04/01/2026
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ:
يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ.
فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟
قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ.
قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟
قَالَ: أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ: بَلَى.
قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا. أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ قُلْنَ: بَلَى.
قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا.
(صحيح مسلم)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:
اے عورتوں کے گروہ! صدقہ کیا کرو، کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تم دوزخ والوں میں زیادہ ہو۔
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
تم زیادہ لعنت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود کسی کو نہیں دیکھا جو ایک سمجھدار مرد کی عقل کو تم میں سے کسی ایک سے زیادہ زائل کر دے۔
عورتوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے دین اور عقل میں کمی کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف کے برابر نہیں؟
انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
یہ اس کی عقل میں کمی ہے۔ اور کیا ایسا نہیں کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو وہ نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟
انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
یہ اس کے دین میں کمی ہے۔
(صحیح مسلم)