16/04/2026
آج کل مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کتاب کے متعلق گفتگو دیکھنے کو مل رہی ہے، اصل کتاب تو ظاہر ہے قدیم ہے، البتہ یہ نسخہ جدید ہے، اور جدت سے مراد صرف اس کی ظاہری خوبی اور عبارت کی رنگینی نہیں ہے، بلکہ ہمارے رفیق درس مولانا احمد عمر فیض ابادی نے نہایت عرق ریزی سے اس میں معنوی خوبیاں بھر دی ہیں، مولانا موصوف کا کام ایسا ہے کہ دیکھ کر جی خوش ہو جائے، یہاں تفصیل کا موقع نہیں، لیکن دو امور ایسے ہیں کہ ان کا تذکرہ ضروری ہے، ایک تو تمام فقہی مسائل و جزئیات کے قرآنی و حدیثی دلائل کی تخریج، جو کہ آج کسی بھی فقہی مذہب کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیوں کہ قرون اولیٰ سے دوری کی بنا پر عملی توارث و تواتر کی اہمیت کم ہو گئی ہے، جبکہ ابتدائی ادوار میں عوامی تبلیغ و ترسیل کا یہ سب سے بڑا ذریعہ تھا، دور تابعین میں اسلام کی دو بڑی راجدھانیاں مدینہ اور کوفہ اسی حوالے سے معروف تھیں کہ دور دراز کے لوگ صرف عبادات کو عملی شکل میں دیکھنے اور سیکھنے کے لیے ان شہروں کا رخ کرتے اور کوفہ میں حضرت علی و عبداللہ بن مسعود اور مدینہ حضرت عبداللہ بن عمر وغیرہ کے عمل و کردار سے بہت کچھ سیکھ کر لوٹتے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ بعد میں ان دو شہروں کے جید علماء نے تلامیذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی صحابہ کرام سے سیکھے گئے مسائل کی تدوین و ترتیب کا آغاز کیا اور دو فقہی مذاہب ابھر کر سامنے آئے، اس دور تابعین میں عوام الناس کو اس سے مطلب نہیں تھا کہ کس حکم کے پیچھے قرآن کی کون سی آیت یا حدیث کار فرما ہے، وہ بس موجود صحابہ کرام کے عمل کو دیکھتے، ان سے پوچھتے اور دین سمجھ کر عمل کرتے، اسی بنا پر ان دو شہروں میں مدون ہونے والے مذاہب نے مسائل کے ساتھ نصوص درج کرنے کی اس درجہ پابندی نہیں کی، جیسی بعد کے مذاہب میں ملتی ہے، اور بعد کے مذاہب چونکہ ابن شہاب زہری اور دیگر محدثین کی مساعی کے ساتھ یا بعد میں مدون ہوئے، اس لیے انہوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے مسائل کو عملی توارث کے بجائے نصوص کی عبارات سے جانچنا اور پرکھنا شروع کیا۔
بات کہیں سے کہیں چلی گئی، مدعا یہ تھا کہ عملی توارث کے مستحکم ستون پر مبنی حنفی مذہب چونکہ کردار کے غازیوں کے عہد میں وجود پذیر ہوا، اس لیے اس کی کتابیں نصوص سے ویسی معمور نہیں تھیں، جیسی بعد کی کتابوں میں نصوص کی عبارتیں نظر آتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ جو کام پہلے نہ ہوا ہو یا پہلے ضروری نہ سمجھا گیا ہو وہ آئندہ بھی ویسا ہی ناقابل اعتنا ہو، آج کے دور میں ہر چیز مشاہدے کی محتاج ہوگئی ہے، جو چیزیں نظر سے اوجھل ہیں ان پر تشکیک کا دائرہ کھینچ دیا جاتا ہے، چاہے معجزے و کرامات کا مسئلہ ہو، فن حدیث میں علل کے گوشے ہوں یا فقہ و فروعات میں توارث عمل کا پہلو ہو، ظاہر بیں ہر ایک پر حرف زنی کرتے نظر آتے ہیں، لہذا ایسے سطحی عہد میں اس بات کی ضرورت تھی کہ نصوص سے خالی کتابوں میں دلائل کا لحاظ کیا جائے اور شک کا کوئی امکان باقی نہ چھوڑا جائے، ماشاءاللہ اس کتاب میں اس پہلو پر عمدہ کام ہو گیا ہے۔
دوسرے یہ کہ پڑھے اور سیکھے گئے مسائل کو یاد کرنے کے لیے سب سے پہلے تو عمل ضروری ہے لیکن ظاہر ہے کہ مبتدی طلبہ کے لیے ہر مسئلے پر اسی وقت عمل کرنا ممکن نہیں، لہٰذا مسائل یاد کرانے کے لیے مشق و تمرین کی ضرورت تھی، جسے اس کتاب میں نہایت عمدگی سے پورا کیا گیا ہے۔
البتہ ایک دو جگہ کتابت کی غلطیاں رہ گئی ہیں، اسی طرح عبارت پر اعراب لگا دیئے ہیں، جس کی وجہ سے تمرین سے کتاب جہاں مفید ہوئی تھی، عبارت لگانے سے کچھ مضر ہو گئی، لیکن یہ مضرت صرف مبتدی طلبہ کے لیے ہے، عام مدرسین اور دیگر قارئین کے لیے اس میں افادیت ہی افادیت ہے، پھر بھی امید ہے کہ احمد عمر بھائی ہماری بات کو سنجیدگی سے لیں گے اور اگلے ایڈیشن میں اعراب ہٹا دیں گے یا کم کر دیں گے، اس کے علاؤہ کتاب میں ہوئی خدمت قابلِ ستائش ہے۔
کتاب خریدنے کے لیے دیوبند میں نئے ابھرنے والے اشاعتی ادارے نگارشات بک اسٹور سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، اس مکتبے کے ہمارے اوپر بھی احسانات ہیں، لیکن اصل لطف تب ہے جب نگارشات والے ہماری تصنیفات بھی اسی آب و تاب فروخت کیا کریں گے، اللہ نگارشات کو پھلتا پھولتا رکھے اور اس کے بانی و نگراں کو ہمت و حوصلہ بخشے۔
Copied from the source....