noor mohd

noor mohd assalamualaikum dosto aapko yah Quran hadis naat shero shairi dekhne ko milegi

आज का इंसान सिर्फ दौलत को खुशनसीबी समझता है और ये ही उसकी बदनसीबी है           ゚
14/06/2026

आज का इंसान सिर्फ दौलत को खुशनसीबी समझता है और ये ही उसकी बदनसीबी है



خلیفہ بغداد ہارون رشید کے درباری حکیموں میں ایک نصرانی طبیب بھی تھا جو بادشاہ کابہت ہی معتمد اورمنہ چڑھا تھا ایک دن اس ن...
14/06/2026

خلیفہ بغداد ہارون رشید کے درباری حکیموں میں ایک نصرانی طبیب بھی تھا جو بادشاہ کابہت ہی معتمد اورمنہ چڑھا تھا ایک دن اس نے برسر دربار ایک جید عالم علی بن حسین بن واقد سے یہ کہا کہ تمھاری کتاب قرآن شریف میں علم طب کاکہیں کوئی ذکر نہیں حالانکہ تمام علوم میں سب سے زیادہ ممتاز اوربلند مرتبہ دو ہی علم ہیں ۔ایک ہیعلم الادیان دوسرا علم الابدان علی بن حسین نے اس کے جواب میں برجستہ فرمایا کہ تمھیں کیاخبر؟ کہ پوراعلم طب خداوند قدوس نے قرآن مجید کی صرف آدھی آیت میں جمع فرمادیا ہے نصرانی طبیب نے حیران ہوکر پوچھا کہ بتائیے وہ کون سی آیت ہے علی بن حسین نے فرمایا کہ…کلواواشربو اولا تسرفوا (القران) یعنی’’ کھائو اورپیو اورحد سے نہ بڑھو‘‘یہ سن کر نصرانی طبیب ہکابکا ہوگیا پھر کہنے لگا کہ اچھا یہ بتائو کہ پیغمبر اسلام نے بھی اصول طب کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا ہے؟ علی بن حسین نے فرمایا کہ ہمارے پیغمبر اسلام نے تو بہت کچھ ارشاد فرمایا ہے مگر تم اس وقت صرف ایک حدیث سن لوالمعدۃ بیت الداء والحمیۃ راس کل دواء وعودواکل جسم مااعتاد (الحدیث)یعنی’’ معدہ تمام امراض کی کوٹھری ہے اورپرہیز تما م دوائوں کاسردارہے اورہر جسم سے وہی کام لوجس کاوہ عادی ہے ‘‘یہ سن کر نصرانی طبیب فرط حیرت سے علی بن حسین کامنہ تکنے لگا اوریہ کہا کہ ماترک کتابکم ولا نبیکم لجالینوس طبا یعنی’’ تمھاری کتاب اورتمھارے نبی(ﷺ)نے تو ’’جالینوس‘‘کے لئے کوئی طب چھوڑی ہی نہیں ‘‘(روح البیان ج۲،۱۵۵){نتیجہ} قرآن مجید تمام علوم کاجامع ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کاارشاد ہے کہ…{جمیع العلم فی القران لکن تقاصر عنہ افھام الرجال} یعنی’’قرآن مجید میں تمام علوم موجود ہیں یہ اوربات ہے کہ ان کے سمجھنے سے لوگوں کی عقلیں قاصرہیں ‘‘ اورنبی کریم (ﷺ) کایہ بھی ایک معجزہ ہے کہ جب بھی کفار نے اس قسم کے سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ علمائے حق کوقرآن مجید سے ایسے جوابا ت کاالہام فرماتاہے کہ قرآن کابول بالا اورکفار کامنہ کالا ہوجاتاہے۔
ہاتھ گراں اورارزاں کیوں :۔
قاضی عبدالوہاب بغدادی بہت ذہین اورحاضر جواب علماء کبار میں سے تھے ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کے سامنے دین اسلام کے قانون پر اعتراض کرتے ہوئے نہایت طنز کے ساتھ یہ شعر پڑھایعنی ’’اگر کوئی کسی کاہاتھ کاٹ لے تواس کی دیت (عضو کابدلہ ) پانچ سو اشرفیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اگر یہی شخص چوری کرلے توصرف ایک چوتھائی دینار کی چوری پر اس کا ہاتھ کاٹ لیا جاتاہے تو کیا معاملہ ہے…؟ کہ قانون اسلام میں یہی ہاتھ کبھی اتنا مہنگا سمجھا گیا کہ پانچ سو اشرفی اس کی قیمت ٹھہری اورکبھی اتنا سستا ہوگیا کہ صرف ایک چوتھائی دینا ر اس کی قیمت رہ گئی یہودی کایہ طنز آمیز شعر سنتے ہی قاضی عبدالوہاب نے جواب میں فی البدیہہ یہ شعر پڑ ھ دیا کہ یعنی ’’ ہاتھ جب تک امانت دار تھا توعزت امانت نے اس کی بیش قیمت بنارکھا تھا لیکن جب چوری کرکے یہ ہاتھ خائن بن گیا توخیانت کی ذلت نے اس کی ا س قدر قیمت گھٹادی کہ صرف چوتھائی دینا را س کی قیمت رہ گئی (یہ ہاتھ کبھی اتنا گراں اور کبھی اتنا ارزاں کیوں ہوجاتاہے )۔اس میں باری تعالیٰ کی یہی حکمت ہے اس کوخوب ذہن نشیں کرلیں ‘‘(صاوی ج۲،۲۸۳ص)
{نتیجہ} مومن کویہ ایمان رکھنا چاہئے کہ شریعت کے ہر حکم میں باری تعالیٰ کی حکمتوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں مگر ہمارے فہم ناقص اورعقل کی کوتاہی کا قصورہے کہ ہم ان حکمتوں کوسمجھ نہیں سکتے ہاں البتہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے خاص بندوں کواحکام شریعت کے رموز واسرار اوران کی حکمتوں پرمطلع فرما دیتے ہیں پھر وہ خوش نصیب بندے ایقان وایمان کی اتنی بلند منزل پرفائز ہوجاتے ہیں کہ ملکوت عالیہ کے فرشتے بھی ان کی رفعت درجات کے شیدائی اوران کے مراتب علیا کے تمنائی بن جاتے ہیں کیوں نہ ہو …
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر ’’ روح الامیں ‘‘پیدا

جھوٹ معاشرہ کو تباہ وبرباد کرتا ہے سب جانتے ہیں کہ بے بنیاد باتوں کو لوگوں میں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گر...
13/06/2026

جھوٹ معاشرہ کو تباہ وبرباد کرتا ہے
سب جانتے ہیں کہ بے بنیاد باتوں کو لوگوں میں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گرم کرنےسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ہاں! اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہی جھوٹ، چاہے جان کر ہو، یا اَنجانے میں ہو، کتنے لوگوں کو ایک آدمی سے بدظن کردیتا ہے، لڑائی، جھگڑا اور خون وخرابہ کا ذریعہ ہوتا ہے، کبھی تو بڑے بڑے فساد کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات پورے معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ جب جھوٹ بولنے والے کی حقیقت لوگوں کے سامنے آتی ہے، تو وہ بھی لوگوں کی نظر سے گرجاتا ہے، اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور پھر لوگوں کے درمیان اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔جھوٹ کیاہے؟لفظ جھوٹ کو عربی زبان میں ’’کذب‘‘ کہتے ہیں۔ خلافِ واقعہ کسی بات کی خبر دینا، چاہے وہ خبر دینا جان بوجھ کر ہو، یا غلطی سے ہو، جھوٹ کہلاتا ہے۔ (المصباح المنیر) اگر خبر دینے والے کو اس بات کا علم ہو کہ یہ جھوٹ ہے، تو وہ گنہگار ہوگا، پھر وہ جھوٹ اگر کسی کے لیے ضرر کا سبب بنے، تو یہ گناہِ کبیرہ میں شمار کیا جائے گا، ورنہ تو گناہِ صغیرہ ہوگا۔💯👍


नफ़रतों की दुनिया में प्यार की उम्मीद मत करज़िंदगी फना हो जाती है लेकिन वफ़ा नहीं मिलती     ゚
13/06/2026

नफ़रतों की दुनिया में प्यार की उम्मीद मत कर
ज़िंदगी फना हो जाती है लेकिन वफ़ा नहीं मिलती




नफ़रतों की दुनिया में प्यार की उम्मीद मत कर 😭ज़िंदगी फना हो जाती है लेकिन वफ़ा नहीं मिलती💯 ゚
12/06/2026

नफ़रतों की दुनिया में प्यार की उम्मीद मत कर 😭
ज़िंदगी फना हो जाती है लेकिन वफ़ा नहीं मिलती💯



22/08/2025

22/08/2025

Address

Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when noor mohd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share