The Daily Milap

The Daily Milap India's oldest and largest combined, circulated Urdu daily newspaper.

بھارت میں UPI کا نیا ’ٹیپ اینڈ پے‘ فیچر متعارف، فون چھوتے ہی ادائیگی ممکنممبئی: بھارت نے اپنے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (...
11/09/2026

بھارت میں UPI کا نیا ’ٹیپ اینڈ پے‘ فیچر متعارف، فون چھوتے ہی ادائیگی ممکن

ممبئی: بھارت نے اپنے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) میں نیا ٹیپ اینڈ پے فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین اب UPI ایپ کھولے بغیر صرف اپنا اسمارٹ فون پوائنٹ آف سیل مشین کے قریب لا کر ادائیگی کرسکیں گے۔

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ نظام نیئر فیلڈ کمیونیکیشن (NFC) ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اسے کمزور یا بعض حالات میں انٹرنیٹ کنکشن نہ ہونے کے باوجود ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

نئے فیچر کا اعلان ممبئی میں گلوبل فن ٹیک فیسٹ کے دوران کیا گیا۔ اس اقدام سے بھارت کے پہلے ہی وسیع ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو مزید تیز اور آسان بنانے کی توقع ہے۔

UPI اس وقت لین دین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ریٹیل فاسٹ پیمنٹ سسٹم ہے۔ صرف اگست میں UPI کے ذریعے 24.51 ارب ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت 29.82 ٹریلین روپے، یعنی تقریباً 314 ارب ڈالر تھی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت میں Apple Pay کے مکمل آغاز کی بھی تیاری ہو رہی ہے۔ اس کا بیٹا ورژن پہلے ہی دستیاب ہے جبکہ مکمل سروس اکتوبر تک شروع ہونے کی توقع ہے۔

UPI کے نئے ٹیپ اینڈ پے فیچر سے دکانوں، ریستورانوں اور دیگر تجارتی مراکز پر ادائیگی کا عمل مزید تیز ہوسکتا ہے۔ صارف کو QR کوڈ اسکین کرنے یا ہر مرتبہ ایپ کھولنے کے بجائے فون کو مطابقت رکھنے والی مشین کے قریب لانا ہوگا۔

یہ پیش رفت بھارت کے ڈیجیٹل پیمنٹس انفراسٹرکچر میں ایک اور اہم قدم ہے اور عالمی ادائیگی کمپنیوں کی آمد سے پہلے UPI کو کانٹیکٹ لیس ادائیگیوں کے میدان میں مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

روسی صدر پوتن بھارت پہنچ گئے، برکس اجلاس، مودی سے ملاقات اور نئے طیارہ سازی منصوبوں پر توجہنئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر...
11/09/2026

روسی صدر پوتن بھارت پہنچ گئے، برکس اجلاس، مودی سے ملاقات اور نئے طیارہ سازی منصوبوں پر توجہ

نئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات بھی کریں گے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، توانائی، تجارت اور شہری ہوا بازی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔

پوتن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب بھارت اور روس شہری ہوا بازی کے شعبے میں تعاون کو نئی سطح تک لے جانے پر غور کررہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان روسی مسافر طیاروں کو بھارت میں تیار کرنے کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔

مجوزہ منصوبوں میں الیوشن IL-114 اور سخوئی سپر جیٹ 100 (SJ-100) شامل ہیں، جنہیں بھارت میں علاقائی فضائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ممکنہ معاہدوں کے تحت بھارتی آپریٹرز کو 105 تک علاقائی ٹربوپروپ طیاروں کی فراہمی بھی زیر غور ہے۔

روس نے حال ہی میں دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران SJ-100، MC-21 اور IL-114-300 طیاروں کی نمائش بھی کی تھی۔ مجوزہ تعاون کو روایتی دفاعی شراکت داری سے آگے بڑھتے ہوئے بھارت روس صنعتی اور ایرو اسپیس تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کا موضوع لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری پر مبنی ہے۔ برکس کے 11 رکن ممالک مجموعی طور پر دنیا کی تقریباً 49.5 فیصد آبادی اور 40 فیصد عالمی جی ڈی پی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مودی اور پوتن نے حال ہی میں بشکیک میں بھی ملاقات کی تھی، جہاں سیاسی، اقتصادی، دفاعی، توانائی، خلائی اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے تنازعات سمیت اہم عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں بھارت روس کی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ نئے اقتصادی اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ رہنے کی توقع ہے۔

پوتن اور شی جن پنگ برکس اجلاس کے لیے بھارت پہنچنے کو تیار، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں اہم موضوعاتنئی دہلی: روسی صدر ...
11/09/2026

پوتن اور شی جن پنگ برکس اجلاس کے لیے بھارت پہنچنے کو تیار، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں اہم موضوعات

نئی دہلی: روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ بھارت میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچنے والے ہیں، جہاں یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیزی سے بدلتے عالمی نظام سمیت کئی اہم بین الاقوامی معاملات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

بھارت کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب دنیا کو بیک وقت کئی جغرافیائی سیاسی تنازعات کا سامنا ہے۔ یوکرین کی جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے توانائی، تجارت اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کے لیے یہ اجلاس بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو نمایاں کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ نئی دہلی ایک طرف روس کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب مغربی ممالک کے ساتھ بھی اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دے رہا ہے۔

شی جن پنگ کی شرکت بھارت چین تعلقات کے تناظر میں بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان سرحدی اختلافات کے باوجود حالیہ عرصے میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے اور برکس دونوں ممالک کو تعاون کے مشترکہ شعبوں پر بات چیت کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

پوتن کی موجودگی کے باعث یوکرین کا معاملہ بھی اجلاس کی سفارتی توجہ کا مرکز رہنے کی توقع ہے۔ بھارت مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور روس کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کے ساتھ یوکرین سے بھی رابطے میں رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگیں اور بڑھتی علاقائی کشیدگی بھی برکس رہنماؤں کے ایجنڈے پر اہم مقام رکھ سکتی ہیں۔ توانائی کی سلامتی، عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں کے باعث خطے میں عدم استحکام برکس ممالک کے لیے براہ راست اقتصادی اہمیت رکھتا ہے۔

اجلاس میں گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی، عالمی اداروں میں اصلاحات، تجارت، ترقیاتی مالیات اور مغربی طاقتوں کے زیر اثر موجود عالمی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے کردار کو بڑھانے جیسے معاملات بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

بھارت کے لیے برکس اجلاس کا بڑا سفارتی پیغام یہ ہوگا کہ نئی دہلی واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ سمیت مختلف طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو قومی مفادات کے مطابق آگے بڑھاتے ہوئے ایک آزاد اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی برقرار رکھ سکتا ہے۔

شی جن پنگ سات سال بعد بھارت آئیں گے، نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی تصدیقبیجنگ/نئی دہلی: چین کے صدر شی جن پ...
11/09/2026

شی جن پنگ سات سال بعد بھارت آئیں گے، نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی تصدیق

بیجنگ/نئی دہلی: چین کے صدر شی جن پنگ 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق شی جن پنگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوں گے۔ یہ سات سال بعد ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔

اس سال بھارت کی برکس صدارت کا مرکزی موضوع “Building for Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability” ہے، جس میں عوام پر مبنی ترقی اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

برکس اب 11 ممالک پر مشتمل ہے اور اس کا عالمی اقتصادی اور سیاسی وزن مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رکن ممالک دنیا کی تقریباً 49.5 فیصد آبادی، 40 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 26 فیصد عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

شی جن پنگ کا نئی دہلی آنا بھارت چین تعلقات کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف برکس کے بانی ارکان ہیں بلکہ ایشیا کی دو بڑی طاقتیں بھی ہیں۔ بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے جبکہ چین اگلے سال اس کی صدارت سنبھالے گا۔

اجلاس میں کثیرالجہتی نظام، عالمی تجارت، گلوبل ساؤتھ کی آواز اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اہم موضوعات رہنے کی توقع ہے۔ ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، گرین ڈیولپمنٹ اور چھوٹے و متوسط کاروبار بھی تعاون کے نئے شعبوں کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔

شی جن پنگ کے دورے کو خاص اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں سرحدی کشیدگی کے باوجود بتدریج سفارتی رابطے بڑھے ہیں۔ نئی دہلی کا برکس اجلاس دونوں ممالک کو کثیرالجہتی تعاون کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں مزید پیش رفت کا موقع بھی فراہم کرسکتا ہے۔

پاکستان کا نقشہ بدلنے سے حکمرانی کے مسائل حل نہیں ہوں گے، نئے صوبوں کی بحث پر آئینی سوالاتاسلام آباد: پاکستان میں موجودہ...
11/09/2026

پاکستان کا نقشہ بدلنے سے حکمرانی کے مسائل حل نہیں ہوں گے، نئے صوبوں کی بحث پر آئینی سوالات

اسلام آباد: پاکستان میں موجودہ چار صوبوں کو تقسیم کرکے نئے صوبے بنانے کی بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہے، تاہم اس منصوبے کو ملک کے حکمرانی، معاشی مشکلات اور انتظامی کمزوریوں کا حل قرار دینے پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالیہ بیانات میں 15 نئے صوبوں یا 160 اضلاع کو زیادہ بااختیار مقامی حکومتیں دینے جیسے امکانات سامنے آئے ہیں۔

اس بحث میں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیا جبکہ فوج کے ترجمان نے کہا کہ بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی تبدیلی کی ضرورت ہو تو اسے آئینی طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی بڑے آئینی اور انتظامی تجربات کرچکا ہے، لیکن ان سے سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں مل سکی۔

1955 میں مغربی پاکستان کے صوبوں کو ملا کر قائم کیا گیا ’ون یونٹ‘ نظام اس کی نمایاں مثال ہے، جسے بالآخر ختم کرنا پڑا۔ اسی طرح مختلف فوجی ادوار میں پارلیمانی نظام کو معطل یا کمزور کرکے صدارتی طرز حکومت کے تجربات بھی کیے گئے۔ مضمون کے مطابق بار بار آئینی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی روش خود پاکستان کے ادارہ جاتی عدم استحکام کا سبب بنی ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل قانونی طور پر بھی آسان نہیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری بھی ضروری ہے۔ اس لیے اسلام آباد تنہا کسی صوبے کو تقسیم نہیں کرسکتا۔

پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اندر مختلف لسانی اور علاقائی حلقوں کی جانب سے زیادہ سیاسی نمائندگی اور اختیارات کے مطالبات موجود ہیں۔ تاہم کراچی کو سندھ، گوادر کو بلوچستان یا دیگر علاقوں کو موجودہ صوبوں سے الگ کرنے جیسے اقدامات نئے سیاسی اور وفاقی تنازعات پیدا کرسکتے ہیں۔

اس کے متبادل کے طور پر صوبوں کو تقسیم کرنے کے بجائے اختیارات، مالی وسائل اور فیصلہ سازی کو مضبوط مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140A پہلے ہی صوبوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند بناتا ہے۔

بنیادی دلیل یہ ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ کمزور حکمرانی، اختیارات کی مرکزیت اور آئینی عدم استحکام ہے۔ نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے کے بجائے موجودہ صوبوں کے اندر مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہوسکتا ہے۔

’منیر پنڈی‘ کا عروج: پاکستان میں فوج کی گرفت مزید مضبوط، سول حکومت کا دائرہ محدوداسلام آباد: پاکستان میں فوجی قیادت کی ط...
11/09/2026

’منیر پنڈی‘ کا عروج: پاکستان میں فوج کی گرفت مزید مضبوط، سول حکومت کا دائرہ محدود

اسلام آباد: پاکستان میں فوجی قیادت کی طاقت میں مسلسل اضافے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے غیر معمولی عروج نے ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہونے والی آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں فوج کا اثر قومی سلامتی سے کہیں آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

عاصم منیر کے دور میں پاکستان کی فوج نے سیاست، خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی اور اہم اقتصادی فیصلوں پر اپنا اثر مزید مضبوط کیا ہے۔ اسی پس منظر میں اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی، جہاں فوج کا جنرل ہیڈکوارٹر واقع ہے، کو پاکستان میں اصل طاقت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فوجی قیادت کی مضبوط ہوتی پوزیشن کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے پالیسی سازی کی آزاد گنجائش محدود ہوئی ہے۔ اہم قومی معاملات میں فوجی قیادت کا کردار اب پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

عاصم منیر کا فیلڈ مارشل کے عہدے تک پہنچنا بھی پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ فوجی قیادت کو حاصل ادارہ جاتی تحفظ اور اختیارات نے ان کی پوزیشن مزید مستحکم کردی ہے۔

پاکستان میں فوج طویل عرصے سے سیاست میں طاقتور کردار ادا کرتی رہی ہے، تاہم موجودہ نظام کو اس لیے مختلف قرار دیا جا رہا ہے کہ براہ راست مارشل لا کے بغیر بھی فوج ریاستی فیصلوں پر وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ منتخب حکومت باضابطہ طور پر اقتدار میں موجود ہے، لیکن اہم پالیسی معاملات میں راولپنڈی کا کردار فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔

اس صورتحال نے پاکستان میں سول بالادستی، جمہوری اداروں اور طاقت کی تقسیم کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو پاکستان میں سول اور فوجی طاقت کے درمیان پہلے سے موجود عدم توازن مزید گہرا ہوسکتا ہے۔

راولپنڈی میں 21 سالہ مسیحی خاتون گھر میں قتل، ملزم پر سوتیلے بھائی کو اغوا کرکے جرم قبول کرانے کا الزامراولپنڈی: پاکستان...
11/09/2026

راولپنڈی میں 21 سالہ مسیحی خاتون گھر میں قتل، ملزم پر سوتیلے بھائی کو اغوا کرکے جرم قبول کرانے کا الزام

راولپنڈی: پاکستان کے شہر راولپنڈی میں 21 سالہ مسیحی خاتون صبا محبوب کو مبینہ طور پر اس کے پڑوسی عدنان بٹ نے گھر میں گولی مار کر قتل کردیا۔ واقعہ 3 ستمبر کی رات پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق صبا گزشتہ ایک سال سے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ اپنی والدہ اور سوتیلے خاندان کے ہمراہ رہ رہی تھی۔ الزام ہے کہ پڑوسی عدنان بٹ کئی مرتبہ صبا سے رابطہ اور قربت بڑھانے کی کوشش کرچکا تھا، تاہم خاتون نے اسے مسترد کردیا تھا۔ صبا کے بھائی کا کہنا ہے کہ اسی مسترد کیے جانے کے بعد ملزم کا غصہ بڑھتا گیا۔

الزام ہے کہ رات تقریباً نو بجے عدنان بٹ مسلح ہوکر گھر میں داخل ہوا، وہاں موجود افراد کو دھمکایا اور صبا کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے ماتھے پر گولی مار دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔

واقعے کے بعد ملزم پر صبا کے 16 سالہ سوتیلے بھائی انوش کو اسلحے کے زور پر اغوا کرنے اور اسے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کرنے کا بھی الزام ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان کو اگلے روز شام تک حراست میں رکھا گیا اور خاموش رہنے یا قتل کا اعتراف کرنے کے لیے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

بعد ازاں خاندان نے پولیس سے رابطہ کیا اور انوش کا بیان ریکارڈ کرایا گیا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کردی جبکہ انوش اور اس کے والد کو حفاظتی تحویل میں رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرلی ہے۔

واقعے کے بعد مقامی سطح پر احتجاج بھی سامنے آیا ہے، جس میں مسیحی اور مسلمان شہریوں نے ملزم کی گرفتاری اور صبا محبوب کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

چٹگرام میں مبینہ آن لائن فراڈ کے خلاف کارروائی، چینی اور پاکستانی شہریوں سمیت 70 افراد حراست میںچٹگرام: بنگلہ دیش کے شہر...
11/09/2026

چٹگرام میں مبینہ آن لائن فراڈ کے خلاف کارروائی، چینی اور پاکستانی شہریوں سمیت 70 افراد حراست میں

چٹگرام: بنگلہ دیش کے شہر چٹگرام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں چینی، پاکستانی اور ویتنامی شہری بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق کارروائی شہر کے ایک مقام پر کی گئی جہاں سے مبینہ طور پر آن لائن سرگرمیاں چلائی جا رہی تھیں۔ حراست میں لیے گئے افراد میں بنگلہ دیشی شہریوں کے ساتھ متعدد غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ افراد آن لائن فراڈ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ حکام اب ان کے موبائل فون، کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ کرکے ممکنہ نیٹ ورک اور مالی لین دین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحقیقاتی ادارے یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ غیر ملکی شہری بنگلہ دیش کب اور کس مقصد کے تحت آئے تھے، ان کے ویزوں کی نوعیت کیا تھی اور آیا ان کا کسی بین الاقوامی آن لائن فراڈ نیٹ ورک سے تعلق تھا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام زیر حراست افراد کے کردار کی الگ الگ تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ان پر جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔

حالیہ عرصے میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں آن لائن فراڈ اور سائبر اسکیم نیٹ ورکس ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ چٹگرام میں سامنے آنے والا مبینہ نیٹ ورک کسی وسیع سرحد پار گروہ کا حصہ تو نہیں تھا۔

اسرائیل یونان دفاعی معاہدہ، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور پیریئس بندرگاہ پر ممکنہ اثراتایتھنز: اسرائیل اور یونان کے در...
11/09/2026

اسرائیل یونان دفاعی معاہدہ، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور پیریئس بندرگاہ پر ممکنہ اثرات

ایتھنز: اسرائیل اور یونان کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون مشرقی بحیرہ روم میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے، جبکہ اس پیش رفت کے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور یونان کی اہم پیریئس بندرگاہ پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

اسرائیل اور یونان حالیہ برسوں میں دفاع، انٹیلی جنس، فوجی مشقوں اور سکیورٹی تعاون کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی شراکت داری کو مشرقی بحیرہ روم میں ابھرتے ہوئے نئے سکیورٹی ڈھانچے کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت پر چین کی خاص توجہ کی ایک بڑی وجہ پیریئس بندرگاہ ہے، جو چین کے یورپ تک تجارتی رابطوں میں اہم مقام رکھتی ہے۔ چینی کمپنی COSCO کی اس بندرگاہ میں بڑی سرمایہ کاری ہے اور پیریئس کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت یورپی منڈیوں تک رسائی کے ایک اہم دروازے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اسرائیل اور یونان کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات ایسے وقت میں آگے بڑھ رہے ہیں جب بحیرہ روم تجارتی راستوں، توانائی، بندرگاہوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں یونان کو ایک طرف چین کے ساتھ اپنے گہرے اقتصادی تعلقات اور دوسری جانب اسرائیل اور مغربی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

اس خطے میں ایک اور اہم عنصر انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) ہے، جسے مستقبل میں ایشیا اور یورپ کے درمیان چین کے بیلٹ اینڈ روڈ کے متبادل تجارتی راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور یونان کی جغرافیائی پوزیشن اس راہداری کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

چینی اسٹریٹجک حلقوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا اسرائیل یونان دفاعی تعاون مستقبل میں صرف علاقائی سکیورٹی تک محدود رہے گا یا اس کے نتیجے میں پیریئس سمیت چین کی اہم اقتصادی اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری پر بھی سیاسی اور سکیورٹی دباؤ بڑھے گا۔

مشرقی بحیرہ روم میں ہونے والی یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خطے میں مقابلہ اب صرف فوجی طاقت تک محدود نہیں رہا بلکہ بندرگاہیں، تجارتی راہداریاں، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری بھی بڑی طاقتوں کی اسٹریٹجک کشمکش کا حصہ بن چکی ہیں۔

چین کے شپ یارڈ میں خوفناک آتشزدگی، مال بردار جہاز میں آگ لگنے سے 25 افراد ہلاکبیجنگ: چین کے مشرقی شہر چنگ ڈاؤ میں ایک شپ...
11/09/2026

چین کے شپ یارڈ میں خوفناک آتشزدگی، مال بردار جہاز میں آگ لگنے سے 25 افراد ہلاک

بیجنگ: چین کے مشرقی شہر چنگ ڈاؤ میں ایک شپ یارڈ میں مرمت کے لیے کھڑے مال بردار جہاز میں خوفناک آگ لگنے سے 25 افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق حادثہ چنگ ڈاؤ بیہائی شپ یارڈ میں پیش آیا، جہاں غیر ملکی پرچم بردار مال بردار جہاز اوشین میلوڈی کی مرمت اور معائنہ جاری تھا۔ آگ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر بھڑکی۔

حادثے کے وقت جہاز پر مجموعی طور پر 42 افراد موجود تھے۔ امدادی کارروائی کے دوران 12 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ پانچ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق آگ پر دوپہر تک قابو پالیا گیا۔

اوشین میلوڈی تقریباً 20 سال پرانا لائبیریا کے پرچم والا مال بردار جہاز ہے اور 31 اگست سے چنگ ڈاؤ کے شپ یارڈ میں موجود تھا۔ جس شپ یارڈ میں حادثہ پیش آیا وہ سرکاری چائنا اسٹیٹ شپ بلڈنگ کارپوریشن کے زیر انتظام ہے اور چین کے بڑے جہاز سازی اور مرمتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں تیز کرنے، حادثے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے تعین کی ہدایت دی ہے۔ حکام کو صنعتی اور جہاز سازی کے مراکز میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر آگ لگنے کی اصل وجہ سامنے نہیں آئی اور متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

Address

Bahadur Shah Zafar Marg
Delhi
110002

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Daily Milap posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Daily Milap:

Shortcuts

Share