت هے
یه حدیث مشکوته میں هے ص۴۱۵
علماء کرام نے لکها هے مثلا ایک یه که زنا میں آدمی یه سمجهتا هے که میں نے گناه کیا هے اس پر وه نادم هوتا هے اور توبه و استغفار بهی کرتا هے مگر غیبت کرنے والا غیبت کو معمولی گناه سمجه کر چهوڑ دیتا هے توبه کی طرف اس کا دهیان نهیں جاتا.
دوسرا مطلب بعض علماء یه فرماتے هیں که غیبت کرنے والا اس کو گناه هی شمار نهیں کرتا اس لئے یه وعید فرمائی گئی.
تیسرا مطلب یہ هے کہ غیبت کرنے والے کی توبه قبول نهیں هوتی کیونکه یه حقوق العباد هے جس کی غیبت کی هے جب تک وه معاف نه کرے اللہ تعالی اس کو معاف نہیں فرماتے ہیں.
کتاب مظاهرحق ج۴ ص۴۸۷ .......
سوال ___غیبت کی تعریف کیا هے، غیبت کسے کهتے هے؟ آخر غیبت کس طرح زنا سے بهی زیاده بدتر هوتی هے؟
جواب___غیبت کی تعریف یه هے که کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات کرنا که وه بات واقع میں اس میں موجود هو اگر وه سنے تو وه اس سے ناراض هوجائے اور اس بات کو ناپسند کرے.
اگر اس میں وه برائی اور عیب موجود هی نهیں اور کوئی بیان کرے کسی سے تو پهر اس کو غیبت نهیں بلکه بهتان کهتے هیں یه تو اس سے بهی بڑا گناه هے.
دوسری بات کا جواب.....حضرت ابی سعید و جابر رضی الله تعالی عنه سے روایت هے که نبی علیه السلام نے فرمایا:
الغیبته اشد من الزنا....غیبت کرنا زنا کرنے سے زیاده سخت هے
یہ حدیث مشکوہ میں هے ص۴۱۵
علماء کرام نے لکها هے مثلا ایک یه که زنا میں آدمی یه سمجهتا هے که میں نے گناه کیا هے اس پر وه نادم هوتا هے اور توبه و استغفار بهی کرتا هے مگر غیبت کرنے والا غیبت کو معمولی گناه سمجه کر چهوڑ دیتا هے توبه کی طرف اس کا دهیان نهیں جاتا .
دوسرا مطلب بعض علماء یه فرماتے هیں که غیبت کرنے والا اس کو گناه هی شمار نهیں کرتا اس لئے یه وعید فرمائی گئی.
تیسرا مطلب یه هے که غیبت کرنے والے کی توبه قبول نهیں هوتی کیونکه یه حقوق العباد هے جس کی غیبت کی هے جب تک وه معاف نه کرے الله تعالی اس کو معاف نهیں فرماتے هیں.
کتاب مظاهرحق ج۴ ص۴۸۷
غیبت کا کفارہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لئے استغفار کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے‘‘۔
(الجامع لشعب الايمان رقم الحديث: 6366)
سوال: غیبت کا کفارہ کیا ہے؟
راوی: أنس رضي الله عنه قال صاحب الزنا يتوب وصاحب الغيبة ليس له توبة . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان
" اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس شخص کی مغفرت و بخشش کی دعا مانگو جس کی تم نے غیبت کی ہے اور اس طرح دعا مانگو کہ اے اللہ ہم کو اور اس شخص کو جس کی میں نے غیبت کی ہے بخش دے اس روایت کو بہیقی نے اپنی کتاب دعوات کبیر میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند میں ضعف ہے۔
تشریح
دعا و مغفرت کے الفاظ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غیبت کرنے والا پہلے خواہ اپنے حق میں مغفرت کی دعا کرے اس میں نکتہ یہ ہے کہ استغفار کرنے والے کے بارے میں حق تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ اس کی دعا و مغفرت کو قبول کیا جائے گا لہذا غیبت کرنے والا جب پہلے خود اپنے حق میں استغفار کرے گا اور اس کے نتیجے میں وہ اس معصیت سے پاک ہو جائے گا تو دوسرے کے حق میں بھی اس کی دعاء مغفرت قبول ہو گئی۔
" اغفرلنا " میں جمع متکلم کا صیغہ اس صورت کے اعتبار سے ہے کہ جب کہ غیبت کا صدور بھی لوگوں سے ہوا ہو یعنی اگر غیبت کرنے والے کئی لوگ ہوں تو سب اس طرح دعا مانگیں اور اگر غیبت کرنے والا ایک شخص ہو تو پھر " اغفرلی " کے الفاظ استعمال ہوں گے یا یہ مراد کہ استغفار کرنے والا اپنی دعاء مغفرت میں تمام مسلمانوں کو شامل کرے اس صورت میں اس دعا کے معنی یہ ہوں گے کہ اے اللہ ہم سب مسلمانوں کو اور خاص طور پر اس شخص کو کہ جس کی میں نے غیبت کی ہے بخش دے۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغفرت کی دعا کرنا اس صورت سے متعلق ہے جبکہ اس کی غیبت کی خبر اس شخص کو نہ پہنچی ہو جس کی غیبت کی گئی ہے اور اگر یہ صورت ہو کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کو معلوم ہو گیا کہ فلاں شخص نے میری یہ غیبت کی ہے تو غیبت کرنے والے کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اس شخص سے اپنے آپ کو معاف کرائے بایں طور کہ پہلے اس کو یہ بتائے کہ میں نے تمہاری غیبت میں اس طرح کہا ہے اور پھر اس سے معاف اپنے آپ کو معاف کرائے اور اگر غیبت کرنے والا کسی مجبوری اور عذر کی بناء پر ایسا نہ کر سکے تو پھر یہ ارادہ رکھے کہ جب بھی ہو سکے گا اس سے اپنے آپ کو معاف کراؤں گا، چنانچہ اس کے بعد جب بھی وہ اپنے آپ کو معاف کروا لے اس سے تو اس ذمہ داری سے بری ہو جائے گا۔ اور اس غیبت کے سلسلہ میں اس پر کوئی حق ومواخذہ باقی نہیں رہ جائے گا، ہاں اگر وہ اپنے آپ کو معاف کرانے سے بالکل عاجز رہا بایں سبب کہ جس شخص کی اس نے غیبت کی ہے وہ مثلا مر گیا یا اتنی دور رہائش پذیر ہے کہ اس سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کا طلب گار ہو، اور اس کے فضل و کرم سے یہ امید رکھے کہ وہ اس شخص کو اس کے تئیں راضی کردے گا۔
فقیہ ابوللیث رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ علماء نے غیبت کرنے والے کی توبہ کے بارے میں کلام کیا ہے کہ آیا اس کے لئے یہ جائز ہے یا نہیں؟ کہ اس نے جس شخص کی غیبت کی ہے اس سے معاف کروائے بغیر توبہ کرے چنانچہ بعض علماء نے اس کو جائز کہا ہے کہ جب کہ ہمارے نزدیک اس کی صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ اگر اس کی غیبت کی خبر اس شخص کو پہنچ گئی ہے جس کی اس نے غیبت کی ہے تو اس کی توبہ بس یہی ہے کہ وہ اس سے معاف کرائے اور دوسرے یہ کہ اگر کسی شخص کو اس کی غیبت کی خبر پہنچی ہے تو اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کی دعا مانگے اور دل میں یہ عہد کر لے کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ بہیقی نے اس روایت کو گویا ضعیف قرار دیا ہے لیکن اس کا ضعف ہونا حدیث کے اصل مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے بھی استدلال کرنا کافی ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں جامع صغیر میں بھی اس طرح کی ایک حدیث حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے جو اس روایت کو تقویت پہنچاتی ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ کفارۃ من الغیبۃ ان تستغفرلہ، یعنی غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ اس شخص کے حق میں مغفرت کی دعا کی جائے جس کی غیبت کی گئی ہے۔
مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ آداب کا بیان۔ ۔ حدیث 808
غیبت کا کفارہ (بشکریہ: مسعود احمد قاسمی، دھولیہ، 9922116053 ( )

29/08/2026

"مکہ مکرمہ
میں مٹی کا شدید
طوفان، دن میں رات کا سماں"
مکہ مکرمہ میں شدید مٹی کے طوفان نے شہریوں اور زائرین کو حیران کردیا۔ طوفان کے باعث آسمان گرد و غبار سے بھر گیا اور دن کے وقت ہی رات جیسا اندھیرا چھا گیا۔
شدید گرد کے باعث اردگرد کی عمارتیں اور راستے تقریباً نظر آنا بند ہوگئے، جبکہ حدِ نگاہ بھی انتہائی کم ہوگئی۔ اس دوران خانہ کعبہ کا منظر نمایاں رہا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔
موقع پر موجود مناظر دیکھنے والوں نے طوفان کی شدت پر حیرت کا اظہار کیا، جبکہ شہریوں اور زائرین کو خراب موسم کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ (منقول) ( )

مکہ مکرمہ میں الجزائر کی بیٹی نے دنیا بھر میں بڑھایا قرآن کا وقار:صفاء ایمان نے عالمی مقابلے میں پہلا مقام حاصل کیا"مکہ ...
28/08/2026

مکہ
مکرمہ میں
الجزائر کی بیٹی نے
دنیا بھر میں بڑھایا قرآن کا وقار:
صفاء ایمان نے عالمی مقابلے میں پہلا مقام حاصل کیا"
مکہ مکرمہ سے امتِ مسلمہ کے لیے خوشی اور فخر کی خبر سامنے آئی ہے۔ الجزائر کی باصلاحیت حافظہ صفاء ایمان بن یحییٰ نے 46 ویں کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی قرآن کریم مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
صفاء ایمان نے مکمل قرآن کریم حفظ، حسنِ اداء اور تجوید کے شعبے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس شاندار کامیابی پر انہیں 2 لاکھ سعودی ریال کا انعام بھی دیا گیا۔
رواں برس کے مقابلے کی خاص بات یہ رہی کہ خواتین کے لئے پہلی مرتبہ الگ شعبہ شامل کیا گیا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی حافظات نے شرکت کی۔ صفاء ایمان نے اپنی بہترین تیاری، مضبوط حفظ اور عمدہ تلاوت کے ذریعے اس مقابلے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اس بین الاقوامی مقابلے میں 133 ممالک سے 334 امیدواروں نے شرکت کی، جبکہ مجموعی انعامی رقم 10 ملین سعودی ریال سے زیادہ رہی۔
صفاء ایمان کی کامیابی پر الجزائر میں بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔ الجزائر کے وزیر برائے مذہبی امور و اوقاف یوسف بلمهدي نے مقابلے کے فاتحین سے ملاقات کی اور قرآنی تعلیم کے میدان میں ان کی کامیابی کو ملک کے لئے باعثِ فخر قرار دیا۔
مکہ مکرمہ کی سرزمین پر قرآن کریم کے عالمی مقابلے میں صفاء ایمان کی یہ کامیابی نہ صرف الجزائر بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے خوشی اور فخر کا لمحہ ہے۔
ماشاءاللہ! اللہ تعالیٰ قرآن کریم کو ان کے لئے دنیا و آخرت میں عزت، نور اور کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ (منقول) ( )

ایک افسوسناک اطلاعیہ ہے کہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر کے سابق استاد تجوید محترم  قاری مفیدالاسلام صاحب کلکتوی مختصر علا...
28/08/2026

ایک
افسوسناک اطلاع
یہ ہے کہ دارالعلوم فلاح دارین
ترکیسر کے سابق استاد تجوید محترم
قاری مفیدالاسلام صاحب کلکتوی مختصر علالت
کے بعد ابھی بوقت سحر اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ گئے ہیں۔ انا لله و انا إليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه و اسكنه في الجنة جنة الفردوس۔ تمام حضرات سے دعائے مغفرت و رفع درجات اور ایصال ثواب کی درخواست ہے۔ صلاة جنازہ و تدفین بعد عصر ترکیسر میں ہوگی، ان شآءاللہ تعالیٰ۔ فقط والسلام: محمد نذیر خانپوری غفرلہ، 28 اگست 2026ء، بروز جمعہ ( )

27/08/2026

نیپال میں سیلاب کا خوفناک منظر! چاروں طرف چیخ و پکار اور تباہی کا عالم ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی رحم فرمائے! ( )
नेपाल में सैलाब का ख़ौफ़नाक मंजर!
चारों तरफ चीख़-ओ-पुकार और तबाही का आलम है।
अल्लाह पाक रहम फ़रमाए।
"قدرتی
آفات، حادثات،
بیماری، اور موت کے وقت
شیطان کے بہکاوے سے تحفظ"
حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُبِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُبِكَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُبِكَ من أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُبِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُبِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ​"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کسی عمارت کے نیچے دب کر مرنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں بلندی سے گرکر مرنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں غرق ہونے، جل کر مرنے اور انتہائی بڑھاپے سے۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بہکا دے۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تیرے راستے (کے جہاد) میں پیٹھ پھیر کر مروں۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلی چیز کے کاٹنے سے مروں۔"
(یہ دعا ہمیں مختلف قسم کی غیر متوقع اور ہولناک موت سے اللہ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دیتی ہے، جس میں قدرتی آفات، حادثات، بیماری، اور یہاں تک کہ موت کے وقت شیطان کے بہکاوے سے تحفظ شامل ہے۔ یہ اس بات کی بھی تاکید کرتی ہے کہ مومن اللہ کے راستے میں ثابت قدم رہے اور موت کے خوف سے پیچھے نہ ہٹے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین) (سنن أبي داؤد # ١٥٥٢) ( )

عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو:‏‏‏‏ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا»

Narrated Abul Yusrؓ that the Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate: [Allahumma inni a'udhu bika minal-hadmi, wa a'udhu bika minat-taraddi, wa a'udhu bika minal-gharaqi wal-haraqi wal-haram, wa a'udhu bika an yatakhabbatani ash-shaytanu 'indal-mawt, wa a'udhu bika an amoota fi sabilika mudbiran, wa a'udhu bika an amoota ladeeghan.] "​O Allah, I seek refuge in You from being crushed by a falling building. And I seek refuge in You from falling from a height. And I seek refuge in You from drowning, being burned, and from old age. And I seek refuge in You from being tormented by Satan at the time of death. And I seek refuge in You from dying while fleeing from a battle in Your cause. And I seek refuge in You from dying from a poisonous bite."
Sunan Abu Dawood # 1552

Address

Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SaGar Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share