04/07/2026
*جنگ بدر*
*آغاز جنگ*
جب کفار میدان خالی چھوڑ کر مسلمانوں کے سامنے سے بھاگ گئے اور لشکر اسلام کو فتح حاصل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ ابوجہل کی نسبت تحقیق کرو کہ اس کی لاش میدان میں موجود ہے یا نہیں‘ یہ حکم پاتے ہی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مقتولین کی لاشیں دیکھنے کو چلے‘ ابوجہل کو دیکھا کہ نیم مردہ پڑا ہے‘ ۳؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن دیکھ تجھ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا‘ ابوجہل نے پوچھا۴؎ لڑائی کا نتیجہ کیا ہوا‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو فتح اور کفار کو ہزمیت ہوئی‘ یہ کہہ کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اس کا سر کاٹنے لگے تو اس نے کہا کہ میری گردن مونڈھے سے ملا کر کاٹنا تاکہ میرا سر دوسرے کٹے ہوئے سروں میں بڑا معلوم ہو اوریہ سمجھا جائے کہ سردار کا سر ہے‘
افسوس! ابوجہل بدبخت کا یہی غرور اور فخر و تکبر اسے لے ڈوبا اور وہ راہی جہنم ہوا‘ فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَارْ!
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کا سر کاٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پائوں میں ڈال دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوجہل کا سر دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا‘ اس لڑائی میں کل چودہ صحابی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے جن میں چھ مہاجرین اور آٹھ انصار تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے معرکہ جنگ سے فارغ ہو کر مسلمان شہداء کو دفن کیا‘ مشرکین کی لاشوں کو ایک بڑے گڑھے یا کنوئیں میں ڈلوا کر اوپر سے مٹی ڈلوادی‘ صرف امیہ بن خلف کا لاشہ اس لیے کہ پارہ پارہ ہو کراٹھانے کے قابل نہ رہا تھا اور اٹھا کر مشرکوں کے لاشوں کے ساتھ گڑھے میں نہ ڈالا جا سکا‘ لہذا اس کو وہیں مٹی ڈال کر چھپا دیا گیا۔کفار اس سراسیمگی سے بھاگے کہ اپنے سپہ سالار ابوجہل کو بھی نیم مردہ میدان ہی میں چھوڑ گئے۔
۱؎ اللہ اکبر! اس ذوق و شوق جہاد کے کیا کہنے! جب تک مسلمانوں میں ایسا ایمانی جذبہ موجود رہا‘ وہ کفار و مشرکین پر غالب رہے اور جب ان کے ایمان میں کمزوری آتی گئی تو وہ مغلوب ہونا شروع ہو گئے۔
*تاریخ اسلام جلد اول*
*✺ المعھدالعالی للافتاء ✺*